حرمین طیبین کے حقوق ازبنت محمد یوسف، فیضان
ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
خانۂ کعبہ اور نبی مکرم ﷺ کے روضہ مقدسہ کی حاضری نہایت
خوش بختی اور سعادت و نعمت ہے لاکھوں مسلمان خانۂ کعبہ اور خصوصاً روضہ رسولﷺ کی زیارت
کے لیے تڑپتے ہیں ہر آنکھ ذکر مدینہ سن کر اشکبار ہو جاتی ہے اور
مدینہ اس لیے عطار جان و دل سے ہے پیارا
کہ رہتے ہیں میرے آقا
میرے سرور مدینے میں
پیاری اسلامی بہنو! جب ہمیں کعبہ معظمہ اور روضہ رسول
مکرمﷺ کی حاضری کی سعادت نصیب ہو تو قدم قدم پر احتیاط اور ادب کا دامن تھامے رہیں
آپ کی ذرا سی بے احتیاطی بہت بڑی محرومی کا سبب بن سکتی ہے
ذیل میں حرمین طیبین کی حاضری کے بارے میں 19 اہم مدنی
پھول پیش کئے جارہے ہیں، جن پرعمل کرنے سے ان شاءاللہ زیارت حرمین کا خوب کیف و سرور
حاصل ہوگا۔
حرم مکہ کے آداب:
جب حرم مکہ کے پاس پہنچیں تو شرم عصیاں سے نگاہیں اورسر
جھکائے خشوع و خضوع سے حرم میں داخل ہوں۔
اگر ممکن ہو تو حرم میں داخل ہونے سے پہلے غسل بھی کرلیں۔
حرم پاک میں لبیک و دعا کی کثرت رکھیں۔
مکۃ المکرمہ میں ہر دم رحمتوں کی بارشیں برستی ہیں۔
وہاں کی ایک نیکی لاکھ نیکیوں کے برابر ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ وہاں کا ایک گناہ
بھی لاکھ کے برابر ہے۔ افسوس! کہ وہاں بدنگاہی، داڑھی منڈانا، غیبت، چغلی، جھوٹ، وعدہ
خلافی، مسلمان کی دل آزاری، غصّہ و تلخ کلامی وغیرہا جیسے جرائم کرتے وقت اکثر لوگوں
کویہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم جہنّم کا سامان کر رہے ہیں۔
جب خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑے تو ٹھہر کر صدق دل سے
اپنے اور تمام عزیزوں، دوستوں، مسلمانوں کے لئے مغفرت و عافیت اور بلا حساب داخلۂ
جنّت کی دعا کرے کہ یہ عظیم اجابت و قبول کا وقت ہے۔ شیخ طریقت، امیراہل سنّت دامت
برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: چاہیں تو یہ دعا مانگ لیجئے کہ یااللہ میں جب بھی کوئی
جائز دعا مانگا کروں اور اس میں بہتری ہو تو وہ قبول ہوا کرے ۔ علامہ شامی قدس سرّہ
السّامی نے فقہائے کرام رحمہم اللہ السّلام کے حوالے سے لکھا ہے: کعبۃ اللہ پر پہلی
نظر پڑتے وقت جنت میں بے حساب داخلے کی دعا مانگی جائے اور درود شریف پڑھاجائے۔ (رد
المحتار، 3 / 575، رفیق الحرمین، ص91)
وہاں چونکہ لوگوں کا جم غفیر ہوتا ہے اس لئے استلام
کرنے یا مقام ابراہیم پر یا حطیم پاک میں نوافل ادا کرنے کے لئے لوگوں کو دھکے دینے
سے گریز کریں اگر بآسانی یہ سعادتیں میسر ہو جائیں تو صحیح، ورنہ ان کے حصول کے لئے
کسی مسلمان کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں۔
جب تک مکّۂ مکرمہ میں رہیں خوب نفلی طواف کیجئے اورنفلی
روزے رکھ کرفی روزہ لاکھ روزوں کا ثواب لوٹیے۔
مسجد نبوی شریف کی احتیاطیں:
مدینۂ منوّرہ پہنچ کر اپنی حاجتوں اور کھانے پینے کی
ضرورتوں سے فارغ ہوکر تازہ وضو یا غسل کرکے دھلا ہوا یا نیا لباس زیب تن کیجئے، سرمہ
اور خوشبو لگائیےاور روتے ہوئے مسجد میں داخل ہوکرسنہری جالیوں کے روبرو مواجھہ شریف
میں(یعنی چہرۂ مبارک کے سامنے) حاضر ہوکر دونوں ہاتھ نماز کی طرح باندھ کر چار ہاتھ
(یعنی تقریباً دو گز) دور کھڑے ہوجائیے اور بارگاہ رسالت ﷺ میں خوب صلوٰۃ و سلام پیش
کیجئے، پھر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق و عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی خدمت سراپا
اقدس میں سلام پیش کیجئے۔
سنہری جالی مبارک کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچئے
کہ یہ خلاف ادب ہے۔
ادھر ادھر ہرگز نہ دیکھئے۔
حاضری میں خالصتاً قبر انور کی زیارت کی نیّت کیجئے۔
ریاکاری اور تجارت وغیرہ کی نیت قطعاً نہ ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، 5/631، تحت الحدیث:2755)
سفر مدینہ میں درود شریف کی کثرت کیجئے۔
جب حرم مدینہ آئے تو بہتر یہ ہے کہ روتےہوئے سر جھکائے،
درود شریف کی کثرت کرتے چلیئے۔
نہایت خشوع و خضوع سےروضۂ اقدس پر حاضری دیجئے، سلام
پیش کیجئے، روضہ مقدسہ کی پرکیف زیارت کے آداب کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و
ملت الشاہ، الحافظ الامام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ہاں ہاں رہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و
سر کی ہے
اللہ اکبر! اپنے قدم اور یہ خاک پاک حسرت ملائکہ کو جہاں
وضع سر کی ہے
اس دوران دل سرکار مدینہ ہی کی طرف متوجہ رکھنے کی کوشش
کیجئے۔ موبائل چلانے، سیلفیاں لینے سے بچئے اور سوچئے کہ کس ہستی کی بارگاہ میں حاضر
ی ہے!
اگر آپ کو کسی نے روضۂ اطہر پر سلام عرض کرنے کا کہا
ہے تو اس کی طرف سے بھی سلام عرض کردیجئے
جب تک مدینۂ طیّبہ کی حاضری نصیب ہو، کوشش کرکے اکثر
وقت مسجد شریف میں باطہارت حاضر رہئے، نماز و تلاوت و درود میں وقت گزارئیے، دنیا کی
بات کسی بھی مسجد میں نہ کرنی چاہئے یہاں تو اور بھی زیادہ احتیاط کیجئے۔
یہاں ہر نیکی ایک کی پچاس ہزار (50,000) لکھی جاتی ہے،
لہٰذا عبادت میں زیادہ کوشش (Effort) کیجئے، بھوک سے کم کھانے میں
امکان ہے کہ عبادت میں دل زیادہ لگے۔ (9)روضہ رسول مکرمﷺ کو ہر گز پیٹھ نہ کیجئے اور
حتّی الامکان نماز میں بھی ایسی جگہ کھڑے نہ ہوں کہ پیٹھ کرنی پڑے۔
یاد رہے مکہ معظمہ اور روضہ آخری نبیﷺ کی حاضری کے آداب
و دیگر لوازمات سیکھنے کے لیے باقاعدہ کسی عالم دین سے رہنمائی حاصل کریں تاکہ اس بابرکت
سفر میں ادب کا دامن تھامتے ہوئے سعادتوں، برکتوں اور نعمتوں سے بہرہ ور ہوسکیں۔