شادی کے بعد زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، اسے پر سکون بنانے کے لیے شوہر و بیوی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام نے ہر انسان کے دوسرے انسان پر کچھ حقوق مقرر فرمائے ہیں، شوہر کے حقوق بہت ہی عظیم حیثیت رکھتے ہیں۔

سجدہ کا حکم: رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقینا عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/386، حدیث: 1162)مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احسانات کے شکریہ سے عاجز ہے، اس لیے شوہر ہی اس کے سجدے کا مستحق ہے، شوہر کی اطاعت تعظیم اشد ضروری ہے اس کی ہر جائز تعظیم کی جائے۔

شوہر کو راضی رکھنا: بیوی کو چاہئے کہ شوہر کی حیثیت سے بڑھ کر فرمائش نہ کرے اس کی خوشیوں میں شریک ہو، پریشانی میں اس کی ڈھارس بندھائے، اس کی طرف سے تکلیف پہنچنے کی صورت میں صبر کرے اور خاموش رہے، بات بات پر منہ نہ پھلائے۔ الغرض اسے راضی رکھنے کی کوشش کرے۔ فرمان مصطفیٰ ﷺ: جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (ترمذی، 2/336، حدیث: 1164)

شوہر کی ناشکری سے بچا جائے: بیوی کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ شوہر کے احسانات کی ناشکری سے بچے کہ یہ بری عادت نہ صرف اس کی دنیوی زندگی میں زہر گھول دے گی بلکہ آخرت بھی تباہ کرے گی۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کرتی ہیں۔ (بخاری، 3 / 463، حدیث: 5197)

شوہر کی اطاعت: شوہر حاکم ہوتا ہے اور بیوی محکوم، اس کے الٹ کا خیال بھی کبھی دل میں نہ لائیے، لہذا جائز کاموں میں شوہر کی اطاعت کرنا، بیوی کو شوہر کی نظروں میں عزت بھی بخشے گا اور وہ آخرت میں انعام کی بھی حقدار ہوگی۔ فرمان آخری نبی ﷺ: عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔ (مسند امام احمد، 1/ 406، حدیث: 1661)

الله ہمیں اپنے گھریلو معاملات میں شریعت کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے حقوق و فرائض بہترین انداز میں سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔