اللہ تعالی کامقدس گھر مکہ پاک ہے جس کی بہت زیادہ تعظیم و توقیر کی جاتی ہے اور ہرشخص پر اس کی تعظیم کرنا اور اسکے حقوق ادا کرنا لازم ہے حرم مکہ کے بھی کچھ حقوق ہیں اور دین اسلام میں ان کےحقوق ادا کرنے کو کہا گیا ہے اور دین اسلام میں ان افعال سے بچنے کا بھی درس ملتا ہے جس سےحرم مکہ کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور حرم مکہ کےچند حقوق درج ذیل ہیں۔

حرم مکہ میں ہتھیار اٹھانا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ حلال نہیں کہ مکۂ معظمہ میں ہتھیار اٹھائے پھرے۔ (مراٰۃ المناجیح،4/202)

درخت کاٹنا: حرم مکہ میں درخت کاٹنا ممنوع ہے۔ چنانچہ نبیّ کریم ﷺ نے فرمایا: وہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں۔ (مراٰة المناجیح،4/201)

گناہوں سے بچنا: جس طرح ہر جگہ گناہوں سے بچنا ضروری ہے اسی طرح حرم مکہ میں گناہوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے جس طرح کے ملفوظات اعلی حضرت میں ہے مکہ معظمہ میں جس طرح ایک نیکی لاکھ نیکیوں کے برابر ہے اسی طرح ایک گناہ ایک لاکھ گناہ کے برابر ہے بلکہ وہاں پر تو گناہ کے ارادے پر بھی گرفت ہے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، ص 236)

شکار کی ممانعت: حرم مکہ جس طرح انسانوں کے لیے امن والا ہے اسی طرح جانوروں کے لیے بھی امن والا ہے اور اسی وجہ سے حرم مکہ میں شکار کرنے کی ممانعت ہے جس طرح کے تفسیر احمدیہ میں ہے کہ حرم کو اس لیے حرم کہا جاتا ہے کہ اس میں قتل شکار حرام و ممنوع ہے۔ (تفسیرات احمدیہ، ص 34)

خشوع و خضوع سے داخل ہونا: جب حرم مکہ کے متصل پہنچے سر جھکائے آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع و خضوع سے داخل ہو اور ہوسکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیک و دعا کی کثرت رکھے اور بہتر یہ کہ دن میں نہا کر داخل ہو، حیض و نفاس والی عورت کو بھی نہانا مستحب ہے۔ (مسلم، ص 706، حدیث: 3153)

حرم مکہ کےآداب:

(1)جب حرم مکہ کے پاس پہنچیں تو شرم عصیاں سے نگاہیں اورسر جھکائے خشوع و خضوع سے حرم میں داخل ہوں۔

(2)حرم پاک میں لبّیک و دعا کی کثرت رکھیں۔

(3)مکۃ المکرّمہ میں ہر دم رحمتوں کی بارشیں برستی ہیں۔

(4) وہاں کی ایک نیکی لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔

(5) وہاں اس بات کا خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ ہمارے کسی عمل سے کسی کو بھی کوئی تکلیف نہ پہنچے،

(6) حرم پاک کی ہر چیز حتیٰ کہ چیونٹیوں کی بھی تکریم کرنی چاہیئے۔

زیارات حرمین طیبین کی احتیاطیں:

فرمان مصطفےٰ ﷺ ہے: اپنی مسجدوں کو (ناسمجھ) بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو۔ (ابن ماجہ، 1 / 415، حدیث: 750ملخصاً)

مساجد میں شور کرنا گناہ ہے اور ایسے بچوں کو لانا بھی گناہ ہے جن کے بارے میں یہ غالب گمان ہو کہ پیشاب وغیرہ کردیں گے یا شور مچائیں گے، لہٰذا زائرین سے عرض ہے کہ حدیث میں بیان کردہ شرعی حکم پر عمل کرتے ہوئے چھوٹے بچوں کو ہر گز مسجدین کریمین (یعنی مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں نہ لائیں۔

جنّت البقیع و جنّت المعلیٰ کے کئی مزارات شہید کر دئیے گئے ہیں اور اندر داخل ہونے کی صورت میں کسی عاشق رسول کے مزار پر پاؤں پڑ سکتا ہے جبکہ شرعی مسئلہ یہ ہے کہ عام مسلمان کی قبرپر بھی پاؤں رکھنا ناجائز ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، 5 / 349ملخصاً) لہٰذا ان دونوں متبرک مقامات پر باہر ہی سے سلام عرض کیجئے۔

وہاں کئی مقامات مقدّسہ ہیں کہ جن کی زیارت سے روح ایمان کو جلا ملتی ہے، لیکن کچھ محروم لوگ یہ زیارتیں کرنے کے بجائے شاپنگ سینٹرز یا تفریحی مقامات کی زینت بن جاتے ہیں، کم از کم وہاں حتّی الامکان ان فضولیات سے بچنے کی کوشش کریں.

اس کے علاوہ بھی حرم مکہ کے بہت سے حقوق ہیں مثلا وہاں کے لوگوں سے حسن سلوک کرنا وہاں کے تبر کات کو نقصان نہ پہنچانا بے ادبی سے بچنا وغیرہ اگر اللہ پاک کے فضل و احسان سے ہمیں وہاں کی حاضری کی سعادت ملے تو ہمیں چاہیے کہ ہر حالت میں محتاط ہر کام سوچ سمجھ کر کریں کوئی بھی قدم بغیر سوچے سمجھے نہ اٹھائیں یہ نہ ہو کہ غفلت کی وجہ سے ہم ثواب کے خزانے کے بجائے گناہوں کی گٹھری لے کر آئیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حرم مکہ کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین