ایصال ثواب کے 5 طریقے از بنت محمد اسرار  ممبئی ہند

Wed, 8 Dec , 2021
204 days ago

ہر وہ شے/ سامان جو مالِ حلال سے ہویعنی حرام مال نہ ہو،  کسی سے چوری کیا ہوا، کسی سے ہڑپ کیا ہوا نہ ہو تو اس پر ہم ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں، مثلاً پھل جیسے سیب، کیلا،انگور،انار،تربوز وغیرہ،ہر طرح کی مٹھائی اور کھانے کی چیزیں جیسے گوشت، مچھلی، کھچڑا، شربت، دودھ وغیرہ ہر شے پر فاتحہ دی جاتی ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔بہت سے لوگوں کا کہنا ہے:مچھلی پر فاتحہ نہیں ہوتی، یہ غلط ہے۔عورتیں قبرستان نہیں جاسکتیں ۔

اے اللہ پاک!یہ جو کچھ میں نے تلاوت کیا ہے، یہ سب تیری ہی نذر ہےاور یہ جو بھی شیرینی وغیرہ ہے یہ سب بھی تیری ہی نذر ہے، اس کو تو اپنی بارگاہ میں قبول فرمااور اس کا ثواب حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرتی ہوں تو انہیں پہنچا اور آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وسیلۂ جلیلہ سے اس کا ثواب تمام انبیا و مرسلین علیہم السلام کی بارگاہ میں نذر ہے،قبول فرما،اس کے بعد اصحابِ کرام علیہم الرضوان کی بارگاہ میں نذر ہے،مولیٰ! قبول فرما، اہلِ بیتِ عظام علیہم الرضوان کی بارگاہ میں نذر ہے،مولیٰ! قبول فرما، تمام اولیائے اُمّت علیہم الرضوان اور خاص اس کا ثواب فلاں فلاں(اس کا نام لے ) اور پھر تمام مؤمن مرد و عورتوں کو پہنچے، بعدِ فاتحہ دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیر لینا چاہئے ۔( خزینۃ الوظائف )

ایصالِ ثواب یعنی ثواب پہنچانے کیلئے دل میں نیت کر لینا کافی ہے، ظاہری نیت کرنا کوئی ضروری نہیں ہے، مثلاً آپ نے کسی کو ایک روپیہ خیرات دیا یا پھر ایک سو بار دُرودِپاک پڑھا یاکسی کو نماز پڑھنے کا طریقہ بتایا یا پھر سنتوں بھرا بیان کیا اور پھر آپ نے نیت کی کہ اس کا ثواب سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پہنچے تو اس کا ثواب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پہنچا، اگر آپ نے کوئی نیک کام کیا اور دل ہی دل میں نیت کر لینا چاہئے، مزید جن جن کی ہم نیت کریں گی، ان کو بھی پہنچے گا، دل میں نیت ہونے کیساتھ ساتھ زبان سے کہہ لینا بھی اچھا ہے، زبان سے کہہ لینا اچھا ہوتا ہے ۔