14 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

مطالعہ کا معنی و مقصد:

مطالعہ کا مشہور و معروف معنی ہے کتابیں پڑھنا بزرگانِ دین کے شوقِ مطالعہ کا مقصد علمِ دین کا حصول ہے وہ علم دین کےحریص تھے انہوں نے علمِ دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا تھا۔

فرضی حکایت:

احمد گھر میں داخل ہوا حسب عادت سلام کیا مگر اپنے چھوٹے بھائی حامد سے سلام کا جواب نہ پا کر اس کاکندھا ہلا کر پوچھا ، کوئی بات ہے؟ جس کی وجہ سے پریشان ہو؟

حامد: بھائی جان ! اشارہ فرماتے ہوئے کہ ذاتی مطالعہ علم دین حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے مگر ہم تو روزانہ پانچ گھنٹے جامعۃ المدینہ میں علمِ دین حاصل کرتے ہیں بعد میں اس کی دہرائی بھی کرتے ہیں پھر ذاتی مطالعہ کی کیا حاجت ؟

احمد:حامد ! علمِ دین جتنا حاصل کیا جائے کم ہے علمِ دین وہ اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کی تہہ تک پہنچنانا ممکن ہے، اور علم کا حصول بغیر مطالعہ ایسا ہے جیسے پانی کے بغیر کنواں دوعالم کے مالک و مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے لہذا مومن اسے جہاں پائے وہیں اس کا زیادہ حق دار ہے۔( سنن ترمذی ج۴، ص ۳۱۴) اور مطالعہ کرنا تو ہمارے بزرگانِ دین کا طریقہ ہے۔

حامد : کیا بزرگانِ دین بھی کتاب کا مطالعہ کرتے تھے؟

احمد: جی ہاں ہمارے بزرگانِ دین تو عبادت سمجھ کر مطالعہ فرماتے تھے شوقِ مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ علامہ ابن جوزی رحمۃا للہ علیہ نے زمانہ طالبِ علمی میں اپنے مدر سہ کے کتا ب خانے میں موجود تقریبا ًچھ ہزار کتب کا مطالعہ فرمایا ۔

امام محمد شیبانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے آپ رات کے تین حصے کرتے ایک حصہ میں عبادت، ایک حصہ میں مطالعہ اور بقیہ حصہ میں آرام فرماتے تھے۔(تاریخ بغداد ج ۲، ص ۷۹)

علامہ شیخ عبدالحق محد ث دہلوی رحمۃاللہ علیہ کو بچپن ہی سے مطالعہ کا شوق تھا آپ فرماتے ہیں مطالعہ کرنا میرا شب و روز کا مشغلہ تھا بچپن سے ہی یہ حال تھا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ کھیل کو دکیا ہے ؟آرام و آسائش کے کیا معنی ہیں؟ سیر کیا ہوتی ہے ؟ بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ دوران مطالعہ سر کے بال اور عمامہ وغیرہ چراغ سے چُھو کر جُھلس جاتے مگر مطالعہ میں مگن ہونے کی وجہ سے پتا نہ چلتا ۔(اشعۃ اللمعات ج۱، مقدمہ ص ۷۲)

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کا تو سبب یہ بنا کہ انہوں نے مطالعہ میں مشغول ہو کر ضرورت سے زیادہ کھجوریں تناول کرلیں جو مرض الموت کا سبب بنیں ۔(تہذیب التہذیب ۸، ص ۱۵۰ )

حامد: بھائی جان ! اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا شوق مطالعہ کیسا ہے؟

احمد : اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے شوق مطالعہ کا تو انداز ہی نرالہ تھا آپ نے کبھی استاذ صاحب سے چوتھائی کتاب سے زیادہ نہ پڑھی، بقیہ کتاب کا خود مطالعہ فرماکر یا د کر لیتے۔(حیات اعلیٰ حضرت ج ۱، ص ۷۹)

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دو جلدوں پر مشتمل "العقود الدریۃ "کتاب کا فقط ایک رات میں مطالعہ فرمایا۔(حیات اعلیٰ حضرت ج ۱، ص ۷۹)

امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے علم ِ دین کے حصول کا ذریعہ ہی مطالعہ کو بنایا ۔آپ اس قدر ہمہ تن گوش ہو کر مطالعہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات آپ کو کسی کی آمد کا علم ہی نہ ہوتا، مطالعہ کے ساتھ ساتھ کتب کا ادب بھی کرنا ہے کیونکہ با ادب ، با نصیب بے ادب بے نصیب علم حاصل کرکے اس پر عمل بھی کرنا ہے اور اسے سکھانا بھی ہے کیونکہ اگر علم جسم ہے تو عمل اس کی روح اور علم سکھانا اس کی غذا ہے،

حامد : بھائی جان ! ان شا ءاللہ میں بزرگانِ دین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مطالعہ بھی کروں گا، علم پر عمل کروں گا اور اسے دوسروں کو سکھاؤں گا اور بالخصوص کتابوں کا ادب کروں گا۔