بہتان کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ
از بنت منظور الہی،جامعۃ المدینہ فیض مدینہ کراچی
کسی شخص کی موجودگی یا غیر موجودگی میں اس پر
جھوٹ باندھنا، تہمت لگانا بہتان کہلاتا ہے۔ اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھیے کہ
برائی نہ ہونے کے باوجود اگر پیٹھ پیچھے یا روبرو وہ برائی اس کی طرف منسوب کر دی
تو یہ بہتان ہوا،مثلا پیٹھ پیچھے یا منہ کے سامنے ریاکار کہہ دیا اور وہ ریا کار
نہ ہو یا اگر ہو بھی تو آپ کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو کیونکہ ریاکاری کا تعلق باطنی
امراض سے ہے لہٰذا اس طرح کسی کو ریا کار نہیں کہیں گے،کیونکہ یہ بہتان ہے۔بہتان
تراشی غیبت سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ یہ جھوٹ ہے اس لیے یہ ہر ایک پر گراں
گزرتی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ بہتان تراشی کبیرہ گناہ ہے۔ حدیث مبارکہ میں اس کی
شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔
احادیث مبارکہ:
1۔ جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کرے تو اللہ پاک
اسے جہنم کے پل پر اس وقت تک روکے گا جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات (کے گناہ) سے (اس
شخص کو راضی کر کے یا اپنے گناہ کی مقدار عذاب پا کر) نہ نکل جائے۔
2۔ جس نے کسی شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس کو عیب زدہ کرے تو
اللہ اسے جہنم میں قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات
ثابت کرے۔اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک عذاب میں مبتلا رہے گا۔
3۔جو کسی مسلمان کی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ
پاک اس وقت تک ردغۃ الخبال (دوزخیوں کے کیچڑ پیپ اور خون) میں رکھے گا جب تک کہ وہ
اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل جائے۔(ابو داود،3 / 427، حدیث: 3597)
جہنم کا عذاب ایک منٹ کے کروڑویں حصے میں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے لہٰذا
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بہتان تراشی سے بچے۔
معاشرتی نقصانات:سورۂ نور کی آیت نمبر 16 میں فرمایا
گیا ہے: وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ
اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا ﳓ (النور:16) ترجمہ: اور کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے سنا تھا تو کہہ
دیتے کہ ہمارے لیے جائز نہیں کہ یہ بات کہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس کے سامنے کسی
مسلمان پر کوئی بہتان باندھا جا رہا ہو اور کسی مسلمان پر بہتان تراشی کر کے اسے
ذلیل کیا جا رہا ہو تو اسے چاہیے کہ خاموش نہ رہے بلکہ بہتان لگانے والوں کا رد
کرے اور انہیں اس سے منع کرے او ر جس مسلمان پر بہتان لگایا جا رہا ہو اس کی عزت
کا دفاع کرے۔افسوس ہمارے معاشرے میں لوگوں کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ کسی کے بارے
میں ایک دوسرے سے ہزاروں غلط اور بے سر و پا باتیں سنتے ہیں لیکن اکثر جگہ پر
خاموش رہتے ہیں اور بہتان تراشی کرنے والوں کو منع کرتے ہیں نہ ان کا رد کرتے ہیں
یہ طرز عمل اسلام کے احکام کے بر خلاف ہے اور ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ
ایسا طرز عمل اپنائے۔
اللہ پاک مسلمان کو عقل سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔آمین
بہتان کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ
از بنت منصور،جامعۃ المدینہ فیضان غزالی نیول کالونی کراچی
جھوٹ بولنا غیبت کرنا گناہ کبیرہ میں سے ہیں جن کے
حوالے سے صریح طور پر وعیدات وارد ہوئی ہیں یہ دونوں گناہ مذموم تو ہیں ہی مگر اس
سے انتہائی سخت اور بدتر گناہ بہتان تراشی ہے کیونکہ اس سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے،
اس لیے یہ ایک الگ کبیرہ گناہ میں شمار ہوتا ہے۔کسی شخص کی موجودگی یا غیر موجودگی
میں اُس پر جھوٹ باندھنا بہتان کہلاتا ہے۔(حدیقہ نديہ، 2/ 200) اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھئے
کہ بُرائی نہ ہونے کے باوجود اگر پیٹھ پیچھے یا رُوبَرو وہ برائی اس کی
طرف منسوب کردی تو یہ بُہتان ہوا، مثلاً پیچھے یا منہ کے
سامنے ریاکار کہہ دیا اور وہ ریاکار نہ ہو یا اگر ہو بھی تو آپ کے پاس
کوئی ثبوت نہ ہو کیوں کہ ریاکاری کا تعلق باطنی امراض سے ہے لہٰذا اس
طرح کسی کو ریاکار کہنا بہتان ہوا۔ کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرامِ قطعی
ہے خصوصاً مَعَاذَاﷲ اگر تہمتِ زنا ہو۔(فتاویٰ رضویہ،24/386) قرآن و حدیث میں اس کی نہ صرف مذمت بیان ہوئی بلکہ
کئی وعیدات بھی واضح طور پر بیان کی گئی ہیں، چنانچہ
1۔ حضور ﷺنے گناہ کبیرہ کی فہرست بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ پاک
دامن مومن انجان عورتوں کو تہمت لگانا۔ (صحیح بخاری،2/242،حدیث:2766)
2۔حضورﷺ نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مَناظر کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ
کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا۔ میں نے جبرئیل سے اُن کے بارے میں پوچھا
تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر جھوٹی تُہمت لگانےوالے ہیں۔ (شرح الصدور، ص182)
3۔جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ
پاک اس وَقت تک ردغۃ الخبال (دوزخیوں کے کیچڑ، پِیپ اور خون) میں رکھے گا جب تک کہ وہ
اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔(سنن ابی داود،3/427،حدیث:3597)
4۔میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر
آئے گا لیکن اس نے فُلاں کوگالی دی ہو گی،فُلاں پر تہمت لگائی ہو گی،فُلاں کا مال
کھایا ہو گا،فُلاں کا خون بہایا ہو گا اورفُلاں کو مارا ہو گا۔ پس اس کی نیکیوں
میں سے ان سب کو ان کاحصّہ دے دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمّے آنے والے حُقُوق پورے ہونے
سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر
اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم،ص1069،حدیث:6578)
5۔جس نے کسی شخص کے بارے میں کوئی
ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں تا کہ اس کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تو اللہ پاک اسے جہنم میں قید کر
دے گا یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں اپنی
کہی ہوئی بات ثابت کرے۔اس سے مراد یہ ہے کہ طویل عرصے تک وہ عذاب میں مبتلا رہے گا۔(معجم
الاوسط، 6/327،حدیث:8936)
تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس گناہ سے باز رہنے کی کوشش کرتے ہوئے اللہ پاک سے اس سے
بچنے کی دعا کرتے رہیں اس کی صورتوں کے حوالے سے علم حاصل کریں اور مسلمان کا
احترام بجا لائیں،اور اگر یہ گناہ سرزد ہو چکا تو توبہ کے ساتھ اس سے معافی طلب کریں۔اللہ
پاک ہمیں اس گناہ سے بچائے۔ آمین
کسی شخص کی موجودگی یا غیرموجودگی میں اُس پر جھوٹ
باندھنا بُہتان کہلاتا ہے۔ (حدیقہ ندیہ،2/200) ہمارے مُعاشرے میں موجود برائیوں
میں سے ایک ناسور تُہمت وبہتان (جھوٹا اِلزام لگانا) بھی ہے۔ چوری، رشوت، جادو
ٹونے، بدکاری، خِیانت، قتل جیسے جھوٹے اِلزامات نے ہماری گھریلو، کاروباری، دفتری
زندگی کا سُکون برباد کرکے رکھ دیا ہے۔
دشمنی، حسد، اپنا راستہ صاف کرنے، بدلہ لینے کیلئے
تُہمت و بہتان تراشی کرنے والے تو اِلزام لگانے کے بعد اپنی راہ لیتے ہیں لیکن جس
پر جھوٹا الزام لگا، اس کو بقیہ زندگی رُسوائی اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ویسے تو زِنا کے علاوہ کسی دوسرے عیب مثلاً چوری یا ڈاکہ یا قتل وغیرہ کا اپنی طرف
سے گھڑ کر الزام لگا دینا بھی بہتان ہے البتہ کسی عورت پر بدکاری کا جھوٹا الزام
لگانا زیادہ خطرناک ہے۔ لیکن بعض بے باک لوگ یہ بھی کر گزرتے ہیں اور اتنانہیں
سوچتے کہ اس عورت اور اس کے گھر والوں پر کیا گزرے گی۔
مختصر یہ کہ بہتان نہ صرف انسان کی انفرادی زندگی
کیلئے بلکہ معاشرتی اعتبار سے بھی بہت زیادہ خرابیاں پیدا ہونے کا باعث ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ دینِ اسلام میں یہ سخت گناہ و حرام ہے اور اس کی مذمت میں بہت سی احادیث
مبارکہ وارد ہیں۔
فرامین مصطفیٰ:
1۔جس نے کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات ذکر کی جو
اس میں نہیں تاکہ اس کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تو اللہ پاک اسے جہنم میں قید کر
دے گا یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات ثابت کرے۔ اس سے مراد یہ ہے
کہ طویل عرصے تک وہ عذاب میں مبتلا رہے گا۔(معجم الاوسط،6/ 327، حدیث: 8936)
2۔حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے استفسار
فرمایا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صَحابہ کرام نے عرض کی: ہم میں مفلِس(غریب)
وہ ہے جس کے پاس نہ دِرہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال۔ ارشاد فرمایا: میری اُمّت میں
مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی
کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون
بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہو گا۔ پس اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کا حصّہ دے
دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمّے آنے والے حُقُوق پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم
ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا
جائے گا۔ (مسلم، ص 1029، حدیث: 2581)
3۔کبیرہ گناہوں کی فہرست بیان فرماتے ہوئے ارشاد
فرمایا: پاک دامن مومن بےخبر عورتوں کو تہمت لگانا۔ (صحیح بخاری، 2/242-243،حدیث:2766)
4۔جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام
عائد کرے تو اللہ پاک اسے جہنم کے پُل پر اس وقت تک روکے گا جب تک وہ اپنی کہی
ہوئی بات (کے گناہ) سے (اس شخص کو راضی کرکے یا اپنے گناہ کی مقدار عذاب پاکر) نہ
نکل جائے۔ (ابو داؤد،4 / 354، حدیث: 4883)
5۔رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھے ہوئے کئی مَناظر
کا بیان فرما کر یہ بھی فرمایا کہ کچھ لوگوں کو زَبانوں سے لٹکایا گیا تھا۔ میں نے
جبرئیل سے اُن کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر جھوٹی
تُہمت لگانےوالے ہیں۔(شرح الصدور، ص182)
لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بہتان تراشی سے بچے
اور جس نے کسی پربہتان لگایا ہے اسے توبہ کرنا اور معافی مانگنا ضروری ہے بلکہ جن
کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جاکر یہ کہنا ضروری ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا
جو فلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔
جس کے سامنے کسی مسلمان پر کوئی بہتان باندھا جارہا
ہو اور کسی مسلمان پر بہتان تراشی کر کے اسے ذلیل کیا جارہا ہو تو اسے چاہئے کہ
خاموش نہ رہے بلکہ بہتان لگانے والوں کا رَد کرے اور انہیں اس سے منع کرے اور جس
مسلمان پر بہتان لگایا جا رہاہے اس کی عزت کا دفاع کرے۔ افسوس! ہمارے معاشرے میں لوگوں
کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ کسی کے بارے میں ایک دوسرے سے ہزاروں غلط اور بے
سرو پاباتیں سنتے ہیں لیکن اکثر جگہ پر خاموش رہتے ہیں اور بہتان تراشی کرنے
والوں کو منع کرتے ہیں، نہ ان کا رد کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اسلامی احکام کے برخلاف
ہے اور ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ ایساطرزِ عمل اپنائے۔
اللہ پاک ہمیں بہتان سے بچنے اور مسلمانوں کی عزت
کی حفاظت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
بہتان کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ
از بنت جاوید احمد،جامعۃ المدینہ فیضان ماریہ قبطیہ مورو
کسی شخص کی
موجودگی یا غیر موجودگی میں اس پر جھوٹ باندھنا بہتان کہلاتا ہے۔آسان لفظوں میں
یوں کہ برائی نہ ہونے کے باوجود اگر پیٹھ پیچھے غیر موجودگی یا سامنے وہ برائی اس
کی طرف منسوب کر دیں تو یہ بہتان ہوا مثلاً پیچھے یا منہ پر کسی کو چور کہہ دیا
حالانکہ اس نے کوئی چوری نہیں کی تو اس کو چور کہنا بہتان ہوا۔
بہتان کا حکم: بہتان تراشی حرام گناہ کبیرہ
اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
قرآن پاک میں
بہتان پر بہت سی آیتیں نازل ہوئی، ارشاد ہوا: اِنَّمَا
یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۰۵) ترجمہ کنزالایمان: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو
اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں۔
بہتان پر احادیث مبارکہ:
1۔ جو کسی مسلمان کی برائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو
اللہ پاک اس وقت تک ردغۃ الخبال میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔ (ابو داود،3 / 427، حدیث: 3597)ردغۃ الخبال جہنم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنمیوں کا خون اور پیپ جمع ہو گا۔ (بہار شریعت،جلد
2، حصہ: 9)
2۔ جس نے کسی
کی کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں تاکہ اس کے ذریعے اس شخص کو عیب دار کرے
اللہ پاک اسے جہنم میں قید کرے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات ثابت کریں۔(معجم
الاوسط، 6/328حدیث:8936)
3۔جس مرد یا
عورت نے اپنی لونڈی کو اے زانیہ! کہہ کر پکارا جبکہ اس کے زنا سے آگاہ نہ ہو قیامت
کے دن وہ لونڈی اسے کوڑے لگائے گی، کیونکہ دنیا میں اس کے لئے کوئی حد نہیں۔(
مستدرک،5/528،حدیث: 8171)
بہتان تراشی کے گناہ میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب:
لڑائی جھگڑا، غصہ، بغض و کینہ، حسد، زیادہ بولنے کی عادت اور بدگمانی۔
ہمیں بہتان
تراشی کے گناہ میں مبتلا ہونے والے اسباب پر نظر رکھ کر ان سے بچنے کی کوشش کرنی
چاہیے جیسے کہ بہتان اور اس کے علاوہ بہت سارے گناہ زیادہ تر زبان سے ہی ہوتے ہیں
لہٰذا اسے قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے قرآن و حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں ان کے
ہولناک عذابات کا مطالعہ کیجئے اور غور کیجیے کہ بہتان کے سبب اگر ہم پر کوئی عذاب
مسلط کردیا گیا تو کیا بنے گا۔
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ آصف جاوید،خوشبوئے عطار واہ کینٹ
ادب وہ شے ہے جو
نصیب بدل دیتی ہے۔ہر بارگاہ کا ایک ادب ہوتا ہے، اس کو بجالانے والوں اور اس کے خلاف
کرنے والوں کا حال جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں موسیٰ علیہ اسلام کا ادب کرنے والے کا فرجادوگر
مسلمان ہو جاتے ہیں تو کہیں جناب آدم علیہ السلام کی بے ادبی کی وجہ سے
مُعَلِّمُ الْمَلَکُوت، عابد و موحد،ابلیس و ملعون ٹھہرتا ہے۔
تو کیا مقام ہوگا اس بارگاہ کا جو تمام نبیوں علیہم السلام کے سردار اور وجہ تخلیق
کائنات ہیں۔
استاذ کی بارگاہ
کا ادب شاگرد بتائے، پیر کی بارگاہ کا ادب مرید سمجھائے اور (الله الله کہ) مصطفٰے
ﷺکی بارگاہ کا ادب خدا بیان فرمائے۔ (شرح حدائقِ بخشش،ص 195)
(1)چنانچہ حضورﷺ صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے
تو وہ کبھی کبھی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے عرض کرتے:رَاعِنَا
یَارَسُولَ اللّٰه! یعنی ہمارے حال کی رعایت فرمائیے۔ اب یہودیوں کی لغت
میں” راعنا“بے ادبی کا معنی رکھتا تھا اور انہوں نے اسی نیت سے کہنا شروع کر دیا،لہٰذا
رب کریم نے اپنے حبیبﷺ کی بارگاہ کا ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا
رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-(البقرۃ: 104) ترجمہ کنز
الایمان: اے
ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر
نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو۔
معلوم ہوا کہ رب
کریم کو حضور ﷺ کا ادب کتنا ملحوظ ہے کہ جس لفظ کے ایک معنی میں بے ادبی ہوئی اسے کہنے
سے اپنے کلام پاک میں منع فرما دیا۔
(2)اور ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (الحجرات:02) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی
آواز سے۔ سبحان الله ! خدا کو اپنے حبیب ﷺسے کسی کی آواز بھی اونچی پسند نہیں۔
حاضر ہوئے جبریل امیں بھی تو ادب سے نازل ہوا قرآن بھی تو بے صوت و صدا تھا
(شرح حدائق بخشش،ص 339)
(3)اور فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ
اِذَا دَعَاكُمْ ترجمہ کنز
الایمان: اے ایمان والو! اللہ و رسول کے بلانےپر حاضر ہو جب رسول تمہیں بلائیں۔حضور
ﷺ جب بھی بلائیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے
کہ حضورﷺ بلائیں اور بندہ نماز میں ہو تو بھی فورا ًحاضر ہو جائے اور اس سے نماز بھی
فاسد نہ ہوگی کہ حضور ﷺ کا بلا نارب ہی کا بلانا ہے۔
مصطفی و ایں چنیں سوء الادب ایں قدر ایمنِ شدید از اخذِرب
(4)فرمایا: لَا تَجْعَلُوْا
دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (النور: 63)
ترجمہ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے
کو پکارتا ہے۔ اس لئے یا محمد کہنے کی اجازت نہیں۔ ثابت ہوا کہ ”یا محمد!، یااحمد!،
یا ابنِ عبدالله!“ یا اے بھائی ! اے باپ! وغیرہ خطابات سے پکارنا حرام ہے۔ بلکہ یا
رسول اللہ !یا حبیب اللہ !وغیرہ القاب سے پکارو۔ (شان حبیب الرحمن، ص 162)
(5)حضور ﷺ کے گھر
ایک تقریب کے موقع پر فارغ ہونے کے بعد بھی کچھ لوگوں کا بیٹھے رہنا الله پاک کو پسند
نہ آیا کیونکہ یہ بات حضورﷺ کیلئے باعث تکلیف تھی اور وہ حیا کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے
تھے۔چنانچہ ارشاد ہوا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا
بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ(الاحزاب: 53) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں
نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ۔
ادب گاہ ہیست زیر آسمان از عرش نازک تر نفس گم کرده می آید جنید و بایزید
ایں جا
الله پاک ہمیں
حضور جانِ عالم ﷺ کا سچاعشق وادب نصیب فرمائے اور ہمارے حق میں یہ دعا قبول فرمائے۔
آمین
محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے اور ہم سے بھی سرزد نہ کبھی بے
ادبی ہو
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ سلطان،خوشبوئے عطار واہ کینٹ
ادب گاہ ہیست زیر آسمان از عرش نازک تر نفس گم کرده می آید جنید و بایزید
ایں جا
اس بارگاہ میں
جنید بغدادی اور بایزید بسطامی جیسے بڑے بڑے بھی سر جھکائے کھڑے ہیں۔ اس بارگاہ کا
ادب ہی ایسا ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ بارگاہ محبوبِ رب کریم ﷺکی ہے۔ یہاں تو زور سے
سانس لینا بھی بے ادبی ہے۔ عشق کا دعویٰ کرنے والا بغیر ادب کے اپنے قول میں کیسے صادق
ہو سکتا ہے! محبت کی کہانی میں جب محبوب کا لقاء آجاتا ہے تو پھر محب کچھ نہیں کہتا،
کوئی عرض نہیں کرتا، بس دور کھڑا رو رہا ہوتا ہے۔ ارے جہاں یار کا جلوہ ہو وہاں عرضیں
نہیں کی جاتیں۔ وہاں تو نگاہیں جھکی ہوئی سب جان لیتی ہیں۔ یہ تو وہ بارگاہ ہے کہ رب
کریم خود اس کے آداب سکھاتا ہے۔
(1)فرمایا: لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ (پ 26، الحجرات:2 ) ترجمہ کنزالعرفان: اپنی آوازیں نبی
کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
محبوب کی آواز
سے اپنی آواز پست رکھو۔ وہ تم سے کلام فرمائیں اور تم کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے
کہ تمہاری آواز میرے حبیب سے اونچی نہ ہو بلکہ ایسے عرض کرو کہ جیسے عرض کرنے والے
کو زیب دیتا ہے۔
(2) اور فرمایا:
وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ
كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ (الحجرات: 02)ترجمہ کنز العرفان: ان کے
حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات
کرتے ہو۔ اور یہ ادب سکھایا کہ ان کے حضور پورا پورا لحاظ رکھو اور آپس میں جیسےایک
دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو کہ آپ ﷺ کی شان میں بے ادبی ہو۔ بلکہ
جو عرض کرنا ہو یوں کہو:یا رسول الله، یانبی اللہ۔ ان کی تعظیم و توقیر کا خیال رکھو۔
(تفسیر صراط الجنان، الحجرات:2ملتقطاً)
(3)فرمایا: لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ
اسْمَعُوْاؕ-(البقرۃ:
104) ترجمہ کنز
الایمان: راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر
نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو۔
صحابہ کرام علیہم
الرضوان کو جب پیارے آقا ﷺ تلقین ونصيحت فرماتے تو کبھی صحابہ کرام عرض کرتے:
را عنا یار سول الله یعنی یا رسول اللہﷺ!ہمارے حال کی رعایت فرمائیے تو یہودی
زبان دباکر”را عینا “ کہتے جس کے معنی چرواہا کے ہیں۔ جب مسلمان
ناراض ہوتے تو وہ کہتے کہ تم بھی تو یہی کہتے ہو اس پر وہ رنجیدہ ہو کر بارگاہ عالی
میں حاضر ہوتے تو رب کریم نے یہ آیت نازل فرمادی کے را عنا نہ
کہو بلکہ” انظرنا“ کہو اور پہلے سے ہی بغور سنو۔
(4)فرمایا: لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ
بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (النور:
63) ترجمہ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک
دوسرے کو پکارتا ہے۔ حضور علیہ السلام جب کسی کو پکاریں تو اس پر جواب دینا اور عمل
کرنا واجب اور ادب سے حاضر ہونا لازم ہو جاتا ہے۔ تو اے لوگو! میرے حبیب کے پکارنے
کو آپس میں ایسا معمولی نہ بنا لو کہ جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔(اے ایمان
والو!، ص 69 ملتقطاً)
(5)فرمایا: وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ
لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًاؕ (الاحزاب:53)
ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ کہ
ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو۔ الله پاک بارگا ہ رسالت کا کمال ادب سکھاتے
ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں ایذا نہ دینا، ان کے وصال کے بعد بھی ان کی ازواج مطہرات باقیوں
کیلئے حرام ہیں۔ آپ کے وصال ظاہری کے بعد بھی امتیوں کو چاہئے کہ ایسے کام نہ کریں
کہ جس سے قلب مقدس رنجیدہ ہو کہ نبی ﷺاپنی امت کے ہر حال سے واقف ہیں اور آپ ہمیں ہمارے
سب سے قریبی دوست سے بھی بڑھ کر جانتے اور پہچانتے ہیں۔ ادب میں یہ بھی ہے کہ آپ سے
منسوب ہر چیز کا ادب کیا جائے۔ آپ کی مسجد،روضہ انور، مکان و دیوار و خار و گل و سگانِ
دربار۔ آپ کی طرف منسوب موئے مبارک کی تصدیق کرنا بھی ہمارا کام نہیں۔ جان لو کہ عزت
و عظمت اسی کی ہے جس کی پلکیں محبوب خدا کے قدموں میں ہوں۔ جو اکڑا وہ تو مردود ہو
گیا اور جو جھکا اس نے معراج پائی۔پھرجب محبت کے قصے لکھنے بیٹھے تو لکھ ہی دیا کہ
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ نوید یوسف،خوشبوئے عطار واہ کینٹ
قرآنِ پاک میں
جہاں نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا بیان ہے وہیں آپ کے ادب واحترام کا حکم بھی ہے۔ اسی
طرح آپ کے سامنے ادب و احترام کے تقاضے بجالانے کی تعلیم بھی ملتی ہے بے شمار آیات
مبارکہ اس پر شاہد ہیں کہ اہل ایمان پر نبی کریم ﷺ کا ادب اور تعظیم کرنا ایمان کی
سلامتی کے لیے لازم اور ضروری ہے۔
آیت نمبر1: آداب بارگاہ نبوی کے متعلق سورۃ الحجر ات کی آیت نمبر 02 میں
الله پاک ار شاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا
اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ
كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا
تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز
یں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو
جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں
خبر نہ ہو۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب ﷺ کے دو عظیم آداب
سکھائے ہیں۔
پہلا ادب: یہ ہے کہ اے ایمان
والو!جب نبی کریم ﷺ تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم
پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ
اور پست آواز سے کرو۔
دوسرا ادب: یہ ہے کہ حضور اقدس
ﷺ کو ندا کرنےمیں ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے
ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف و تکریم کے کلمات اور عظمت والے القابات کے ساتھ
عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسول اللہ!یا نبی اللہ! کیونکہ ترک ادب سے نیکیوں کے بربادہونے
کا اندیشہ ہے اوراس کی تمہیں خبر نہ ہوگی۔
آیت نمبر02:سورۃ الحجرات کی
آیت نمبر 1میں آدابِ بارگاہِ نبوی کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ
وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ 26،
الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
اس آیت میں الله پاک ایمان والوں سے مخاطب ہو کر
فرماتا ہے:اللہ اور رسول ﷺ دونوں سے آگے نہ بڑھو۔ اللہ پاک سے آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں
ہے کیونکہ وہ نہ زمان میں نہ کسی مکان میں اور آگے ہونا یا زمان میں ہوتا ہے یا جگہ
میں۔ معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ سے آگے نہ بڑھو، ان کی بے ادبی
دراصل اللہ پاک کی بے ادبی ہے۔
آیت
نمبر03: اللہ
پاک نے سورۃ النور کی آیت نمبر 63 کے کچھ حصے میں آداب بارگاہ نبوی ﷺ کے متعلق کچھ
یوں ارشاد فرمایا: لَا
تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (النور: 63) ترجمہ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو
آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ فرمایا گیا کہ اے لوگو
! میرے حبیبﷺ کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنا لو جیسے تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔
اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اے لوگو ! میرے حبیب ﷺکے پکارنے کو آپس میں ایسا معمولی نہ
بنا لو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے کیونکہ رسول الله ﷺ جسے پکاریں اس پر
جواب دینا اورعمل کرنا واجب اور ادب سے حاضر ہونا لازم ہوجاتا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے
کہ اے لوگو! میرے حبیب ﷺ کا نام لے کرنہ پکارو بلکہ تعظیم، تکریم،نرم آواز کے ساتھ
انہیں اس طرح کے الفاظ کے ساتھ پکارو: یارسول اللہ،یا نبی الله، یا حبیب اللہ، یا امام
المرسلین، یا خا تم النبین۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ہر قسم کی ظاہری
حیات طیبہ میں اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی انہیں ایسے الفاظ کے ساتھ ندا کر نا جائز
نہیں جن میں ادب و تعظیم نہ ہو۔
آیت
نمبر 04:سورۃ
الانفال کی آیت نمبر 24 کے پہلے حصے میں رسول کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے آداب
کے بارے میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا
لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ و رسول کے بلانےپر حاضر ہو جب رسول تمہیں بلائیں۔
اس آیت سے ثابت
ہوا کہ تاجدار رسالت ﷺ جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی بارگاہ میں
حاضر ہو جائے چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو۔
آیت
نمبر 05:سورۃ
الاحزاب کی آیت نمبر 53کے پہلے حصے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ
غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا
طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ
كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ
الْحَقِّؕ-
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والونبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا
کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکوہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر
ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بے شک اس میں
نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور الله حق فرمانے میں نہیں شرماتا۔
اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے حبیب ﷺکی بارگاہ میں حاضری کے آداب خود بیان فرمائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں جو مقام حضور کو حاصل ہے وہ مخلوق میں سے
کسی اور کو حاصل نہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے تاجدار رسالت ﷺ کی ظاہری حیات مبارک
میں بھی اور وصال ظاہری کے بعد بھی آپ کی بارگاہ کا بے حد ادب واحترام کیا اور اللہ
پاک نے اپنے حبیب کی بارگاہ کے جو آداب انہیں تعلیم فرمائے انہیں دل و جان سے بجالائے۔
اسی طرح ان کے بعد تشریف لانے والے دیگر بزرگانِ دین نے بھی دربارِ سالت کے آداب کا
خوب خیال رکھا اور دوسروں کو بھی وہ آداب بجالانے کی تلقین کی۔ ہمیں بھی صحابہ کرام
اور بزرگان دین کے احکام کے مطابق اور آیت قرآنی کے مطابق بارگاہ نبوی کے آداب بجالانے
چاہییں۔
ایک مرتبہ حضرت
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں دو شخصوں کی بلند آواز سنی تو آپ (ان کے پاس)
تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم دونوں جانتے ہو کہ کہاں کھڑے ہو ؟ پھر ارشاد فرمایا:تم
کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ دونوں نے عرض کی: ہم طائف کے رہنے والے ہیں، ارشاد فرمایا:
اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں (یہاں آواز بلند کرنے کی وجہ سے )تمہیں
ضرور سزا دیتا (کیونکہ مدینہ منورہ میں رہنے والے دربار رسالت کے آداب سے خوب واقف
ہیں۔)(تفسیرابن کثیر،7/343)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ احسان،فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
جو لوگ سید المرسلین ﷺ کی بارگاہ میں اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں انہیں
بخشش اور بڑے ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔آپ کی بارگاہ کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی
بارگاہ کے آداب اللہ پاک نے ارشاد فرمائے ہیں۔ کسی کام میں حضور سے آگے ہونا منع
ہے۔ اگر حضور کے ہمراہ ر استے میں جا رہے ہوں تو آگے آگے چلنا منع ہے مگرخادم کی حیثیت
سے یاکسی ضرورت سے اجازت پا کر چلنا منع نہیں۔ اگر ساتھ کھانا ہو تو پہلے شروع
کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح اپنی عقل اور اپنی رائے کو حضور کی رائے سے مقدم کرنا
حرام ہے۔رسولِ کریم ﷺ کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں میں برابرہے۔ تاہم عبادات
بدن کا تقویٰ ہیں اور حضور کاادب دل کا تقویٰ ہے۔
1۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب ﷺ
کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اےایمان والو!الله
پاک اور اس کے رسول کریم ﷺ کی اجازت کے بغیر کسی قول و فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ
بڑھنا تم پر لازم ہے کیونکہ یہ آگے بڑھنا رسولِ کریم ﷺ کے ادب و احترام کے خلاف ہے
جبکہ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے
تمام اقوال و افعال میں اللہ پاک سے ڈرو کیونکہ اگرتم اللہ پاک سےڈرو گےتو یہ ڈرنا
تمہیں آگے بڑھنے سے روکےگا اور ویسے بھی اللہ پاک کی یہ شان ہے کہ وہ تمہارے تمام
اقوال کو سنتا اورتمام افعال کو جانتا ہےاور جس کی ایسی شان ہے اس کاحق یہ ہے کہ
اس سے ڈرا جائے۔
2۔ یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی
آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا
کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو
جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ اس آیتِ مبارکہ میں بھی اللہ پاک نےایمان والوں کواپنے
حبیب کے دو عظیم آداب سکھا ئے ہیں۔ پہلا ادب یہ ہے کہ اےایمان والو! جب نبی کریمﷺ
تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کروتو تم پر لازم ہے کہ
تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو۔ بلکہ جو عرض کرنا ہےوہ آہستہ اورپست آواز
سے کرو۔
دوسر اادب یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺکو ندا کرنے میں
ادب کا پورا لحاظ رکھواور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لےکر پکارتے ہو اس طرح نہ
پکارو بلکہ تمہیں عرض کرنا ہو تو ادب و تعظیم اور توصیف و تکریم کے کلمات اور عظمت
والے القاب کے ساتھ عرض کرو۔جیسے یوں کہو:یا رسول اللہ،یا نبی اللہ، کیونکہ ترکِ ادب
سےنیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
3۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3
) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ
ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب
ہے۔جب یہ آیت ” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ “نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق،حضرت
عمر فاروق رضی اللہ عنہما اور کچھ دیگر صحابہ کرام نے بہت احتیاط لازم کرلی اور
سرکارِ دو عالمﷺ کی خدمتِ اقدس میں بہت ہی پست آواز میں عرض معر وض کرتے۔ ان حضرات
کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اوران کے عمل کو سر اہتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:بےشک
جو لوگ ادب اور تعظیم کے طور پر الله کے رسولﷺ کی بارگاہ میں اپنی آوازیں پست رکھتے
ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ پاک نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا۔ (اور
اس میں موجودپرہیز گاری کو ظاہرفرما دیا) ہے۔ ان کے لیے آخرت میں بخشش اور بڑ
اثواب ہے۔
4۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات:
4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر
بے عقل ہیں۔
بنو تمیم کے
چند لوگ دو پہر کے وقت رسولِ کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔اس وقت حضور آرام فرما رہے
تھے۔ ان لوگوں نے حجروں کے باہر سے حضور کو پکارنا شروع کر دیا اور حضور باہر
تشریف لے آئے۔ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور رسولِ کریم ﷺ کی جلالتِ
شان کو بیان فرمایا گیا کہ سید المرسلینﷺ کی بارگاہ اقدس میں اس طرح پکارنا جہالت
اوربے عقلی ہے۔
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ محمد حنیف، فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
کتاب اللہ میں
بارگاہ نبوی کے بہت سے آداب بیان کیے گئے ہیں۔ آقاﷺ کی بارگاہ میں بلند آواز سے
بات کرنا ادب کے خلاف ہے۔ لہٰذا پیارے آقا کی بارگاہ میں گفتگو کرنے کےجو آداب
کتاب اللہ میں بیان ہوئے ان کو بجالانا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
آیات مبارک:
1۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
2۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ
26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس
غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں
ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ
ہو۔ یعنی تمہیں لازم ہے کہ اصلاً تم سے تقدیم واقع نہ ہو،نہ قول میں نہ فعل میں کہ
تقدیم کرنا رسول اللہ ﷺکے ادب واحترام کے خلاف ہے۔
3۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3
) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ
ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب
ہے۔
تفسیر:یہ
آیت” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ “ نازل ہونے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق
و عمرفاروق رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام نے بہت احتیاط لازم کرلی اور خدمت
اقدس میں بہت پست آواز سے عرض معروض کرتے ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی-
4۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات:
4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر
بے عقل ہیں۔
تفسیر:
یہ
آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں دوپہر کے وقت
پہنچے جبکہ حضور آرام فرمارہے تھے۔ ان لوگوں نےحجروں کے باہر سے حضور ﷺکو پکارنا
شروع کردیا، حضور باہرتشریف لے آئے۔ نیز اجلالِ شان رسول اللہ کابیان فرمایا گیا کہ
بارگاہ اقدس میں اس طرح پکار ناجہالت و بے عقلی ہے اور ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی
گئی۔
5۔ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى
تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات:
4) ترجمہ: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے
لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
تفسیر:اس
وقت وہ عرض کرتے جو انہیں عرض کرنا تھا یہ ادب ان پر لازم تھا۔ اس کو بجالائیں ان
میں سے اُن کے لیے جو توبہ کریں۔
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ عابد حسین،فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
قرآن کریم میں
اللہ پاک نے اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد ﷺکے حوالے سے ہمیں آداب سکھائےکہ پیارے
آقا ﷺ کی بارگاہ میں کون سے آداب ملحوظ رکھنے چاہئیں۔
1-آیت:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
اس آیت میں اللہ نے ایمان والوں کو اپنے حبیب ﷺ
کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول
کی اجازت کے بغیر کسی قول و فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے اور
اللہ سے ڈرو۔(صراط الجنان)
2-آیت:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ
26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس
غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں
ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ
ہو۔
پیارے آقاﷺ کی
بارگاہ میں جو عرض کرنا ہوآہستہ عرض کرو اور حضور کوندا کرنے میں ادب کا لحاظ رکھو۔(صراط
الجنان)
3-آیت: اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3
) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ
ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب
ہے۔
جو لوگ ادب و تعظیم کے طور پر حضور ﷺکی بارگاہ میں
اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پرہیزگاری کے لیے پرکھ
لیا گیا ہے۔ (صراط الجنان)
4-آیت: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات:
4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر
بے عقل ہیں۔
رسول کریمﷺ
کی جلالت شان کو بیان فرمایا گیا کہ حضور کی بارگاہ میں اس طرح پکارنا جہالت اور
بے عقلی ہے۔(صراط الجنان)
5-آیت: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى
تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات:
4) ترجمہ: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے
لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اس آیت میں
صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ حضور ﷺکو پکارنے کی بجائےصبر اورا نتظار کرنا چاہیے
تھا۔ اور جن سے یہ بے ادبی سرزد ہوئی اگروہ توبہ کریں تو اللہ بخشنےوالا ہے۔(صراط
الجنان)
حضورﷺ کے
دربار کے آداب اللہ نے بنائے اور اللہ نے ہی سکھائے ہیں اوریہ آداب جنوں،انسانوں،
فرشتوں سب پر جاری ہیں اور ہمیشہ کے لئے ہیں۔حضور کی بارگاہ میں آداب کو ملحوظ رکھا
جائے۔ یہ ادب ہی بلند درجات تک پہنچاتا اور دنیا و آخرت کی سعادتوں سے نوازتا ہے۔
واقعہ: حضرت امام
مالک رحمۃ الله علیہ درسِ حدیث دے رہے تھے کہ بچھو نے آپ کو16 ڈنک مارے۔درد کی شدت
سے مبارک چہرہ پیلا پڑ گیا مگر درس حدیث جاری رکھا اور پہلو تک نہ بدلا۔جب درس حدیث
ختم ہوا تو عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کی: میں نے آپ میں عجیب بات دیکھی!
اس میں کیا حکمت تھی؟ فرمایا: میں نے حدیث رسول کی تعظیم کی بنا پر صبر کیا۔ ( الشفا)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ غلام سرور، فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
کسی بھی
بلندمر تبہ شخصیت کے پاس جانے کیلئے اس کے آداب کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر والدین سے بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو ان کی آواز سے آہستہ رکھنا
اور ان کی اطاعت کرنا ہم پہ ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کی
بارگاہ میں حاضری کیلئے بھی آداب ہیں جو کہ اللہ پاک نے اپنے لاریب کلام میں بیان
فرمائے اور خود ہی ہمیں سکھائے۔
قرآن کریم، فرقان حمید میں کئی ایسی آیات مبارکہ ہیں جن کو اللہ پاک نے
اپنے پیارے نبی ﷺ کی بارگاہ کے آداب سے متعلق، مجلس میں گفتگو کرنے سے متعلق، آپ کی
مجلس میں بیٹھنے سےمتعلق احکامات نازل فرمائےہیں۔ جہاں پیارے آقا کی تعظیم کا ذکر
کیا وہاں قرآن مجید نے اس چیز سے بھی منع فرمایا کہ اگر کسی جملے کے اندریاکسی
کلمے کے اندر کسی بے ادبی کا شائبہ پایا جاتا ہو تو ایسا کلمہ پیارے آقا کے شایان
شان نہیں، لہٰذا ا س کو بولنے کی بالکل اجازت نہیں اگر چہ اس لفظ کا درست معنی بھی
موجود ہو اسے اسی وجہ سے ختم کر دیا کہ جس کے اندر بے ادبی کا ادنی سا شائبہ
بھی پایا جاتا ہے وہ میرے حبیب کی شان کے لائق نہیں، جیسے ارشاد باری ہے:
1۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ
کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں
کے لیے دردناک عذاب ہے۔
2۔ پیارے آقا ﷺکیلئےراعنا
کالفظ بولنے سےمنع فرما دیا گیا۔ قرآن کریم کی دیگر آیات بھی ہیں کہ جن میں تعظیمِ
مصطفٰے بیان کی گئی تو فرمایا گیا: لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ26،الفتح:9)ترجمہ کنز الایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول
کی تعظیم و توقیرکرو۔ علما لکھتے ہیں: ان کلمات کی ترتیب دیکھئے تو
پہلے ایمان باللہ،پھرایمان بالرسل کا ذکر ہوا۔اگر ایمان باللہ تو مگر ایمان بالرسل
نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد سب سے پہلےجس چیز کا حکم دیا کیا وہ پیارے
آقا ﷺکی تعظیم آپ کی توقیر کا حکم فرمایا گیا۔پھر اس کے بعد ذکر کیا کہ صبح و شام
تسبیح بولو۔
3۔فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ
عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ
مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۱۵۷) (الاعراف:
157) ترجمہ کنز الایمان: تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے
مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اُترا وہی بامراد ہوئے۔
4۔اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3
) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ
ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب
ہے۔
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ نعیم، فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
ہمارے پیارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفٰے ﷺ کا ادب واحترام اور آپ کی تعظیم
کرنا ایمان کی شرط اول ہے۔
محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ
نامکمل ہے
اللہ کریم کو
اپنے حبیب ﷺ کا ادب واحترام اور تعظیم اس قدر عزیز اور محبوب ہے کہ اس نے اپنے حبیب
کی بارگاہ اقدس کے آداب خود بیان فرمائے اور اللہ کریم نے جب بھی قرآن کریم میں
کسی بھی نبی کا ذکر فرمایا تو ان کا نام لے کر فرمایا لیکن جب اپنے پیارے حبیب اور
تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور تمام ملائکہ مقربین سے افضل ہمارے پیارے آقا
کا ذکر فرمایا تو آپ کا نام نہیں یاد فرمایا بلکہ آپ کو یایھا
المزمل،
یایھا الرسول، طہ اوریٰسٓ جیسے القابات سے مخاطب فر
مایا۔اور قرآن کریم میں مختلف مقامات پر آپ ﷺ کی بارگاہ عالی کے آداب بیان فرمائے
ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشادرب الا نام ہے۔
1- یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ! ر اعنا نہ
کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں
کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اس آیت مبارکہ کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضور اقدسﷺ
صحابہ کرام کو کچھ فرما رہے ہوتے تو کبھی کبھی وہ عرض کرتے: راعنا یا
رسول اللہ! یعنی یا رسول اللہ ہماری رعایت فرمائیے۔ اور یہودیوں کی زبان میں یہ لفظ
بے ادبی کے لئے استعمال ہوتا تھا تو انہوں نے اسے بے ادبی کے لئے کہنا شروع کر
دیا، اس لئے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ راعنا نہ کہو اور” انظرنا “
کہنے کا حکم ہوا۔
معلوم ہو!ا پیارے آقاﷺ کے دربار عالی میں ادب کا
لحاظ رکھنافرض ہے کہ ایسے الفاظ جن کے ایک معنی اچھے اور دوسرے معنی غلط یعنی برے
ہوں تو ایسے الفاظ حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ عالیہ میں استعمال نہ کئے جائیں۔ اس کے
علاوہ سورہ حجرات، آیت نمبر4 میں ارشادخداوندی ہے:
2- اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات:
4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر
بے عقل ہیں۔ اس آیت مبارکہ کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے چند
افراد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت حضور آرام فرما رہے تھےتو ان لوگوں نے
حجرے کے باہر کھڑے ہوکر آپ کو پکارنا شروع کر دیا حتی کہ آپ باہر تشریف لے آئے، ان
لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور پیارے آقا کی شان عزت کو بیان
فرمایا کہ آپ کی بارگاہ میں اس طرح پکارنا سراسر جہالت و بے عقلی ہے۔ (الحجرات:15-16)
اسی آیت کریمہ کے بعد والی آیت میں اللہ پاک فرماتا
ہے:
3- وَ لَوْ اَنَّهُمْ
صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ
غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات: 4) ترجمہ: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف
لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔اس آیت مبارکہ میں
ان لوگوں کو ادب کی تلقین فرمائی گئی جنہوں نے حضور ﷺ کا انتظار کرنے کی بجائے
انہیں پکارا بلکہ انہیں چاہئے تھا کہ حضور کو پکارنے کی بجائے آپ کے حجرے سے باہر
تشریف لانے کا انتظار کرتے، یہ ادب کرنا ان کے لئے بہتر تھا۔اسی سورت کے شروع میں
رب کریم فرماتا ہے۔
4-
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔ اس
آیت مبارکہ سے جو باتیں معلوم ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے
رسول سے آگے نہ بڑھو لیکن اللہ پاک سے آگے بڑھنا تو ممکن ہی نہیں کہ وہ مکان وز مان
سے پاک ہے اور آگے بڑھنا زمان و مکان میں ہوتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس آیت کا
مقصودیہ ہے کہ رسولﷺ سے آگے نہ بڑ ھو کہ ان کی ادبی در حقیقت کی بے ادبی ہے۔
5-: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی
آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔ اس آیت کریمہ میں
فرمایا گیا کہ نبی کریمﷺکی بارگاہ میں اگر کچھ عرض کرنا ہو تو اپنی آوازیں ان کی
آواز سے بلند نہ کرو بلکہ جو عرض کرنا ہےآہستہ آواز سے کہو اور یہ حکم حضور کے
وصال ظاہری کے بعد سے بھی قیامت تک رہے گا۔
واقعہ:امام
مالک رحمۃ اللہ علیہ جب مسجد نبوی شریف میں درس حدیث دیا کرتے تو جب آپ کے حلقۂ درس
کی تعداد زیادہ ہوگئی تو آپ سے عرض کی گئی کہ آپ ایک آدمی رکھ لیں جو آپ سے حدیث
مبارکہ سن کر لوگوں کو سنا دیا کرے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یہ آیت مبارکہ
تلاوت فرمائی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ اور فرمایا:رسول
اللہ ﷺ کی عزت و حرمت زندگی اور وفات دونوں میں برابر ہے اس لئے میں کسی شخص کو
یہاں آواز بلند
کرنے کے لئے مقرر نہیں کر سکتا۔
اللہ کریم ہمیں
بھی اخلاص کے ساتھ اپنے پیارے حبیب ﷺ کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami