جواب:مُرغی کے پنجے (یعنی ٹانگیں) کھانا جائز ہے۔ میں اِن کو ”غریبوں کے پائے“ کہتا ہوں کیونکہ غریبوں کا اس مہنگائی کے دور میں گائے، بھینس یا بکرے کے پائے کھانا مشکل ہوگیا ہے جبکہ مرغی کے پنجے سستے ہوتے ہیں اور یہ باب المدینہ (کراچی) بلکہ دیگر کئی شہروں میں بکتے بھی ہیں۔ انہیں پھینک دینے کے بجائے ان پر کچھ دیرکے لئے آٹایا نمک لگاکررکھیں اورپھر گرم پانی سے اچھی طرح دھو لیں ۔اب چاہیں تو پورے ہی یاپھردو ٹکڑے کر کے پکا لیں۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

سوال: ڈرائیونگ کرتے وقت بار بار میسج (SMS) آنے سے ذہن میں یہ خیالات آئیں کہ پتا نہیں کس کے میسج آ رہے ہیں؟ نہ جانے ان میں کیا پیغامات ہیں؟ تو ایسی صورت میں دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنا چاہیے یا نہیں ؟ جواب: دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے سے بچنا ہی بہتر ہے اگرچہ بار بار میسج (SMS) آ رہے ہوں کیونکہ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنے میں ایکسیڈنٹ (Accident) ہونے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ آئے دن اس وجہ سے ایکسیڈنٹ ہوتے ہوں گے اور کئی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہوں گی۔ ایسے موقعے پر صبر کرنا چاہئے اور موبائل فون بند (Off) کر کے ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنا قانوناً جرم بھی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والوں نے پکڑ لیا تو پھر آزمائش ہو سکتی ہے۔اسی طرح جب سگنل (Signal) پر گاڑیاں رُکتی ہیں تو اُس وقت بھی موبائل فون استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سگنل کھل گیا تو پیچھے سے آنے والی گاڑی آپ کی گاڑی سے ٹکرا سکتی ہے یا پھر آپ کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائن رُکی رہے گی اور پھر بَدمزگی بھی ہوسکتی ہے لہٰذا دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں! اگر زیادہ ہی ایمرجنسی ہے تو راستے میں کہیں مناسب جگہ پر رُک جائیں، جہاں کوئی قانونی رُکاوٹ بھی نہ ہو اور نہ ہی کوئی دوسرا آپ کی وجہ سے پریشان ہو۔اب موبائل فون دیکھ لیں اور جواب وغیرہ کی ترکیب بنا لیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد