ہمارا ایمان اور قراٰن کا فرمان ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں سب سے عظیم رسول عطا فرما کر ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے ۔ ہمارا تو وجود بھی حضور سید دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے سے ہے کہ اگر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ ہوتے تو کائنات ہی نہ ہوتی۔ رحیم و کریم رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی ولادتِ مبارکہ سے وصالِ مبارک تک اور اس کے بعد کے زمانوں میں اپنی امت پر مسلسل رحمت و شفقت کے دریا بہاتے رہے اور بہا رہے ہیں اور یونہی قیامت کے دن ہماری آسانی و مسرت کا سامان کریں گے۔ قراٰن، ایمان ، خدا کا عرفان اور بے شمار نعمتیں ہمیں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہی نصیب ہوئیں۔ انہیں بیش بہا احسانات کے کچھ تقاضے ہیں جنہیں امت پر حقوق مصطفے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ جن کی ادائیگی تقاضہ ٔ ایمان اور مطالبۂ احسان ہے ۔

(1) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھا جائے۔ اور جو کچھ آپ اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں۔ اسے صِدق دل سے تسلیم کیا جائے۔ ارشاد باری ہے: وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا(۱۳)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر تو بےشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آ گ تیار کر رکھی ہے۔( پ26 ، الفتح : 13)اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی جان ہے۔ اس امت میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو میری نبوت سنے خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی پھر وہ اس (دین) پر ایمان لائے بغیر مر جائے جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے تو وہ جہنمی ہوگا۔ (صحیح مسلم ، ص 134 ، حدیث: 153 )

(2) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی: نبی کریم کی سیرتِ مبارکہ اور سنتوں کی پیروی کرنا ہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکم خداوندی ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرمادو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔(پ3،آل عمرٰن:31)حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے (دین) کے تابع نہ ہو جائے ۔(شرح السنہ للبغوی،1/98)(3) رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سچی محبت کرنا : امتی پر حق ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا و مولا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سچی محبت کرے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت روحِ ایمان، جانِ ایمان اور اصلِ ایمان ہے ۔ اللہ پاک فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا ۔(پ10،التوبہ : 24)اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کسی کا ایمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ، جب تک میں اسے اس کے باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ ( صحیح بخاری ، 1/ 12 ، حدیث: 15)

(4) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم : ایک انتہائی اہم حق یہ ہے کہ دل و جان ، روح و بدن اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نبی مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اعلیٰ درجے کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ ارشاد باری ہے: اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ۔( پ 26، الفتح : 9،8) (5) رسولُ الله پر درودِ پاک پڑھنا: حضور پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود پاک پڑھنا بھی مقتضائے ایمان ہے کہ اس کے ذریعے ہم بارگاہ الٰہی میں نبی کریم کیلئے مزید در مزید قرب، رفع درجات اور اعلائے منزلت کی دعا کرے آپ کے احسانات کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ الله پاک فرماتا ہے : اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (پ22،الاحزاب:56)علامہ احمد سخاوی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : نبی کریم پر درود پڑھنے کا مقصد اللہ پاک کے حکم کی پیروی کر کے اس کا قرب حاصل کرنا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حق ادا کرنا ہے ۔ (القول البدیع ، ص 83)