جدول کے  مدنی پھول

Thu, 2 Dec , 2021
53 days ago

درود شریف کی فضیلت

فرمان مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:جو ایک دن میں مجھ پر 100 مرتبہ دُرُود بھیجےگا،اللہ پاک اس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا،ان میں سے 70 آخرت اور 30 دنیا کی ہوں گی۔ [1]

جدول کیا ہے؟

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں”جدول (Schedule) کثرت سے بولی جانے والی ایک اصطلاح ہے۔جس کا مطلب ہے کہ ہر اسلامی بھائی اپنے روز مرہ کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے دن رات کے اوقات کو اس طرح ترتیب دے کہ اسے بخوبی یہ بات معلوم ہو کہ اس نے فلاں کام فلاں وقت میں سر انجام دینا ہے۔

جدول کی اہمیت و ضرورت

نظامِ کائنات میں غور کریں تو ہر جگہ اللہ پاک کی قدرت کے جلوے دکھائی دیتے ہیں اور ہر شے ایک جَدْوَل کے تحت نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کائناتِ ہستی میں ہر شے کا ایک مَخْصُوص جدول کے تَحْت ہونا جہاں وجودِ باری تعالیٰ کی واضح دلیل ہے وہیں اس خالق و مالک کے قادر وحکیم ہونے کی بھی ایک واضح دلیل ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ﴿۶۷﴾ ترجمۂ کنزالعرفان:ہرخبرکیلئےایک وقت مقرر ہےاور عنقریب تم جان جاؤ گے۔7، انعام:67)خزائن العرفان میں ہے: اللہ پاک نے جو خبریں دِیں ان کے لئے وَقْت مُعَیَّن ہیں ان کا وُقُوع ٹھیک اسی وَقْت ہوگا۔[2]اللہ پاک نظام ِ دنیا کو اپنی حِکْمَت سے چلا رہا ہے اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے کاموں کو سر انجام دینے کیلئے مَخْصُوص قواعد و ضوابط بنائیں تاکہ ہمارا ہر کام درست و مُنَظَّم ہو ،لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اوقات کا جدول بنائیں اور پھر اس پر حتی الامکان کاربند ہوجائیں۔

جدول کی اہمیت امیرِ اہل سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کی نظر میں

شیخِ طریقت امیر اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہفرماتے ہیں:ہو سکے تو اپنا یومیہ نظامُ الاوقات ترتیب دے لینا چاہیے۔ اَوّلاً عشا کی نَماز پڑھ کر حَتَّی الْاِمْکَان 2 گھنٹے کے اندر اندر جلد سو جائیے۔ رات کو فُضُول چوپال لگانا، ہوٹلوں کی رونق بڑھانا اور دوستوں کی مجلِسوں میں وَقْت گنوانا (جبکہ کوئی دینی مَصْلَحَت نہ ہو) بَہُت بڑا نقصان ہے۔تفسیر رُوحُ البیان میں ہے :قومِ لُوط کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ چوراہوں پر بیٹھ کر لوگوں سے ٹھٹھا مسخری کرتے تھے۔[3]

نظام ُالاوقات مُتَعَیَّن کرتے ہوئے کام کی نَوعِیَّت اور کَیْفِیَّت کو پیشِ نَظَر رکھنا مُناسِب ہے۔ مَثَلًا جو اِسْلَامی بھائی رات کو جَلْدی سو جاتے ہیں، صُبْح کے وَقْت وہ تَر وتازہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا عِلْمی مَشَاغِل کے لئے صُبْح کا وَقْت بَہُت مُناسِب ہے۔

کوشِش کیجئے کہ صُبْح اٹھنے کے بعد سے لے کر رات سونے تک سارے کاموں کے اَوقات مُقَرَّر ہوں مثلاً اتنے بجے تَہَجُّد،عِلْمی مَشَاغِل،مَسْجِد میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ باجَمَاعَت نَمازِ فجر(اسی طرح دیگر نَمازیں بھی) اِشْرَاق،چاشت، ناشتہ، کَسْب مَعاش،دوپہر کا کھانا، گھریلو مُعاملات،شام کے مَشَاغِل،اَچھّی صُحْبَت، (اگر یہ مُیَسَّر نہ ہو تو تنہائی بدرجہا بہتر ہے)، اسلامی بھائیوں سے دینی ضَروریات کے تَحْت مُلَاقَات وغیرہ کے اَوقات مُتَعیَّن کر لئے جائیں۔ جو اس کے عادی نہیں ہیں ان کے لئے ہو سکتا ہے شروع میں کچھ دُشواری ہو۔ پھر جب عادَت پڑ جائے گی تواس کی برکتیں بھی خود ہی ظاہِر ہو جائیں گی۔[4] اِن شاءَ اللہ

پیشگی جدول بنانے کے فوائد

اگر ہم دنیا و آخِرَت میں سرخروئی چاہتے ہیں تو ہمارےلئے ضروری ہے کہ اپنے اوقات کو ایک مخصوص جَدْوَل کے مُطابِق تقسیم کرکے اسی کے مُطابِق زندگی بَسَر کریں، کیونکہ اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرما نِ عبرت نشان ہے:بندے کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونااس بات کی عَلامَت ہے کہ اللہ پاک نے اس سے اپنی نظر ِعنایت پھیر لی ہے اور جس مَقْصَد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے،اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عَرْصَہ حَسْرَت دراز کر دیا جائے اور جس کی عمر 40 سال سے زِیادَہ ہوجائےاور اس کے باوُجُود اس کی برائیوں پر اس کی اچھائیاں غالِب نہ ہوں تو اسے جہنم کی آگ میں جانے کے لئے تیّار رہنا چاہئے۔

(مجموعۃ رسائل امام غزالی،ایھا الولد،ص۲۷۵)

(1) پیشگی جدول بنانا ،پورے ماہ میں دینی کام کرنے کی نیتیں بھی ہیں،صرف پیشگی جدول بنانے کی برکت سے کتنے سارے کاموں کی نیت کرنے کا ثواب ملے گا۔ ان شاۤءَ اللہُ الْکَریم

(2)غیر مفید کاموں سے بچت ہوگی (3)ہدف کے مطابق کام ہوگا اور جو کام ہدف کے ساتھ ہوتے ہیں، ان میں ترقی ہوتی ہے(4) روزانہ کے دینی کام پایہ تکمیل کو پہنچنے سے کام پینڈنگ نہیں ہوں گے(5)وقت کی پابندی کی عادت پیدا ہوگی(6) نگران و ماتحت میں ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوگی(7)جدول کی بَرَکَت سے دینی کاموں کی صورتحال کا پتا چلے گا(8)اپنے شعبے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مناسب وقت نکال سکیں گے۔

جدول نہ بنانے کے نقصانات

(1)جدول نہ بنانے سے دینی کاموں میں کمزوری آسکتی ہے ۔(2) سستی پیدا ہو سکتی ہے ۔ (3) دینی کاموں کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔(4) دینی کاموں کی کَیْفِیَّت سے اپ ڈیٹ نہیں رہا جاسکے گا۔(5)…مدنی مرکز کی طرف سے ملے ہوئے اَہْدَاف کی بروقت تکمیل نہیں ہو سکے گی۔(6)… پوچھ گچھ نہیں ہو سکے گی۔(7)…ذمہ داران سے رابطہ ختم ہونے کا باعث بن سکتاہےجس کی وجہ سے آپس میں بد گمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔

ہمارا جدول کیسا ہونا چاہیئے؟

ہمارا جَدْوَل شَریعَت اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور دعوتِ اسلامی کے طریقۂ کار کے مُطابِق ہونا چاہئےکیونکہ اگر ہمارا جدول شَریعَت اور دعوتِ اسلامی کے تنظیمی اصولوں کے مُطابِق ہوگا تو دینِ اسلام کا پرچار ہوگا اور دعوتِ اسلامی کی ترقی ہو گی۔

کامل جدول میں کیا کیا ہونا چاہئے؟

یقیناً وہی جدول کامل جدول ہو گا، جس میں نمازِ پنجگانہ باجماعت مسجد میں ادا ہوتی ہوں، انفرادی عبادت، ماں باپ کی خدمت، بہن بھائیوں کی دل جوئی، بال بچوں کی دینی تربیت، رزقِ حلال کا حُصُول، بر وقت سونا جاگنا، روز وقتِ مقررہ پر محاسبہ ، روزانہ کے دینی کاموں میں شرکت اورہفتہ وار اجتماع میں اوّل تا آخر شرکت،ہفتے کو اجتماعی طور پر دیکھے جانے والے مدنی مذاکرے میں اوّل تا آخر شرکت، ہر ماہ تین3دن ،ہر 12 ماہ میں یکمشت ایک ماہ، عمر بھر میں کم از کم ایک بار یکمشت 12 ماہ، سب کچھ ہو۔

جدول بنانے کی نیّتیں

فرمانِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : مسلمان کی نیت اس کے عَمَل سے بہتر ہے۔[5]

اللہ پاک کی رِضا اور حصولِ ثواب کی خاطر جدول بناؤں گا ماہانہ پیشگی جدول و مدنی مشوروں کا جدول بنا کر دینی کاموں کی پوچھ گچھ، کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ کے اہداف پیش کروں گا۔متعلقہ ذِمہ دار کو جدول کی پیشگی اطلاع دوں گا تا کہ مدنی مشورے / مدنی قافلے یا اجتماع وغیرہ کی بھرپور تیاری ہو سکے۔جَدْوَل اور اس کی کارکردگی،اپنے نگران کوبغیر طَلَب کئے پہلے ہی واٹس ایپ /ای میل/پوسٹ کردوں گا ۔

کمزور اور نئے حلقوں/علاقوں/ڈویژنوں کا بھی جدول بناؤں گا، تاکہ وہاں بھی دعوتِ اسلامی کا کام بڑھے اور سنتوں کا احیا ہو۔12دینی کاموں کو بھی جَدْوَل میں شامِل کروں گا تاکہ میں عملی طور پر دعوتِ اسلامی والا رہ سکوں اور دوسروں کے لئے سراپا ترغیب بنوں اور دینی کاموں کی دھومیں مچاؤں ۔اپنے شعبے کے کاموں کو خوش دلی اور شَرْعِی تقاضوں کو مدِ نَظَر رکھتے ہوئے پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔ان شاءَ اللہُ الْکَریم

اے کاش! ہمیں اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ پیشگی جَدْوَل بنانا اور اس کی کارکردگی جَمْع کروانا نصیب ہو جائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] ……… کنزالعمال،کتاب الاذکار، الباب السادس فی الصلوة...الخ،المجلد الاول، ۱/ ۲۵۵،حدیث:۲۲۲۹

[2] ……… خزائن العرفان، پ7،سورۃ الانعام،تحت الآیۃ:67،ص259

[3] ……… روحُ البیان،پ20،العنکبوت، تحت الآیۃ:29 ،6/495مفہوماً

[4] ……… انمول ہیرے ،ص19تا22 ملتقطاً

[5] ……… معجمِ کبیر،3/525،حدیث:5809