حرمین طیبین کے حقوق از بنت طارق نذیر، فیضان
ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی
کو حرمین طیبین کہا جاتا ہے حرمین طیّبین کے مقدس و بابرکت مقامات کے پرکیف نظاروں
کی زیارت سے اپنی روح و جان کو سیراب کرنا ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، لہٰذا جس خوش
نصیب کو بھی یہ سعادت میسر آئے تو اسے چاہئے کہ وہ ہر قسم کی خرافات و فضولیات سے بچتے
ہوئے اس سعادت سے بہرہ ور ہو۔
پہلے مکہ مکرمہ کے حقوق کی بات کرتے ہیں مکہ مکرمہ کی
حرمت مکہ مکرمہ حرمت والا شہر ہے، اس ليے اس کے تقدس کا لحاظ رکھنا فرض ہے۔ اس کی حرمت
کی بناء پر رسول اکرم ﷺ نے اس کے بعض خاص احکامات فتح مکہ کے موقع پر یوں بیان فرمائے: بے شک اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس دن سے حرمت والا قرار دیا جب سے اس نے
آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ قیامت تک اللہ کی حرمت کے ساتھ حرمت والا ہی
رہے گا۔ مجھ سے پہلے کسی شخص کیليے اس میں جنگ کرنا حلال نہیں تھا اور مجھے بھی محض
دن کی ایک گھڑی اس میں جنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد وہ قیامت تک اللہ کی حرمت
کے ساتھ حرمت والا ہی رہے گا۔ لہٰذا اس کا کانٹا (تک) نہ کاٹا جائے، اس کا شکار نہ
بھگایا جائے، اس میں گری ہوئی چیز کو صرف وہ شخص اٹھائے جو اس کا لوگوں میں اعلان کرے
اور اس کا گھاس بھی نہ کاٹا جائے۔ چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے
رسول! صرف اذخر گھاس کی اجازت دے دیجئے کیونکہ اس سے سنار اور لوہار فائدہ اٹھاتے ہیں
اور مکہ والے اسے اپنے گھروں کی چھتوں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک
ہے، اذخر کو کاٹنے کی اجازت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ
1۔ مکہ مکرمہ میں جنگ وجدال حرام ہے حتی کہ بلا ضرورت
کوئی ہتھیار اٹھانا بھی ممنوع ہے۔
2۔ مکہ مکرمہ میں کسی درخت، پودے اور گھاس کا
کاٹنا بھی حرام ہے۔ ہاں بعض ضروریات کے پیش نظر صرف اذخر گھاس کو کاٹنے کی اجازت ہے۔
3۔ مکہ مکرمہ میں کسی جانور / پرندے کو شکار کرنا
بلکہ اسے ہانکنا بھی حرام ہے۔
4۔ اور مکہ مکرمہ میں گری ہوئی چیز کو اٹھانا
بھی جائز نہیں ہے سوائے اس کے کہ اٹھانے والا اس کا اعلان کرے۔
مدینہ منورہ کی حرمت: رسول
اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کو حرمت والا اور قابل احترام شہر قرار دیا۔ آپ ﷺ کا ارشاد
ہے: بے شک ابراہیم علیہ السلام
نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا اور مکہ والوں کے حق میں دعا کی اور میں مدینہ کو حرمت
والا قرار دیتا ہوں جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا اور
میں نے اہل مدینہ کے ناپ تول کے پیمانوں (صاع اور مد) میں اس برکت سے دوگنا زیادہ برکت
کی دعا کی ہے جس کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کیليے کی تھی۔ اس حدیث سے مدینہ
منورہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔
موبائل فون کا استعمال: مسجد
نبوی میں موبائل کے بےجا استعمال، بے مقصد سیلفیاں لینے یا فضول گوئی میں مگن ہونے
کے بجائے وہاں خود کو ہر دنیاوی تعلق سے علیحدہ کر کے گنبد خضرا کی زیارت، خشوع و خضوع
کے ساتھ عبادت اور ذکرو دعا وغیرہ میں مشغول رہیں کہ پھر نہ جانے یہ سعادتیں میسر ہوں
نہ ہوں۔
صفائی ستھرائی کا خیال: مدینے کی گلیوں میں جہاں کوڑے
دان رکھے ہیں انہیں استعمال کیجئے۔ اس کے علاوہ عام راستوں اور گلیوں میں تھوکنے یا
کچرا وغیرہ پھینکنے سے بچیں کہ ان گلیوں کو ہمارے پیارے آقا ﷺ سے نسبت ہے۔
آوازیں بلند نہ کریں: درودوسلام
بھی اتنی بلند آواز میں پیش نہ کیا جائے، جو روضۂ رسولﷺ کی حاضری کے آداب کے منافی
ہو۔چہ جائیکہ وہاں شوروغل کیا جائے۔بےمقصد آوازیں بلند کی جائیں۔ دیکھنے میں یہ آتا
ہے کہ زائرین میں سے بعض قبر نبوی کے نزدیک آواز بلند کرتے اور احتراماً دیر تک قیام
کرتے ہیں، یہ شریعت کے خلاف ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری امت کو منع کیا ہے کہ
وہ نبی اکرم ﷺکی آواز سے اپنی آواز کو بلند، اونچا نہ کریں یا آپﷺ کو بے ادبی سے
آوازنہ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز
العرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور
زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات
کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبرنہ ہو۔
یاد رکھئے! وہاں قدم قدم پر علمائے کرام کی رہنمائی
کی حاجت ہوتی ہے لہٰذا مفتیان کرام و علمائے اہل سنّت کی صحبت کو لازم رکھیں یا ان
سے رابطے میں رہیں تاکہ مسائل شرعیہ سیکھنے اوروہاں کے ادب و تعظیم کے تقاضے بھی پورے
کرنے میں مدد حاصل ہو فون کے ذریعے بھی مفتیان کرام یا دارالافتا ءاہل سنّت سے ہاتھوں
ہاتھ مسائل پوچھے جا سکتے ہیں۔