حضرت علامہ سید انعام الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی اور حضرت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی کے ابو جان، استاد العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ ابوالخیر پیر سید حسین الدین شاہ صاحب سلطانپوری کاظمی قادری ضیائی رحمۃ اللہ علیہ 23 صفر المظفر 1448ھ بمطابق 07 اگست 2026ء کو تقریباً 92 سال کی عمر میں راولپنڈی میں قضائے الٰہی سے وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن

وفات کی خبر ملنے پر امیرِ اہلِ سنت نے اپنے خصوصی آڈیوپیغام کے ذریعے مرحوم کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیے دعا کرتے ہوئے لواحقین کو صبر و ہمت کی تلقین کی ہے۔

دعوتِ اسلامی کا وفد جن میں چیئرمین کنزالمدارس بورڈ و رکن شوریٰ مولانا حاجی جنید عطاری مدنی، استاذ العلماء مفتی گُل رضا عطاری مدنی اورسید لطیف ناظم عطاری سمیت ذمہ داران دعوت اسلامی شامل تھے۔ امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کاآڈیو پیغام لے کرسلطان پور پہنچے۔ سلطان پور پہنچ کر مرحوم کے صاحبزادگان حضرت علامہ سید انعام الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی اور حضرت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کرتے ہوئے امیراہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا آڈیوپیغام سنایا۔پیغام سن کر صاحبزادگان نے امیرِ اہلسنت کا شکریہ ادا کیا اور آپ کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی مزید ترقی و صحت والی طویل زندگی کی دعائیں کیں۔ بعد ازاں دعوت اسلامی کے وفد نے حضرت علامہ ابوالخیر پیر سید حسین الدین شاہ کاظمی قادری ضیائی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پرحاضری دی جہاں فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔

امیر اہلسنت کاپیغام:

امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مکتبۃ المدینہ کی کتاب 'اللہ والوں کی باتیں' جلد پانچ، صفحہ 471 سے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان نقل کرتے ہوئے فرمایا : ”جب تک دنیا میں کسی کی عمر کا ایک لمحہ باقی ہے وہ مکمل نہ ہو جائے، جہاں قدم لگنا لکھا ہے وہ لگ نہ جائے، رزق کا ذرہ برابر دانہ جب تک پورا نہ مل جائے اور جہاں موت آنی ہے جب تک وہاں پہنچ نہ جائے، اس وقت تک کسی کو موت نہیں آ سکتی“

امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا لواحقین سے تعزیت:

محمد الیاس عطار قادری رضوی عفی عنہ کی جانب سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے یہ افسوس ناک خبر ملی کہ حضرت علامہ سید انعام الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی اور حضرت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی کے ابو جان، استاد العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ ابوخیر پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کاظمی قادری ضیائی رحمۃ اللہ علیہ صفر شریف کی 23 تاریخ 1448 ہجری مطابق 7 اگست 2026 کو تقریباً 92 سال کی عمر میں راولپنڈی میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن

میں تمام سوگواروں سے تعزیت کرتا ہوں اور صبر و استقامت سے کام لینے کی تلقین کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت آپ حضور کے تمام مریدین و متوسلین، اہل خاندان، تلامذہ، آپ حضور کے ادارے کے مدرسین اور معلمین، سبھی کو صبر جمیل عطا فرمائے اور دونوں جہانوں کی بھلائیوں سے مالا مال کرے۔ حضور کے ادارے کے لگائے ہوئے باغ کو اللہ پاک ہرا بھرا اور لہلہاتا، مدینے کے پھولوں کے صدقے سدابہار رکھے۔

دعا و ایصالِ ثواب:

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین

یا رب المصطفیٰ جل جلالہ و صلی اللہ علیہ والہ وسلم! مرحوم کی بے حساب مغفرت فرما، ان کی قبر نور علی نور ہو اور نورِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ان کی قبر تا حشر جگمگاتی رہے۔ یا رب العزت! ان کی قبر باغِ جنت بن جائے۔ یا ربِ جلیل! تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل اور صبرِ جمیل پر اجرِ جزیل مرحمت فرما۔ یا ذوالجلال والاکرام

اے عظمت و عزت والے! میرے پاس جو کچھ ٹوٹے پھوٹے اعمال ہیں، اپنے کرم کے شایانِ شان ان پر اجر عطا فرما۔ یہ سارا اجر و ثواب جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عنایت فرما، بوسیلہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ سارا ثواب مرحوم سمیت ساری امت کو عنایت فرما۔

اللہم اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم


دینِ اسلام کی پرامن تعلیمات عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی اصلاح کے لئے کوشاں عالمی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام تربیتی سلسلوں کا تسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 08اگست  2026ء (25 صفر المظفر 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کا محور شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی بابرکت موجودگی تھی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ تقریب کا بنیادی حصہ سوال و جواب کا وہ سیشن تھا جس میں امیرِ اہلِ سنت نے شرکائےمحفل اور آن لائن موصول ہونے والے مختلف دینی، شرعی اور معاشرتی سوالات کے انتہائی جامع، حکمت بھرے اور دل کو چھو لینے والے جوابات ارشاد فرمائے۔ گفتگو کے دوران اصلاحِ معاشرہ، والدین کے حقوق اور دینی تحریک کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے قیمتی مدنی پھول نچھاور کئے گئے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: اعلیٰ حضر ت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کا با جماعت نماز پڑھنے کا جذبہ کیسا تھا ؟

جواب:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تمام نمازیں با جماعت پڑھتے تھے ۔ آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کا آپریشن ہوا تو احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) آپ کی خواہش کے مطابق ایک ماہ تک آپ کو کُرسی(Chair) پر مسجد لے جاتے رہے یہاں تک آپ چلنے کے قابل ہو گئے۔

سوال: حدائقِ بخشش کا معنی کیا ہے؟ اور یہ کن کی لکھی ہوئی ہے؟

جواب: حدائق،حدیقہ کی جمع ہے یعنی بخشش کے باغات،حدائقِ بخشش اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ علیہ کے کلاموں کا مجموعہ ہے ۔نعت پڑھنا بخشش کا ذریعہ ہے،جس میں عشق کا ذوق نہ ہو تو وہ حدائقِ بخشش پڑھتا رہے ،اشعار یاد کرتا رہے تو عشق کا ذوق حاصل ہو جائے گا۔

سوال: علمائے کرام کے احترام کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں؟

جواب: جو عاشقِ رسول یعنی علمائے اہلِ سنت ہیں،ان کا احترام سب پر لازم ہے ۔ ان کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولی جائے ۔زبان کٹ جائے مگر کسی عالمِ دِین کے خلاف زبان نہ کھُلے ،اگر کوئی عالمِ دِین باعمل نہ ہو تب بھی عوام کو ان پر زبان کھولنے کی اجازت نہیں کہ وہ علمِ دِین کی وجہ سے عوام سے افضل ہیں ۔ ان کےسِینے میں علمِ دِین کا نور ہے ۔ عالمِ دِین حافظِ قرآن سے افضل ہے۔

سوال: اعلیٰ حضرت اپنے احباب کے لیے کس طرح دعا کیا کرتے تھے؟

جواب: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک فہرست(List) تھی جس میں آپ کے احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) کے نام درج تھے، آپ ان کا نام لے کر دعا کیا کرتے تھے ۔

سوال: نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا ولادت کا دن کس طرح مناتے تھے؟

جواب: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیر(Monday)کو روزہ رکھتے تھے ،اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا۔(صحیح مسلم، 2/819، حدیث نمبر 1162)

سوال: بچوں کی بر تھ ڈے(Birthday) انگریزی تاریخ کے اعتبار سے منائی جائے یا ہجری سن کے اعتبار سے ؟

جواب: ہجری(اسلامی)سن کے اعتبار سے منایا کریں ،یوں بچوں کو اسلامی تاریخ کا فیضان بھی حاصل گا ۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: اعلیٰ حضرت کی وفات کس وقت ہوئی اور اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے25صفرشریف1340ھ کو ہند (India) کے وقت کے مطابق دو بج کر اڑتیس منٹ 02:38pm پر وصال فرمایا ،پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر آٹھ منٹ(02:08pm) تھے ،دیگر ممالک میں اسی اعتبار سے فرق ہے۔ تمام عاشقانِ رسول کی مساجد میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت بیان کریں ،02:08pm پر فاتحہ خوانی کریں۔یہ محبت کی بات ہے کوئی فرض یا واجب نہیں، اسلامی بہنیں گھروں میں بھی فاتحہ خوانی کر لیں ۔فاتحہ کے ساتھ نیازبھی کر لیں۔

سوال: جشن ِولادت اور عُرس منانے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب: جشنِ ولادت منانے، درست انداز سے عُرس و فاتحہ خوانی کرنے کے کئی فوائد ہیں ،یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک ذریعہ ہے ۔

سوال: امتحان میں پاس ہونے کا کوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب: صرف تین دن مسلسل کسی بھی ایک نماز کے بعد ”یَا حَسِیْبُ“111(اوّل آخر11 بار دُرود شریف)پڑھ کر امتحان میں اچھے رزلٹ کے لئے دُعا کیجئے، ان شاء اللہ الکریم کامیابی ملے گی۔

سوال: کیا مسلمان کو تکلیف پہنچے تو اُسے اجر ملتا ہے ؟

جواب: حدیث پاک ہے کہ مسلمان کو کوئی تکلیف ،فکر، بیماری ملال (رنج و غم )اذیت اور کوئی غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ کانٹا جو اُسے چُبھے مگر اللہ کریم ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(بخاری شریف ،حدیث نمبر 5642 )علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی انسان کا دنیا میں مصیبت اور آفتوں میں مبتلا ہونا اس بات کی علامت (نشانی )ہے کہ اللہ پاک اس سے بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے،اسی لیے اسے گناہوں کی سزادُنیا میں ہی کسی مصیبت وغیرہ کے ذریعے دے دی اور اسے آخرت پر مؤخر نہ کیا۔ (فیض القدير ،5/626)

سوال: صفر کا مطلب کیا ہے؟ اس کو صفر کیوں کہتے ہیں ؟

جواب: صفر کا معنی ٰ خالی ہونا ہے ۔جن دنوں مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے ان دنوں میں گھر کھانے پینے کی چیزوں سے خالی ہو جاتے تھے اور کمانے کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا ،اس لیے اس مہینے کا نام صفر پڑا۔

سوال: دانت مضبوط رکھنے کا کوئی وظیفہ بتا دیں ؟

جواب:ایک بزرگ جن کی عمر سوسال کے قریب تھی جبکہ دانت صحیح سلامت تھے۔ جب ان سے دانتوں کی محفوظی اور مضبوطی کے بارے میں پوچھا گیاتو فرمایا:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے مجھے بچپن میں یہ عمل بتایا تھاکہ ”عشاء کے وتر جب پڑھے جائیں تو پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اِذَا جَاءَ (یعنی نصر)، دوسری میں تَبِّت یَدَا (یعنی سورہ لہب) اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنے سے دانت عمر بھر ہر تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں“ جب سے میں اسے پڑھتا ہوں اور اسی کی یہ برکت ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل دنیا کی محبت اور گناہوں کی نحوسَت سے پاک کر دے اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے ایک خصوصی ”مدنی مذاکرے“ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ روحانی و علمی نشست 13 اگست (جمعرات) کو ہفتہ وار اجتماع کے بعد رات تقریباً 10:15 بجے شروع ہوگی۔ اس خصوصی مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی شرکت فرمائیں گے۔

یہ پروگرام مدنی چینل پر لائیو نشر کیا جائے گا۔YouTube،Facebookاور امیرِ اہلسنت کے آفیشل Pagesکے ذریعے دنیا بھر میں براہِ راست دیکھا جا سکے گا۔

اس خصوصی نشست میں یومِ آزادی کی اہمیت، ملکی سلامتی و بقا اور دینی و اخلاقی موضوعات پر امیرِ اہلسنت کے بصیرت افروز بیانات اور عوام کے سوالات کے جوابات شامل ہوں گے۔


حجۃ الاسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ الرحمہ کی مبارک تعلیمات اور نصائح حکمت دانائی کا ایسا بہتا سمندر ہیں جو انسان کو دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلا کر آخرت کی فکر اور تزکیۂ نفس کی راہ دکھاتی ہیں۔

اسی سلسلے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط 02) “ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں “ پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل دنیا کی محبت اور گناہوں کی نحوسَت سے پاک کر دے اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

یہ رسالہ آڈیو (Audio) میں سننے، پڑھنے اور اردو سمیت مختلف زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:


اللہ پاک کے محبوب بندوں میں دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے، زیادہ سے زیادہ علمِ دین حاصل کرنے اور لوگوں کی تربیت و رہنمائی کرنے کا بےحد جذبہ ہوا کرتا تھا۔

اسی سلسلے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےاس ہفتے 20 صفحات کا رسالہ اللہ والوں کے 12 واقعات (قسط: 1) پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا اللہ پاک! جو کوئی20صفحات کا رسالہ اللہ والوں کے 12 واقعات (قسط: 1) پڑھ یا سُن لے اُسے اپنے نیک بندوں کا خاص فیضان عطا فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیهِ واٰلہٖ وسلّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


خلیفۂ اعلیٰ حضرت مفتی شاہ ابوالبرکات سید احمد قادری رضوی رحمۃُ اللہِ علیہ کے پوتے اور شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی رحمۃُ اللہِ علیہ کے بیٹے صاحبزادہ سید مختار اشرف رضوی صاحب کی اہلیہ کا قضائے الہی سے انتقال ہوگیا۔ مرحومہ، جو سید علی مجتبیٰ رضوی اور سید حمزہ مختار رضوی کی والدہ تھیں، 02 صفر المظفر 1448ھ (بمطابق 17 جولائی 2026ء) کو لاہور میں تقریباً 60 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئیں۔

امیرِ اہلِ سنت نے اپنے خصوصی آڈیوپیغام میں مرحومہ کی مغفرت اور بلندیِ درجات کے لیے دعا کرتے ہوئے لواحقین کو صبر و ہمت کی تلقین کی ہے۔

دعوتِ اسلامی کے مبلغین محمد ارشد عطاری اور محمد عالم عطاری امیرِ اہلسنت کا خصوصی آڈیو پیغام لے کر صاحبزادہ سید مختار اشرف رضوی صاحب کی رہائش گاہ پہنچے۔ مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے صاحبزادہ صاحب کو امیرِ اہلسنت کا آڈیو پیغام سنایا جسے سن کر انہوں نے امیرِ اہلسنت کا شکریہ ادا کیا اور آپ کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی مزید ترقی و صحت والی طویل زندگی کی دعائیں کیں۔

امیرِ اہلِ سنت کا پیغام بصیرت:

اپنے پیغام کے آغاز میں امیرِ اہلِ سنت نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان نقل کیا کہ: ”جو موت کو پیشِ نظر رکھتا ہے وہ نیک کاموں میں جلدی کرتا ہے“ ۔ (شعب الایمان، ج07، ص371، ح10623)

انہوں نے سوگواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوسروں کی موت سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ایک دن ان فوت ہونے والوں کی لسٹ میں ہمارا نام بھی آنے والا ہے۔ انہوں نے فکرِ آخرت دلاتے ہوئے فرمایا: ”آج لوگ ہمیں ’جناب‘یا ’محترمہ‘کہتے ہیں، کل ہمیں ’مرحوم‘یا ’مرحومہ‘ پکاریں گے“۔

صبر کی اہمیت اور نوحہ کی ممانعت:

امیرِ اہلِ سنت نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ”بے صبری ہرگز نہ کی جائے، کیونکہ بے صبری سے جانے والا پلٹ کر نہیں آتا بلکہ ہاتھ آنے والا جنت کا خزانہ (صبر کا اجر) ضائع ہو جاتا ہے“۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ میت پر نوحہ کرنا (آواز نکال کر بین کرنا) سخت حرام ہے۔

انہوں نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر نوحہ کرنے والی نے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اسے ڈامر (جلدی آگ پکڑنے والے لباس) اور خارش کا کرتا پہنایا جائے گا، کیونکہ اس نے اپنے نوحے سے لوگوں کے دلوں کو زخمی کیا تھا۔ (مسلم شریف، ص465، ح934)

ایصالِ ثواب کی ترغیب :

مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے امیرِ اہلِ سنت نے مشورہ دیا کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال سے مسجد بنائی جائے یا مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا جائے، کیونکہ فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق جو اللہ کے لیے مسجد بناتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔ امیراہلسنت نے لواحقین اور مریدین کو دعوتِ اسلامی کے رسالے ”زبان کی حفاظت کی اہمیت“ کے مطالعہ کی بھی ہدایت کی۔

دعائیہ کلمات:

امیرِ اہلِ سنت نے دعا فرمائی کہ: "یا رب المصطفیٰ! مرحومہ کی بے حساب مغفرت فرما، ان کی قبر کا اندھیرا دور فرما اور اسے نورِ حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے تا حشر جگمگاتا رکھ۔ الٰہی! ان کی قبر کو باغِ جنت بنا دے اور تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل پر اجرِ جزیل عطا فرما“۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتمِ النّبیِّین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :انسان اُس وقت تک قیامت کے روز قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک کہ اِن پانچ سُوالات کے جوابات نہ دے لے:(1)تم نے زندگی کیسے بَسَر کی؟(2)جوانی کیسے گزاری؟(3)مال کہاں سے کمایا؟ اور (4)کہاں کہاں خَرچ کیا؟ (5)اپنے عِلم کے مطابِق کہاں تک عمل کیا؟( ترمذی،4/188،حدیث:2424) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔

شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ اللہ کا خوف پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا ربِّ کریم !جو کوئی 16 صفحات کا رسالہاللہ کا خوف پڑھ یا سُن لے اُسے اپنا حقیقی خوف دے کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنّتُ الفردوس میں بے حساب داخِلہ نصیب فرما ۔ اٰمین بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیهِ واٰلہٖ وسلّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


لوگوں کی اصلاح کرنے اور انہیں دینِ اسلام کی  باتیں بتانے کے لیے عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے 18 جولائی 2026ء بمطابق 4 صفر المظفر 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کی خاص بات یہ رہی کہ عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے دوران ہونے والے بعض سوال و جواب

سوال: اللہ پاک جگہ سے پاک ہے ،یہ بتائیں کہ مسجد کو اللہ کا گھرکیوں کہتے ہیں ؟

جواب: مسجد میں اللہ پاک کے کام یعنی عبادت ہوتی ہے ،اس لیے مسجد کو اللہ کا گھر کہتے ہیں ۔

سوال: کیا دل(Heart) بدلتا رہتا ہے ؟

جواب: جی ہاں ! دل اُلٹ پَلٹ ہوتا رہتا ہے ،اسی لیے عربی میں اسے قلب کہتے ہیں ،دل کی کیفیت بدلتی رہتی ہے ،اس لیے نیکی کا جیسے ہی خیال آئے توفوراً کر لینی چاہئے۔

حضرت امام باقر رحمۃ اللہ علیہ واش روم میں گئے تو فوراً باہر آ گئے اور اپنا کوٹ اُتار کر خادم کو دیا کہ اسے خیرات کر دو۔ عرض کیا کہ حضور فراغت کے بعد خیرات کر دیتے فوراً باہرآ نے کی وجہ کیا ہے؟فرمایا :میں نے سوچا کہ خیرات کا خیال بدل نہ جائے ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نیکی میں جلدی کرنی چاہئے ۔

سوال: کیا دل بھی سخت اور نرم ہوجاتا ہے ؟

جواب: جی ہاں!دل سخت اور نرم ہوتا ہے۔ نرم دل میں خشیت یعنی خوفِ خدا ہونا ،اللہ پاک کی فرمانبرداری ہوتی ہے ،دل سخت ہونے کے بھی کئی اسباب ہیں مثلاً خوفِ خدا کی کمی ، فضول باتیں کرنا، گناہ کرنا وغیرہ ۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ باتوں کی مٹھاس اندر کا بھید نہیں کھولتی، مور کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سانپ کھاتا ہو گا، آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: بعض اوقات بظاہر بہت خوش اَخلاقی کا بر تاؤ کیا جا رہا ہوتا ہے مگر اس میں اپنا کوئی دُنیاوی مقصد ہوتا ہے مثلاً دوکاندار گاہک کو مال تھمانے کے لیے خوب خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر تا ہے ۔بعض لوگ کسی کے آنے پر کہتے ہیں کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مگر دل میں یہ ہوتاہے کہ یہ کہاں سے آگیا ؟۔بہر حال ملاقات تو خوش اخلاقی سے کرنی چاہئے مگر جو دل میں نہ ہو وہ الفاظ نہ بولے جائیں مثلاً دل میں خوشی نہیں تو یہ نہ کہے کہ مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی وغیرہ۔

سوال:تصوف کی معلومات کے لیے کون سی کتابیں پڑھیں،اسلامی بہنیں تصوف کی راہ پر چلنے کے لیے کیا کریں ؟

جواب:امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب منہاج العابدین،احیاءُ العلوم وغیرہ کا مطالعہ کریں(یہ کتابیں دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے فری ڈاؤن لوڈ اورمکتبۃ المدینہ سے قیمتاً حاصل کی جاسکتی ہیں)۔اسلامی بہنیں بھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ رہیں ،اسلامی بہنوں کے ساتھ دِینی کاموں میں مصروف رہیں ۔

سوال: صالحین کی پہچان فی زمانہ کیسے ہو؟

جواب: اس دور میں صالحین(نیک بندوں) کی پہچان کا معیار اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،جواِن سے محبت کریں اور ان کی رہنمائی کے مطابق دِین پر عمل کریں تو اُسی کی صحبت اختیار کریں ۔

سوال: انسان نما بھیڑیا کون ہوتا ہے ؟

جواب: جو لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ انسان نما بھیڑیے ہیں، ان سے بچنا چاہئے، ان کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے، بعض تو ایمان ضائع کرنے والے ہوتے ہیں گویا انسان کا لباس پہنے بھیڑے ہوتے ہیں، ان سے بچنے کے لیے ان کی کوئی بات نہ سنیں اور دعوتِ اسلامی کے دِینی ماحول سے وابستہ رہیں ۔

سوال: عشقِ مجازی ہو جائے تو اس کا علاج کیا ہے؟

جواب: عشقِ مجازی ( کسی انسان کا کسی دوسرے انسان کی خوبصورتی،اَخلاق یا شخصیت کی محبت میں گرفتار ہوجانا عشقِ مجازی کہلاتا ہے) بڑا مُوذی اور خطر ناک مرض ہے، بندہ صبر کرے ،بغیر اجازتِ شرعی آپس میں نہ ملے ،خط و خطابت،(واٹس ایپ،موبائل میسج) اور تحفہ تحائف لینا دینا نہ کرے ۔مکتبہ المدینہ کی کتاب ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ صفحہ 148 تا181 کا مطالعہ کریں۔

سُوال: عشق بازی سے پیچھا چُھڑانے کے لیے کوئی وظیفہ بھی بتا دیں۔

جواب: عشق بازی سے پیچھا چُھڑانے کے لیے قرآنی آیات پر مشتمل یہ عمل کریں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،لَآاِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ،اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌبا وضو 3، 3 بارپڑھ کر(اوّل و آخر ایک بار دُرُود شریف )پانی پر دم کر کے پی لیں یہ عمل 40 دن تک کریں۔

سوال: عشق ِمجازی سے بچنے بچانے کے لیے کیا کریں ؟

جواب: بچوں اور بچیوں کو ایک ساتھ کھیلنے نہ دیں۔گھر میں شرعی پردہ نافذ کریں۔بچیوں کو پردے اور حیا والا لباس پہنائیں۔نگاہوں کی حفاظت کریں،سوشل میڈیا کا دُرست اِستعمال کریں،فلموں ڈراموں اور گناہوں بھرے چینل نہ دیکھیں، رومانی ناول اور مضامین نہ پڑھیں۔

سوال:حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں ؟

جواب:حضرت سیدجلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ حسینی سیّد ہیں،ان کی پیدائش 595ھ کو بخارا میں ہوئی، وہیں حفظ ِقرآن کیا ، یہ مادر زاد(پیدائشی) ولی تھے، آپ عالمِ دین تھے ۔ایک غیر مسلم بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈال دیا مگر آگ نے آپ پر اثر نہ کیا، آپ کے کپڑے سرخ(Red) ہو گئے ،اس وجہ سے سرخ پوش کہلاتے ہیں ۔آپ کا وصال 19جمادی الاولیٰ 690ھ اُچ شریف ،ضلع بہاولپور پنجاب پاکستان میں ہوا اور یہیں آپ کا مزارمبارک ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ زبان کی حفاظت کی اہمیت پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ زبان کی حفاظت کی اہمیت پڑھ یا سُن لے، اُسے زبان سے ہونے والے اور دیگر تمام گناہوں سے بچا، اپنا پسندیدہ بندہ بنا اور اُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم

نبیِ کریم رؤوف الرحیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:” جسم میں کوئی ایسا عُضو نہیں کہ اللہ پاک سے زبان کی تیزی کی شکایت نہ کرتا ہو“۔(احیاء العلوم،3/135) بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین کا بھی یہی معمول رہا ہے کہ وہ اپنی زبان کی بہت زیادہ حفاظت کرتے اور زبان کی آفتوں سے ڈرتے تھے۔

عاشقانِ رسول کو زبان کی آفتوں سے بچانے اور انہیں اپنی زبان پر قابو پانے کی ترغیب دلاتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ زبان کی حفاظت کی اہمیتپڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہزبان کی حفاظت کی اہمیتپڑھ یا سن لے اُسے زبان سے ہونے والے اور دیگرتمام گناہوں سے بچا، اپنا پسندیدہ بندہ بنا اور اُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔ آمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


کراچی (خصوصی رپورٹ):

دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 05 جولائی 2026ء کو چھوٹے بچوں اور بچیوں کے درمیان عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور محبتِ اہلِ بیت کو عام کرنے کے لیے ایک پُروقار اور ایمان افروزپروگرام ”محفل علی اصغر رحمۃُ اللہِ علیہ کا آغاز روایتی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ قرآنِ پاک کی خوبصورت تلاوت سے ہوا جس کے بعد ننھے ثناء خوانوں نے بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور حضور غوثِ اعظم رحمۃُ اللہِ علیہکی شان میں انتہائی خوبصورت اور جذباتی انداز میں نعتیں اور منقبتیں پیش کیں۔ اس کے بعد ایک مدنی منی نے سیرت حضرت سیدناعلی اصغر رحمۃُ اللہِ علیہ ایک رسالے سے پڑھ کر سنائی۔

امیرِ اہل سنّت کی خصوصی شرکت اور بچوں سے پیار:

اس بابرکت محفل کی خاص بات امیرِ اہل سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ اور نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے محفل میں موجود ننھے بچوں اور بچیوں سے انتہائی شفقت اور پیار کا اظہار کیا۔ امیرِ اہل سنّت نے باری باری تمام بچوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھا اور ان کے روشن مستقبل اور ایمان پر استقامت کے لئے خصوصی دعائیں فرمائیں۔

اس روح پرور محفل کا مقصد بچوں کو بچپن ہی سے دینِ اسلام، اہلِ بیتِ اطہار اور بزرگانِ دین کی محبت کے سانچے میں ڈھالنا ہے تاکہ وہ آگے چل کر معاشرے کے بہترین اور باکردار مسلمان بن سکیں۔


11 جولائی 2026ء  بمطابق 26 محرم الحرام 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے مختلف علاقوں سے عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز رات تقریباً 09:45 بجے تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین اور ناظرین کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔

اس موقع پر عاشقانِ رسول کی جانب سے سوالات بھی کیے گئے اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اُن کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

بعض سوال و جواب

سوال: بچوں میں بزرگوں کی محبت کیسے پیدا کریں ؟

جواب: گھرکا ماحول اچھا ہو،گھر میں بزرگانِ دِین کی باتیں سناتے رہیں، گیارہویں شریف کا اہتمام ہو، سال میں کم ازکم ایک مرتبہ نعت خوانی ہو تو بچوں کے دلوں میں ساداتِ کرام اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اللہ والوں کی محبت ا ورادب پیدا ہوگا۔ان شاء اللہ الکریم

اللہ پاک کے آخری نبی،حضور مکی مدنی صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے اِرْشاد فرمایا:اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ یعنی اپنے بچوں  کو 3 چیزیں سکھاؤ۔(1)حُبِّ نَبِیِّکُمْ اپنے نبی کی مَحَبَّت(2)وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖاَہلِ بیت کی مَحَبَّت(3)وَ قِرَاءَۃِ الْقُرْاٰنِ اور قرآنِ پاک کی تلاوت۔ (کنزالعمال، 16/ 189، رقم: 45409) گھر میں مدنی چینل چلتا رہے گا تو اس سے بھی ان پاکیزہ ہستیوں کی محبت حاصل ہوگی ۔

سوال: بچوں کے اِغواہونے کی خبریں سُنی جا رہی ہیں،اس سےحفاظت کے لیے کیا اقدامات کریں ؟

جواب: بچوں کی حفاظت کرتے ہوئےان کا خاص خیال رکھیں، کہتے ہیں کہ بکرا سنبھالنا آسان ہے بچے کو سنبھالنا مشکل ہے۔ بکرا کتنا بھی شرارتی ہو، اس کے گلے میں رسی ڈال کر کونے میں باندھا جا سکتاہے مگر بچے کو گھر میں روکنا مشکل ہے، دروازہ بند کیا جائے تو وہ کسی طرح بھی کھول کر باہر نکل جاتا ہے۔ آزمائش توہے بہر حال بچے کو بڑوں سے دوستی نہ کرنے دیں، اگرچہ وہ بڑا کتنا ہی اچھا اور نیک نمازی کیوں نہ ہو۔ بُری خواہش(شہوت پرستی)بادشاہوں کو غلام بنا دیتی ہے ۔بِلا ضرورت بچوں کو گھر سے باہر نہ جانے دیں ۔گھرکی چار دیواری میں ان کی حفاظت کریں ۔میری والدہ نے بچپن میں مجھے سکھایاتھاکہ کوئی سونے کا ڈھیر بھی دے تو اُس سے لینا نہیں ،بچوں کو کسی سے کوئی چیز نہ لینے کا عادی بنائیں ۔سگا بھائی یا والد خود مدرسہ یا اسکول چھوڑنے لینے جائیں، چچا زاد بھائی کے سپرد بھی یہ کام نہ کریں ۔اللہ پاک کی راہ میں صدقہ و خیرات کریں،اس سے بھی حفاظت ہوگی۔ ہر عمل اللہ پاک کی رضا کے لیے ہونا چاہئے ۔صدقہ و خیرات سے بڑی بڑی بلائیں ٹل جاتی ہیں ۔بچوں کو یہ وظیفہ سکھا دیں ،گھر سے نکلتے ہوئے گھر سے نکلنے کی دُعا:بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ پڑھ لیا کریں، یَاحَفِیْظُ یَاسَلَامُ 11 مرتبہ، اَللّٰہُمَّ سَلِّمْنِیْ وَسَلِّمْ مِنِّی ایک ساتھ پڑھ لیں، حفاظت ہوگی۔بڑے بھی پڑھ لیا کریں ۔وضو کرتے وقت ہر عُضْو دھوتے ہوئے یَاقَادِرُ پڑھ لیا کریں، اسے اپنا معمول بنا لیں۔ اپنے مشائخ کا شجرہ شریف پڑھتے رہیں ،اس کے بھی فوائد ہوں گے ۔

سوال: تصرف کا کیا معنی ہے؟

جواب: تصرف کا معنی اختیار استعمال کرنا ،مَن مانی کرنا وغیرہ ہیں ۔

سوال: جب کوئی مشکل آئے تو کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: جب کوئی مشکل آئے تو یہ کہنا چاہئے قَدَّرَاللہ ُمَاشَاءَفَعَلْ۔حدیثِ پاک ہے، فرمایا: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کر لیتا تو ایسا ہو جاتا بلکہ کہو:قَدَّرَ اللہ ُ مَاشَاءَ فَعَلْ یعنی اللہ  پاک نے مُقَدَّر کیا اور جو چاہا، وہی کیا۔ مزید فرمایا:فَاِنَّ لَوتَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ بیشک اگر مگر شیطان کا کام کھول دیتا ہے۔( مسلم، ص1027، حدیث:2664)

سوال: قرینہ کا کیا معنی ہے ؟

جواب: قرینہ کا معنی نمایاں و واضح اشارہ ہے۔مثلاً کسی کا شراب خانے سے نکلنا،اس کا شراب پینے کا نمایاں اشارہ ہے اور جو مسجد سے نکلے اس کا نماز پڑھنے کا واضح اشارہ ہے ۔

سوال: خرگوش کو خرگوش کیوں کہتے ہیں ؟

جواب:خر کا معنی گدھا اور گوش کا معنی کان ہیں، خرگوش کے معنی گدھے جیسے کان والا ہے ۔ خرگوش جلد بازی میں مشہور ہے۔

سوال:جلد بازی اور تحمل مزاجی میں کیا فرق ہے ؟

جواب: کوئی کام بغیر سوچے سمجھےکرنا جلد بازی کہلاتا ہے، اسے عُجلت بھی کہتے ہیں ۔بندہ اپنے کاموں کو سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد شروع کرے تو اسے توقف یعنی ٹھہراؤ کہتے ہیں ۔کا م کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ کرنا تاکہ وہ کام بہتر انداز سے تکمیل تک پہنچے اسے تحمل و بُردباری (Tolerance) کہتے ہیں۔رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اطمینان اللہ کریم کی طرف سے ہےاورجلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ ( ترمذی،3 / 407 ،حدیث : 2019)

سوال: جلد بازی میں بد دعا دینے کا کیا نقصان ہے؟

جواب: بعض اوقات یہ بد دعا قبول ہو جاتی ہے پھر بندہ پچھتاتا ہے ۔لوگ اپنے بچوں کو کوستے اور بد دعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔مائیں بچوں کو بد دعائیں دیتی ہیں، بچے تنگ بھی بہت کرتے ہیں، بہر حال وہ تو بچے ہیں، ماؤں کو صبر کرنا چاہئے اور بد دعا نہیں دینی چاہئے کبھی قبولیت کی گھڑی بھی ہوتی ہے ۔

سوال: کیا دِین اور دُنیاوی دونوں طرح جلد بازی کی جاتی ہے؟

جواب: جی ہاں!لوگ دِینی اور دنیاوی دونوں کاموں میں جلد بازی کر رہے ہوتے ہیں اس جلد بازی کی وجہ سے ان کی عبادات برباد ہو جاتی ہیں اور دنیاوی طور پر شدید نقصانات اٹھاتے ہیں ،پھر ندامت اور پچھتاوے کے سوا باقی کچھ نہیں رہتا۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ”احیاء العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:1)پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا اللہ پاک! جو کوئی 17 صفحات کارسالہ”احیاءُ العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:1)“ پڑھ یاسُن لے،اُسے سنتوں کا پابند بنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


علم دین سے عاشقانِ رسول کو آراستہ کرنے اور تصوف کی طرف میلان پیدا کرنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےاس ہفتے 17 صفحات کا رسالہ احیاء العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:01) پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک! جوکوئی 17 صفحات کا رسالہاحیاء العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:01) پڑھ یا سن لے اُسے سنتوں کا پابند بناکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیهِ واٰلہٖ وسلّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download