20 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

اللہ پاک کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ”سورج “بھی ہے۔یہ زمین سے کئی ہزار گُنا بڑا ہے ،اِس سے روشنی اور دھوپ جیسی نعمتیں ملتی ہیں جوانسان،جانوروں اوردرختوں کی نشوونماکاسبب بنتی ہیں۔نظامِ شمسی وہ شاہکارہے جو ہمیں اپنے خالق و مالک کے موجود ہونے کی دلیل فراہم کرتا ہے ۔”سورج“دن کی علامت ہے لیکن بسااوقات قدرتِ الٰہی کا یوں اظہار ہوتا ہے کہ سورج نکلنے کے باوجود رات کاسماں بندھ جاتا ہےاسے ”سورج گہن“کہتے ہیں۔گرہن کے متعلق لوگوں کے خیالات گرہن کے متعلق کفارِعرب اور مشرکینِ ہند کے عجیب خیالات ہیں۔کفار عرب کہتے تھے کہ کسی برے آدمی کی پیدائش یا اچھے آدمی کی وفات پرگرہن لگتا ہے۔مشرکینِ ہند کا عقیدہ ہے کہ چاند اورسورج پہلے انسان تھے،انہوں نےبھنگیوں، چماروں سے کچھ قرض لیا اور ادا نہ کیا اس سزا میں انہیں گرہن لگتا ہے۔چنانچہ ہندوگرہن کے وقت بھنگیوں کو خیرات دیتے ہیں اور مانگنے والےبھنگی بھی کہتے ہیں کہ سورج مہاراج کا قرض چکاؤ۔اسلام ان لغویات سے علیحدہ ہے،وہ فرماتاہے کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب چاہے چاندسورج کو نورانی کردے اور جب چاہے ان کا نورچھین لے۔ (مراۃ المناجیح، ۲/۳۷۹) عہدِرسالت میں جب سورج گرہن ہوا جب دنیا کے نقشے پر اسلام کی اِنقلابی دعوت اُبھری تو اللہ پاک کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سورج اور چاند گرہن کے بارے میں ان تَوَہُّمات کو خَتْم کیا۔جس دن آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ انتقال کر گئے اسی دن سورج میں گہن لگا۔ بعض لوگوں نے خیال کیا کہ یہ حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے،چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کوسورج گہن کی نماز پڑھانےکے بعد خطبہ دیتے ہوئے اِرشادفرمایا: سورج اور چاند اللہ پاک کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، انہیں گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ پاک کو یاد کرو، اس کی بڑائی بیان کرو ، نمازپڑھو اور صدقہ دو۔ (بخاری، کتاب الکسوف،باب الصدقۃ فی الکسوف ۱/۳۵۷،۳۶۳ ،حدیث :۱۰۴۴،۱۰۶۰ ملخصاً)مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:چونکہ یہ قہرِخداوندی کے ظہور کا وقت ہے اس لیے اس وقت نماز پڑھو،دعائیں مانگو،صدقہ دو،غلام آزاد کرو تاکہ رحم کیے جاؤ ۔(مراۃ المناجیح،۲/۳۷۹)سورج گرہن سے جُڑی غلط فہمیاں مشرق و مغرب،ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی سورج اور چاند گرہن کے انسان پر مضر اثرات کےبے بنیاد خدشات پائے جاتے ہیں۔سورج گرہن کے بارےمیں عام طور پریہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں:پہلی غلط فہمی بعض علاقوں میں گرہن کے وَقْت کمزور اعتقاد والے اَفراد خودکو کمروں میں بند کرلیتے ہیں تاکہ بقول ان کے وہ گرہن کے وَقْت خارِج ہونے والی نقصان دہ لہروں سے بچ سکیں ۔دوسری غلط فہمی گرہن کے وَقْت حاملہ خواتین کو کمرے کے اندر رہنے اور سبزی وغیرہ کاٹنے اورسلائی کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ایک مغربی ملک میں رہنے والی دنیاوی تعلیم یافتہ خاتون سورج گرہن سے چند روز پہلے سَخْت پریشان تھی کیونکہ اس کے ہاں پہلے بچے کی وِلادت ہونے والی تھی ،بچے پر سورج گرہن کے ممکنہ اثرات کا خوف اسے بھی لاحق تھا۔ اس نے بچے کو گرہن کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے اپنی ڈاکٹر کو فون کیا کہ آیا اس کی قبل از وَقْت ولادت ممکن ہے؟ تو ڈاکٹر نے اسے دِلاسا دیتے ہوئے سمجھایا : پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، گرہن کے اثرات کی حقیقت تَوَہُّمات سے زیادہ نہیں ہے۔تیسری غلط فہمی لوگوں کا ایک غَلَط خیال یہ بھی ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت حاملہ گائے، بھینس، بکری اور دیگر جانوروں کے گلے سے رَسی یا زنجیر کھول دینی چاہئے تاکہ اُن پر بُرا اثر نہ پڑے۔ چوتھی غلط فہمی کئی مشرقی ملکوں میں عِلْم نجوم کے ماہرین سورج گرہن سے منسلک پیش گوئیاں کرتے ہیں جن میں کسی تباہی یا نقصان کی نشان دہی کی جاتی ہے،مثلاً چوری، اغوا، قتل وغارت، خودکُشیاں اور تشدد کے واقعات بالخصوص خواتین کی اموات میں اضافہ، لاقانونیت اور بے انصافی کے واقعات کثرت سے ہونے کی پیش گوئی کی جاتی ہے ۔

ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرہن کے وَقْت سورج کو براہ راست دیکھنے سے آنکھ کی بینائی بھی جاسکتی ہے۔جب سورج یا چاند کو گہن لگے تومسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس نظارے سے محظوظ ہونےاور تَوَہُّمات کا شکار ہونے کے بجائے بارگاہِ الٰہی میں حاضری دیں اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ،اُس یومِ قیامت کو یاد کریں جب سورج اور چاند بے نور ہوجائیں گے اور ستارے توڑدئیے جائیں گے اور پہاڑ لپیٹ دئیے جائیں گے اس موقع پربالخصوص نمازِ کُسُوف ادا کی جاتی ہے جس کا طریقہ یہ ہے یہ نَمازاورنوافِل کی طرح دو رَکعت پڑھیں یعنی ہررَکعت میں ایک رُکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان ہے ،نہ اقامت ،نہ بُلند آواز سے قراءَ ت اورنَمازکے بعددُعاکریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اوردورَکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں خواہ دو،دو رَکعت پرسلام پھیریں یاچارپر۔ (بہارشریعت،۱/۷۸۷)امامِ اہلِ سنّت ،امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:اگر سورج گرہن عصر کے بعد یا نصف النہار کے وقت لگے تو لوگ دعا کریں گے اور نماز نہیں پڑھیں گے، اس وجہ سے کہ اِن دووقتوں میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔(فتاوی رضویہ ،۵/۱۲۹)

امیر اہلسنت کے ملفوظات جب سورج گہن ہوتو نمازِ کُسُوف ادا کیجئے کہ یہ نماز سنتِ مُؤکدہ ہے ۔(بہارشریعت،۱/۷۸۷)جہاں جہاں سورج گہن ہو وقت کا حساب لگا کر اپنے اپنے ملکوں میں سورج گہن کی نماز باجماعت ادا کیجئے۔جماعت کی تعداد کم ہو یا زیادہ بہر صورت اخلاص کو مدِ نظر رکھئے کیونکہ قبولیت کا دارومدار کثرت پر نہیں بلکہ اِخلاص پر ہے ۔جماعت میں لوگ شریک ہوسکیں اس لئے پہلے سے وقت کا اعلان کردیجئے۔جماعت سے پہلے بہار شریعت وغیرہ سے مختصر مسائل اور روایات بیان کیجئےنوٹ ایک اہم شرعی مسئلے کی جانب رہنمائی فرماتے ہوئے امیراہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرمایا: تمام امام صاحبان اپنی اپنی مساجد میں سورج گہن کی نماز کا اہتمام کریں لیکن جوجمعہ قائم کرسکتے ہیں، جن کی شرائط پوری ہوں وہی جماعت قائم کریں ہر ایک اس نماز کی امامت نہیں کرسکتا۔(بہارشریعت، ۱/۷۸۷ ملخصاً)

سنّتوں بھری زندگی گزارنے کے لئے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔