مکہ مکرمہ کے 10فضائل:

مکہ مکرمہ میں عبدالرحمن یا عبدالرحیم بن انس الرمادی نامی ایک عابد و زاہد ،بلند مقام ،دین دار اور ہر دم ذکر الٰہی میں مصروف رہنے والا شخص رہتا تھا۔اسے سوائے عبادتِ الہٰی کے دنیا میں کوئی شغف نہ تھا ۔امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کو پتا چلا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے مکہ شریف میں ہی مقیم رہنے کی ترغیب دلاتے خط لکھا اور مکہ مکرمہ کے فضائل ارشاد فرمائے ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

اے بھائی! اللہ پاک آپ کی اس چیز کے ساتھ حفاظت فرمائے جس کے ساتھ تمام اہلِ ایمان کی حفاظت فرمائی اور آپ کو ہر ناپسند چیز سے محفوظ فرمائے اور امور خیر کی توفیق عطا فرمائے اور ہر معاملے میں آپ پر اپنی خوب نعمتیں تمام فرمائے اور ہم سب کو اپنے جوارِ رحمت میں سلامتی والے گھر میں جمع فرمائے اور وہ اس پر قادر ہے اور نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی توفیق صرف اللہ پاک ہی کی مدد سے ہے جو بہت بلند اور عظمت والا ہے ۔

اے بھائی! میں بھی آپ کو لکھ رہا ہوں اور مجھ سے پہلے والے بھی یہ بتا چکے کہ جس(یمن) کو تم پسند کرتے ہو یہ (مکہ) اس سے افضل ہے ۔قابلِ حمد و ستائش تعریف والے ہمارے رب نے بھی یہی فرمایا ہے۔

قرآنِ کریم میں مکہ پاک کی فضیلتوں کا ذکر:وَاِذ قال ابرهٖم رب اجعل هذا بلدًا اٰمنًا ترجمۂ کنزالایمان:اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے رب میرے اس شہر کو امان والا کردے ۔(پارہ 1،سورہ بقرہ ،آیت 126)

انّما اُمرت ان اعبد رب هذا البلدة الذي حرمها ترجمۂ کنز الایمان:مجھے یہی حکم ہوا ہے پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے ۔

روئے زمین پر سب سے بہتر:

حدیثِ پاک:رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:روئے زمین پر سب سے بہتر،خیر والا اور اللہ پاک کو محبوب ترین شہر مکہ مکرمہ ہے۔(سنن ترمذی،المناقب،باب فی فضل مکہ،ج5،ص 10،حديث 3925)

بستیوں کی ماں:

رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:زمین کو مکہ مکرمہ سے پھیلایا گیا پس اللہ پاک نے اسے مکہ مکرمہ سے پھیلایا،اسے ام القری (بستیوں کی اصل،جڑ،ماں) کا نام دیا گیا اور زمین پر سب سے پہلے بنایا جانے والا پہاڑ جبل ِابی قبیس ہے۔(شعب الایمان ،امناسك،حدیث الکعبہ و المسجد الحرام۔۔۔۔۔ الخ،ج 5،ص722،حديث 3925 )

سب سے پہلے طواف کس نے کیا:

بیت اللہ شریف کے طواف کا سب سے پہلے شرف پانے والے فرشتے ہیں جنہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے طواف کیا۔(کنزالعمال،کتاب الحج من قسم الا فعال،باب فی مناسک الحج علیٰ الترتیب ،فصل فی الحرام۔۔۔ الخ،ج170،رقم 12496)

ایک نیکی ایک ہزار کے برابر:

روئے زمین پر مکہ کے علاوہ کوئی ایسا شہر نہیں جہاں کی جانے والی ایک نیکی پر رب کریم 1000نیکی کا ثواب عطا فرمائے ۔(المجم الاوسط ،باب الالف ،باب من اسمہ ابراہیم ،ج 3،ص122،رقم:2675)

ایک لاکھ نماز كا ثواب:

جو مکہ مکرمہ میں ایک نماز ادا کرے اللہ پاک اسے ایک لاکھ نماز کا ثواب عطا فرماتا ہے۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب اقامہ الصلاۃ و السنتہ فیہا ،باب ماجا ،فی فضل الصلاۃ فی المسجد الحرام ۔۔۔۔۔الخ الجز ،الاول ،ص 450،حديث1406)

یہ مکے ہی کی شان ہے:

میں مکہ مکرمہ کے علاوہ کسی ایسے شہر کو نہیں جانتا کہ اللہ پاک بروز ِقیامت جتنے زیادہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام ،صوفیائے عظام ،متقین ،نیک و کار ،صدیقین ،شہدا ،صلحا ،علما،فقہا،فقرا،حکما،زاہدین،عابدین،اخیار رحمۃ اللہ علیہم اور عورتوں کو مکہ سے اٹھائے گا کسی اور شہر سے نہ اٹھائے گا اور وہ سب اللہ پاک کے عذاب سے امن میں ہوں گے ۔(اخبار مکہ للفا کہی ،ذکر تحریم الحرم و حدود ۔۔۔۔الخ ،ج 2،ص 291،رقم 1545)

مکہ مکرمہ میں ایک دن کا قیام:

حرم ِالہٰی میں ایک دن کا قیام اور اس کا امن و امان تیرے لیے بہت ہی رجا و امید والا ہے اور مکہ کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں زمانہ دراز تک روزے رکھنے اور قیام کرنے سے افضل ہے ۔(اخبار مکہ للفا کہی ،ذکر تحریم الحرم و حدود ۔۔۔۔الخ ،ج 2،ص291رقم:1545)

روزانہ 120 رحمتیں :

روئے زمین پر صرف مکہ ہی ایسا مبارک خطہ ہے جہاں ہر روز 120 رحمتیں نازل ہوتی ہوں ان میں سے 60 طواف کرنے والوں کے لیے اور 40 نمازیوں کے لیے اور 20 کعبہ معظمہ کی زیارت کرنے والوں کے لیے۔

(المعجم الاوسط ،باب المیم ،من اسمہ محمد ،ج 6،ص 248،حديث :2314)

جنّت کے آٹھوں دروازے:

روئے زمین پر مکہ کے علاوہ کوئی ایسا شہر نہیں جس کی طرف جنت کے تمام دروازے کھلتے ہوں ۔جنّت کے 8 دروازے ہیں اور وہ سب کے سب مکہ کی طرف کھلے ہوئے ہیں اور قیامت تک کھلے رہیں گے ۔(وہ دروازے ان مقامات کی طرف کھلے ہیں)(1)کعبہ معظمہ(2)میزابِ رحمت کے نیچے(3)رکن ِیمانی(4)رکنِ اسود(5)مقامِ ابراہیم (6) زمزم شریف(7) صفا (8) مروہ۔

اہلِ طواف کے لیے دعائے مغفرت:

کعبہ شریف 70 ہزار فرشتوں سے ڈھکا ہوا ہے جو طواف کرنے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتے اور ان پر دورود بھیجتے ہیں۔ (اخبار مکہ للفا كہى ،ذکر كثرة الطواف والثواب عليہ ،ج 1 ،ص 196،رقم 319)