19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

موت کو یاد کرنے کے فوائد

Tue, 7 Jul , 2020
33 days ago

موت ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا انکار کرنے والا کوئی نہیں،اور اس سے راہ فرار اختیار کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں، چاہے وہ پہاڑوں کے سینوں کو چیر کر اس کے اندر مضبوط غار میں پناہ ہی کیوں نہ اختیار کرلے موت آکر ہی رہے گی۔کیونکہ  اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍؕ- ترجمہ : تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں ضرور پکڑ لے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو ۔ (سورة النساء،78\5)

موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ

جان جاکر ہی رہے گی یاد رکھ

موت کو یاد کرنے کے فوائد:

موت کو یاد کرنے میں دل دنیا سے بے زار ہوجاتا ہے،آخرت کی طرف راغب ہو کر گناہوں سے متنفر اور نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتا ہے حدیث پاک میں ہے جوشخص روزانہ20 بار موت کو یاد کرلیا کرے اس کو درجۂ شہادت ملے گا۔(التذکرة للقرطبی،باب ذکر الموت و فضلہ،ص١٢)

بکثرت احادیث و روایات میں موت کو یاد کرنے کے فوائد مروی ہیں،ان میں سے چند یہ ہیں۔

1- اکثروا ذکر ھاذم الذات الموت یعنی لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو(ترمذی،کتاب الزھد،4/138،حدیث 2314)

2- موت کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ یہ گناہوں کو زائل کرتی ہے۔ (ذکر الموت لابن ابی الدنیا، باب ذکر الموت و استعداد لہ،ص81،حدیث148)

حضرت عائشہرضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں : کہ موت کو کثرت سے یاد کرو تمہارا دل نرم ہوجائے گا۔(موسوعة ابن ابی الدنیا،کتاب ذکر الموت،5/432،حدیث 146)

جن لوگوں کا دل دنیا کی طرف راغب ہوتا ہے اسی کو سنوارنے،سجانے میں لگے رہتے ہیں، عموما ً وہ لوگ گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔دنیا سے بے رغبتی کیسے حاصل کی جائے؟ حدیث پاک میں ہے کہ دنیا سے بے رغبتی کا افضل طریقہ"موت کو یاد کرنا" ہے.(فردوس الاخبار،1\208،حدیث 1445)

حضرت حسن بصریعلیہ الرحمة نے فرمایا: جس نے موت کی یاد دل میں بسا لی دنیا کی ساری مصیبتیں اس پر آسان ہوجائیں گی۔(موسوعة ابن ابی الدنیا،باب ذکر الموت و الاستعدادلہ،5/432،حدیث129)

موت کو یاد نہ کرنے کے نقصانات:

جو موت کوبھول بیٹھتا ہے وہ توبہ سے دور،عبادت میں سستی اور قساوت قلبی(دل کی سختی) کا شکار ہوجاتا ہے۔جو موت کو یاد نہیں کرتا وہ قابل تعریف نہیں کہ حدیث پاک میں ہے:

بارگاہ رسالت صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم میں ایک شخص کا ذکر ہوا تو اس کی تعریف کی گئی، آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ "موت کو کیسے یاد کرتا ہے"۔عرض کی گئی:اس سے کبھی موت کا تذکرہ سنا نہیں گیا۔ارشاد فرمایا: پھر وہ ایسا نہیں جیسا کہ تم کہہ رہے ہو۔(،کتاب الزھد،8/129،حدیث 1485)

موت کو یاد کرنے کے طریقے:

موت کی یاد دہانی کے لیے مددگار چیزوں کا ہونا بہت اہم ہے جو ہمیں موت کی یاد دلاتی رہے۔جیسے

١_قبروں کی زیارت کرنا۔حدیث پاک میں ہے کہ قبروں کی زیارت کرو کہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔(مسلم،کتاب الجنائز،حدیث۔956)

٢۔_۔جنازوں میں شرکت کرنا۔

٣۔مردے کو غسل دینا۔وغیرہ

الله تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں موت کو یاد رکھنے کی توفیق عطا فرماے۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں