20 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

عبدالقادربن واحد بخش،درجہ خامسہ  مرکز ی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی

پیارے اسلامی بھائیو جب سے دنیا بنی ہے تعلیم و تعلم کا سلسلہ چلتا رہا ہے ہر زمانے کے لوگوں نے علم کو سہارا بنا کر اپنے مقاصد تک پہنچنے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوئے کیونکہ علم ہی ایک ایسا نور ہے جو انسان کو ہر طرح کی جہالت سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اور اسی علم کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ۔ ترجمۃ کنزالایمان : تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔(سورۃ الزمر ،۹) (صراط الجنان جلد 10 صفحہ 9) اور یہ بات بھی قابل فراموش نہیں کہ علم ہمیشہ سے عمل کا امام رہا اور تھوڑا علم زیادہ عمل سے افضل ہے۔

اور یاد رکھیں کہ: علم کو حاصل کرنے کے ذرائع میں سے ایک اہم ترین ذریعہ مطالعہ ہے. مطالعہ کہتے ہیں "غور, توجہ, دھیان اور کسی چیز کو اس سے واقفیت پیدا کرنے کی غرض سے دیکھنے کو"۔

کتب بینی کو بھی مطالعہ کہتے ہیں اور اسی غوروفکر یعنی مطالعہ قرآن و حدیث میں تعلیم دی گئی ہے۔

حدیث پاک میں ہے اللہ تعالی کی عبادت کسی بھی ایسی چیز کے ساتھ نہیں کی جاسکتی جو توفیق سے افضل ہو یعنی دین میں غوروفکر کرنا سب سے افضل عبادت ہے۔

المختصر یہ کہ ہمارے بزرگوں نے بھی علم کے اسی ذریعے یعنی مطالعہ کو ہتھیار بنا کر باطل کو جھکا رکھا اور اپنی اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں انہی کی انتھک محنت اور کثرت مطالعہ کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں اتنی آسانی سے وہ چیزیں مل جاتی ہے جو شاید ہمیں کئی سال لگانے سے نہ ملتی۔ ذیل میں چند بزرگوں کا شوق مطالعہ اور انکا کامیابی کی بلندیوں کو چھونے کا انداز پڑھ کر ہم بھی اپنے دل میں کثرت مطالعہ کا شوق پیدا کریں۔

1. چالیس سال سینے پر کتاب:

حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ہیں مجھ پر چالیس سال اس حال میں گزرے کہ سوتے جاگتے کتاب میرے سینے پر رہتی. (جامع بیان العلم )

2. بغداد کے کتب خانے پڑھ ڈالے:

امام ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کبھی سیر نہیں ہوتی اگر میں کہوں کہ میں نے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو بہت زیادہ معلوم ہوگا میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانے کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار کتابیں تھیں اسی طرح بغداد کے جو بھی مشہور کتب خانے تھے سب کا مطالعہ میں نے کر ڈالا۔ (ایضاً)

3. رات کو پندرہ، بیس مرتبہ اٹھتے:

محمد بن حاتم کہتے ہیں کہ ایک سفر میں میں امام بخاری کے ساتھ تھا آپ رات کو پندرہ، بیس مرتبہ اٹھتے، چراغ جلاتے اور احادیث پر کچھ نشان لگا کر لیٹ جاتے. (وقت ہزار نعمت ہے،75)

4. مطالعہ کا نشہ نس نس میں سما گیا تھا:

حضرت احمد بن یسار صاحب لغت و ادب کے امام تھے مطالعہ کا نشہ نس نس میں بس گیا تھا، عالم یہ تھا کہ کوئی دعوت دیتا تو شرط لگاتے کہ میرے لیے مطالعہ کی جگہ کا اہتمام ہوگا؟ مطالعہ میں انہماک کا یہ عالم تھا کہ راہ چلتے ہوئے مطالعہ میں مصروف تھے کہ سامنے گھوڑا آیا آپ کو پتہ نہ چلا گھوڑے کی وجہ سے آپ کا انتقال ہوگیا ۔ (ایضا)

5. روٹی کے ٹکڑے پیس کر پی جاتا:

حضرت داؤد طائی علیہ رحمۃ روٹی کے ٹکڑے پیس کر پی جاتے اور فرماتے جتنا وقت میں انسان روٹی چبا کر کھائے گا اتنی دیر میں 50 آیات پڑھ لے گا (وقت ہزار نعمت، )

6. علم کے شوق میں راتوں کو سوتے نہ تھے:

امام محمد بن حسن شیبانی کے نام سے سے تو فقہ کا ادنیٰ طالب علم بھی واقف ہے۔ مطالع انکی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی علم کے شوق میں رات سوتے نہ تھے طشت میں پانی رکھا ہوتا نیند آتی تو پانی سے دور کر لیتے ایک موضوع سے اکتاتے تو دوسرا شروع کردیتے علم کے انہماک میں اپنے لباس تک کا ہوش نہ رہتا گھر والے میلے کپڑے اترواتے اتنے مطالعہ میں مصروف ہوتے (حدائق الحنفیہ)

7. ایک حدیث کے لئے کی راتیں سفر:

حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ میں ایک حدیث کے لیے کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں سفر کیا کرتا (علم و علما بحوالہ المدخل، حدیث 304)

8. دو سال پہلو کے بل نہ سوئے:

صاحب ریاض صالحین حضرت امام نووی علیہ الرحمہ پانچویں صدی کے عظیم الشان محدث گزرے ہیں آپ کی زمانہ طالب علمی میں جدوجہد کا عالم یہ تھا کہ دو سال تک پہلو کے بل زمین پر نہیں سوئے بس بیٹھے بیٹھے ہی کچھ آرام کر لیتے اور مطالعہ میں مشغول ہوجاتے اور اور آپ راہ چلتے ہوئے بھی مطالعہ نہ چھوڑتے۔ (وقت ہزار باحوالہ قسمت الزمن)

9. دو کان کرایہ پر لے کر مطالعہ کرتے:

عمرو بن محبوب جاحظ معتزلی تھا لیکن ان کے ادبی کارناموں کو عربی ادب میں کبھی شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ مطالعہ کا شوق اتنا تھا کہ کتابوں کی دکان کرایہ پر لے کر راتوں کو مطالعہ کرتا۔ (ایضا)

اللہ کریم ہمیں ان بزرگوں کے مطالعے سے حصہ نصیب کرے اور ہمیں بھی مطالعہ کے میدان میں اترنے کی سعادت دے آمین۔