انسان کو جس سے محبت ہوتی ہے اس سے نسبت رکھنے والی
چیزوں سے بھی محبت ہوتی چونکہ مکہ مکرمہ حضور جان جاناں ﷺ کی جائے سکونت تھی وہاں آپ
ﷺ نے پرورش پائی اور مکہ مکرمہ ایسا مقدس شہر ہے جس کی حرمت کے متعلق خود آقا ﷺ نے
بیان فرمایا اسی طرح مدینہ منورہ بھی آقا ﷺ کی رہائش گاہ ہے جس سے محبت کرنا ان کا
ادب و احترام کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
آئیے احادیث مبارکہ سے اس کے ادب و احترام کے بارے میں
جانتی ہیں:
مکہ مکرمہ قیامت تک حرم ہے نبی رحمت، شفیع امت، قاسم
نعمت ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! اس شہر کو اللہ نے اسی دن سے
حرم بنا دیا ہے جس دن آسماں و زمین پیدا کیے لہذا یہ قیامت تک اللہ کے حرم فرمانے سے
حرام (یعنی حرمت والا) ہے۔ (ابن ماجہ، 3/519، حدیث: 3109)
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان اس حدیث
پاک کے تحت لکھتے ہیں: یعنی اس شہر پاک کا حرم شریف ہونا صرف اسلام میں ہی نہیں ہے
بلکہ بڑا پرانا مسئلہ ہے ہر دین میں یہ جگہ محترم تھی طوفان نوح میں جب بیت المعمور
آسمان پر اٹھالیا تو لوگ یہاں کی حرمت وغیرہ بھول گئے حضرت خلیل علیہ السلام نے پھر
اسکا اعلان فرمایا (حدیث پاک میں) الی یوم القیامۃ فرما کر بتایا کہ یہ حرمت کبھی منسوخ
نہ ہوگی۔ (مراۃ المناجیح، 4/200)
مکہ مکرمہ میں رہائش اختیار کرنا: مکہ
مکرمہ میں وہی رہے جسے ظن غالب ہو کہ یہاں کا احترام بجا لاسکے گا، خود کو گناہوں سے
بچا سکے گا کروڑوں حنفیوں کے پیشوا امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ جنہوں نے صحابہ
کرام علیہم الرضوان کا سنہری دور پایا اور تابعیت کے شرف سے مشرف ہوئے اس صلاح و فلاح
(نیکی و بھلائی) کے دور میں لوگوں کو وہاں بے احتیاطیوں میں ملوث دیکھا تو حرم کی رہائش
مکروہ قرار دی۔
مکہ مکرمہ کا ادب: مکہ
مکرمہ کا ادب کرنے کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: حضرت علامہ شیخ عبدری نے بعض اکابر اولیاء کے بارے میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ
چالیس سال مکے میں رہے مگر حرم مکہ میں پیشاب نہ کرتے اور نہ ہی وہاں لیٹتےتھے پھر
فرمایا ایسے لوگوں کے لیے مجاورت (مستقل رہائش) مستحب ہے یا انہیں اجازت دی جاسکتی
ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 10/289)
خشوع و خضوع سے داخل ہونا: جب
مکہ مکرمہ کے متصل پہنچے سر جھکائے آنکھیں شرم و گناہ سے نیچی کیے خشوع وخضوع سے داخل
ہو اور ہوسکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیک و دعا کی کثرت رکھے اور بہتر یہ کہ دن میں
نہا کر داخل ہو حیض و نفاس والی کے لیے نہانا مستحب ہے۔ (مسلم، ص 678، حدیث: 3153)
درخت کاٹنا: حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں
اور سوائے تلاش کرنے والے کے وہاں کی گری چیز کوئی نہ اٹھائے۔ (مراۃ المناجیح، 2/235)