مسلمانوں
کو نیک بننے اور ظاہر و باطن کو سنوارنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ
محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس
ہفتے عاشقانِ رسول کو 16 صفحات کا رسالہ ”دل بدلنے والی 41 باتیں“پڑھنے/سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یا
ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ”دل بدلنے والی 41 باتیں“ پڑھ یا
سُن لے، اس کا دل نیکیوں سے بھرپور اور گناہوں سے دُور کر کے اس کو ماں باپ اور
خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بےحساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
کسی کا دل خوش نہیں کرسکتے تو کسی کا دل نہ
دکھاؤ، مولانا الیاس عطار قادری
دعوتِ اسلامی کےزیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں 3 اکتوبر 2026ء بمطابق 21 ربیع الآخر 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی
مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے عاشقانِ رسول نے کثیر تعداد
میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت
کی۔
مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک
سے ہوا جس کے بعد مدحِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں نعتِ شریف کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ مدنی مذاکرے کے
دوران مختلف سوال و جواب ہوئے جس میں شرکا
نے روزمرہ کے شرعی مسائل، اخلاقیات اور تنظیمی امو ر سے متعلق سوالات پیش کیے۔
اس موقع پر شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے عاشقانِ رسول کے سوالات کے جامع اور حکمت
بھرے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا
تھا:کسی کا بھلانہ ہوسکے تو بُراکرنے کی کوشش نہ کرو دُنیاکمزورہے لیکن دنیا بنانے
والا کمزورنہیں ؟
جواب: یہ نیکی کی دعوت
اوربُرائی سےبچانے والی پوسٹ ہے یعنی کسی کو نفع نہیں دے سکتے تو نقصان بھی نہ پہنچاؤ،کسی کا دل خوش نہیں کرسکتے تو کسی
کا دل نہ دکھاؤ،کسی سے بُرائی نہیں
کرنی چاہئے ،دوسروں کواپنے شرسےبچاناجہنم سے بچنے اورجنت میں لےجانے والاکام ہے،اسے
صدقہ بھی کہاگیا ہے ۔بندہ کمزورہے مگراللہ پاک تمام مخلوق سے بڑھ کر طاقتورہے۔
سوال: حقوق العبادکا معاملہ کیساہے ؟
جواب:حقوق العبادیعنی
لوگوں کے حقوق کا معاملہ بہت سخت ہے ۔
سوال:استادصاحبان
طلبہ(Students) کی کس طرح حوصلہ
افزائی کریں ؟
جواب:محتاط الفاظ میں حوصلہ افز ائی کریں ،جھوٹ نہیں ہوناچاہئے ۔
سوال:لوگ طرح طرح کےسوالات کرتے ہیں،اس بارے میں آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:اس طرح کے سوالات
نہیں کرنے چاہئیں جس سے سامنے والاجھوٹ میں پڑجائے ،بہتریہ
ہے کہ ایسے سوالات ہی نہ کئے جائیں ۔
سوال: دعوتِ اسلامی کے
دِینی ماحول سے منسلک ہونے کا کیافائدہ ہوتاہے؟
جواب:دعوتِ اسلامی میں
آجائیں ،دِینی کام کریں ،پانچوں نمازوں کے عادی ہوجائیں گے ،سُنّتوں پر عمل کرنے کا جذبہ ملے گا، دِین کے بنیادی علم سے
آگاہی ہوگی ۔قرآنِ کریم پڑھنا نہیں آتاہوگا تو درست قرآن پڑھناآجائے
گا ۔
سوال: بہت بڑے محدث جن
کےالقابات خاتم المُحَققین، محقق الاطلاق ہیں، جن کا آج (21ربیع الآخر) یومِ عرس ہے اور امیراہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے ان کے لیے ایصالِ
ثواب بھی کیا ،ان کا نام کیا ہے ؟
جواب:شیخ عبدالحق محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
سوال:امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے تقویٰ کا کیا
عالَم تھا ؟
جواب: آپ نے تقویٰ (خوفِ خدا) کی وجہ سے جُھوٹی
قسم تو دُورکی بات کبھی سچی قسم بھی نہیں کھائی۔
سوال:حافظے کی کمزوری
کی وجوہات کیا ہیں ؟
جواب:گناہ کرنے ،کھٹی چیزیں کھانے ،بدنگاہی کرنے ،عصرکے بعد سونے
وغیرہ سے حافظہ کمزورہوتاہے ،مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”حافظہ
کیسے مضبوط ہو؟“کا مطالعہ کریں ۔
سوال: سبق یادہونے کے
لیے کیا کرنا چاہئے ؟
جواب:سبق باربارپڑھنےاورپھر اس کا تکرارکرنے سے وہ یاد ہو جاتاہے
۔
سوال:مقدس چیزوں کا ادب کیسے کریں ؟
جواب: اللہ کرے ہم باادب
ہوجائیں ،جتنا ہوسکے مقدس چیزوں کا ادب کریں ،بیت اللہ
شریف کی طرف پاؤں نہ کریں، قرآن پاک
کو پیٹھ نہ ہو۔جب پڑھنے بیٹھیں یاسبق یاد کرنے لگیں تو کعبہ شریف کی طرف منہ کرلیں
۔جہاں ہوسکےجب بیٹھیں تو کعبہ شریف کی طرف
منہ کرلیں ،یہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی
سنت بھی ہے ۔
سوال: اس ہفتے کے رسالے ’’پیدل چلنے کے فوائد‘‘پڑھنے والے کو امیراہل
سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیادعادی ؟
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 26 ستمبر 2026ء (بمطابق
14 ربیع الآخر 1448ھ) کو ہفتہ وار
مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے عاشقانِ
رسول کی ایک کثیر تعداد براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شریک ہوئی۔
مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا
گیا جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم میں عقیدت و احترام
کے ساتھ نعت شریف پیش کی گئی۔ مذاکرے کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں مختلف دینی، فکری، اخلاقی اور
تنظیمی مسائل پر گفتگو کی گئی۔
شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے شرکا کی
جانب سے کیے گئے سوالات کے انتہائی فہم و فراست، علم و حکمت اور شرعی دلائل کے
ساتھ جوابات ارشاد فرمائے ۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: کیا خواب کی تعبیر بتانا بھی کوئی فن ہے ؟
جواب: جی ہاں! اور یہ فن سیکھنے سے آتا ہے ،ہر”مدنی“
(دعوتِ اسلامی کے
جامعۃ المدینہ سے درسِ نظامی کرنے والوں کو مدنی کہا جاتاہے) بھی اسے نہیں
جانتا۔ تعبیر وہ بتائے جو عالم ہو، قرآن و
حدیث پر اس کی نظر ہو، چلتے پھرتے کسی سے پوچھا بھی نہ جائے۔مَیں نے یہ فن نہیں
سیکھا ،اس لیے میں خواب کی تعبیر نہیں بتاتا۔
سوال:ا یک پوسٹ میں لکھا تھا:”اچھے لوگوں کی سنگت میں رہا کرو کیونکہ سُنار(یعنی سونے Gold
کا کام کرنے والے) کا
کچرا بھی بادام سے مہنگا ہوتا ہے“۔
جواب: اچھی مثال دی ہے ۔سُنار کے کچرے
میں سونے(Gold) کے ذرات ہوتے ہیں ،اس لیے وہ بادام سے مہنگا ہوتا ہے ۔حدیث پاک میں اچھی
صحبت کی مثال عطر والے کی دی ہے کہ عطر والے کے پاس جاؤ گے تو وہ یا
تو تمہیں عطر دے گا یا اس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی۔اچھے
بندے کی صحبت بہت بڑی نعمت ہے ۔حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحْمَۃ یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، رقم10750، ج7 /335) امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ نیک بندے کے ذکر سے رحمت اُترتی
ہے تو اس نیک بندے پر کتنی رحمت اُترتی ہو گی اور جو اس کی صحبت میں رہے گا اس پر
کتنی رحمت اُترے گی ۔صحبت اچھی ہونی چاہئے ،صحبتِ صالح تُرا صالح کُنَدْ یعنی
نیکوں کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی ،صحبت ِطالح تُرا طالع کُنَدْ یعنی بُرے کی صحبت
تجھے بُرا بنا دے گی ۔
سوال: کس کی صحبت
اختیار کی جائے، کیا اس کا کوئی معیار (Standard) بھی ہے ؟
جواب: اس دور میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا معیار بنا لیں ،ان کا ذکر سُن کر جس کا چہرہ کِھل اُٹھے اس کی صحبت اختیار کرو اور جس کا
چہرہ مُرجھا جائے اس سے دُور بھاگو۔
سوال: غربت سے نجات کا
روحانی علاج کیا ہے ؟
غُربت سے نجات کا روحانی علاج
يَا مَلِكُ 90 بار روزانہ جو پڑھ لیا کرے وہ اِنْ شَاءَ اللہِ الکریم غُربت و تنگدستی
سے نجات پائے۔
یقیناً اللہ
پاک چاہے تو ہی فائدہ ہو۔
مشورہ کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔
تاکید نمازوں کی پابندی کیجئے اور لوگوں کی ناحق دل آزاری
سے بچئے۔
فائدے کی بات روزانہ صبح صدقہ نکال دیجئے چاہے ایک روپیہ ہی ہو۔
سوال: لوگوں میں محبت
و خیر خواہی کم اور حسد و دشمنی زیادہ کیوں نظر آتی ہے ،دل کو صاف اور خوف والی
زندگی کے لیے کیا کرنا چاہئے ؟
جواب: علمِ دین کی کمی اور اچھی صحبت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں
محبت و خیر خواہی کم اور حسد و دشمنی زیادہ ہے ۔علمِ دین حاصل نہ کرنے کی وجہ سے غیبت اور چغلی کے بارے میں معلومات نہیں ۔جھوٹ اتنا بولا جا رہا
ہے کہ سمجھ نہیں پڑتی ہے کہ یہ جھوٹ ہے یا نہیں ۔علمِ دین اور اچھی صحبت ہو گی تو
نیکی اور گنا ہ کی پہچا ن ہو گی، گناہوں میں کمی آئے گی اور خوفِ خدا پیدا ہو گا۔
اس کے لیے دینی کتابیں پڑھیں۔سوشل میڈیا پر اُلٹے سیدھے کلپ دیکھنا گویا کیچڑ میں
لَوٹ پَوٹ ہونا ہے ۔پھر کہنا کہ کپڑے کیوں صاف نہیں رہتے ۔کپڑے صاف رکھنا چاہتے
ہیں تو کیچڑ سے جان چھڑانا ہو گی۔گھر میں
درس دیں ، صرف مدنی چینل دیکھیں۔
سوال: جس کو ہر ایک
پر تنقید کرنے کی عادت ہو تو اس کی اصلاح
کیسے ہو؟
جواب: اسے قفلِ مدینہ لگانا (یعنی اپنی زبان کی حفاظت کرتے ہوئے حتی الامکان فضول
گفتگو سے بچنا) چاہئے اور حُسنِ
ظن کے جام پینا(یعنی کسی کے بارے میں ہمیشہ اچھا
سوچنا،اچھا خیال رکھنا) سیکھنا چاہئے ،حدیثِ پاک ہے کہ اچھا خیال اور گمان کسی کے لیے قائم کرنا
اچھی عبادت سے ہے ۔وہ شخص یہ عبادت اپنا لے ۔ہر ایک کو اپنے سے بہتر سمجھے ،بڑی
عمر والا ہے تو اسے بہتر سمجھے کہ اسے عبادت کا زیادہ موقع ملا ہے ،چھوٹا ہے تواسے
بہتر سمجھے کہ اس کے گناہ مجھ سے کم ہوں
گے۔ سنجیدگی سے حُسنِ ظن(یعنی ہمیشہ اچھا
گُمان رکھنے ) کی عادت بنائیں
گے توتنقید کی عادت بدل جائے گی ۔کوشش
کریں گے تو کامیابی ہو گی ۔ تنقید کرنے والے کی مثال مکھی کی طرح ہے جو پورے درست
بدن کو چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے ۔
سوال: علمِ دین حاصل
کرنا کتنا اہم ہے ؟
جواب:علمِ دین حاصل کرنا ،علمِ دین کی باتیں سننا عبادت ہے ۔یہ
ذکرو اذکار سے بڑی عبادت ہے۔اس سے ہماری دِینی معلومات ،اپنی اصلاح ،ایمان کی
حفاظت کی صورتیں بنتی ہیں ،نفل روزے رکھنے
سے علمِ دین حاصل کرنے میں رکاوٹ ہو تو نفل روزے نہ رکھے جائیں ۔نوافل کی مصروفیت
اچھی چیز ہے مگر علمِ دین حاصل کرنے کی مصروفیت اس سے افضل ہے ۔دینی کتاب پڑھ کر بھی علمِ دین حاصل ہوتا ہے ۔نیکی کی دعوت پر مشتمل دعوتِ اسلامی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے جاری ہونے والے مختلف کلپس سننے سے بھی علمِ دین حاصل ہو گا۔
سوال: دُرودِ پاک کس نیت سے پڑھنا چاہئے کہ ثواب زیادہ ملے ؟
جواب: سرکار صلی
اللہ علیہ و الہ وسلم کی تعظیم کی نیت سے دُرود شریف پڑھیں ۔حقیقت میں یہ
دعا ہے اور سب سے افضل دعا ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر دُرود پڑھنا،نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا اُمّت پر حق ہے ۔
سوال: مسکین کو اپنے
ہاتھ سے صدقہ دینے کا کیا فائدہ ہے؟
جواب: مسکین کو اپنے ہاتھ سے صدقہ دینا بُری موت سے بچاتا ہے ،اس لیے اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ خیرات کرنی چاہئے ۔
سوال: صَحَاحِ سِتَّہ سے کیا مراد ہے ؟
جواب: صَحَاحِ سِتَّہ حدیث پاک
کی 6 مشہور کتابوں کو کہتے ہیں (بخاری، مسلم
،ترمذی ، ابنِ ماجہ ،ابو داؤد اور نِسائی) ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” گیارہویں
شریف کی برکتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی
؟
جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”گیارہویں شریف کی برکتیں“پڑھ یا سُن لے ،اُسے ہر ماہ گیارہویں شریف
منانے کی سعادت عنایت فرما ، اس کو قیامت میں غوث پاک کے غلاموں میں اُٹھا اور ماں
باپ سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
19 ستمبر 2026ء بمطابق 07 ربیع الآخر 1448ھ
کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے عاشقانِ رسول کی ایک بڑی
تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور
بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم میں نعت شریف پیش کر کے کیا گیا جس کے بعد سوال و جواب کا
سلسلہ شروع ہوا نیز شرکا نے مختلف دینی، شرعی اور تنظیمی موضوعات پر سوالات پیش کیے۔
مدنی مذاکرے کے دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ
رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد
فرمائے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے شرکا کی دینی، اخلاقی
اور تنظیمی تربیت کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے بھی نوازا۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: حضور غوث ِاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بہت زیادہ اللہ پاک کا ذِکر کرنے
والے،راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والے اور اچھی صفات اور عادات والے تھے ،ہم ان صفات و عادات کو کیسے اپنا سکتے ہیں ؟
جواب: دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیں گے، مکتبۃ
المدینہ سے نیک اعمال کا رسالہ لے کراس کے مطابق زندگی گزاریں گے، روزانہ
اپنے اعمال کا جائزہ لے کر اپنے ہاں کے نیک اعمال ذمہ دار کو ہر مہینے کی پہلی
تاریخ کو نیک اعمال کا رسالہ جمع کرواتے رہیں گے تو اچھی اچھی عادات اور نیکیوں کا
جذبہ اپنے اندر پائیں گے ۔ ان شاء اللہ
الکریم
سوال: فیضان آن لائن
اکیڈمی میں بذریعہ انٹرنیٹ پڑھنے والے اپنے استاد (Teacher) سے دُور ہوتے
ہیں، وہ اپنے استاد کا ادب کس طرح کر سکتے ہیں؟
جواب: اُستادصاحب جو اچھی اچھی باتیں بتائیں ،ان پر عمل
کریں،اُن کی غیر موجودگی میں بھی مذاق نہ اُڑائیں اور نہ ہی کسی طرح کی بے ادبی کریں ۔کسی سے استادصاحب کی بُرائی نہ کریں ، اگر استاد صاحب
کی کوئی بات پسند نہ آئے تو کسی سے بھی اس
کا تذکرہ نہ کریں،بہت ساری باتیں وقت کے ساتھ سمجھ میں آتی ہیں ، ادب کے ساتھ استاد کے سامنے صرف ہاتھ
باندھنا ہی ادب نہیں اور بھی صورتیں
ہیں،جتنا ادب کریں گے اُتنا زیادہ فائدہ ہو گیا ۔با ادب بانصیب ۔
سوال: دعوتِ اسلامی
کا معنی ٰ کیا ہے ؟
جواب: دعوت معنی
بُلانا ،دعوتِ اسلامی کا
معنی ہے اسلام کی طرف بُلانا،اسلام کے اصولوں کی طرف، عبادات اور اسلامی آداب کی طرف بلانا، دعوت دینا سب اس
میں شامل ہے ۔ عملی طور پر دعوتِ اسلامی کے معنی سمجھ آ بھی رہے ہیں ،ہزاروں غیر
مسلم دعوتِ اسلامی کی برکت سے مسلمان ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے نمازی، نمازی بن گئے ہیں ،بے شمار بھٹکے ہوئے راہِ راست پر
آگئے ہیں،گناہوں سے توبہ کرکےنیکیوں کے راستے پرچل پڑے ہیں ۔یوں دعوتِ اسلامی اِسْمِ بَامُسَمٰی ہے(یعنی جیسااس دِینی تنظیم کا نام ہے،دعوتِ اسلامی والے اِسی طرح دینی کام کر بھی رہے
ہیں) مدنی چینل پر بھی اورآپ کے اپنے علاقوں میں
بھی نظر آ جاتا ہو گا کہ ماشاءاللہ الکریم
دعوتِ اسلامی والے اسلام پر عمل کر رہے
ہوتے ہیں ۔
سوال: خوداعتمادی(Self-confidence) اور تکبر کے درمیان
کیافرق ہے؟ تربیت کے دوران بچوں کو تکبر سے بچاتے ہوئے خود اعتمادی اپنانا کیسے سکھایا جائے؟
جواب: خود
اعتمادی (Self-confidence) کا مطلب یہ
ہے کہ اپنے آپ پر اتنا اعتماد ہونا کہ مَیں یہ کام کر سکتا ہوں،جوکر نے والا کام ہو وہ کر سکتا ہو تو ڈرے نہیں ۔یہ سمجھنا کہ مَیں یہ کام کر ہی نہیں سکتا،
والدین یا دیگر لوگوں کا کہنا کہ تم یہ کام کر ہی نہیں سکتے، بعض استاد بھی نادانی
میں کہتے ہوں گے جس سے بچہ احساس ِکمتری(Inferiority Complex) کا شکار ہو جاتا ہو گا
کہ مَیں تو نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک کے بھروسے پر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کی
جائے، جو کرنے والے کام ہیں ،جو وہ کر سکتا ہے ،اس سے پیچھے نہ ہٹے اور بھر پور
کوشش کرے اور بھرو سہ اللہ پاک پر اور اس کی مدد پر رکھے ۔تکبر تو باطنی امراض میں
سے ایک خطرناک مرض ہے اور عام ہے۔ تکبر کا معنیٰ ہے
کسی کو اپنے آپ سے گھٹیا(کمتر)سمجھنا۔خود اعتمادی اور تکبر دونوں الگ چیزیں ہیں ۔
سوال:ختمِ قادریہ شریف
مختلف کتابوں میں الگ الگ انداز سے لکھا ہو تا ہے، اس میں ہمیں کیسے معلوم ہو کہ کون
سا درست ہے ؟
جواب: ان میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو تو سبھی درست ہیں ۔یہ
بزرگوں سے چلا آ رہا ہے ۔کسی مُستند عالم
کی کتاب میں لکھا ہو تو اس پر عمل کریں ۔مکتبۃ المدینہ کی کتاب مدنی
پنج سورہ میں بھی ختمِ
قادریہ لکھا ہوا ہے۔اس کی کئی برکتیں ہیں ۔اچھے عقیدے اور اللہ پاک کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے اس کو پڑھنے سے بندے کے کام
بن جاتے ہیں ۔
سوال: UK میں 3دن
کا اجتماع ہو رہا ہے ،شرکائے اجتماع کو کچھ مدنی پھول عطا فرما دیں ؟
جواب: ہرحال میں نماز کی پابندی کریں ،نمازوں میں بہت سُستی پائی
جاتی ہے ۔ نماز نہیں آتی تو سیکھنی ہے ،اَب تو بہت آسانیاں ہو گئی ہیں ۔آن لائن
سیکھ سکتے ہیں ۔قرآن پاک بھی سیکھنا بہت ضروری ہے
،دنیا کی کئی ڈِگریاں تو حاصل کر لی جائیں مگر قرآن ِپاک دیکھ کر بھی نہ پڑھنا آئے
تو یہ بدنصیبی ہے ۔اللہ پاک نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔دولت اور
ڈِگریاں جمع کرنا منع نہیں ہے مگر جو بھی کر نا ہے جائز و حلال طریقے سے اور
اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے تحت کرنا ہے ۔ ہم اللہ پاک کی نافرمانی کے لیے دنیا میں نہیں آئے ۔جو اللہ پاک کی نافرمانی کر رہے ہیں ،ربّ کی ناراضی کی صورت میں ان کا انجام اچھا نہیں ہے
۔جتنا ہمارے اختیار میں ہے، نیکیاں کرنی ہیں گناہوں سے تو بچنا ہی بچنا ہے ،اگر
کوئی گناہ کر رہا ہے تو فوراً اس سے توبہ کرنی اور مکمل چھوڑنا ہے۔ یہ نہیں کہ
گناہ آہستہ آہستہ چھوڑوں گا ۔نیکیاں کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے تو ہم اچھے
مسلمان رہیں گے ۔اللہ کریم کے اولیائے
کرام مثلاً حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد آج کل ہم منا رہے ہیں ،یہ کہیں کے بادشاہ نہیں تھے مگر ہمارے دل کے
بادشاہ ہیں ،آج بھی ان کی عقیدت ہمارے دل میں ہے، مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ
انہوں نے اللہ پاک کی فرمانبرداری کی تو آج بھی ہم ان کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔اپنے
اخلاق کو بھی اچھا کرنا ہے ۔اجتماع کے بعد قافلوں میں بھی سفر کریں ،3 دن کے قافلے
میں تو سفر ضرور کریں ۔
سوال: موت کو کس طرح
یاد کیا جائے ؟
جواب: مثال کے طور پر
ایک ماہی گیر(یعنی مچھلیاں
پکڑنے والے/Fisherman)نے رسی کے ساتھ
ایک کانٹا دریا میں ڈالا تو اسے ایک مچھلی نے نگل لیا ،ماہی گیر جس وقت چاہے اسے
دریا سے نکال لے گا۔ اسی طرح ہم میں سے ہر ایک نے موت
کا کانٹا نگل لیا ہے ۔یہ رسی کسی
اور کے ہاتھ میں ہے، جس دن وہ رسی کھینچے گا ،ہم دھڑام سے گِریں گے اور قبر میں جا
پڑیں گے ۔اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ،ہمیں ہر وہ کام کرنے کی توفیق عطا
فرمائے جو اللہ کریم کو راضی کرنے والا ہو۔
سوال: اِس ہفتے
کارِسالہ ”بے
ادبی کی سزا
‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی
؟
پیدل
چلنا ایک سادہ اور انتہائی مفید جسمانی ورزش ہے جو دل کو صحت مند رکھتی اور بلڈ پریشر
کو متوازن بناتی ہے۔ روزانہ باقاعدگی سے پیدل چلنے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے اور
جوڑوں و پٹھوں کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذہن کو تروتازہ کر کے تناؤ اور ذہنی دباؤ کو
کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
عاشقان
رسول کو پیدل چلنے فوائد سے آغاز کرنے کے لئے شیخ طریقت امیرِ اہلِ سنت بانیِ دعوتِ اسلامی
حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت
برکاتہم العالیہ
نے اس ہفتے 28 صفحات کا رسالہ ”پیدل چلنے کے فوائد“
پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا
ہے۔
دعائے
عطار
یا
اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”پیدل چلنے کے فوائد“پڑھ یا
سن لے اُس کو عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت سے صحت اچھی رکھنے والے کاموں کی
توفیق دے اور ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
گیارہویں
شریف مسلمانوں، بالخصوص سلسلہ قادریہ کے پیروکاروں کے ہاں ایک نہایت محترم اور
مبارک دن مانا جاتا ہے۔ یہ دن امام الاولیاء غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
رحمۃ
اللہ علیہ سے
منسوب ہے، جس میں ذکر و اذکار، ایصالِ ثواب اور محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
عاشقان
رسول گیارہویں شریف کی برکتوں سے مستفیض کرنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم
کرنے کے لئے شیخ طریقت امیرِ اہلِ سنت بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت
برکاتہم العالیہ
نے اس ہفتے 28 صفحات کا رسالہ ”گیارہویں شریف کی برکتیں“
پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا
ہے۔
یا
اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”گیارہویں شریف کی برکتیں“ پڑھ
یا سن لے اُسے ہر ماہ گیارہویں شریف منانےکی سعادت عنایت فرما ، اس کو قیامت میں
غوث پاک کے غلاموں میں اٹھا اورماں باپ سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب
فرما۔
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
عاشقانِ رسول کی عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ
اسلامی“ کے زیرِ اہتمام 12 ستمبر
2026ء بمطابق 30 ربیع الأول 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کی نشست کا انعقاد کیا
گیا۔
تفصیلات کے مطابق بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں اس مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیاجس میں
عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کو مدنی چینل کے پلیٹ فارم سے عالمگیر سطح پر بھی براہِ راست (Live) نشر کیا گیا جس
کے ذریعے دنیا بھر سے لاکھوں عاشقانِ رسول ان لمحاتِ تربیت سے مستفید ہوئے۔
علمِ دین سے بھرپوراس مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ
کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ والہ سلم سے ہوا جس کے بعد امیرِ
اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی مدنی مذاکرے میں تشریف آوری ہوئی۔
مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی امیرِ
اہلِ سنّت دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی طرف سے ہونے والے سوالات کے
تفصیلی جوابات عنایت فرمائے۔ آپ نے اپنے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین و ناظرین کی
دینی، اخلاقی اور تنظیمی بنیادوں پر جامع تربیت فرمائی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ :’’كبهى
مشكل ميں كسى بُزدل سے مشورہ مت لينا كيونكہ وه تمہارى بچى ہوئى ہمت كو بهى ختم كر دے گا‘‘اس
بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: باہر وہی آتا ہے جو اندر ہوتا ہے ،جو پہلے ہی ڈرا ہوا
ہو گا، وہ ہمت بڑھانے والی بات نہیں کرے گا۔مشورہ اُس سے لیا جائے جو ہمت بڑھانے والا ہو ۔وہ اس چیز کا مشورہ دے گا کہ ہمت میں رہنا ہے اور جو
مشکل ہے اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔مشورہ اچھا دینا چاہئے اور ہمت بڑھانی چاہئے کہ رکھ مولیٰ تے آس(یعنی بندہ اللہ پاک
پر بھروسہ کرے،اُس کی رحمت پر اُمید رکھے)۔
سوال:
اگر کسی کی طرف سے دل آزاری کرنے پر دل
میں گھٹن ہوتی ہو تو کیا کریں ؟
جواب: بعضوں کی یہ
کیفیت ہوتی ہے کہ جب کوئی دل آزاری کر دے
تو جب تک کسی کے سامنے اپنی بھڑاس نکال نہ دیں،اِنہیں سکون نہیں آتا، ایسوں کو صبر کرنا چاہئے کہ اگر کسی کو بتائیں گے اور یہ بتانا شرعی طور پر درست نہ
ہوا تو اس شخص کی بُرائی اور غیبت میں مبتلا ہوں گے جبکہ اس نے دل آزاری تنہائی میں کی ہو۔ انبیائے کرام علیہم السلام پر
لوگوں نے ظلم و ستم کیے ،مگر اُنہوں نے صبر کیا ،گِلہ شکوہ ان کے ہاں نہیں تھا، اسی
طرح کی مثال کربلا
والوں کی ہے،اِنہیں کیا کیا نہیں کہا گیا
مگر انہوں نے صبر کیا ،یہ استقامت کا پہاڑ تھے۔
سوال:خَاتَمَ النَّبِیّٖنْ کا مکمل مفہوم اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی تفصیلی تشریح
ارشاد فرما دیں۔
جواب: خَاتَمَ
النَّبِیّٖنْ کا معنیٰ ہے نبیوں میں سب
سے آخری نبی۔انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام
تو بہت سے تشریف لائے مگر سب سے آخر میں ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے۔ اب ان کے بعد کوئی نیا نبی
نہیں آئے گا ،حدیث پاک ہے کہ لَانَبِیَّ بَعْدِی یعنی میرے
بعد کوئی نبی نہیں ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب تشریف
لائیں گے مگر وہ نئے نبی نہیں ،مزید وہ انجیلِ مقدس کی تعلیم نہیں دیں گے
بلکہ قرآنِ کریم کی تعلیم دیں گے ۔مکتبۃ
المدینہ کا رسالہ’’ سب سے آخری نبی صلی
اللہ
علیہ والہ وسلم ‘‘ پڑھیں
،اس سے درس بھی دیں ،گھر والوں کو بھی مکمل پڑھ کر سنائیں ۔
سوال: عقیدہ کیا
ہوتا ہے؟
جواب:
عقیدہ بیج کی طرح ہے اور عمل اس کی شاخیں
اور پتیاں ہیں ۔اللہ و رسول کوماننا عقیدہ ہے،تمام
ضروریاتِ دِین عقیدہ ہیں ۔ عقیدہ اُن دِینی اُمور کا نام ہے جن پر دل بغیر
کسی شک وشبہ کے پختہ ہو جائے۔ ( حدیقہ ندیہ، 1/ 96)
سوال: اِیثار سے کیا مراد ہے ؟
جواب: کسی کو کسی چیز کی خود ضرورت ہے مگر اپنے نفس پر دُوسرے کو ترجیح
دے یعنی وہ خود اِستعمال نہ کرے بلکہ
دُوسرے کودیدے تو یہ اِیثار ہے ،صحابۂ
کرام اور بزرگانِ دِین بہت ایثار کرتے تھے ۔ غزوۂ یرموک کے موقع پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے زخمی چچازاد بھائی
کے لیے پانی لے کر پہنچے۔ چچازاد بھائی نے خود پانی پینے کے بجائے قریبی زخمی
صحابی حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کو
پانی دینے کا اشارہ کیا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی دوسرے زخمی کی طرف پانی بھیج دیا، مگر وہ شہید
ہو چکے تھے۔ جب واپس حضرت ہشام رضی اللہ
عنہ
کے پاس آئے تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے اور آخر میں اپنے چچازاد بھائی کے پاس پہنچے
تو وہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ اس واقعے سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایثار، ہمدردی اور دُوسروں
کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کی عظیم مثال نظر آتی ہے۔
سوال: کیا آپ جہلم شہر میں بھی تشریف لے گئے ہیں ؟
جواب: میں جہلم(پنجاب،پاکستان) میں دو تین مرتبہ حاضر ہوا ہوں اور مسجد میں بیان کئے ہیں ۔
سوال: صدیقِ اکبر کا کیا معنی ہے اور یہ کس کا لقب ہے ؟
جواب: صدیق کا معنی سچا، اکبر
کا معنی بہت بڑا۔ مسلمانوں کے
پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ
بہت سچ بولتے تھے ،یہ آپ کا لقب ہے۔
سوال: رشتے میں رکاوٹ ہو تو کیاپڑھیں ؟
جواب: رشتے کی رُکاوٹ ہو توجہاں رشتہ کرنا ہو وہاں جاتے ہوئےیَاعَزِیْزُ 40 مرتبہ پڑھ لیجئے۔ان شاءاللہ الکریم کامیابی ملے گی۔لڑکی کو دیکھنے آرہے ہوں اُس
وقت لڑکی یہی عمل کرے۔
مشورہ:
کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔
مُدّت:
ایک بار میں کام نہ بنے تو ضرورت کے مطابق ہر بار کرتے رہئے۔
لازمی:
نماز کی پابندی اور بندوں کی حق تلفی سے پرہیز۔
(انٹرویو دینے جائیں،
گھر دکان وغیرہ کا سودا کرنے جائیں، قرض کی وصولی، الغرض جس کام کیلئے جائیں یہ
عمل مفید ہے)
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھ یا سُن لے ،اُس کو کم بولنے
اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت اس کی
بے حساب بخشش فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
5 ستمبر 2026ء بمطابق 23 ربیع الأول 1448ھ کو
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز
بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہوا جس میں کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں
مقیم اور موجود شرکاکے علاوہ مدنی چینل کے ذریعے اس مدنی مذاکرے کو دنیا بھر میں
براہِ راست (Live)نشر بھی کیا گیا۔
تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد
مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال
محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت
برکاتہم العالیہ کی آمد ہوئی۔
تعلیم و تربیت کی اس نشست کے دوران امیرِ اہل ِسنّت
دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف
سوالات کے جوابات دیے۔ اس موقع پر آپ نے شرکا کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی اعتبار
سے تربیت فرماتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے نوازا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال: وعدہ خلافی سے کیا مرا دہے ؟
جواب: وعدہ کرتے
ہوئے یہ ذہن ہونا کہ میں نے پورا نہیں
کرنا یہ
وعدہ خلافی ہے۔یہ گناہ ہے ،وہ کام کر بھی لیا تو وعدہ خلافی سے توبہ کرنا ضروری ہے
۔3 فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم: (1)جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ پاک اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس
کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ نفل۔ (بخاری، 2/370، حدیث: 3179)غیر مسلم کو
بھی وعدہ خلافی اور دھوکا دینے کی اجازت
نہیں ۔(2) منافق
کی 3 نشانیاں ہیں:
جب بات کرے جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے خلاف کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خلاف
کرے۔ (بخاری،
1/24، حدیث: 33)(3)
جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر
سکے، وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر گناہ نہیں۔ (ابو داؤد، 4/388، حدیث: 4995)
سوال: اگرکوئی
جنگل وغیرہ میں اکیلا ہواورنماز سے پہلے اذان دے تو کیا اس کی بھی
کوئی فضیلت ہے؟
جواب: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ربّ اُس بکری چرانے
والے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی اونچی چوٹی میں ہو، نماز کی اذانیں دے اور نماز
پڑھے ۔اللہ پاک فرماتا ہے :میرے اس بندے
کو دیکھو ،اذان دیتا ہے نماز قائم کرتا ہے
مجھ سے ڈرتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔(سنن ابو داؤد، حدیث :667)
سوال: امیر اہل سنت(مولانا الیاس
قادِری دامت برکاتہم العالیہ) نے کون سے
عالمِ دِین کا ذکرِ خیر فرمایا؟
جواب: پیر طریقت حضرت مولانا
عبدالرشید رضوی سمندری والے رحمۃ اللہ علیہ بہت باعمل عالمِ دین تھے۔حضور محدثِ اعظم پاکستان
علامہ سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد و خلیفہ تھے۔ ہمیشہ سرپر عمامہ
شریف باندھا کرتے تھے ۔آج وفات کے بعد بھی میں اِن کا ذکرِ خیر کر رہا ہوں ۔
ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے
سوال: کیا
غزوہ ٔاُحد میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دانت مبارک شہید ہوا تھا ؟
جواب: پورا دانت
مبارک شہید نہیں ہوا تھا ،دانت
مبارک کا کچھ حصہ یا کوئی کونہ متاثر ہوا
تھا ۔
سوال: صحابی اور تابعی کی تعریف کیا ہے ؟
جواب: جنہوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کی ایمان کی
حالت میں زیارت کی ایمان پر خاتمہ ہوااُنہیں صحابی کہتے ہیں اورجس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی کی زیارت کی اور ایمان پر خاتمہ ہوا،اُنہیں تابعی کہتے ہیں۔
سوال: حضرت اویس
قرنی کون تھے ؟
جواب: حضرت خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ
علیہ تابعی بلکہ
خیُر التابعین(تابعین میں بہترین) ہیں ۔ان کا دانت مبارک توڑنے کا واقعہ صحیح سند کے
ساتھ ثابت نہیں ،من گھڑت اوران کی طرف
غلط منسوب ہے ۔یہ بات کہ کیلا ان کے لیے جنت سے آیا تھا یہ بھی غلط
ہے ۔
سوال:
ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ”
الفاظ استعمال کرتے وقت ایسے ہی احتیاط کریں جیسے مچھلی کھاتے وقت کانٹوں سے کرتے
ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے کہ کانٹے تو صرف جسم کو تکلیف دیتے ہیں لیکن الفاظ دِلوں کو چِیر
دیتے ہیں“۔
جواب: اچھی مثال دی ہے ،الفاظ دِلوں کوچِیر دیتے ہیں، چھید
دیتے یعنی دِل میں سوراخ کر دیتے ہیں ۔تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر زبان کا
زخم نہیں بھرتا، اس لیے اپنے الفاظ کا بہت خیال
رکھنا ہوتا ہے ،ایک ہی بات کے لیے دو الفاظ ہوتے ہیں ،وہ الفاظ بولے جائیں جو
سامنے والے کو خوش کر دیں ۔ضرور آئیے گا ،ضرور آنا، دونوں میں پہلے والے الفاظ
بہتر ہیں ۔
سوال: کیا مچھلی(Fish)
کھانی چاہئے ؟
جواب:جی ہاں!یہ اللہ پاک کی نعمت ہے۔جنّتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کا کنارا ہو گا، مچھلی کا سر (Head)بھی کھانا چاہئے، اس کے کھانےسے دِماغ تیز ہوتاہے۔
بنگلہ دیش اور کیرالہ(ہند) کے لوگ مچھلی کا سر کھاتے ہیں ،یہ
دنیا بھرمیں ہوتے ہیں اور بہت ہوشیار(ذہین) ہوتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”
علم و عمل کی باتیں (قسط :3) “ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”علم و عمل کی
باتیں (قسط :3) ‘‘پڑھ یا سُن لے اُس کو علمِ دین و نیک اعمال سے مالا
مال کر دے۔ اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب
فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میرپورخاص میں 23 ستمبر کو ”اجتماعِ غوثیہ“ کا
انعقاد، خلیفۂ امیرِ اہلسنت کا خصوصی بیان ہوگا
عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی نے سندھ
کے شہر میرپورخاص کے عاشقانِ رسول کے لیے عظیم الشان ”اجتماعِ غوثیہ“ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔انشاء اللہ الکریم یہ
عظیم الشان اجتماع 23 ستمبر 2026ء بروز بدھ مہاجر کالونی گراؤنڈ میرپورخاص میں منعقد ہوگا۔
پروگرام کے شیڈول کے مطابق اجتماع کا باقاعدہ
آغاز رات 9:30 بجے تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے ہوگا جس کے بعد رات تقریباً 11:00 بجے خلیفۂ امیرِ
اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی کا خصوصی بیان ہوگا۔
ادب
انسان کی عظمت کا باعث ہے جبکہ بے ادبی محرومی اور نقصان کا سبب بنتی ہے۔ عاشقانِ
رسول کی ذہن سازی کرنے اور انہیں بے ادبی سے بچانے کے لیے امیرِ اہلِ سنت بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نے
اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”بے ادبی کی سزا“ پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے
اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ”بے ادبی کی سزا“ پڑھ یا سُن لے اُس کو اور اس کی آنے والی نسلوں
کو اولیائے کرام کی بےادبی اور بےادبوں کے
شَر سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بےحسا ب بخش دے۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
کم
بولنے اور خاموشی اختیار کرنے کی عادت انسان کی شخصیت، عقل اور سماجی زندگی کے لیے
انتہائی فائدے مند ہے۔ کم بولنے والے
انسان کا وقار اور رعب قائم رہتا ہے۔ ایسا شخص جب بھی بولتا ہے، لوگ اس کی بات کو
سنجیدگی اور توجہ سے سنتے ہیں۔ زیادہ بولنے سے انسان اکثر غیبت، جھوٹ، لاحاصل بحث
اور دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ کم بولنے سے زبان کی ان تمام آفات سے
حفاظت رہتی ہے۔ فضول گفتگو انسان کی ذہنی اور جسمانی توانائی ضائع کرتی ہے۔ کم بول
کر انسان اپنے وقت اور طاقت کو مثبت اور مفید کاموں میں لگا سکتا ہے۔ خاموشی انسان
کو اندرونی سکون فراہم کرتی ہے اور اسے سوچنے، غور و فکر کرنے اور فیصلہ سازی میں
حکمت پیدا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
کم
بولنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار
قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ
رسول کو اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”کم بولنے کے فائدے“
پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یااللہ
پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ” کم بولنے کے فائدے “پڑھ
یا سن لے اُس کو کم بولنے اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دےاور ماں باپ اور
خاندان سمیت اس کی بے حساب بخشش فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
عاشقانِ رسول کے علم میں اضافہ کرنے اور انہیں دینی
معلومات سے آراستہ کرنے کے لیے ہر ہفتے بانیِ
دعوتِ اسلامی، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری
رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ عاشقانِ رسول کو ایک رسالہ پڑھنے / سننے کی
ترغیب دلاتے ہیں۔
اس ہفتے
3 ستمبر 2026ء کو امیرِ اہلِ سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے 16
صفحات پر مشتمل رسالہ ”علم و عمل کی باتیں (قسط 3)“پڑھنے / سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یارب
کریم!جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ”علم و عمل کی باتیں (قسط 3)“پڑھ
یا سُن لے اُس کو علمِ دین و نیک اعمال سے مالا مال کردے۔اُس کو ماں باپ اور خاندان
سمیت جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
Dawateislami