حرمین طیبین، یعنی مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد
نبوی (مدینہ منورہ)، اسلامی تاریخ اور ثقافت میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے حقوق میں
درج ذیل چیزیں شامل ہیں:
زیارت و عبادت: حرمین
کی زیارت اور وہاں عبادت کرنا ایک عظیم فضیلت ہے۔ مسلمان وہاں نماز، قرآن کی تلاوت
اور دیگر عبادات کے ذریعے اللہ کی قربت حاصل کرتے ہیں۔
احترام: حرمین کی عظمت
کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ وہاں کے مقام و فضیلت کی وجہ سے مسلمان ان مقامات کا خاص احترام
کرتے ہیں۔
سکون و سلامتی: حرمین
کی سرزمین پر امن و سکون کا ماحول فراہم کرنا اور وہاں کے زائرین کے لیے حفاظت کو یقینی
بنانا اہم ہے۔
تعلیم و ترویج: وہاں
دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا تاکہ لوگ دین کی بنیادیات کو سمجھ سکیں اور صحیح
رہنمائی حاصل کر سکیں۔
زائرین کی مدد: حرمین
میں آنے والے زائرین کی مدد کرنا، ان کی رہنمائی کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا
ان مقامات کے حقوق میں شامل ہے۔
دعوت و تبلیغ: حرمین میں دین
کی دعوت اور تبلیغ کا اہتمام کرنا تاکہ لوگ صحیح راستے کی طرف رہنمائی حاصل کر سکیں۔
یہ حقوق حرمین طیبین کی عظمت اور اہمیت کو سمجھنے میں
مدد دیتے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی قدر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔حرمین طیبین کے حقوق
اور ان کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث درج ذیل ہیں:
مسجد الحرام کی فضیلت: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک نماز جو میں نے مسجد میں ادا کی ہے وہ دوسری مساجد میں ایک ہزار
نمازوں کے برابر ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔ یہ حدیث مسجد الحرام کی فضیلت کو ظاہر کرتی
ہے۔
مسجد نبوی کی فضیلت: میری
اس مسجد کی فضیلت ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔ یہ اس بات کا
ثبوت ہے کہ مسجد نبوی بھی مسلمانوں کے لیے خاص مقام رکھتی ہے۔
زیارت کی اہمیت: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میری قبر کی زیارت کرے، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جاتی
ہے۔ (دار قطنی، 2/351، حدیث: 2669) یہ حدیث حرمین کی زیارت کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔
امن و سکون: قرآن میں اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ
مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-(البقرہ: 125) اور ہم نے اس شہر (مکہ) کو
امن کا شہر بنایا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حرمین میں امن و سکون کا ہونا ضروری ہے۔
دعا اور عبادت: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: حرمین میں دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں
کی عبادت اور دعا کا ایک خاص مقام ہے۔