ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ  اللہ پاک نے ہمیں جمعہ جیسی نعمت سے نوازا ہے اور ہم اسے بھی غفلت میں گزار دیتے ہیں اور جمعہ کے دن ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر ہے۔

1۔سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ و اٰلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے:کہ کوئی جانور ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن صبح کے وقت، آفتاب نکلنے تک قیامت کے ڈر سے چیختا نہ ہو، سوائے آدمی اور جن کے۔ (مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 115، حدیث 246)

2۔سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہ صلی اللہُ علیہ و اٰلہ وسلم کا فر مانِ رحمت نشان ہے:کہ جمعہ کی ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پا کر اس وقت اللہ پاک سے کچھ مانگے تو اللہ پاک اس کو ضرور دے گا اور وہ گھڑی مختصر ہے۔(مسلم، صفحہ 424، حدیث 852)

3۔حضور صلی اللہُ علیہ و اٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے؛کہ جمعہ کے دن جس ساعت (یعنی گھڑی) کی خواہش کی جاتی ہے، اسے عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک تلاش کرو۔ (ترمذی، جلد 2، صفحہ 30، حدیث489)

4۔حضرت مولانا محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:قبولیتِ دعا کی ساعتوں (یعنی گھڑیوں، وقتوں) کے بارے میں دو قول قوی(یعنی مضبوط) ہیں:

٭ امام کے خطبے کے لئے بیٹھنے سے ختم نماز تک

٭جمعہ کی پچھلی(یعنی آخری) ساعت۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 754)

5۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہُ علیہ و اٰلہ وسلم فرماتے ہیں:الجمعة حج المساكين۔یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے۔ (الفردوس بما ثور الخطاب، ج1، ص333، ح2436)

مساکین مسکین کی جمع ہے، جو شخص حج کے لئے جانے سے عاجز ہو، اس کا جمعہ کے دن مسجد کی طرف جانا اس کے لئے مانند ہے۔ (فیض القدیر، جلد 3م صفحہ 474، تحت حدیث3636)