تمام تعریفیں اللہ پاک کیلئے ہیں، جو عزت و عظمت و بڑائی والا ہے، ایسا جبار ہے کہ ہر سرکش اس کے سامنے ذلیل ورسوا ہے، ایسا غالب ہے کہ کوئی ا سے اس کا ارادہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتا، ہر متکبر اس کی بارگاہِ عزت میں مسکین اور عاجز ہے، انسان کی پیدائش بدبودار نطفے سے ہوتی ہے اور انجامِ کار سڑا ہوا مردہ ہے، اس کے باوجود انسان تکبر جیسی باطنی بیماری میں پڑا ہوا ہے۔

تکبر کسے کہتے ہیں؟

خود کو افضل دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے، چنانچہ فرمانِ آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم: اَلْکِبَرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِیعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیرجاننے کا نام ہے۔

تکبر انسان کیلئے صرف اور صرف نقصان اور ہلاکت ہی کا باعث ہے، ارشادِ باری پاک ہے :اللہ یوں ہی مہر کر دیتا ہے، متکبر سرکش کے سارے دل پر۔ (پ 24، المؤمن: 35)

بے شک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ ( پ 14، النحل، 23)

تکبر کی مذمت پر 5 فرامین مصطفی:

(1)بڑائی اللہ کی چادر ہے:

حضور نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے،اللہ پاک ارشادفرماتا ہے:بڑائی میری چادر اور عظمت میرا تہبند ہے، جو کوئی ان میں کسی ایک کے بارے میں مجھ سے جھگڑے گا، میں اسے تباہ کردوں گا۔

مفتی احمد یارخان علیہ الرحمۃ اس کے تحت فرماتے ہیں:چادر اور تہبند فرمانا ہم کو سمجھانے کیلئے ہے کہ جیسے ایک چادر، ایک تہبند دو آدمی نہیں پہن سکتے، یونہی عظمت وکبریائی سوائے میرے دوسرے کیلئے نہیں ہو سکتی۔

(02 ) جس کے دل میں رائی کے دانے برابر تکبر ہو ۔۔۔؟

فرمایا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ (مسلم ، کتاب الایمان ، حدیث 91)

(03 )جنت میں داخل نہیں ہوں گے:

فرمايا:لا يدخل الجنة بخيل ولاجبار ولا سيئ الملكةیعنی بخیل سرکش اور بد اخلاق جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ (مساوی الاخلاق للخرائطی، ح 361، احیاءالعلوم، جلد 3 ، ص 992)

(04)کیا متکبر کے پیچھے موت نہیں ۔۔۔ ؟

بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:یا رسول الله صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم! فلاں شخص کتنا بڑا متکبر ہے، فرمایا:کیا اس کے پیچھے موت نہیں ہے۔(شعب الايمان، حديث 8209)

(03 )متکبرین کو چیونٹیوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا:

فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو چیونٹیوں کی صورت میں اٹهایا جائیگا اور اللہ پاک کے ہاں ان کی قدر و قیمت نہ ہونے کےسبب لوگ انہیں قدموں تلے روندتے ہوں گے۔ (احياء العلوم، ج3، ص 993، موسوعة الامام، حدیث 224)

يقیناً تکبر ایک بہت ہی بری خصلت ہے، جس میں اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نافرمانی ہے، ہمیں خود کو تکبر و خود پسندی جیسی عادات سے نکال کے عاجزی کرنے والے آقائے کریم محمد مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت یعنی عاجزی کو اپنانا اور اللہ پاک کی خفيہ تدبیر سے ہردم ڈرنا چاہئے۔

اللہ پاک توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاه خاتم النبيين صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم