برکاتِ نام محمد

Wed, 9 Mar , 2022
2 years ago

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات و صفات کو اللہ پاک نے بےشمار خوبیوں اور کمالات سے نوازا ہے،آپ کی شان و عظمت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کی آپ سے نسبت ہوجائے تو اس چیز کی عظمتوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کا مقام و مرتبہ بڑھ جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت و اخلاق کی طرح آپ ﷺ کے نام مبارک کی برکتیں بھی بے شمار ہیں۔

آنحضرتﷺ کے دو مشہور نام:

یوں تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلم کے بہت سے نام ہیں مگر دو نام ”محمد“ اور” احمد“ بہت مشہور ہیں، نام محمد کے معنی ہیں ”بہت ہی حمد کئے ہوئے“ ۔

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ آپ( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم )ابھی میرے شکم میں تھے کہ والدِ نامدار حضرت عبداللہ رضی اللہُ عنہ نے سفر کی حالت میں مدینۃ المنورہ میں انتقال فرمایا اور کسی نے خواب میں آ کر مجھے پاؤں کی جُنبش سے اُٹھا یا اورارشاد فرمایا:اے آمنہ!تجھے بشارت ہو کہ تیرے شکمِ اطہر میں پرورش پانے والی ذات تمام جہانوں سے بہتر ہے، جب ان کی ولادت ہوجائے تو ان کا نام محمد رکھنا اور اپنے اس معاملے پر کسی کو آگاہ نہ کرنا۔([1])

اگر ہم بھی اس مُعزز و مُکرم نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھیں تویہ مُبارک نام ہماری بخشش و مغفرت کا ذَرِیعہ بن سکتاہے چنانچہ نام محمد کی فضیلت پر چند احادیث ملاحظہ ہوں۔

(1) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :جو میری محبت کی وجہ سے اپنے لڑکے کا نام محمد یا احمد رکھے گا اللہ پاک باپ اور بیٹے دونوں کو بخشے گا ۔([2])

(2) بروزِ قیامت دو شخص اللہ پاک کے حضور کھڑے کئے جائیں گے،حکم ہو گا اِنہیں جنت میں لے جاؤ! وہ عرض کریں گے : اے ہمارےرب!ہم کس عمل کی بدولت جنت کے قابل ہوئے، ہم نے توکوئی کام جنت کا نہیں کیا؟ اللہ پاک فرمائے گا :جنت میں جاؤ !میں نے قسم ارشاد فرمائی ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو وہ دوزخ میں نہ جائے گا۔([3])

(3) جس مشورے میں اِس نام (یعنی محمدنام) کا آدمی شریک ہو اس میں برکت رکھی جاتی ہے ۔([4])

(4)تمہارا کیا نقصان ہے کہ تمہارے گھروں میں دو یا تین محمد ہوں۔([5])

(5) رحمتِ عالم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے میرے نام سے برکت کی امید کرتے ہوئے میرے نام پر نام رکھا،قیامت تک صبح وشام اس پر برکت نازل ہوتی رہے گی ۔([6])

(6) مولا مشکل کشا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم بیٹے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزّت کرو اور مجلس میں اس کے لئے جگہ کشادہ کرو اور اس کی نسبت برائی کی طرف نہ کرو ۔ ([7])

صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:محمد بہت پیارا نام ہے،اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آئی ہے ۔اگر تصغیر کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ عقیقہ کا نام یہ ہو اور پکارنے کے لئے کوئی دوسرا نام تجویز کر لیا جائے ، اس صورت میں نام کی بھی برکت ہو گی اور تصغیر سے بھی بچ جائیں گے۔ جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے تو اسے چاہيے اِس نامِ پاک کی نسبت کے سبب اس کے ساتھ حسن ِ سلوک کرے اور اس کی عزت کرے ۔

یادرکھئے ! جن کے نام محمد و احمد یا کسی مُقدس ہستی کے نام پر رکھے جائیں تو ان کا اَدب بھی ہم پر لازِم ہے۔ لیکن فی زمانہ ہمارے معاشرے میں نام تو اچھے اچھے رکھے جاتے ہیں لیکن بَدقِسمتی سے ان مبارک اَسماء کا احترام بالکل نہیں کیا جاتا اور ا نہیں بگاڑ کر عجیب و غریب ناموں سے پکارا جاتا ہے حالانکہ ہمارے اَسلافِ کرام رحمۃُ اللہِ علیہم کی یہ عادت کریمہ تھی کہ مُقدس ناموں کا حتی الامکان اَدب واحترام بجا لایا کرتے چنانچہ مشہور بادشاہ،سُلطان محمود غَزنوی ایک زَبر دَست عالمِ دین اور صوم و صلوٰۃ کے پابندتھے اور باقاعدگی کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرتے آپ نے اپنی ساری زِندگی دینِ اسلام کے مُطابق گزاری اور پرچمِ اسلام کی سربُلَندی اور اِعلائے کلمۃ اللہ کے لئے بہت سی جنگیں لڑیں اورفتح یاب ہوئے ۔ آپ شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عظیم مَنصب پر بھی فائز تھے۔آپ کے فرمانبردار غلام ایازکا ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد تھا۔محمود غزنوی رحمۃُ اللہِ علیہ جب بھی اس لڑکے کو بُلاتے تو اس کے نام سے پُکارتے،ایک دن آپ نے خِلافِ معمول اُسے اے اِبنِ ایاز ! کہہ کر مُخاطب کیا۔ ایاز کو گمان ہوا کہ شاید بادشاہ آج ناراض ہیں اس لئے میرے بیٹے کو نام سے نہیں پکارا ، وہ آپ کے دَربار میں حاضِر ہوا اور عرض کی: حضور! میرے بیٹے سے آج کوئی خَطا سَرزد ہوگئی جو آپ نے اس کا نام چھوڑ کر اِبنِ ایاز کہہ کر پکارا؟ آپ نے فرمایا :میں نام محمد کی تعظیم کی خاطِر تمہارے بیٹے کا نام بے وضو نہیں لیتا چونکہ اس وَقت میں بے وضو تھا اس لیے لفظِ محمد کو بِلا وضو لبوں پر لانا مناسب نہ سمجھا۔ہمیں بھی چاہئے کہ ہم برکت والے پاکیزہ نام رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا ادب و احترام بھی کریں۔

مؤلف:احمد رضا بن عبد الحمید عطاری المدنی

Date:26-02-2022



[1] البدایہ و النھایہ،4/ 720،ملخصا

2 کنزالعمال،16/175،حدیث:45215

[3] فردوس الاخبار،2/503،حدیث:8515،ملتقطا،ملخصا

[4] کنز العمال،16/175،حدیث:45216،ملتقطا ملخصا

[5] طبقات الکبری،5/40،حدیث:622،ملخصا

[6] کنزالعمال،16/175،حدیث:45213

[7] تاریخ بغدادا،3/305