جس طرح کتاب اللہ اپنے اندر بے شمار حکمتیں سموئے ہوئے ہے اسی طرح آدم علیہ السّلام کے واقعے میں بے شمار حکمتیں موجود ہیں جس سے 5 نصیحتیں درج ذیل ہے۔

حضرت آدم علیہ السّلام نے اپنی لغزش کے بعد دعا فرمائی اس سے اس میں مسلمانوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ گناہ کر بیٹھیں تو اپنے گناہ کی معافی کے لیے دعا کریں۔(تفسیر نعیمی)

اور مسلمانوں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ وہ اپنے گناہوں پر شرمندگی کا اظہار کریں اور اپنے گنا ہوں کا اعتراف کریں اور اللہ تعالیٰ سے لجاجت کے ساتھ سوال کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے گناہوں کو معاف فرما دے۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مومن سے گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے حیا کرتا ہے۔پھر الحمد للہ اس گناہ کی معافی کے لیے راستہ تلاش کرتا ہے۔ تو وه جان لیتا ہے اس سے نکلنے کی راہ توبہ استغفار ہے لہٰذا توبہ کرنے سے کوئی آدمی شرم محسوس نہ کرے جب تمہارے جدامجد سے لغزش ہوئی تو توبہ کے ذریعے ان کو معاف فرمایا۔(تفسیر نعیمی)

آدم علیہ السّلام کے واقعے سے مسلمانوں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ وہ غرور اور تکبر سے بچیں کیونکہ شیطان اسی غرور اور تکبر کی وجہ سے اپنا مقام و مرتبہ کھو بیٹھا تھا۔(تفسیر نعیمی)

اس سے مسلمانوں کو یہ نصیحت بھی حاصل ہوتی ہے کہ جھوٹی قسمیں نہیں کہانی چاہیے کیونکہ یہ شیطان کا طریقہ ہے اور کسی شخص کو اپنی عبادت پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔