عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔یہ ایک حساس ترین عقیدہ ہے۔ ختمِ نبوت کا انکار قرآنِ کریم کا انکار ہے۔ختم ِنبوت کا انکار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےاجماع کا انکار ہے۔ ختم ِنبوت کا انکار ساری اُمتِ محمدیہ کے علما،فقہا و اسلاف کے اجماع کا انکار ہے۔ ختمِ نبوت کو نہ ماننا رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک زمانہ سے لے کر آج تک کےہر ہر مسلمان کے عقیدے کو جھوٹا کہنے کے مترادف ہے۔اس عقیدہ ٔختمِ نبوت کو احادیث میں یوں بیان فرمایا گیا ہے:بےشک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔

فرمانِ مصطفے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:اَنَا خَاتَمُ النّبِیینَ وَلَا فَخْرَ میں خاتم النبیین ہوں اور یہ بطورِ فخر نہیں کہتا۔ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ کوئی نبی۔میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری اُمت ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا:میں محمد ہوں، امی نبی ہوں، تین مرتبہ ارشاد فرمایا: اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بنی اسرائیل کا نظامِ حکومت ان کے انبیائے کرام علیہم السلام چلاتے تھے، جب بھی ایک نبی جاتا، تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا تھا اور میرے بعد تم میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک میں اللہ پاک کے حضور لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین(لکھا ہوا) تھا، جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔

نہیں ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی وہ ہیں شاہِ رُسُل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں

لگا کر پُشت پر مہر ِنبوت حق تعالیٰ نے انہیں آخر میں بھیجا، خاتمیت اس کو کہتے ہیں