ایصالِ ثواب یعنی ثواب پہنچانا،اس کے لئے بہت سے طریقے رائج ہیں،کچھ تو شرعی اعتبار سے درست ہیں،لیکن کچھ کو عوام النّاس نے غیر شرعی بنا دیا ہے۔اس مضمون میں ہم آج کے دور کے حساب سے،آج کے ماحول میں، وقت کی ضرورت کے مطابق ایصالِ ثواب کے چند طریقوں پر روشنی ڈالیں گی۔

٭پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے :میری اُمّت گناہ سمیت قبر میں داخل ہو گی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہو گی، کیونکہ وہ مؤمنین کی دعاؤں سے بخش دی جاتی ہے۔(معجم اوسط، 1/ 509، حدیث: 1879)

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! میری ماں انتقال کرگئی ہیں،(میں ان کی طرف سے صدقہ یعنی خیرات کرنا چاہتا ہوں)کون سا صدقہ افضل رہے گا ؟سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: پانی۔چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : ھٰذِہٖ لَاُمِّ سَعْدْ یعنی یہ اُمِّ سعد رضی اللہ عنہما کے لئے ہے۔(ابوداؤد، 2/180، حدیث:1681)

مذکورہ احادیثِ مبارکہ ہمیں اپنے مرحومین کے لئے ایصالِ ثواب کرنے کی ترغیب دلاتی ہیں، درج ذیل ایصالِ ثواب کے پانچ طریقے حالاتِ حاضرہ کے مطابق پیشِ خدمت ہیں، اگر پسند آئیں توعمل کرنے کی کوشش کیجئے :

1 ۔فاتحہ:قرآن خوانی، درودِپاک کا وِرد اور اِستغفار پڑھ کر زندوں اور مُردوں کو ایصالِ ثواب کرنا بہترین ہے، اس میں کوئی روپیہ خرچ نہیں ہوتا اور ہم اپنی سہولت سے چلتے پھرتے، کسی بھی وقت پڑھ کر ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں ۔

2۔نذرونیاز: اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کی فاتحہ کے کھانے کو تعظیماً نذرونیاز کہتے ہیں اور یہ تبرک ہے، اسے امیروغریب سب کھا سکتے ہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ غریبوں کو اوّلیت دی جائے، ہمارے یہاں جو رواج ہو گیا ہے کہ نیاز میں ہم غریبوں کو کم اور اپنی امیر رشتے داروں کو زیادہ مَدعو کرتی ہیں، کوشش کی جائے کہ اسے تبدیل کیا جاۓ اور ہو سکے توکھانے کو غریبوں کی بستی میں پہنچا دیا جاۓ، اسی طرح عرس کے موقع پرمزار پر ایک چادر چڑھاکر باقی چادروں کی رقم سے غریبوں میں کمبل اور ضرورت کی چیزیں تقسیم کی جائیں ۔

3۔تعمیرِ مسجد و مدرسہ: مسجد و مدرسے کی تعمیر میں حصّہ لینا بہترین صدقہ جاریہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ ہے۔ آج کل نئی مسجدوں کی تعمیر سے زیادہ پُرانی مسجدوں کی تزئین وآرائش پر خرچ کیا جاتا ہے اور ہماری عالیشان مسجدیں نمازیوں سے خالی رہتی ہیں،اس لئے کوشش کی جاۓ کہ جہاں مسجد نہ ہو، وہاں پر سادگی کے ساتھ مسجد و مدرسے کی تعمیرمیں تعاون کیا جاۓ۔

4۔دینی کاموں میں حصّہ: قرآن شریف اور دینی کُتب کو ضرورت مندوں تک پہنچانا بھی کارِخیر ہے، ذِکراللہ اور دینی اجتماعات کے اِنقعاد میں حصّہ لیں،دینی کتب کی اشاعت کروائیں، مدرسے کے خرچ میں تعاون کریں اور ان سب میں ایصالِ ثواب کی نیت کریں ۔

5۔نیک اوالاد:یہ سب سے اوّل ہے، لیکن بڑا محنت طلب کام ہے، اس لئے آخر میں لکھا ہے، نیک اولاد صدقہ جاریہ ہے، اس لئے کوشش کریں کہ آپ خود،آپ کی اوالاد،آپ کے اہل و عیال اور دیگر رشتہ دار دینی ماحول سے وابستہ رہیں،نیک بننے کی کوشش کرتی رہیں،تاکہ ہمارا ہرعمل،قول و فعل ہماری اگلی اور پچھلی نسلوں کے لئے صدقہ جاریہ اور ہمارا ہر لمحہ ہمارے مرحومین کے لئے ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

نوٹ:اس مضمون کے لکھنے میں امیر ِاہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے”فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ“ سے مدد لی گئی ہے ۔