حرمین طیبین کے حقوق از بنت عبدالماجد عطاری،
فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حرمین طیبین میں غافل نہیں ہونا چاہیے بہت زیادہ محتاط
رہنا چاہیے حرمین طیبین کے بہت سے حقوق ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
1) گناہوں سے بچنا:جس
طرح ہر جگہ گناہوں سے بچنا ضروری ہے اسی طرح حرم مکہ میں گناہوں سے بچنا انتہائی ضروری
ہے جس طرح کے ملفوظات اعلی حضرت میں ہے: مکہ معظمہ میں جس طرح ایک نیکی لاکھ نیکیوں
کے برابر ہے اسی طرح ایک گناہ ایک لاکھ گناہ کے برابر ہے بلکہ وہاں پر تو گناہ کے ارادے
پر بھی گرفت ہے۔ (ملفوظات اعلی حضرت، ص 236)
2) عیب جوئی نہ کرنا: مدینۂ
منورہ کی ہر چیز نفیس و عمدہ و اعلیٰ ہے اس میں کسی عیب و نقص کا شبہ تک نہیں، اگر
بالفرض طبعی طور پر کوئی چیز پسند نہ آئے تو اس میں عیب جوئی کی بجائے اپنی آنکھوں
کا دھوکا وعقل کی کمی سمجھے وگرنہ اس کی بڑی سخت سزا ہے۔ حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ
نے مدینۂ پاک کی مبارک مٹی کو خراب کہنے والے کے لئے 30 کوڑےلگانے اور قید میں ڈالے
جانے کا فتویٰ دیا۔ (الشفاء، 2/57)
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم اس خاک پہ قرباں دل شیدا
ہے ہمارا
3)حرم شریف کی گرمی پر صبر: مکہ
معظمہ میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن
وہاں کی گرمی بھی بڑی برکت والی ہے اس پر صبر کرنے کے حوالے سے حضور علیہ السلام نے
فرمایا یعنی جو شخص دن کے کچھ وقت مکے کی گرمی پر صبر کرے جہنم ک آگ اس سے دور ہو جاتی
ہے۔ (اخبار مکہ، 2/311، حدیث: 1565)
4) تکلیف نہ پہنچانا: حرم
مدینہ کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ وہاں کے رہنے والوں سے پیار و محبت و حسن اخلاق
سے پیش آیا جائے، ان کو تکلیف پہنچانا تو دور کی بات صرف تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرنے
والے کے لئے حضور علیہ السّلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے
نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم، ص 551، حدیث: 3359)
5) طویل قیام کی ممانعت: وہاں
طویل قیام کرنا گناہوں کے سبب ہلاکت کا خوف ہے اگر وہاں بدنگاہی کی غیبت چغلی جھوٹ
وعدہ خلافی تلخ کلامی وغیرہ جرائم کا ارتکاب گویا کسی اور مقام پر ایک لاکھ بار صادر
ہونے کے برابر ہے گناہوں سے محتاط رہنے والوں کے لیے بھی مکہ معظمہ کی ہیبت کے کم ہونے
کا خدشہ ہے جس طرح کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب حج سے فارغ ہوتے تو لوگوں
میں دورہ کرتے ہوئے فرماتے اے اہل یمن چلے جاؤ اہل عراق عراق چلے جاؤ اہل شام اپنے
وطن شام لوٹ جاؤ تاکہ تمہارے ذہنوں میں تمہارے رب کے گھر کی ہیبت خوب قائم رہے۔ (فتاویٰ
رضویہ، 10 /288)
اس کے علاوہ بھی حرمین طیبین کے بہت سارے حقوق و آداب
ہیں مثلاً وہاں فضولیات ولغویات سے بچنا،آواز کو پست رکھنا، ہمیشہ زبان کو درود پاک
سے تر رکھنا، وہاں زیادہ عرصہ قیام نہ کرنا وغیرہ۔ اسی طرح جب حرم مدینہ آئے تو ہو
سکے تو پیدل،روتے ہوئے، سر جھکائے،نیچی نظریں کئے چلئے۔
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے
او جانے والے
اللہ پاک ہم سب کو بار بار حاضری مدینہ کی سعادت عطا
فرمائے اور حرم مدینہ کے تقدس وحقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین