جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی پشت سے ان کی ذریت کو نکالا اور انہیں اپنی ربوبیت پر قرار کرنے پر گواہ بنایا جس کا ذکر سورہ اعراف آیت نمبر  172 میں ہے۔

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا،کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے۔

تو شیطان نے اپنی پرانی دشمنی کے سبب بنی نوع انسان کو اس وعدہ کے خلاف کرنے کے لیے کاروائی عمل میں لائی اور گمراہ کر دیا لہذا اللہ تعالی کا اپنے پیارے انبیاء کو بھیجنے کا ایک مقصد اس وعدہ " اَلَسْتُ "کی یاد دہانی کروانا بھی ہے اور ان انبیاء میں سے ایک حضرت شعیب علیہ السلام بھی ہیں۔

آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو مدین نامی شہر میں بسنے والی قوم کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے نیز ان کو ان کے برے کاموں پر تنبیہہ کرتے ہوئے منع کرتے تھے ۔لیکن انہوں نے اپنے اس محسن کو اپنا بڑا دشمن سمجھا۔نہ صرف آپ کی شان میں گستاخی کی بلکہ شہر کے راستوں میں بیٹھ کر آنے والے لوگوں کو حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس جانے سے یہ کہتے ہوئے روکتے تھے کہ آپ علیہ السلام جادوگر ہیں۔ جب ان کی نافرمانیاں زور پکڑتی گئیں اور چند مسلمانوں کے علاوہ بقیہ قوم اپنے انہی حرکات میں ڈٹی رہیں تو اللہ پاک نے ابتداءً چیخ کے ساتھ پھر شدید زلزلے کی صورت میں اس قوم کو ہلاک کر دیا۔

اس قوم کی نافرمانیاں مندرجہ ذیل ہیں :۔

(1)شرک (2)ناپ تول میں کمی اور دوسرے لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا (3)لوگوں کو حضرت شعیب علیہ سلام سے دور کرنا (4)ان کے سرداروں کا حضرت شعیب علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنا ۔(صراط الجنان ،3/371)

یہ وہ امور تھے جن کے ارتکاب کے سبب انہیں ہمیشگی والے عذاب کا منہ دیکھنا پڑا ۔لہذا ہم غور کریں کہ کہیں یہ مفسدات ہمارے معاشرے میں تو نہیں ۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ بے برکتی کا دور دورہ ہے ہر بندہ یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ہمیں پورا نہیں ہوتا۔ تو کہیں وہ ان امور مفسدہ کے ارتکاب میں ملوث تو نہیں۔ جن کے سبب پچھلی قومیں ہلاک کر دی گئی۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ نیک کاموں کو اپنے اوپر نافذ کریں تاکہ بسبب فضل الٰہی بروز محشر نبی آخرالزمان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے شرمندگی سے بچیں۔