حضرت امام مالک کا انداز عشق:

حضرت سیدنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا عشق رسول بہت مشہور ہے حضرت سیدنا مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں:کہ جب حضرت سیدنا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا اور کمر مبارک جھک جاتی یعنی اتنا خشوع آپ پر طاری ہو جاتا تھا ۔

حاضرین نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یا ذکر سن کر آپ پر کیفیت کیوں طاری ہو جاتی ہے :تو فرمانے لگے جو کچھ میں نے دیکھا اگر تم دیکھتے تو اس طرح کا سوال نہ کرتے میں نے حضرت سیدنا محمد بن منکدر رضی اللہ عنہ سے جب بھی کوئی حدیث پوچھی تو وہ عظمت حدیث یاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں رو دیتے یہاں تک کہ مجھے ان کے حال پر رحم آنے لگتا۔(امام مالک کا عشق رسول صفحہ 1 مطبوعہ العلمیہ)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور تعظیمِ حدیث:

آپ نے جب حدیث پاک سنانی ہوتی تو پہلے غسل کرتے پھر مسند شریف بچھائی جاتی اور آپ عمدہ لباس پہن کر خوشبو لگا کر نہایت عاجزی سے اپنے کمرے مبارک سے باہر تشریف لا کر اس مسند پر بادب بیٹھ جاتے ۔درس حدیث کے دوران کبھی پہلو نہ بدلتے تھے جب تک اس تک اس مجلس میں حدیث مبارکہ پڑھیں جاتی تو انگیٹھی میں عُود اور لوبان سلگتا رہتا اور خوشبو آتی رہتی۔(۔امام مالک کا عشق رسول صفحہ 3۔ مطبوعہ العلمیہ ملخصا )

پیارے اسلامی بھائیو ! یہ انداز تھا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا کہ جس چیز کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتی آپ اسے نہایت ادب واحترام سے بجا لاتے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انداز عشق:

ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کی اور عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر اپنے دوستوں سمیت تشریف لائیں اور ما حضر تناول فرمائیں حضور نے یہ دعوت قبول فرما لی مع صحابہ کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک قدم مبارک جو ان کے گھر چلتے ہوئے پڑ رہا تھا گننے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے عثمان یہ میرے قدم کیوں گن رہے ہو ؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں چاہتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک قدم کے عوض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی خاطر ایک ایک غلام آزاد کروں ۔چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر تک حضور کے جس قدر قدم پڑے اسی قدر غلام حضرت عثمان نے آزاد کیے ۔(صحابہ کرام کا عشق رسول 53مطبوعہ العلمیہ)

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا انداز ادب:

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ۔(پارہ 26 سورۃ حجرات )

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بہیت بلند آواز تھے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ انتہائی ادب و خوف کی وجہ سے گوشہ نشین ہو گئے ،بارگاہ نبی میں جب حاضر نہ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی غیر حاضری کا سبب حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا (یہ حضرت ثابت کے پڑوسی تھے ) انہوں نے حضرت ثابت بن قیس سے پوچھا تو کہا میں تو دوزخی ہو گیا میری ہی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سب سے زیادہ بلند ہوتی تھی۔حضرت سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت ثابت بن قیس کا قول عرض کر دیا ، حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ان سے کہہ دو وہ جنتی ہیں۔( صحابہ کا عشق رسول صفحہ 35 مطبوعہ العلمیہ )

پیارے اسلامی بھائیو !سچا عشق وہی ہے جو دنیا کی محبت چھڑا کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں زندگی گزارتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دنیا کے پیچھے نہیں جاتا۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں