اللہ پاک  نے مخلوق کی ہدایت و راہ نمائی کے لئے جن پاک بندوں کو اپنے احکام پہنچانے کے واسطے بھیجا، ان کو نبی کہتے ہیں، انبیا علیہم السلام وہ بشر ہیں، جن کے پاس اللہ پاک کی طرف سے وحی آتی ہے، انبیا علیہم السلام کے مراتب میں فرق ہے، بعضوں کے رُتبے بعضوں سے اعلیٰ ہیں، سب سے بڑا مرتبہ ہمارے آقا و مولا سیّد الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ہے، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں، یعنی اللہ پاک نے سلسلۂ نبوت حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختم کردیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا، جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی کو نبوت ملنا مانے یا جائز جانے کافر ہے۔(بہارِ شریعت، جلد 1، عقائدِ متعلقہ نبوت، ص63)حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آخری نبی ہونا قطعی ہے اور یہ قطعیت قرآن و حدیث و اجماعِ اُمّت سے ثابت ہے، قرآنِ مجید کی صریح آیت بھی موجود ہے اور احادیثِ تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں اور اُمّت کا اجماعِ قطعی بھی ہے۔ان سب سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سب سے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔(صراط الجنان ، جلد ہشتم، ص47)حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حا شر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی، ابواب الادب، باب ما جاء فی اسماء النبی،2/111، حدیث2840)حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، خاتم النبیین،رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے لوگو!بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمّت نہیں۔(تفسیرصراط الجنان ، 8/ 50)حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں :حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں شانوں کے وسط میں قلم ِقُدرت سے لکھا ہوا ہے، محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم(فتاوی رضویہ، جلد پانزدھم، رسالہ جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ، ص635)

فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد دُرود ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام(حدائقِ بخشش)