قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ نعیم، فیضان فاطمۃ الزہرا مدینہ کلاں لالہ موسیٰ
ہمیں ہر روز
کسی نہ کسی بلند رتبہ شخصیت کے سامنےحاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس شخصیت کے
شایان شان حاضری کے آداب بھی ملحوظ خاطر رکھنے ہوتے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور دیگر بھی
ہستیاں جن سے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ملنا ہوتا ہے ان کے آداب اور حقوق کو مدنظر رکھنا
ہمارےلیے ضروری ہے۔ اللہ پاک کے آخری نبی، محبوب مدنی، محمد عربی ﷺ کی بار گا عز و
جاہ کی بابرکت اور مقدس حاضری کے بھی آداب ہیں جو رب کریم نے ہی بنائے اور خود اسی
نے سکھائے۔ اور یہ آداب انسانوں پر ہی جاری نہیں بلکہ جنوں انسانوں اور فرشتوں سب
پر جاری ہیں اور کسی خاص وقت تک مخصوص نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری ہوئے۔ رب
کریم اپنے لاریب کلام کےپارہ 26 سورہ حجرات کی آیات میں اپنے محبوب کی امت کو
بارگاہ محبوب میں حاضری کے آداب سکھاتے ہوئے فرماتا ہے:
پہلا
ادب: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے
فرماتے ہیں کہ اس آیت کا شان نزول کچھ بھی ہو مگریہ حکم سب کو عام ہے یعنی کسی بات
میں کسی بھی کام میں حضور سے آگے ہونا منع ہے۔
علامہ اسماعیل
حقی فرماتے ہیں:علمائے کرام چونکہ انبیائے کرام کے وارث ہیں اس لئے ان سے آگے
بڑھنا بھی منع ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
حضور ﷺ نے مجھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سےآگے چلتے دیکھا تو ارشادفرمایا: اے ابو
در داء! کیا تم اس کے آگے چلتے ہو جو تم میں بلکہ ساری دنیا سے افضل ہے۔
دوسرا
ادب: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ
26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس
غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں
ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ
ہو۔
وضاحت:
اس آیت کریمہ میں ایمان والوں کو حبیبِ کریم ﷺ کے 2 عظیم آداب سکھائے گئے۔
پہلا یہ کہ جب تم سے نبی ﷺکلام فرمائیں اور تم
ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو توتم پر لازم ہےکہ تمہاری آوازان کی آواز سے بلند نہ
ہو بلکہ جو عرض کرنا ہو وہ پست آواز سے کرو۔
دوسرا ادب یہ کہ حضور ﷺ کو ندا کرنے میں ادب و
تعظیم اور توصیف و تکریم کے کلمات اور عظمت والے القاب کے ساتھ عرض کرو۔ جیسے یوں
کہو:یارسول اللہ!،یانبی اللہ! کیونکہ ترکِ ادب کے سبب نیکیوں کے برباد ہونے کا
اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔(تفسیر سورهٔ حجرات، 5/6)
تیسرا
ادب: اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3
) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ
ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب
ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا
اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ:اس آیت مبارکہ کے نازل ہونے کے
بعد صحابہ کرام نے بہت احتیاط لازم کر لی اور سر کار دو عالم ﷺ کی خدمت مبارکہ میں
بہت ہی پست آواز سے عرض و معروض کرتے تو یہ آیت کریمہ صحابہ کرام کی حوصلہ افزائی
میں نازل ہوئی۔
تمام عبادات
بدن کا تقویٰ ہیں اور حضور اقدسﷺ کی تعظیم دل کا تقوی ٰہے۔اللہ پاک نے صحابہ کرام
کے دل پرہیز نگاری کیلئے پرکھ لئے ہیں تو جو معاذ اللہ انہیں فاسق کہے وہ اس آیت ِمبارکہ
کا منکر ہے۔
چوتھا
ادب: اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات:
4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر
بے عقل ہیں۔ اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے
وقت حضور کی خدمت میں پہنچے۔اس وقت حضور آرام فرما رہے تھے۔ ان لوگوں نے حجروں کے
باہر سے حضور کو پکارنا شروع کر دیا توحضور باہر تشریف لے آئے۔ ان لوگوں کے بارے
میں یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی اور حضور ﷺ کی جلالت شان کو بیان فرمایا کیا کہ ان
کی بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہالت اور بے عقلی ہے۔
پانچواں
ادب: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى
تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات:
4) ترجمہ: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے
لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔اس آیتِ مبارکہ میں ان لوگوں کو ادب
کی تلقین کی گئی ہے کہ انہیں رسولِ کریم ﷺ کو پکارنے کی بجائے صبر اور انتظار کرنا
چاہیے تھا یہاں تک کہ حضور خود ہی مقدس حجرے سے باہر تشریف لے آتے۔ اس کے بعد یہ
اپنی عرض پیش کرتے تویہ ان کے لیے بہتر تھا اور جن سے یہ بے ادبی سرزد ہوئی اگر وہ
توبہ کریں تو اللہ پاک انہیں بخشنے والا مہر بانی فرمانے والا ہے۔
واقعہ:حضرت سلیمان بن
حرب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک دن حضرت حماد رحمۃ اللہ علیہ نے حدیثِ مبارکہ
بیان کی تو ایک شخص کسی چیز کے بارے میں کلام کرنے لگ گیا۔ اس پر حماد رحمۃ اللہ
علیہ غضبناک ہوئے اور کہا:اللہ پاک فرماتا ہے: لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ
فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ترجمہ کنز
العرفان:اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔ اور میں کہہ رہا ہوں کہ رسول
اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا، جبکہ تم کلام کر رہے ہو!یعنی آواز اگرچہ میری ہے لیکن کلام
تو حضور کا ہے۔ پھر تم اس کلام کو سنتے ہوئے کیوں گفتگو کر رہے ہو؟
اللہ پاک ہمیں
بھی پیارے حبیب کے صدقے اپنے حبیب ﷺ کا فرمانبردار اور با ادب بنائے۔آمین
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ یوسف، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
قرآنِ کریم میں
جہاں الله پاک کے آخری نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کا بیان ہے وہیں آپ ﷺکی اطاعت واتباع کا
حکم بھی ہے۔ اسی طرح سرکار دو عالمﷺ کے سامنے ادب واحترام کے تقاضے بجالانے کی تعلیم
بھی ملتی ہے۔ آیات مبارکہ اس پر شاہد ہیں کہ اہل ایمان پر نبی آخر الزمان ﷺ کا ادب
کرنا اور آپ ﷺ کی تعظیم کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں بلند آواز کرنے کو حرام قرار دیا گیا۔ قرآنِ پاک
میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمہ کنز العرفان:اے
ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز
سے کوئی بات نہ کہوجیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال
بر باد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔(پ 26، الحجرات: 2)اس آیت مبارکہ کے نزول کے
بعد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں عرض گزار ہوئے: اللہ کی قسم! آئندہ
میں آپ ﷺ سے سرگوشی کے انداز میں بات کیا کروں گا!
کسی عمل میں پیش قدمی نہ کریں:ا
للہ پاک نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا
بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ
عَلِیْمٌ(۱) ترجمہ: اے ایمان
والو! الله اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک الله سنتا اور جانتا
ہے۔( الحجرات)
شان
نزول: ابن
المنذر نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ قربانی کے دن کچھ لوگوں نے حضور اکرم ﷺ سے پہلے
قربانی کر دی تو آپ ﷺنے دوبارہ ان کو قربانی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اس پر یہ آیت
نازل ہوئی۔
راعنا کہنے کی ممانعت: حضور اکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر کرنا اور
آپ کی بارگاہ میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے۔ ایسے الفاظ جن سے ترک ادب کا شائبہ بھی
ہو وہ الفاظ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا
انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ: 104)ترجمہ:
اے ایمان والو! راعنا نہ کہواور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر
رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
آپﷺکے
بلانے پر حاضری کا حکم:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا
دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ- (پ 9، الانفال: 24 )ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانےپر حاضر ہو۔ جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے
بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺکا بلانا الله
پاک کا بلانا ہی ہے۔
تعظیمِ مصطفٰے ایمان کا لازمی جز ہے:پاره26 سورہ فتح کی آیت نمبر
8 اور 9 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ
تُوَقِّرُوْهُؕ- ترجمہ کنز الایمان: بے شک ہم
نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اوراس کے رسول
کی تعظیم و توقیر کرو۔ان دونوں آیات میں اللہ پاک نے رسول اکرم
ﷺ کی رسالت ان کے حاضر و ناظر ہونے اور ان پر ایمان لانےکے بیان کے ساتھ ساتھ اپنے
پیارے حبیب، احمد مجتبیٰ ﷺ کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ایمان
کے ساتھ الله پاک کے آخری نبی، مکی مدنیﷺکی تعظیم فرض ہے۔
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ امجد وڑائچ، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حضرت محمدﷺ کی
ذات انتہائی احترام کی متقاضی ہے۔ آپ اللہ پاک کے بندے اور رسول ہیں۔تاہم اس کا مطلب
ہرگز یہ نہیں کہ جس طرح مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ پیش آتے ہیں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ
بھی وہی انداز اختیار کریں۔
ارشاد
ہوا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)
(الحجرات:1 )ترجمہ: اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اللہ
سے ڈرو اللہ سب کچھ سننے اور جانے والا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے
سامنے آواز بلند کرنے کی ممانعت کا مطلب ہے کہ حضور کا احترام ملحوظ ہے اور یہ بھی
مطلب ہو سکتا ہے کہ جو حضور کا احترام نہیں کرتا وہ الله پاک کا احترام نہیں کرتا۔
سورۂ حجرات کی
ابتدائی آیات میں نبی ﷺ سے آگے بڑھنے،بلند آواز سے گفتگو کرنے اور آرام میں مخل ہونے
کو زندگی بھر کے اعمال ضائع ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بلا شبہ حضور اکرم ﷺ کا احترام
اور مقام، مال و دولت، والدین، اولاد گو یاہر شے سے بڑھ کر ہے۔ ادب، آداب کے اہتمام
کے حوالے سے ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا
انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (پ2،البقرۃ:104)
ترجمہ: اے لوگو !جو ایمان لائے ہو را عنا نہ کہا کروبلکہ
انظرنا کہو اور توجہ سے بات سنویہ کافر تو عذاب
الیم کے مستحق ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب یہ آیت” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ“ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ! اللہ پاک
کی قسم! آئندہ میں آپ سے سرگوشی کے انداز میں بات کیا کروں گا۔ (کنز العمال،1/214)
حضرت عبد اللہ
بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ
عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ رسول کریم ﷺکی بارگاہ میں بہت آہستہ آواز سے بات کرتے حتی
کہ بعض اوقات خود حضور اکرم ﷺکوسمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو؟
(ترمذی، 5/177)
ان
آداب کو بجالانے کا درس:توحید کا نور صرف انہی دلوں میں اتارا جاتا
ہے جن میں ادب مصطفےٰ ہوتا ہے یعنی ادبِ مصطفٰے کا صلہ نور توحیدسے ملتا ہے۔ بے ادبی
کفر ہے اور ادب مصطفٰے عین توحیدہے۔ گویا یہ بات واقع ہوگئی کہ جس نے اللہ کی توحیدکو
سمجھنا ہو وہ حضور کے آداب کو اپنا لے۔جو دل اللہ کی توحید کے لیے منتخب کر لیے جاتے
ہیں وہی انوارالٰہی کی منزل ہوتے ہیں۔لہٰذا کوئی توحید کے بارے میں پوچھے تو جواب ہے ” ادب مصطفیٰ “اور سب سے بڑا کفر بے
ادبی مصطفٰے ہے۔یہ درس وہ ہے جو ادب والے عمر بھر دیتے رہے۔ اسی درس کو اپنائیے، اس
سے سارے اعمال صالحہ مقبول اور نور بن جائیں گئے۔ اللہ پاک ہمیں ایمان کے اس اصلی جوہر کو پانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین
ﷺ
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ محمد تنویر، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حضرت محمد ﷺ کی ذات انتہائی احترام کی متقاضی ہے۔ آپ الله پاک کے بندے اور رسول
ہیں۔تاہم اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ جس طرح مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ پیش آتے ہیں۔حضور
اکرم ﷺ کے ساتھ بھی وہی انداز اختیار کریں۔
ارشاد
ہوا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)
( الحجرات: 42 ) ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، الله اور اس کے رسول کے آگے پیش
قدمی نہ کرو اور الله سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
نبی محترم ﷺ کے
سامنے آواز بلند کرنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا احترام ملحوظ رہے
کیوں کہ رُوگردانی کی صورت میں زندگی بھر کی کمائی ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اور یہ بھی
ہو سکتا ہے کہ جو حضور کا احترام نہیں کرتا وہ اللہ پاک کا احترام نہیں کرتا۔سورۃ الحجرات
کی ابتدائی آیات میں نبیﷺ سے آگے بڑھنے، بلند آواز سے گفتگو کرنے اور آرام میں مخل
ہونے کو زندگی بھر کے اعمال ضائع ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بلا شبہ حضور کا احترام
اور مقام،مال و دولت،والدین، اولاد گویا ہر شے سے بڑھ کر ہے۔ ادب و آداب کے اہتمام
کے حوالے سے ارشاد ربانی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)
(پ2،البقرۃ:104) ترجمہ: اے لوگو!جو ایمان لائے ہوئے ہوراعنا نہ
کہا کرو بلکہ انظرنا کہو اور توجہ سے بات سنو، یہ کافر تو عذاب
الیم کے مستحق ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب یہ آیت یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! اللہ پاک
کی قسم! آئندہ میں آپ سے سرگوشی کے انداز میں بات کیا کروں گا۔ (کنز العمال،1/214)
حضرت عبد اللہ
بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ
عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ رسول کریم ﷺکی بارگاہ میں بہت آہستہ آواز سے بات کرتے حتی
کہ بعض اوقات خود حضور اکرم ﷺکوسمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو؟
(ترمذی، 5/177)
ان
آداب کو بجالانے کا درس:توحید کا نور صرف انہی دلوں میں اتارا جاتا
ہے جن میں ادب مصطفٰےﷺ ہوتا ہے یعنی ادبِ مصطفٰے کا صلہ نور توحیدسے ملتا ہے۔ بے ادبی
کفر ہے اور ادب مصطفٰے عین توحیدہے۔ گویا یہ بات واقع ہوگئی کہ جس نے اللہ کی توحیدکو
سمجھنا ہو وہ حضور ﷺکے آداب کو اپنا لے۔جو دل اللہ کی توحید کے لیے منتخب کر لیے جاتے
ہیں وہی انوارالٰہی کی منزل ہوتے ہیں۔لہٰذا کوئی توحید کے بارے میں پوچھے تو جواب ہے ” ادب مصطفی “اور سب سے بڑا کفر
بے ادبی مصطفٰے ہے۔یہ درس وہ ہے جو ادب والے عمر بھر دیتے رہے۔ اسی درس کو اپنائیے،
اس سے سارے اعمال صالحہ مقبول اور نور بن جائیں گے۔ اللہ پاک ہمیں ایمان کے اس اصلی جوہر کو پانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین
ﷺ
آدابِ نیوی کے حوالے سے واقعہ: صحابہ
کرام کے ہاں آقا ﷺ کی عظمت کا عقیدہ یہ تھا کہ اُس میں کوئی حد ان کے ساتھ نہیں رہتی
تھی۔ حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکامعمول یہ تھا کہ جب حضور کاوصال
ہو گیا تو مسجد نبوی میں اگر کوئی تعمیر کے دوران کبھی کوئی کیل لگانا پڑ جاتی تھی
توکیل لگانے کی تھوڑی سے آواز سے بھی آپ منع فرماتیں کہ خبردار! اس آواز سے آقا کو
تکلیف ہو رہی ہےیعنی مسجد کے اندر صحابہ کرام کو کیل تک لگانے کی اجازت نہیں تھی کہ
اُس کی آواز سے آپ کے آرام میں خلل آ رہا ہے۔آقا سے محبت،آپ کا ادب، تعظیم وتکریم اس
درجے کی ہو تو ایمان، عقیدہ اور اسلام قائم و دائم اور محفوظ رہتا ہے۔ ہمیں دل سے پیارے
آقا کی تعظیم کرنی چاہیے۔ اللہ پاک غلطی اور بے ادبی سے بچائے۔ آمین
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ جہانگیر، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اس کار خانۂ قدرت
میں جس کو جو نعمتیں ملیں ادب ہی کی بنا پر ملیں۔ جو ادب سے محروم رہا وہ حقیقت میں
ہر نعمت سے محروم رہا۔ ادب ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔دنیا کے شہنشاہوں
کا اصول ہے جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور دربار کے
آداب خود بناتا ہے جب وہ چلا جاتا ہے تو تعظیم بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ محمد مصطفٰےﷺ کی
ذات گرامی ہے جن کی تعظیم و توقیر کا اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ قرآن ِکریم میں آپ کی
تعظیم وادب کے با قاعدہ اصول اور احکام بیان فرمائے ہیں۔
1- سرکار دو عالم ﷺکی خدمت میں آواز بلندکرنے کو حرام
قرار دیا گیا۔ الله پاک کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ
کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس
میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر
نہ ہو۔
2-کسی قول و
فعل میں ان سے آگے نہ بڑھو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ
26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
3-حضور ﷺ جب بھی بلائیں فوراً ان کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ۔اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ (الانفال:24)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ و رسول کے بلانےپر حاضر ہو جب رسول تمہیں
بلائیں۔
4-بارگاہِ رسالت میں کوئی بات عرض کرنے سے پہلے
صدقہ دے لو۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ
فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ
اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (المجادلۃ: 12) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب
تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ
تمہارے لیے بہتر اور بہت ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا
مہربان ہے۔
5-جس کلمہ میں ادب
ترک ہونے کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے جیسا کہ لفظ ”را عنا“کو تبدیل کرنے کا
حکم دینے سے یہ بات واضح ہے۔الله پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ
لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (البقرۃ:104)ترجمہ: اے ایمان والو ! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی
سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ پاک کے حبیب ﷺ کی زبان اقدس سے اللہ پاک کے
وہ احکام سنے جن میں آپ کی تعظیم و توقیر اور ان کی بابرکت بارگاہ کے ادب واحترام کی
شاندار مثالیں رقم ہیں، چونکہ انہیں حضور کا فیض بہت زیادہ حاصل تھا، لہٰذا وہ تاجدار
رسالت ﷺ سے بہت محبت کرتے اور تعظیم و توقیر میں کوتاہی کے کبھی مرتکب نہیں ہوتے بلکہ
ہمیشہ تعظیم و توقیر میں اضافہ ہی کرتے تھے۔
حضور کا ادب بجالانے کا درس:توحید کانور صرف انہی دلوں میں اتارا جاتا ہے جن میں ادب مصطفٰے ہوتا ہےیعنی
ادب مصطفٰے کا صلہ نور توحید سے ملتا ہے۔ بے ادبی کفر ہے۔ ادب مصطفیٰ عین توحید ہے۔
گویایہ بات واضح ہوگئی کہ جس نے اللہ کی توحید کو سمجھنا ہو وہ حضور کے ادب کواپنالے
جو دل اللہ کی توحید کے لیے منتخب کر لیےجاتے ہیں وہی انوار الہیہ کی منزل ہوتے ہیں
لہٰذا کوئی توحید کے بارے میں پوچھے تو جواب ہے” ادب مصطفٰے“اور سب سے بڑا کفربے ادبی
مصطفٰے ہے۔یہ درس وہ ہے جو ادب والے عمر بھر دیتے رہے۔ اس درس کو اپنا لیں اس سے سارے
اعمال صالح مقبول اور نور بن جائیں گے۔ الله کریم ہمیں ایمان کے اصل جوہر کو پانے کی
توفیق عطا فر مائے۔آمین
حضرت عثمان کا واقعہ:حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے حدیبیہ
کے موقع پر آپ کو قریش کے پاس بھیجا تو قریش نے آپ کو طواف کی اجازت دے دی لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ماکنت لافعل حتی یطوف بہ رسول اللہ یعنی میں اس وقت تک طواف نہیں کر سکتا جب تک رسول ﷺ طواف نہیں
کرتے۔(شفاء، 2/39) اللہ کریم ہمیں سچی پکی عاشقہ رسول بنائے اورآقا ﷺ کی تعظیم کرنے والی
بنائے۔ آمین
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ شوکت، فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حضرت محمدﷺ کی
ذات انتہائی احترام کی متقاضی ہے۔آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ جو آپ کا احترام نہیں
کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا اور وہ یوں سمجھے کہ معاذالله الله پاک کا احترام نہیں کرتا۔ارشاد
ہوا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ
22، الاحزاب: 56) ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پردرود بھیجتے ہیں۔اے ایمان
والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
جب رسول اللہﷺکا
نام سنے تو چاہیے کہ درود بھیجے اور جو نہ بھیجے اس کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ سب سے
زیادہ بخیل شخص ہے۔
5
آداب قرآنی آیات و ترجمہ اور مختصر شرح کے ساتھ:
دربار رسول کا ادب یہ کہ آئیں بھی اجازت لے کر اور جائیں
بھی اذن حاصل کر کے جیسا کہ غلاموں کا مولیٰ کے دربار میں طریقہ ہوتا ہے۔چنانچہ ارشاد
ہوا: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ
یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-فَاِذَا
اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ
اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۶۲) ( النور: 62) ترجمہ کنز الایمان: ایمان والے تو وہی
ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین لائے اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام میں
حاضر ہوئے ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے ہوں تو نہ جائیں جب تک اُن سے اجازت نہ لے لیں
وہ جو تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں
پھر جب وہ تم سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے
دو اور اُن کے لیے اللہ سے معافی مانگو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
جو آپ سے اجازت
مانگتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتے ہیں،ان کا اجازت چاہنا
فرمانبر داری کا نشان اور صحت ایمان کی دلیل ہے۔ اے محبوب! جب وہ آپ سے جانے کی اجازت
مانگیں تو ان میں جسے تم چاہو اجازت دے دو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگو، بیشک
الله بخشنے والا ہے۔
(2) رسول اکرم ﷺکے پکارنے کو آپس میں
ایسا معمولی نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔کیونکہ رسول اکرم ﷺجسے
پکاریں اس پر جواب دینا اور عمل کرنا واجب ہے۔چنانچہ ارشاد باری ہے: لَا تَجْعَلُوْا
دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (النور:
63) ترجمہ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں
ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔
ہمارا رسول ﷺ کی
بارگاہ میں ادب سے حاضر ہونا لازم ہو جاتا ہے اور قریب حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب
کرے اور اجازت سے ہی واپس ہو۔ دوسرا یہ کہ اے لوگو!میرے حبیب کا نام لے کر نہ پکارو
بلکہ تعظیم،تکریم،توقیر، نرم آواز کے ساتھ انہیں اس طرح کے الفاظ کے ساتھ پکارو” یارسول
الله، یانبی اللہ،یاخاتم النبین“اس لیے آپ کو ”یا محمد“ کہہ کر پکارنے کی اجازت نہیں۔
(3) رسولﷺ کے
حلم کی پیروی کرنا اور ان کی اطاعت کرنا اور ان کو دل و جان سے زیادہ محبوب جاننا اور
جو نہیں کرتا تو اس کو دردناک عذاب سے بھی ڈرایا گیا ہے۔ فَلْیَحْذَرِ
الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ
یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳) (النور:63 ) ترجمہ کنز الایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی
فتنہ پہنچے یا اُن پر دردناک عذاب پڑے۔
آپ ﷺ کے حکم سے اعراض کرنے والے اور ان کی اجازت کے بغیر چلے جانے والے اس بات
سے ڈریں کہ انہیں دنیا میں تکلیف،قتل،زلزلے یا دل کا سخت ہو کر معرفتِ الٰہی سے محروم
رہنا وغیرہ کوئی مصیبت پہنچے یا انہیں آخرت میں دردناک عذاب پہنچے۔
(4) کسی قول اور فعل میں رسول اکرم ﷺ سے آگے نہ بڑھو۔فرمانِ باری ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ
اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ 26، الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ سُنتا جانتا
ہے۔
حضور ﷺ جب بھی
بلائیں فورا ًان کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ اور الله کے رسول ﷺ سے آگے بڑھنے کی
ہماری اوقات ہی کیا ہے کہ ہم آخری نبی ﷺ سے آگے بڑھیں۔
(5)بارگاہ رسالت میں کوئی بات عرض کرنے سے پہلے صدقہ دے لو اور ادب بھی کرو: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ
نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا
فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (المجادلۃ: 12) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات
آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ تمہارے لیے بہتر اور
بہت ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ( بعد میں وجوب
کا حکم منسوخ ہو گیا۔)
ان آداب کو بجالانے
کا درس: توحید کا نور صرف انہی دلوں میں اتارا جاتا ہے جن میں ادب مصطفٰے ہوتا
ہے۔ یعنی ادب مصطفٰے کا صلہ نور توحید سے ملتا ہے۔ بے ادبی کفر ہے اور ادب مصطفٰے
عین توحید ہے۔ گویا یہ بات واضح ہوگئی کہ جس نے اللہ کی توحید کو سمجھا ہو وہ حضور
ﷺکے آداب کو اپنانے، جو دل اللہ کی توحید کے لیے منتخب کر لیے جاتے ہیں وہی انوارِ
الہیہ کی منزل ہوتے ہیں۔لہٰذا کوئی توحید کے بارے میں پوچھے تو جواب ہے ادبِ مصطفٰے۔
سب سے بڑا کفر بے ادبی مصطفٰے ہے۔
حضرت
عثمان کا واقعہ: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت
ہے کہ جب حضورﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر آپ کو قریش کے پاس بھیجا تو قریش نے آپ کوطواف
کی اجازت دے دی لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ما کنت
لافعل حتی یطوف بہ رسول اللہ میں اس وقت تک طواف نہیں کر سکتا جب تک
رسولﷺ طواف نہیں کرتے۔ (الشفاء،
2/70)
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب از بنتِ محمد یوسف، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
پیارے پیارے
نبی، مکی مدنی مصطفٰےﷺکی شان اتنی بلند ہے کہ آپ کی بارگاہ کے آداب کسی عام ذات نے
بیان نہیں کئے، بلکہ خود الله پاک قرآنِ پاک میں جا بجا ارشاد فرما رہا ہے، کیونکہ
آپ اللہ پاک کو اس قدر محبوب تھے کہ کوئی آپ کی شان میں بے ادبی کرتا تو ساتھ ہی
اللہ پاک آیتیں نازل فرما کر اپنے محبوب کی شان بلند سے بلند فرما دیتا۔
بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب آپ بھی ملاحظ فرمائیے۔
(1)شانِ
مصطفٰےبزبان خدا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ
رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) (پ26،الحجرات:1)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھواور اللہ
سے ڈرو بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں: اس آیت کا شان نزول کچھ بھی ہو مگر یہ حکم سب
کو عام ہے یعنی کسی بات میں، کسی کام میں حضور ﷺ سے آگے ہونا منع ہے۔(شان حبیب ا لرحمن،ص224)
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا
اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ26،الحجرات:
2) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔
ذہن میں رکھ آیۂ لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ بات کر طبع پیمبر کی نزاکت
دیکھ کر
(3) وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ26،الحجرات: 2) ترجمہ کنز العرفان: اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے
کوئی بات نہ کہو جیسےایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے
اعمال بربادنہ ہو جا ئیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
باب جبریل کے پہلو میں ذرا دھیرے سے فخر جبریل کو یوں کہتے
ہوئے پایا گیا
اپنی پلکوں سے درِیار پہ دستک دینا اونچی آواز ہوئی مگر عمر بھر
کا سرمایہ گیا
4)) اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ
مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) وَ لَوْ اَنَّهُمْ
صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ
غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (پ26،الحجرات:5-4)
ترجمہ کنز العرفان:بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے با ہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثربے
عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے
لئے بہتر تھا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔
آیت میں رسول
اللہ ﷺ کی جلالتِ شان کو بیان فرمایاگیا ہے کہ بارگاہ اقدس میں اس طرح پکارنا
جہالت اور بے عقلی ہے۔(مدارک،ص1151)
(5) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا
انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴) (پ1،البقرۃ:104)
ترجمہ کنز العرفان: اےایمان والو!راعنا نہ
کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں
کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
جب حضور ﷺ
صحابہ کرام کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ بھی کبھی درمیان میں عرض کرتے:راعنا
یا سول اللہ!
اس کے یہ معنی تھے کہ یار سول اللہ!ہمارے حال کی رعایت فرمائیے۔ یہودیوں کی لغت میں
یہ کلمہ بے ادبی کا معنی رکھتا تھا انہوں نے اسے بری نیت سے بولنا شروع کر دیا تو
اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں راعناکہنے
کی ممانعت اور“اُنظرنا “ کہنے کا حکم ہوا۔ (قرطبی، الجزء الثانی،
1/45-44)
لے سانس بھی آہستہ کہ دربار نبی ہے کہ کہیں کوئی گستاخی نہ ہو جائے
بارگاہِ نبوی
میں صحابہ کرم کا انداز بھی نرالا ہوا کرتا تھا جب وہ نبی پاکﷺ کی بارگاہ اقدس میں
حاضری سے مشرف ہوتے تو ایسے ہوتے جیسے اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اگر وہ سر اٹھائیں
تو وہ پرندے اڑجائیں۔ ایسا ادب ایسا عشق اللہ کریم ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ ہماری جھولی
بھی دامن محبوب کے عشق وادب سے بھر دے اور جب ہم بھی بارگاہ نبوی میں حاضر ہوں تو
ہمیں بھی صحیح معنوں میں بارگاه رسالت کے آداب بجالانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین ثم
آمین
بھول جاتے تھے صحابہ غم و آلام اپنے دیکھ لیتے تھے جو
سرکار کو آتے جاتے
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی
کے 5 آداب ازبنتِ خلیل، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود ہم فقیروں کی ثَروَت پہ
لاکھوں سلام
حضور اقدس ﷺ
نے اپنی امت کی خاطر جو تکالیف برداشت فرمائیں، امت کی مغفرت کے لئے دربار باری
میں انتہائی بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری فرمائی، اپنی امت کے لئے جو جو مشقتیں
اٹھائیں ان کا تقاضا ہے کہ امت پر حضور کے کچھ حقوق ہیں جن کو ادا کرنا ہر امتی پر
فرض و واجب ہے۔
ان حقوق میں ایک نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑا حق یہ بھی ہے کہ ہر امتی پر
فرض عین ہے کہ حضور اکرم ﷺ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم
و توقیر اور ان کا ادب و احترام کرے اور ہرگز ہرگز ان کی شان میں کوئی بے ادبی نہ
کرے کہ ایمان لانے کے بعد تعظیمِ مصطفٰی ہی مطلوب و مقصود ہے، آپ کی عظمت و محبت
پر ہی ایمان کا مدار ہے، ایمان مکمل ہی اس وقت ہوتا ہے جبکہ حضور کو اپنی جان، مال
اور اولاد سے بڑھ کر محبوب جانا جائے اور یہ ایک جانی ہوئی بات ہے کہ "ادب
پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔"
اللہ پاک نے
قرآن مجید میں کئی جگہ بارگاہِ نبوی کے آداب بیان کیے ہیں، آئیے ان میں سے چند
آداب جاننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، چنانچہ ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ
26، الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس
غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں
ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ
ہو۔ اس آیت ِمبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کواپنے حبیب ﷺ کے
دو عظیم آداب سکھائے ہیں۔
1۔پہلا
ادب یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب نبیٔ کریم ﷺ تم سے کلام فرمائیں
اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی
آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پَست آواز سے کرو۔
2۔دوسرا
ادب یہ ہے کہ حضورِ اَقدس ﷺ کو ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو
اور جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں جو
عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور عظمت والے اَلقاب
کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں کہو: یا رسولَ اللہ!، یا نَبِیَّ
اللہ!، کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی
تمہیں خبر بھی نہ ہو گی۔ (تفسیر قرطبی، الحجرات، تحت الآیۃ:2، 8 / 220)
3۔ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ
الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ
لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲) (المجادلۃ: 12) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات
آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ تمہارے لیے بہتر اور
بہت ستھرا ہے پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس
آیت مبارکہ میں بارگاہ نبوی کا ایک اور ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے
ایمان والو! جب تم رسولِ کریم ﷺ سے تنہائی میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو
اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو کہ اس میں بارگاہِ رسالت میں
حاضر ہونے کی تعظیم اور فقراء کا نفع ہے۔یہ عرض کرنے سے پہلے صدقہ کرنا تمہارے لیے
بہت بہتر ہے کیونکہ اس میں اللہ پاک اور اس کے حبیب کی اطاعت ہے اور یہ تمہیں خطاؤں سے
پاک کرنے والا ہے، پھر اگر تم اس پر قدرت نہ پاؤ تو اللہ پاک بخشنے والا مہربان
ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ:12،4/241-242)
4۔ارشاد
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ
غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا
طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ
كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ
الْحَقِّؕ-
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والونبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ
مثلا کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے
جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ
بے شک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور الله حق
فرمانے میں نہیں شرماتا۔ اس آیت مبارکہ میں بھی بارگاہ نبوی کے دو آداب بیان کیے
گئے۔
اے ایمان
والو!میرے حبیب ﷺ کے گھروں میں یونہی حاضر نہ ہو جاؤ بلکہ جب اجازت ملے جیسے
کھانے کیلئے بلایا جائے تو حاضر ہوا کرو اور یوں بھی نہ ہو کہ خودہی میرے حبیب ﷺ
کے گھر میں بیٹھ کر کھانا پکنے کاانتظار کرتے رہو، ہاں جب تمہیں بلایا جائے تو اس
وقت ان کی بارگاہ میں حاضری کے احکام اور آداب کی مکمل رعایت کرتے ہوئے ان کے
مقدس گھر میں داخل ہوجاؤ۔
5۔ جب کھانا
کھا کر فارغ ہو جاؤتو وہاں سے چلے جاؤ اور یہ نہ ہو کہ وہاں بیٹھ کر باتوں سے دل
بہلاتے رہو کیونکہ تمہارا یہ عمل اہلِ خانہ کی تکلیف اور ان کے حرج کاباعث ہے۔
بیشک تمہارا یہ عمل گھر کی تنگی وغیرہ کی وجہ سے میرے حبیب ﷺ کو ایذا دیتا تھا
لیکن وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور تم سے چلے جانے کے لئے نہیں فرماتے تھے
لیکن اللہ تعالیٰ حق بیان فرمانے کو ترک نہیں فرماتا۔(روح البیان،
الاحزاب، تحت الآیۃ: 7،53/213-214)
یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور اقدس ﷺ کا اس قدر ادب و
احترام کرتے تھے اور آپ کی مقدس بارگاہ میں اتنی تعظیم و تکریم کا مظاہرہ کرتے تھے
کہ حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جب کہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار مکہ
کے نمائندہ بن کر میدان حدیبیہ میں گئے تھے تو وہاں سے واپس آ کر انہوں نے کفار کے
مجمع میں علی الاعلان یہ کہا تھا کہ اے میری قوم ! میں نے بادشاہ روم قیصر اور
بادشاہ فارس کسری اور بادشاہ حبشہ نجاشی سب کا دربار دیکھا ہے مگر خدا کی قسم !
میں نے کسی بادشاہ کے درباریوں کو اپنے بادشاہ کی اتنی تعظیم کرتے نہیں دیکھا جتنی
تعظیم محمدکے اصحاب محمد کی کرتے ہیں۔(بخاری، 1/380) اس روایت سے
یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے اصحاب کبار اپنے آقائے نامدار کے دربار
میں کس قدر تعظیم و تکریم کے جذبات سے سرشار رہتے تھے۔ہمیں بھی چاہئے کہ ان نفوس
قدسیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور قرآن کے احکام پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی بارگاہ
نبوی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھیں اور مدینہ پاک کی حاضری کے وقت ان پر عمل بھی
کریں۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں پیارے مدنی آقا ﷺ اور آپ سے نسبت و تعلق رکھنے والی ہر چیز کی
تعظیم و ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
با ادب ہے بانصیب اے اَہل دِیں بے ادب سے بدنصیبی ہے قریں
قرآن کریم میں بارگاہِ نبوی کے 5 آداب از امِ ہلال، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
دنیا کے شہنشاہوں،بادشاہوں(Kings) کا اصول یہ
ہے کہ جب ان میں سے کوئی شہنشاہ آتا ہے تو وہ اپنی تعظیم کے اصول اور اپنے دربار
کے آداب خود بناتا ہے اور جب وہ چلاجاتا ہے تو اپنی تعظیم و آداب کے نظام کو بھی
ساتھ لے جاتا ہے۔ لیکن کائنات میں ایک شہنشاہ ایسا ہے،جس کےدربار کا عالم ہی نرالا
ہے۔اُس کی تعظیم اور اُس کی بارگاہ میں ادب و احترام کے اصول و قوانین نہ اُس نے
خود بنائے ہیں اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی نے بنائے ہیں۔ بلکہ تمام بادشاہوں کے
بادشاہ اور ساری کائنات کو پیدا کرنے والے ربّ نے بنائے ہیں۔ اور بہت سے قوانین
کسی خاص وقت کے لئے نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ اور وہ عظیم
شہنشاہ اس کائنات کے مالک و مختار، محمد ِ مصطفےٰﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔اللہ پاک نے
قرآنِ کریم میں آپ کی تعظیم اور ادب کے اصول و احکام بیان فرمائے ہیں۔
(1)پارہ 9،سورۂ انفال، آیت نمبر 24 میں اللہ پاک نے
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ- ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو!
اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو۔ جب رسول تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں
زندگی بخشے گی۔ اس آیت سے ثابت ہو اکہ تاجدارِ رسالت ﷺ جب بھی کسی
کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی بارگاہ میں حا ضر ہو جائے، چاہے وہ کسی
بھی کام میں مصروف ہو۔(تفسیر صراط الجنان، ص539)
(2) پارہ نمبر26،سورۂ حجرات آیت نمبر 2 میں اللہ پاک نے
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ
كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا
تَشْعُرُوْنَ(۲) ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو!اپنی آوازیں اونچی نہ
کرو،اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو،جیسے آپس
میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں
خبر نہ ہو۔ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیب ﷺ کا ادب
سکھایا ہے کہ جب نبیِ کریم ﷺ تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض
کرو، تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز اُن کی آواز سے بلند نہ ہو، بلکہ جو عرض کرنا
ہے آہستہ اور پست آواز سے کرو۔ (تفسیر صراط الجنان، ص396-397)
(3) پ26 سورۂ حجرات آیت نمبر 1 میں اللہ پاک نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان
والو!اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ سنتا جانتا
ہے۔
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی اجازت
کے بغیر کسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ بڑھنا تم پر لازم ہے، کیونکہ یہ
آگے بڑھنارسولِ کریم ﷺکے ادب و احترام کے خلاف ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، ص 394)
(4) پارہ 18 سورۂ نورآیت نمبر 63 میں اللہ پاک نے فرمایا: لَا تَجْعَلُوْا
دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- ترجمہ کنز الایمان:رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ
ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اے لوگو!
میرے حبیب ﷺکا نام لے کر نہ پکارو، بلکہ تعظیم و تکریم، نرم آواز کے ساتھ” یارسول اللہ، یا حبیب اللہ “کے
الفاظ کے ساتھ پکارو۔ ایسے الفاظ کے ساتھ ندا کرنا جائز نہیں جن میں ادب و تعظیم
نہ ہو۔ (تفسیر صراط
الجنان، ص675)
(5) پارہ28،سورۂ مجادلہ، آیت نمبر 12 میں اللہ پاک نے
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا
نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ
خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ- ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو! جب تم رسول سے تنہائی
میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو، یہ تمہارے لئے
بہت بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔
عرض کرنے سے
پہلے صدقہ کرنا تمہارے لیے بہت بہتر ہے، کیونکہ اس میں
اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کی اطاعت ہے اور یہ تمہیں خطاؤں سے پاک کرنے والا ہے۔
پھر اگر تم اس پر قدرت نہ پاؤ تو اللہ پاک بخشنے والا مہربان ہے۔ (تفسیر
صراط الجنان)
درس:قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بارگاہِ نبوی کے آداب
بیان ہوئے ہیں، ان سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ جس طرح صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم کو
ظاہری حیات کے آداب سکھائے گئے تو نبیِ کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد بھی ہم پر ان
آداب پر عمل کرنا ضروری ہے کہ جب احادیث کا درس ہورہا ہو تو اپنی آواز کو بلند نہ
کریں، دو زانو باادب بیٹھ کر تعظیم کے ساتھ احادیث کو سنیں۔ اپنے ذہن کو دنیاوی
خیالوں سے پاک کرکے درود شریف پڑھیں،مدینے کا تصور باندھ کر پڑھیں۔کیونکہ انسان کو
جس سے محبت ہوتی ہے، اُس کا کلام اُس کو لذت و سکون دیتا ہے اور محبت اطاعت بھی
کرواتی ہے۔
خاموش! اے دل! بھری محفل میں چلانا اچھا نہیں ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔
واقعہ:حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہُ عنہ نے رسولِ کریم ﷺ کی تعظیم کی خاطر عبادات
میں سے افضل عبادت نماز وہ بھی درمیانی نمازِ عصر قربان کردی۔ اس واقعے کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مولیٰ علی نے واری تیری نیند پر نماز اور
وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل
اصول بندگی اس تاجور کی ہے
بارگاہِ نبوی کے مزید آداب
سیکھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے بیانات سنیں اور تفسیر صراط الجنان کا مطالعہ
فرمائیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بارگاہِ نبوی کے آداب
بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
قرآنِ کریم میں بارگاہِ نبوی کے 5 آداب از
بنتِ محمد رشید، فیضان ام عطار
گلبہار سیالکوٹ
پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ کے آداب کیا ہونے چاہییں، یہ ہمیں قرآن سکھا رہا ہے۔ بادشاہوں
کی بارگاہ کے آداب کو ان کے نائبین بیان کرتے ہیں،مگر قربان جائیے کہ اللہ پاک کی
بارگاہ میں سید المرسلین ﷺ کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی بارگاہ کے آداب اللہ پاک
نے خود قرآنِ پاک میں ارشاد فرمائے ہیں۔ چنانچہ
(1)اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ
وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ 26،
الحجرات:1) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ
سُنتا جانتا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کے تحت تفسیر صراط الجنان
میں ہے کہ اس آیت میں اللہ پاک نے ایمان والوں کو اپنے حبیبﷺ کا ادب
و احترام ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو!
اللہ پاک اور اس کے رسول کی اجازت کے بغیرکسی قول اور فعل میں اصلاً ان سے آگے نہ
بڑھنا تم پر لازم ہے۔ کیونکہ یہ آگے بڑھنا حضور کے ادب و احترام کے خلاف ہے، جبکہ
بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی اور آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے اور تم اپنے تمام
اَقوال و اَفعال میں اللہ پاک سے ڈرو، کیونکہ اگر تم اللہ پاک سے ڈرو گے تو یہ ڈرنا
تمہیں آگے بڑھنے سے روکے گا۔ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور
اس کی تمہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
(2) اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ
وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۴) (الحجرات:
4) ترجمہ کنز الایمان: بےشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر
بے عقل ہیں۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ بنو تمیم کے چند لوگ دوپہر کے وقت حضور
ﷺ کی خدمت میں پہنچے، اس وقت حضور آرام فرما رہے تھے، ان لوگوں نے حجرے کے باہر سے
آپ کو پکارنا شروع کر دیا اور آپ باہر تشریف لائے۔ اس آیت میں حضور کی جلالت ِشان
کو بیان فرمایا گیا کہ آپ کی بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہالت اور بے عقلی
ہے۔
(3) وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا
لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (الحجرات:
5) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو
یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط
الجنان میں ہے کہ ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ پکارنے کی بجائے صبر اور
انتظار کرتے،یہاں تک کہ حضور ﷺ خود حجرے سے باہر تشریف لے آتے اور وہ لوگ اپنی
عرض پیش کرتے۔جن سے یہ بے ادبی سرزَد ہوئی ہے، اگر وہ توبہ کریں تو اللہ پاک
اُنہیں بخشنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔
ان آیاتِ مبارکہ سے ہمیں یہ درس حاصل ہوا کہ حضور ﷺ کی تعظیم ہم پر لازم
ہے۔آپ کی بے ادبی کرنے والا گنہگار اور
عذابِ نار کا حق دار ہے۔ جبکہ آپ کی تعظیم کرنے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے
والا بخشش و بڑے ثواب کو پانے والا ہے۔یاد رہے یہ آداب خاص وقت تک کے لئے نہیں،
بلکہ ہمیشہ کے لئے ہیں۔
(4) اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳) ( الحجرات:3
) ترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ
ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب
ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ جب یہ آیت نازل
ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم نے
بہت احتیاط لازم کرلی اور سرکار ﷺ کی بارگاہ میں بہت ہی پست آواز میں عرض و معروض
کرتے۔ ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے عمل کی تعریف کی گئی اور
آخرت میں ان کے لئے بخشش اور بڑے ثواب کی بشارت دی گئی۔
(5) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ
صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ
لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ 26،
الحجرات:2) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو !اپنی آواز یں اونچی نہ کرو اس غیب
بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کرنہ کہو جیسے آپس میں ایک
دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:ایمان والوں کو
حضور ﷺ کے دو عظیم ادب سکھائے جارہے ہیں:
(1) اے ایمان والو! جب نبی ﷺ تم سے کلام فرمائیں اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ
عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو، بلکہ جو عرض
کرنا ہو وہ آہستہ اور پست آواز سے کرو۔
(2) حضور ﷺ
کو ندا دینے میں ادب کا پورا لحاظ رکھو جیسے آپس میں ایک دوسرے کا نام لے کر
پکارتے ہو ویسے نہ پکارو، بلکہ عظمت والے القابات کے ساتھ عرض کرو۔ جیسے یوں کہو:
یارسول اللہ، یا نبی اللہ۔ کیونکہ صحابۂ کرام نے تاجدارِ رسالت ﷺ کی ظاہری حیاتِ
مبارکہ میں بھی اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ کی بارگاہ کا بےحد ادب و احترام
کیا۔ اسی طرح ان کے بعد تشریف لانے والے بزرگانِ دین نے بھی دربارِ رسالت کے آداب
کا خوب خیال رکھا۔ چنانچہ ان کی سیرت کے اس پہلو کے متعلق ایک واقعہ ملاحظہ ہو:
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ(مسجدِ نبوی میں درس دیا کرتے تھے،جب ان)کے حلقۂ درس
میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ان سے عرض کی گئی: آپ ایک آدمی مقر کرلیں جو(آپ
سے حدیثِ پاک سن کر) لوگوں کو سنائے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ
پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا
تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ 26، الحجرات:2) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ
کرو، اُس غیب بتانے والے نبی کی آواز پر۔ اور رسولِ کریم ﷺ کی عزت و حرمت زندگی
اور وفات دونوں میں برابر ہے۔ اس لئے میں کسی شخص کو یہاں آواز بلند کرنے کے لئے
ہرگز مقرر نہیں کرسکتا۔ (الشفاء، ص 43)اللہ پاک ہمیں بھی ادبِ مصطفےٰ کرنے اور آپ
کی مبارک سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
جڑانوالہ کے مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد
دعوتِ اسلامی کےزیرِ
اہتمام 15 دسمبر 2022ء بروز جمعرات جڑانوالہ کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ
وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں جامعۃالمدینہ بوائز کے طلبۂ کرام
اور ذمہ داران سمیت دیگر اسلامی بھائیوں
نے شرکت کی۔
مبلغِ دعوتِ اسلامی منیب
عطاری نے تلاوتِ کلامِ پاک نعتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اس اجتماعِ پاک کا
آغاز کیا جبکہ فیصل آباد ڈویژن ذمہ دار
حسن عطاری نے ”دن رات کیسے گزاریں“ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔
دورانِ بیان ڈویژن ذمہ
دار نے حاضرین کو دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا ذہن دیا جس
پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔اس موقع پر تحصیل نگران نعیم عطاری اورسٹی نگران
ذوالفقار عطاری سمیت دیگر اہم ذمہ دار اسلامی بھائی بھی موجود تھے۔(کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی
کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبۂ
کرام، اساتذۂ کرام اور دیگر عاشقانِ رسول نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تلاوتِ قراٰنِ مجید سے اس
اجتماعِ پاک کا آغاز کیا گیا جبکہ نعت خواں اسلامی بھائی نے حضور صلی
اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر دعوتِ اسلامی
کی مرکز مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین قافلہ عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا
اور وہاں موجود اسلامی بھائیوں کو نیکی کے کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا نیز
دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں شمولیت اختیار کرنے کی ترغیب دلائی جس پر شرکائے
اجتماع نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
Dawateislami