ہر انسان کی فطرت میں ایک ایسی کشش اور طلب موجود ہے جو اسے روحانی بلندیوں کی طرف لے جاتی ہے، جہاں دلوں کو سکون ملتا ہے اور روح کو غذا فراہم ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ایسے مقامات موجود ہیں جو اپنی تاریخ، تقدس اور عظمت کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اگر کوئی جگہیں واقعی آسمانی برکتوں کا نزول اور امن کا گہوارہ ہیں، تو وہ حرمین شریفین ہیں۔ مکہ مکرمہ، جہاں خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے، اور مدینہ منورہ، جہاں رسول اللہ ﷺ کا روضہ مبارک ہے۔ یہ دونوں شہر پوری انسانیت کے لیے خاص طور پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد اور محبت کا مرکز ہیں۔

یہ مقدس مقامات محض جغرافیائی حدود نہیں، بلکہ وہ زمینیں ہیں جہاں زمین و آسمان کا ربط محسوس ہوتا ہے۔ جہاں قدم رکھتے ہی دل و دماغ میں ایک روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، اور جہاں عبادات کے ذریعے بندہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے۔ حرمین شریفین وہ جگہیں ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بھرپور احساس ہوتا ہے اور جہاں دل گناہوں سے توبہ کرکے پاکیزگی کی طرف مائل ہوتا ہے۔

حرمین شریفین کے حقوق کو قرآن و حدیث کی روشنی میں جاننا اور ان کی عظمت و حرمت کا خیال رکھنا ایک مسلمان کا دینی فرض ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں قرب الٰہی اور حقیقی امن کی طرف لے جاتا ہے۔

حرمت اور تقدس: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو خاص طور پر حرم قرار دیا ہے، یعنی یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں ظلم و زیادتی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ومن دخله كان آمنًا (سورة آل عمران: 97) یعنی جو کوئی اس حرم میں داخل ہو، وہ امن میں ہوگا۔ یہ آیت مکہ مکرمہ کی حرمت اور امن و امان کی ضمانت دیتی ہے، اور مدینہ منورہ بھی اسی تقدیس کا حامل ہے، جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد امت کے لیے روحانی اور اجتماعی مرکز قرار دیا۔

حرمین شریفین میں امن کی حفاظت: حرمین شریفین میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور ان مقدس مقامات کی حرمت کی پاسداری کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-(البقرہ: 125) اور ہم نے اس شہر (مکہ) کو امن کا شہر بنایا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ اور مدینہ کو ہمیشہ امن و سلامتی کا مرکز رہنا چاہیے، اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان مقامات کی حرمت کی پاسداری کرے۔

حرمین شریفین میں فساد یا بے ادبی کا کوئی عمل کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا: وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠(۲۵) (پ 17، الحج: 25) ترجمہ: اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اُسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔ یعنی جو شخص یہاں ظلم یا کسی برے ارادے کے ساتھ کچھ کرنے کا ارادہ بھی کرے، اسے سخت عذاب دیا جائے گا۔

اس آیت میں حرمین شریفین کی حرمت اور اس کے امن کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

حرمین شریفین کی صفائی کا اہتمام رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفائی ایمان کا نصف ہے۔ یہ حدیث ہمیں اس بات کی تلقین کرتی ہے کہ ہم مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان شہروں میں جگہ جگہ کوڑے دان رکھے گئے ہیں تاکہ زائرین وہاں کچرا نہ پھیلائیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ صفائی کا خیال نہیں رکھتے، کوڑے دان کے استعمال سے گریز کرتے ہیں، اور عام راستوں یا گلیوں میں تھوکنے اور کچرا پھینکنے سے نہیں بچتے۔ یہ عمل ان مقدس مقامات کی حرمت کے خلاف ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہی گلیاں ہیں جہاں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے قدم رکھے تھے، اور ان کی نسبت کی وجہ سے ہمیں ہر ممکن طریقے سے ان کا احترام کرنا چاہیے۔

حرمین شریفین آنے والے زائرین اور حجاج کا احترام اور ان کی خدمت کو قرآن و حدیث میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمر ہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں اگر دعا کریں تو انکی دعا قبول فرمائے اور اگر مغفر ت طلب کریں تو اللہ انکی مغفرت فرمائے۔ (ابن ماجہ، 2/410، حدیث: 2892) یہ حدیث اس بات کی غماز ہے کہ جو لوگ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آتے ہیں، وہ اللہ کے خاص مہمان ہوتے ہیں، اور ان کی خدمت میں دلجمعی سے حصہ لینا عظیم نیکی ہے۔

حرمین شریفین میں کی جانے والی عبادات کا مقام عام عبادات سے کہیں بلند ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے گھر میں نماز پڑھے اسے 25 نمازوں کا ثواب، جامع مسجد میں نماز پڑھے اسے 500نمازوں کا ثواب اور جو مسجد اقصی اور میری مسجد(مسجد نبوی) میں نماز پڑھے اسے پچاس ہزار نمازوں کے برابر اور جو مسجد حرام میں پڑھے اسے ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ (ابن ماجہ، 2/176، حدیث: 1413)

اسی طرح مسجد نبوی کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنا ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے، سوائے مسجد الحرام کے۔ یہ فضیلت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان مقامات پر عبادت کرنے کا حق ادا کرنا اور نیک اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا، بندے کے لیے قرب الٰہی کا عظیم ذریعہ ہے۔

کچھ علماء کے مطابق بہت چھوٹے بچوں کو حرمین شریفین میں لانا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ ان کی دیکھ بھال میں والدین خود عبادات سے غافل ہو سکتے ہیں اور بچے شور شرابہ کر کے دیگر عبادت گزاروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ (بخاری، 4/105، حدیث: 6019) اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری موجودگی دوسروں کے لیے باعث زحمت نہ ہو، چاہے وہ ہمارے اعمال سے ہو یا بچوں کے شور شرابے سے۔

آج کل سوشل میڈیا اور موبائل فونز کا زیادہ استعمال حرمین شریفین میں بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ لوگ وہاں جا کر روحانی تجربات کی بجائے سلفیاں بنانے اور موبائل فونز کے استعمال میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں اللہ کی یاد میں محو ہونا چاہیے اور موبائل کے استعمال کو کم سے کم کرنا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بہترین ذکر لا الہ الا اللہ اور بہترین دعا الحمد للہ ہے۔ (ترمذی، 5/248، حدیث: 3394) اس حدیث کی روشنی میں ہمیں حرمین شریفین میں ذکر و دعا میں وقت گزارنا چاہیے اور موبائل کے استعمال سے بچنا چاہیے۔

اللہ پاک ہمیں بار بار حرمین شریفین کی با ادب حاضری نصیب فرمائے اور مقدس مقامات کے آداب و حقوق کو مکمل طور پر بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین