ہم شریعت مطہرہ کے احکامات کےمکلف ہیں ہمارے لیے اسکی
حدود میں رہ کرہی زندگی گزارنے میں ہی عافیت ہے حرمین طیبین مقدس حدودیں ہے اسکی عظمت
بھی بلند وبالا ہے لہذا ہمیں اسکے حقوق بھی معلوم ہونا ضروری ہیں تاکہ ہم بے ادبی کا
شکار نا ہوجائے۔
عام بول چال میں لوگ مسجد حرام کو حرم شریف کہتے ہیں،
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد حرام شریف حرم محترم ہی میں داخل ہےمگر حرم شریف مکہ مکرمہ
سمیت اس کے اردگرد میلوں تک پھیلا ہوا ہے اور ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی ہیں۔ (رفیق
الحرمین، ص 89)
ہمارے نزدیک مدینہ ان معنی میں حرم نہیں کہ اسکے جانوروں
کے شکار کرنے اور گھاس صاف کرنے پر دم واجب ہو جن احادیث مبارکہ میں یہ حکم ہے وہ موول
ہیں بلکہ اس سے مراد مدینہ کی زینت باقی رکھنے کیلیے ہے کہ درخت نہ کاٹے جائیں مدینہ
کے حرم ہونے کا مطلب وہ نہیں جو مکہ کا ہے آئمہ ثلاثہ کے نزدیک حرم ہے۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ
رَبِّهٖؕ-
(پ17، الحج:30) ترجمہ کنز الایمان: اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس
کےلیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حرمت والی چیزوں کے بارے میں مفسرین
کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ان سے وہ مقامات مراد ہیں جہاں حج کے مناسک ادا کئے جاتے ہیں
جیسے بیت حرام، مشعر حرام، بلد حرام اور مسجد حرام وغیرہ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ
ہے کہ ان کے حقوق اور ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کی جائے۔ (صراط الجنان، 6/434)
اعلی حضرت فرماتے ہیں:
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے
او جانے والےحدائق بخشش
1۔ عیب جوئی نہ کی جائے: مدینہ
منورہ کی ہر چیز نفیس و عمدہ واعلیٰ ہے اس میں کسی عیب و نقص کا شبہ تک نہیں، اگر بالفرض
طبعی طور پر کوئی چیز پسند نہ آئے تو اس میں عیب جوئی کی بجائے اپنی آنکھوں کا دھوکا
وعقل کی کمی سمجھے وگرنہ اس کی بڑی سخت سزا ہے۔ حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے مدینہ
پاک کی مبارک مٹی کو خراب کہنے والے کے لئے تیس کوڑےلگانے اور قید میں ڈالے جانے کا
فتویٰ دیا۔ (الشفاء، 2/57)
2۔ گھاس نہ اکھیڑی جائے: حرم
کی حد کے اندر تر گھاس اکھیڑنا، خودرو پیڑ کاٹنا، وہاں کے وحشی جانور کو تکلیف دینا
حرام ہے۔ (ابن ماجہ، 3/519، حدیث: 311)
3۔ ہتھیار نہ اٹھائے جائیں:
حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی
کو یہ حلال نہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیار اٹھائے پھرے۔ (مراۃ المناجیح، 2/236)
4۔ حرمین کی آزمائش پر صبر: جو
شخص دن کے کچھ وقت مکّے کی گرمی پر صبر کرے جہنّم کی آگ اس سے دور ہو جاتی ہے۔ (اخبار
مکۃ، 2/311، حدیث: 156)
امتحاں درپیش ہو راہِ مدینہ میں اگر صبر کر تو صبر کر
ہاں صبر کر بس صبر کر
میرا کوئی امتی مدینے کی تکلیف اور سختی پر صبر نہ کرے
گا مگر میں قیامت کے دن اس کا شفیع (یعنی شفاعت کرنے والا) ہوں گا۔ (مسلم، ص716، حدیث: 1378)
5۔ راستوں کا ادب: مکے
مدینے کی گلیوں میں جہاں کوڑے دان رکھے ہیں انہیں استعمال کیجئے۔ اس کے علاوہ عام راستوں
اور گلیوں میں تھوکنے یا کچرا وغیرہ پھینکنے سے بچیں کہ ان گلیوں کو ہمارے پیارے آقا
ﷺ سے نسبت ہے۔
مذکورہ بالا حقوق کے علاوہ بھی حرمین طیبین کے حقوق
ہیں جیسے یہاں شکار نہ کیا جائے،یہاں کے کھانے وغیرہ کے متعلق عیب نہ نکالا جائے وغیرہ۔
اللہ پاک ہمیں حرمین شریفین کی باادب حاضری سے خیرو
عافیت سے جلدی نوازے۔ آمین
ہمارے بزرگان دین کی حرمین شریفین کی حاضریوں کے انداز
نرالے ہوتے ہیں اگر آپ انکی محبت کے انداز کا مطالعہ کرنا چاہتی ہیں تو عاشقان رسول
ﷺ کی 130 حکایات و روایات مع مکہ مدینے کی زیارتیں کا مطالعہ فرمائیے۔