20 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

حکاىت:

حضرت مسلم بن ىسار رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اىک بار نماز مىں مشغول تھے کہ قرىب آگ بھڑک اٹھى لىکن آپ کو احساس تک نہ ہوا حتى کہ آگ بجھادى گئى۔(اللہ والوں کى باتىں، ج۲، ص ۴۴۷)

اس حکاىت سے پتا چلا کہ ہمارے بزرگانِ دىن رحمہم اللہ المبین اس قدر خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے کہ آس پاس کى خبر ہى نہ رہتى۔

خشوع کسے کہتے ہىں؟ خشوع کى کىا اہمىت ہے نماز مىں خشوع کے کىا فوائد و برکات ہىں؟آئىے جانتے ہىں۔

خشوع کى تعرىف :

لغت مىں خشوع کے معنى ہىں، انکسارى کرنا، ڈرنا۔(القاموس)

جب کہ امىر اہلسنت اپنى ماىہ ناز تصنىف مىں خشوع کى تعرىف اس طرح کرتے ہىں کہ دل کا فعل اور ظاہرى اعضا کا عمل۔

دل کا فعل ىعنى اللہ پاک کى عظمت پىش نظر ہو، دنىا سے توجہ ہٹى ہوئى ہو اورنماز مىں دل لگا ہوا ہو اور ظاہرى ا عضا کا عمل ىعنى سکون سے کھڑا ر ہے ، ادھر ادھر نہ دىکھے، اپنے جسم اور کپڑوں کے ساتھ نہ کھىلے اور کوئى عبث و بے کار کام نہ کرے۔(فىضانِ نماز ص ۲۸۲)

اللہ عزوجل پارہ ۱۸ سورہ ا لمومنون اکى آىت نمبر ۱ اور دو مىں ارشاد فرماتا ہے:

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)

تَرجَمۂ کنز الایمان:بے شک مراد کو پہنچے اىمان والے جو اپنى نماز مىں گڑ گڑاتے ہىں۔

تفسیر صراط الجنان مىں ہےکہ اىمان والے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہىں، اس وقت ان کے دلوں مىں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اعضا ساکن ہوتے ہىں۔

(صراط الجنان،ج ۶، ص۴۹۶)

سب سے بڑا انعام :

نماز مىں خشوع کا سب سے بڑا انعام ىہ ہے کہ رب کرىم نے نماز مىں ڈرنے والے مؤمنىن کو مراد کو پہنچنے والے ارشاد فرماىا۔

حدىث پاک :

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ کرتے ہىں، مىں نے اللہ پاک کے پىارے حبىب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دىکھا کہ آپ کھڑے ہو کر لوگوں سے ىہ ارشاد فرمارہے ہىں، جو مسلمان اچھى طرح وضو کرے پھر ظاہر و باطن کى ىکسوئى کے ساتھ دو ر کعتىں ادا کر ے۔

تو اس کے لىے جنت واجب ہوجاتى ہے؟

قارئىن کرام ! ہم نماز مىں خشوع کى اہمىت کا اندازہ اس مثال کے ذرىعے بھى لگاتے ہىں کہ اگر ہمىں کوئى اپنے گھر ضرورى مشورے کے لىے ىا وىسے ہى بلائے اور ہم چلے تو جائىں مگر جب وہ ہم سے بات کرے تو ہم اس کى بات پر توجہ کے بجائے اکتاہٹ کا اظہار کرىں اور اىسا ردعمل کرىں جس سے وہ محسوس کرے کہ ہمارے نزدىک اس کى باتوں اور وقت کى کوئى اہمىت نہىں ہے، تو کىا خىال ہے آپ کا ، آئندہ کبھى وہ ہم سے وقت لے گا، وقت لىنا تو درکنار بات تک کرنا پسند نہىں کرے گا۔

محترم قارئىن ! ىہى معاملہ ہمارى نمازوں کا ہے، اگر ظاہرى جسم کے ساتھ رب کے حضور حاضر ہو بھى جاتے ہىں تو ہمارا باطن (دل) دنىاوى آلائشوں سے بھرپور ہوتا ہے، گھر بار کى فکر، کام کى فکر اور مختلف قسم کى پرىشانىوں مىں ہمارا دل لگا ہوتا ہے۔

ىاد رکھئے! اللہ رب العزت ہمارى دل کى حالت کو جانتا ہے اور ہمارے دلوں کے حالات و التفات کو جاننے کے باوجود ہمىں اپنے در کى حاضرى سے محروم نہىں فرماتا ىہ اس کا کرم اور فضل ہے۔

امام غزالى رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خشوع کے حوالے سے لکھتے ہىں، نماز ذکرو قرات اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مناجات و کلام کرنے کا نام ہے اور ىہ حضور قلب (ىعنى خشوع) کے بغىر حاصل نہىں ہوسکتا۔

(لباب الاحىا ص ۶۷،مکتبہ المدىنہ مطبوعہ)

اے عاشقانِ رسول، نماز مىں خشوع و خضوع کے کثىر دنىاوى فائدے بھى ہىں جىسا کہ راہِ علم مىں ہےکہ نماز کو خشوع و خصوع کے ساتھ ادا کرنا کرنا اور تحصىل علم مىں لگے ر ہنا فکر و غم کو دور کرتا ہے۔(راہِ علم، ص ۹۲)

روزى مىں برکت کا مضبوط ترىن ذرىعہ ىہ ہے کہ انسان نماز کو خشوع و خضوع تعدىل ارکان کا لحاظ کرتے ہوئے اور تمام واجبات اور سنن و آداب کى پورى طرح رعاىت کرتے ہوئے ادا کرے۔(راہ علم ص ۹۲)

امىر اہلسنت، اعلىٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے فرمان کا خلاصہ بىان فرماتے ہوئے لکھتے ہىں، اعلى درجہ کى نماز وہ ہے جو خشوع کے ساتھ ادا کى جائے۔(فىضانِ نماز ص ۲۸۲)

نما ز مىں خشوع خضوع پىدا کرنے اور اس کى اہمىت کو اجاگر کرنے کے لىے امىر اہلسنت کى تصنىف لطىف فىضانِ نماز کے حصہ خشوع و خضوع سے نماز پڑھنے کے فضائل کا مطالعہ بے حد مفىد ہے۔

رب کرىم ہمىں نمازوں مىں خشوع و خصوع عطا فرمائے، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

خشوع اے خدا تو نمازوں مىں دے دے

اجابت کرم سے دعاوں مىں دے دے