حرمین طیبین کے حقوق از بنت طارق محمود،فیضان
ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ تعالیٰ کا مقدس گھر مکہ پاک ہے جس کی بہت زیادہ
تعظیم و توقیر کی جاتی ہے اور ہر شخص پر اس کی تعظیم کرنا اور اسکے حقوق ادا کر نالازم
ہے اور دین اسلام میں ان کے حقوق ادا کرنے کو کہا گیا ہے اور سلام میں ان افعال سے
بچنے کا بھی درس ملتا ہے جس سے حرم مکہ کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور حرم مکہ کے چند
حقوق درج ذیل ہیں:
مکہ مکرمہ نہایت بابرکت اور صاحب عظمت شہر ہے جس میں
ہر دم رحمتوں کی چھما چھم بارشیں برستی لطف و کرم کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا مانگنے
والا کبھی محروم نہیں لوٹتا یہ وہ شہر ہے جس کی قسم کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں یاد
فرمایا: لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا
الْبَلَدِۙ(۲) (پ 30، البلد: 1، 2) ترجمہ: اے
پیارے حبیب! مجھے اس شہر کی قسم! جبکہ تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔اس آیت اور اس کے
بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا: اے پیارے حبیب! مجھے اس شہر مکہ کی قسم! جبکہ تم اس
شہر میں تشریف فرما ہو۔
اس کے علاوہ بھی بہت زیادہ فضائل و کمالات ہیں ان کے
ساتھ ساتھ یہاں پر غافل نہیں ہونا چاہیے۔
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ- (پ17،
الحج:30) ترجمہ کنز الایمان: اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کےلیے
اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالی کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرنے
پر ابھارتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے جنہیں اللہ تعالی نے عزت
و حرمت عطا کی ہے تو یہ تعظیم اس کے لئے بہتر ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں
ثواب عطا فرمائے گا۔ (البحر المحيط، 6/ 339)
(1) حرم مکہ کی حدود اور اس کی تعظیم: مکہ
معظمہ کے ارد گرد کئی کوس تک حرم کا جنگل ہے، ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی ہیں، ان حدوں
کے اندر تر گھاس اکھیڑنا، وہاں کے وحشی جانور کو تکلیف دینا حرام ہے۔ (بہار شریعت،
2/1085)
حرم مکہ میں ہتھیار اٹھانا: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ حلال نہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیار اٹھائے پھرے۔
(مراۃ المناجیح، 4/202)
(3) حرم مکہ کی تعظیم کرنا: نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کے لوگ (تب تک) ہمیشہ بھلائی پر ہوں گے جب تک وہ
مکہ کی تعظیم کا حق ادا کرتے رہیں گے اور جب وہ اس حق کو ضائع کر دیں گے تو ہلاک ہو
جائیں گے۔ (ابن ماجہ، 3/519، حدیث: 3110)
(4) حرم مکہ کی عزت و حرمت کی حفاظت: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ
رَبِّهٖؕ-
(پ17، الحج:30) ترجمہ کنز الایمان: اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس
کےلیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے۔
مکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرنے والے کا انجام:
حضرت
عیاش بن ابو ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری
امت کے لوگ (تب تک) ہمیشہ بھلائی پر ہوں گے جب تک وہ مکہ کی تعظیم کا حق ادا کرتے رہیں
گے اور جب وہ اس حق کو ضائع کر دیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔ (ابن ماجہ، 3/519، حدیث:3110)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ علیہ اس حدیث پاک
کی شرح میں فرماتے ہیں: تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جس بادشاہ نے کعبہ معظمہ یا حرم شریف
کی بے حرمتی کی، ہلاک و بر باد ہو گیا، یزید پلید کے زمانہ میں جب حرم شریف کی بے حرمتی
ہوئی (تو) یزید ہلاک ہوا (اور) اس کی سلطنت ختم ہو گئی۔ (مراۃ المناجیح، 4/242)
عام بول چال میں لوگ مسجد حرام کو حرم شریف کہتے ہیں،
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد حرام شریف حرم محترم ہی میں داخل ہے مگر حرم شریف مکہ
مکرمہ سمیت اس کے ارد گرد میلوں تک پھیلا ہوا ہے اور ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی ہیں۔
(رفیق الحرمین، ص 89)