شیخ
طریقت امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ ایک عظیم دینی
رہنما، مبلغِ اسلام اور عالمی تبلیغی و اصلاحی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ہیں۔ آپ
نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ، سنتوں کے فروغ اور مسلمانوں کی اصلاح کے لیے وقف کر
رکھی ہے۔ آپ کی محنت اور اخلاص کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی آج دنیا کے کئی ممالک میں
دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہی ہے۔
مولانا
الیاس عطار قادری کی تعلیمات کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی
گزارنے کی ترغیب دینا، اخلاق و کردار کو سنوارنا اور معاشرے میں نیکی کو عام کرنا
ہے۔ آپ کی تحریری و تقریری خدمات، بالخصوص فیضانِ سنت جیسی کتب اور اصلاحی بیانات
نے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ آپ کی سادہ طرزِ زندگی،
عاجزی اور دین کے لئے مسلسل جدوجہد انہیں عصرِ حاضر کی ایک نمایاں روحانی و اصلاحی
شخصیت بناتی ہے۔
26
رمضان المبارک امیر اہل سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی یومِ ولادت ہے۔دنیا بھر میں موجود آپ کے مریدین
و محبین انتہائی مہذب عقیدت و احترام کے
ساتھ اس دن کوخوشی کے طور پر مناتے ہیں۔ آپ دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی یوم ولادت کی مناسبت سے خلیفۂ امیر
اہل سنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ
ظِلُّہُ العالی نے عاشقان رسول کو اس ہفتے 36 صفحات کا رسالہ”امیر ِاہلِ سنّت کا بچپن“ پڑھنے
/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے خلیفۂ امیر اہلسنت
یااللہ
پاک! جوکوئی 36 صفحات کا رسالہ ”امیر ِاہلِ سنّت کا بچپن“ پڑھ
یا سن لے اُسے اپنے پیارے پیارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بچپن شریف
کے صدقے نیک نمازی اور سچا عاشق رسول بنااور اُس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راضی ہوجا۔ اٰمین بجاہِ خاتم
النبیین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ
رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر اردو سمیت مختلف زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے
دستیاب ہے۔
ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں معتکفین کو امیرِ اہلِ
سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی پھول
7
مارچ 2026ء بمطابق 18 رمضانُ المبارک 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف
شہروں سے آئے ہوئے معتکفین سمیت دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ
تراویح ہوا جس میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی
گئی اور نعت شریف پڑھی گئی جبکہ وقتِ
مناسب پر شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد بھی ہوئی۔
امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے
مدنی مذاکرے میں شریک تمام لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف
مدنی پھولوں سے نوازا اور اُن کی جانب سے
ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” ہمارے معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر
مجبور یا راضی کرنا ہوتا ہے“، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:یہ
صلح نہیں ہے ،یہ تو ظلم ہے ،صلح کروانے کی قرآنِ پاک میں پذیرائی ہے ،اس کو خیرکہاگیا
ہے ۔صلح کروانا سُنّتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل عمل نہ
بتاؤں؟ صحابہ ٔکرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یا
رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ضرور بتایئے۔
ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں رُوٹھنے
والوں میں صلح کرادینا ہے کیونکہ رُوٹھنے والوں میں ہونے والا فساد بھلائی کو ختم
کردیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد، 4 / 365،حدیث: 4919)
فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:سب سے افضل صدقہ رُوٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا
ہے۔(الترغیب و الترہیب، 3/321) صلح کروانے کی بہت
اہمیت ہے ،صلح کروانے کےہرجملے پر ایک غلام آزادکرنے کا ثواب اورمغفرت کی خوشخبری
ہے۔جوصلح کرواسکتاہو تو اُسے ضرور صلح کروانی چاہیئے ۔
سوال:صلح
کروانے والا کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:صلح
کروانے والے کو صلح کروانا آنا چاہیئے،خود ہی غصہ میں آجاتا ہو تو صلح کیسے کروائے
گا؟ کسی کی رُو رَعایت نہ کرے ،کسی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ہمیشہ حق کی حمایت کرے ۔
سوال:باون(52) کا عدد کس کی یاددلاتاہے ؟
جواب:
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی
اللہ عنہ کی یاددلاتاہے ۔بوقت ِشہادت آپ کی عمرمبارک 52سال تھی ۔
سوال:
ادب کی کیااہمیت ہے؟
جواب:
ادب کابول بالاہے، بے ادبی کا منہ کالاہے ۔قول ہے: وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا أَدَبَ
لَهُ یعنی جو باادب نہیں اس کا کوئی
دِین نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 28/ 158)ہم ادب کرنے والوں (اولیائے
کرام وعلمائے کرام) کے پیچھے پیچھے
ہیں اوریہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے پیچھے ہیں،اسی طرح جنت میں داخل ہوں گے۔ان شآء اللہ الکریم
سوال : کون سے نبی علیہ السلام
مچھلی کے پیٹ میں 40 دن رہے؟
جواب: حضرت یونس
علیہ السلام ۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ’’ سکون بخش آیتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
28 فروری کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ،
امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائے
عاشقانِ
رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے
کے لئے 28 فروری 2026ء بمطابق 10 رمضانُ المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس
کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت
و نعت کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے
علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” زیادہ جینا
ہے تو کم کھائیں“، اس بارے میں آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:یہ بات طبّی
طورپر دُرست ہے ،زیادہ کھانے سے جان بنتی نہیں بلکہ بگڑتی ہے ، زیادہ کھانے والے کوطرح طرح
کی بیماریاں لگ جاتی ہیں ،حدیث پاک کے مطابق پیٹ کے 3 حصے کرنے چاہئیں ، ایک حصہ
کھانے،ایک حصہ پانی اورایک حصہ سانس کے لیے مختص کیاجائے ۔فرمانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ
والہ وسلم):آدمی اپنے پیٹ
سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرتا،انسان کے لیے چندلقمے کافی ہیں ،جو اس کی پیٹھ
کوسیدھا رکھیں ،اگرایسانہ کرسکے تو تِہائی (3/1)کھانے کے
لیے ،تہائی پانی کے لیے اورایک تِہائی سانس کے لیے ہو۔(ابن ماجہ ،4/48،رقم، 3349 ) جوباوجودِخواہش اللہ پاک کی رضاکے لیے ایک نوالہ کم کردے تو اس
کا ایک درجہ بلند ہوجاتاہے ۔
سوال:تکبُّراورخود
پسندی میں کیا فرق ہے؟
جواب:اپنے سے دُوسرے کوگھٹیا جانناتکبرہے، خود پسندی یہ ہے کہ کسی کو کوئی نعمت
حاصل ہو تو اسے اپناکمال جانے اوراس کے زوال سے توجہ ہٹ جائے ۔دونوں بڑی آفتیں ہیں ،جس کے دل
میں ذرّہ برابرتکبُّرہوگا اسے جہنم میں
داخل کردیا جائے گا ۔یہ بہت بڑی بلاہے ، بندہ اس سے اللہ پاک کی پناہ مانگے۔ تکبرکے
بارے میں معلومات ہونا فرض علم سے ہے ،اس کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’تکبُّر‘‘کا مطالعہ کریں ۔
سوال:دوسرے کے بارےمیں رائے
قائم کرلینا کہ فلاں متکبِرہے،اس کے بارے آپ کیافرماتےہیں ؟
جواب: بغیر قرینے اوردلیل کےکسی کے متکبِرہونے کی رائے قائم کرلینا بدگمانی
ہے، اس سے بچناضروری ہے ،تکبردل کی کیفیت ہے،یہ باطنی
بیماری ہے،اسے معلوم کرنےکے لیے کوئی مشین نہیں ہے ۔اس طرح رائے قائم کرنے والا
تہمت وغیبت میں مبتلا ہوجاتاہے۔گھروں میں
بھی تہمتوں کا سلسلہ ہے ۔اسکی معافی تلافی مشکل کام ہے۔ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے زبان سےلٹکے لوگ
دیکھے ،بتایاگیا یہ گناہ کاالزام لگانے والوں کی سزاہے۔بظاہر نیک نظرآنے
والابھی اس میں مبتلاہوجاتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ لوگ فرض علوم سے ناواقف ہیں ۔
سوال:جھوٹ اورغیبت کی تعریف کیا ہے؟
جواب: سچ کا اُلٹ جھوٹ ہے اوربطورِبُرائی
کسی کا عیب اُس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے۔
سوال
: دُعاکے
وقت کیسااندازہوناچاہئے؟
جواب: دُعاکے
وقت رونا آئے تو سعادت کی بات
ہے،ورنہ رونے کی سی صورت بنائی جائے کہ اچھوں کی نقل بھی ا چھی ہوتی ہے ،دعا کے
وقت آنکھوں میں آنسوآجانااسے قبولیت کے قریب کردیتاہے ۔یہ کہاگیا ہے کہ غموں سے بھرے دل کی دعا قبول
ہوتی ہے
سوال: بزرگ یعنی بڑی عمروالے دُوسروں کو
نمازکی دعوت کیسے دیں ؟
جواب:بزرگ بھی لوگوں کو
پہلےسلام کریں ،پھر
مختصرانداز میں نمازکی دعوت دیں ، بزرگوں
اورامام صاحبان کا اپنا اثرہوتاہے۔ہم سب
نمازکی دعوت دینے والے بن جائیں تو مساجدآبادہوجائیں ۔مساجدکی ویرانی کی ایک
وجہ نمازیوں کانمازکی دعوت نہ دینا بھی ہے۔ ہرمسلمان مبلغ ہے جس کو جتنا آتاہے ،دُوسروں
کو نیکی کی دعوت دے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یااللہ پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھ یا سُن لے، اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی
توفیق عطا فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا پڑوس نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
قرآنِ
مجید اللہ پاک کی وہ عظیم کتاب ہے جس کی ہر آیت انسان کے دل کو سکون اور اطمینان
عطا کرتی ہے۔ جب انسان پریشانیوں، دکھوں اور مشکلات میں گھِر جاتا ہے تو قرآنِ پاک
کی آیات اس کے دل کو قرار اور امید فراہم کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں
ایسی بے شمار آیات نازل فرمائی ہیں جو بندے کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ اللہ اس کے
ساتھ ہے اور وہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔
قرآنِ
کریم کی تلاوت نہ صرف روح کو تازگی دیتی ہے بلکہ دل کی بے چینی کو بھی ختم کرتی
ہے۔ جب انسان اخلاص کے ساتھ اللہ کی آیات پڑھتا یا سنتا ہے تو اس کے دل پر ایک عجیب
سا سکون طاری ہو جاتا ہے۔ اسی لئے قرآنِ مجید کو ہدایت، رحمت اور دلوں کے لیے شفا
قرار دیا گیا ہے۔
شیخ
طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 20 صفحات
کا رسالہ ”سکون
بخش آیتیں“ پڑھنے
/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربّ
کریم! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”سکون بخش آیتیں“ پڑھ یا سن لے اُس کی زندگی سکون اور خوشیوں سے
بھر دے اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب
فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
رمضان
المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس مقدس ماہ کو پُرکیف اور بابرکت
بنانے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقان
رسول کو اس ہفتے 24 صفحات کا رسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے /
سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف
انداز“ پڑھ
یا سن لے اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا
فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پڑوس نصیب
فرما۔
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
عاشقانِ رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب
کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے 21 فروری 2026ء بمطابق 4 رمضانُ
المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی
مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس کے بعد نعت
خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت و نعت کے بعد شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و
ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد
فرمائے۔
بعض سوال و جواب:
سوال: بچی کا نام فاطمۃُ الزَہرا رکھا جائے یا مجرد فاطمہ ؟
جواب: یہ نام
اچھا ہے۔ زَہراکا معنی ہے” کلی“(Bud) ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی کلی ہیں مگرحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کانام اکیلا فاطمہ ہے اورزہرااُن کالقب ہے ۔
سوال: نام کیسارکھا
جائے ؟
جواب: بچے کا نام محمد رکھا جائے،پکارنے کے لئے اہلِ بیت
،صحابۂ کرام اوربزرگوں کے نام سے کوئی بھی نام رکھا جائے ۔نام اچھا رکھنا چاہیئے جیسےمحمد ابراہیم، محمد بلال وغیرہ۔یونیک نام رکھتے ہوئے ایسا نام
نہ رکھا جائے جس کا معنیٰ ہی درست نہ ہو۔
سوال: مسجدکے
امام اورمؤذن صاحب کو سحری/افطاری دینے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: مسجدکے امام اورمؤذن کو بھی سحری/افطاری بھیجنی چاہیئے
۔عام طورپر ان کی تنخواہ اورآمدن کم ہوتی ہے ،رقم بھی پیش کریں۔جمعہ کو ہرنمازی
کچھ نہ کچھ خدمت کرے تو ان کا راشن آجائے۔اسی طرح عیدین،دیگراسلامی ایونٹس(Islamic Events/جیسےشبِ
معراج، شبِ براءت،شبِ قدر وغیرہ)کے
موقع پر ان کی خدمت کریں۔یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میرا راستہ بن جائے، ایساہرگزنہیں
، مَیں نے کئی سال امامت کی ہے مگرمسجدکا کبھی کھانا نہیں کھایا،اپنے گھر کا
کھاناکھاتاتھا۔
سوال: امام صاحب کا کسی نمازی سے کوئی سوال یا قرض مانگنے کے
بارےمیں کیا مشورہ دیں گے ؟
جواب: امام صاحب کو چاہیئے کہ لوگوں سے سوال نہ کریں ،قرض بھی
نہ لیں ،اس سے وقاراورعزت کم ہوتی ہے۔ان کا پیشہ عزت وعظمت والاہے ۔دینےوالا آہ کرکے دیتاہے اورلینے والاواہ کرکے
لیتاہے ۔
سوال: مکتبۃ المدینہ
کی شائع کردہ کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب: عمامہ شریف
کےفضائل پرمشتمل المدینۃ
العلمیہ کی کتاب ’’عمامہ کے
فضائل‘‘مکتبۃ المدینہ نے شائع کی ہے۔شاید اردو میں اس موضوع پر اتنی بڑی اورکتاب نہیں ہے ،اسے لیں،پڑھیں اورلائبریری کا حصہ بنائیں ۔اس سے عمامہ شریف
سے محبت میں اضافہ ہوگا۔عمامہ باندھاکریں ،اس سے جھجک ختم ہو جائے گی ، کسی نے کوئی
بات کردی تو اسے برداشت کرلیں کسی سے کوئی جھگڑانہ کریں۔
سوال: آپس کے تعلقات
کے کیا فائدے ہیں ؟
جواب: کھوٹاسِکّہ بھی
وقت پر کام آجاتاہے ،نافرمان بیٹابھی مددکردیتاہے ۔جان پہچان اورتعلقات کاکبھی نہ
کبھی فائدہ ہوتاہے۔جو ملنساراورتعلقات رکھنے والے ہوتے ہیں ،بعض اوقات جاننے والے
اس طرح کام آجاتے ہیں کہ گھر کاکوئی فرد اس طرح کام نہیں آتا۔خاندان والوں اوردیگرلوگوں
کے ساتھ تعلقات رکھنےچاہئیں ۔دس دوست ہوں تو ضروری نہیں سارے کے سارے بے وفاہوں
،ضرورت کے وقت کوئی تو مددکرے گا۔ شادی بھی کرنی چاہیئے، بال بچے ہوں گے تو گھرکی
رونق ہوگی، بیمار ہوں گے تو خدمت کریں گے۔ ہم خودملنسارہوں گےاور لوگوں کے دُکھ
دردمیں شریک ہوں گے تو لوگ بھی ہمارے دُکھ درد میں شریک ہوں گے ۔البتہ تعلقات اللہ پاک کی رضا کے لئے ہونے چاہئیں ۔اچھے لوگوں سے
تعلق بنایاجائے ،جیسے دعوت اسلامی کادِینی ماحول ہے ۔ دعوت اسلامی کا مفادہے کہ ایمان کی
حفاظت ہو،سب نمازی بن جائیں ،جنت کا حصول ہو،اس سے وابستہ ہوجائیں ۔
سوال: گھرآباد ہوں
،جھگڑے نہ ہوں ،گھر نہ ٹوٹیں کیا کریں ؟
جواب: ہمارے معاشرے میں جھگڑے اورگھرٹُوٹنے کا سلسلہ بڑھ گیاہے
۔زیادہ خرابی اس لئے ہوتی ہے کہ دونوں طرف
ضدپیداہوجاتی ہے ۔دونوں کوضدچھوڑنی چاہیئے، جس سے زیادتی ہوئی ہو اسے چاہیئے کہ دوسرے سےمعافی مانگ لے، معافی مانگنے سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیداہوتی
ہے ۔ایک کو غصہ آجائے تو دوسرے کو صبرکرنا چاہیئے اورکوئی ایسی ترکیب کرنی چاہیئے
کہ جس سے اس کا غصہ کم ہو ۔بچوں کے سامنے جھگڑا کرنے سے ان کی تربیت میں بُرا
اثرپڑے گا۔جو گھرٹُوٹتاہے اس میں بچوں کا نقصان زیادہ ہوتاہے۔
سوال: گنے کے رس
کے کیافوائدہیں ،کون سارس پیاجائے ؟
جواب: گنے کے رس کے
کئی فوائدہیں ،گنے کا رس ہڈیا ں مضبوط کرتاہے ،خون کی کمی والوں کو مفیدہے
،جگراورگُردوں کی کارکردگی بڑھاتاہے ،دانتوں کے پیلے پن ،چہرے کے کِیل مہاسے
اورجُھریا ں دورکرتاہے ،بغیر برف کے گنے کا رس خریدیں ،گنے کارس وہاں سے لیں جس میں مشین اوربرتنوں کی صفائی کا خیال رکھا جاتاہو ،سکرین والے رس
نہ لیں ،اس کے کافی نقصانات ہیں۔گنا چباکر اس کا رس حاصل کرنا زیادہ فائدے مندہے
۔
سوال: کھا نا کیسے
کھانا چاہیئے ؟
جواب: کھانا
چباکرکھانا چاہیئے ورنہ معدہ خراب ہوجائے گا،دونوں طرف کے دانتوں سے چباکرکھائیں
،اس سے کانوں کی سنوائی میں بھی فائدہ ہوگا۔زیادہ بیماریاں منہ سےجاتی ہیں ،وہ چیزنہ
کھائیں،پئیں جو موافق نہ ہو۔ہم نقصان دہ چیزوں سے بچ نہیں پاتے پھر بیمارہوجاتے ہیں ۔کھانے کی حرص کم کریں صحت مندرہیں گے ،دینی
کام کرسکیں گے۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم کی سجاوٹ“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
رمضان
المبارک اسلامی سال کا وہ سب سے معتبر مہینہ ہے جس کا انتظار ہر مومن کو بے صبری
سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ اپنے ساتھ نہ صرف روزے کی فرضیت لاتا ہے، بلکہ انسان کی
اخلاقی اور روحانی تربیت کا ایک مکمل نظام بھی ساتھ لاتا ہے۔ رمضان المبارک محض ایک
مہینہ نہیں، بلکہ روح کی پاکیزگی، صبر کی مشق اور خالق سے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک
سنہرا موقع ہے۔ یہ وہ مقدس گھڑیاں ہیں جن میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں
اور رحمتوں کی برسات ہر سو چھا جاتی ہے۔
رمضان
المبارک کی مناسبت سے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقان رسول کو 17 صفحات کا رسالہ ”رمضان الکریم کی سجاوٹ“ پڑھنے / سننے کی
ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یا
اللہ پاک! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ”رمضان
الکریم کی سجاوٹ“ پڑھ یا سن لے
اُسے ماہ رمضان کا قدر دان بنا اور اس کی قبرکو روشن فرما کر اُسے ماں باپ سمیت
اپنے پیارے پیارے سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کا جنت الفردوس میں پڑوس نصیب فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
14 فروری 2026ء مطابق 26 شعبانُ المعظم 1447ھ
کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول نے دینی،
اخلاقی اور شرعی امور کے حوالے سے مختلف سوالات کئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے علم و حکمت بھرے جوابات عطا کئے۔
بعض سوال و جواب
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا ہواتھا :کہ آدمی کو مرتے دم تک زندہ رہنا چاہیئے اوراس کے
کردارکو مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہیئے،اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟
جواب: اس کا یہ معنی ہوسکتاہے کہ بندےکو مرتے دم تک زندہ دل
رہنا چاہیئے ، کردارایساصاف سُتھرا ہو اور زندگی اچھائی میں گزارے کہ مرنے کے بعد اسے بھلائی اورنیک نامی
کے ساتھ یاد کیاجائے ۔
سوال:اگر کسی حافظِ قراٰن کونظرکی کمزوری کی وجہ سے عینک لگی ہواورلوگ اُسے کہتے ہوں کہ حفظِ قراٰن کی وجہ سے نظرکمزورہوئی ہے ،اس بارے
میں آپ کیافرماتے ہیں ؟
جواب: یہ غلط فہمی ہے ،ایسا نہیں کہنا چاہیئے کہ اس سے حافظ
صاحب کو بُرالگے گا،اس طرح کہنے سے توبہ
کرنی چاہیئے ۔حفظِ قرآن کی وجہ سے نظر کمزورنہیں ہوتی ،بزرگوں کا قول ہے کہ قراٰنِ
کریم کا دِیدارکرنے سے نظرتیزہوتی ہے ۔ کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر اگرقراٰنِ
کریم پڑھیں گے تواس سے نظر کمزور ہوسکتی ہے بالخصوص جب اس کی لائٹ تیز ہو یا کمرے میں
اندھیراہوتو اب بھی اسکرین کی لائٹ آنکھوں کے لئے خطرناک ہے ۔ہرچیز کی ایک حدہوتی
ہے ،جب اسے حدسے زیادہ استعمال کریں گے تونقصان ہوگا۔
سوال: کیا موقع
ملنے کے باوجود بھی نمازِتہجدنہ پڑھنامحرومی ہے ؟
جواب:لوگوں میں عبادت کا جذبہ کم ہے ،کئی لوگوں کو موقع
بھی ملتاہے مگروہ نمازِتہجدنہیں پڑھتے ،یہ
محرومی ہے ۔نیت سچی تھی مگرجاگ نہ سکا
اورتہجدکی نمازنہ پڑھ سکاتوتہجدکی سچی نیت
کی وجہ سے تہجدکا ثواب پائے گا۔ان شاء اللہ الکریم
سوال: ہرکمال
را زوال کا کیا معنی ہے ؟
جواب: ہرکمال را زوال (را۔زوال) کا معنی ہے کہ ہرکمال کو زوال ہے مگرجسے اللہ پاک عزت دے تو اس کی عزت کو زوال نہیں جیسے
حضورغوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ
اللہ علیہ کی عزت اب بھی ہمارے دلوں میں
ہے ۔
سوال: دعوتِ اسلامی
کے بارے میں آپ کے کیاجذبات ہیں ؟
جواب:دعوتِ اسلامی بہت بڑی نعمت ہے ،دعوتِ اسلامی دعوت اسلامی
ہے ،اے دعوت اسلامی تیری دُھوم مچی ہے ۔
سوال:کیا سرسوں کا تیل(Mustard Oil) کھانے میں استعمال کرسکتے ہیں ؟
جواب: جی کرسکتے ہیں
اوراستعمال کرنابھی چاہیئے ،اس کے کئی فوائدہیں ،آنکھوں اور چہرے کے علاوہ سارے
جسم پر سرسوں کا تیل مَل لیاجائے تو خارش کے لئے مفیدہے ۔مگریادرکھیں! کوئی بھی
علاج کرنا ہوتو اپنے حکیم/ڈاکٹر سے مشورہ ضرورکریں۔
سوال: ماہنامہ خواتین(دعوتِ اسلامی) کااسپیشل(Special) شمارہ ’’خواتین کے لئے اُسوۂ رسول ‘‘کے بارے میں
امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب:یہ اسلامی بھائیوں ،اسلامی بہنوں ،بچوں اور بوڑھوں سبھی
کے لئے مفیدہے،یہ ضرورلیں،پڑھیں اورگھر میں
رکھیں۔25فروری 2026 تک مکتبۃ المدینہ سے 20 فیصد رعایت پر لے سکتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ’’ ماہِ رمضان ماہِ نیک اعمال ‘‘پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
کراچی: (نیوز ڈیسک) اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا
کے لیے اپنے وقت اور اعمال کو وقف کرنا مومن کی پہچان ہے۔ خاص طور پر ماہِ رمضان،
جو نیکیوں کا موسمِ بہار ہے، اس میں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا اور اسے نیکیوں کے
سانچے میں ڈھالنا ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے پسندیدہ مشاغل کو
چھوڑ کر رب کی رضا کے لیے نیک اعمال میں مشغول ہوتا ہے، تو یہ ایمان کی بلندی اور
روح کی پاکیزگی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اسی جذبے کو بیدار کرنے اور رمضان المبارک کی
ساعتوں کو قیمتی بنانے کے لیے، بانیِ دعوتِ اسلامی، شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت
علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقانِ
رسول کو ایک اہم رسالے کے مطالعے کی ترغیب دلائی ہے۔
اس ہفتے کا رسالہ: ”ماہِ رمضان ماہِ نیک اعمال“
امیرِ اہلسنت نے اس بار 20 صفحات پر مشتمل رسالے
”ماہِ رمضان نیک اعمال“ کو پڑھنے یا سننے کی ترغیب دی ہے۔ اس رسالے کا مقصد روزے
داروں کو رمضان کے دوران فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ نوافل اور دیگر نیک کاموں کے
ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا طریقہ بتانا ہے۔
امیرِ اہلسنت نے رسالہ پڑھنے والوں کو اپنی خصوصی
دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار:
”یا رب المصطفٰے! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”ماہِ
رمضان ماہِ نیک اعمال“ پڑھ یا سن لے، اُسے
رمضان الکریم میں خوب نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور اسے ماں باپ اور
خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“
یہ رسالہ دعوتِ
اسلامی کی ویب سائٹ پر اردو سمیت مختلف زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے دستیاب
ہے۔
جو دنیا سے محبت کرتا ہے تو دنیا اس سے دور
بھاگتی ہے، مولانا الیاس عطار قادری
7 فروری 2026ء بمطابق 19 شعبانُ المعظم 1447ھ
کی شب دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام معمول
کے مطابق ہفتہ وار مدنی مذاکرہ شروع ہوا جس میں کراچی سٹی کے اسلامی بھائیوں نے
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر براہِ راست جبکہ دیگر شہروں و دیگر ممالک کے اسلامی بھائیوں نے بذریعہ مدنی
چینل شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران مختلف سوالات کا سلسلہ ہوا
جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نےعلم و حکمت سے بھرپور
جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:جودُنیادُنیا
کرتاہے تو اس کے ساتھ کیا ہوتاہے ؟
جواب: جودُنیا سے محبت کرتاہے ،صرف دُنیا کوہی حاصل
کرنے میں لگا رہتاہے تو دُنیا اس سے دُوربھاگتی ہے اور جو دُنیا سے کنارا کرتاہے،
دُنیا اس کی طرف بھاگ بھاگ کرآتی ہے ۔ بزرگانِ دین کے مزارات بنے ہوئے ہیں ،لوگ ان
کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں جبکہ کئی بادشاہوں کے نام لوگ بھول گئے۔اگریاد ہیں بھی
توان کی بُری شہرت ہے جیسےیزیدکی بُری شہرت ہے ،اسے کوئی ایصالِ ثواب نہیں
کرتاجبکہ نواسۂ رسول،امامِ حسین رضی
اللہ عنہ کی ہمارے دلوں پر حکمرانی ہے
،جنت میں بھی یہ جوانوں کے سردارہوں گے ۔
سوال: پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک
سُن کر انگوٹھے چُومنےکا کیا فائدہ ہے ؟
جواب:پیارے
آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام
مبارک سُن کر انگوٹھے چُومنا تعظیم کے لئے ہوتاہے ۔ مستحب یہ ہے کہ اذان و اِقامت
میں جب پہلی شہادت سُنیں تو کہیں:صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اور جب دُوسری
بار سُنیں تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعدکہیں:قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ پھر یہ کہیں اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ
بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ تو حضور نبیِ
کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنّت کی
طرف اس کے قائد ہوں گے۔حدیث شریف میں ہے:جس نے اذان میں اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ سُننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا
تو جنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔( ردالمحتار،2 / 84)
مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہُ
سے مَروی ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہ عَنْہُ نے مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْ لُ اللّٰہ کہتے سُنا تو یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی اُنگلیوں
کے پورے جانبِ زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے،اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا،اُس کے
لئے میری شفاعت حلال ہوجائے۔( فتاویٰ رضویہ،5/ 432)
سوال: نیکی کرنے پر کوئی تعریف کرے اوردل میں خوشی محسوس ہوتو کیا یہ بھی رِیا کاری ہے ؟
جواب:یہ
ریا کاری نہیں ،البتہ آزمائش ضرورہے کہ کہیں وہ بندہ اپنے آپ کو نیک نہ سمجھنا
شروع کردے ۔ریا کاری یہ ہے کہ بندہ نیکی
اس لئے کرے کہ لوگوں سے عزت یا مال حاصل
ہو ۔
سوال:تُرک
مسلمان کیسے ہیں ؟
جواب:
تُرک مسلمان بڑے عاشقِ رسول ہیں ۔ان کے عشقِ رسول کے واقعات پڑھ کربندہ حیران رہ جاتاہے ،مدینہ شریف میں جب ان
کی خدمت تھی تو یہ مسجدِنبوی شریف کی تعمیرات میں بھی آوازبلندنہیں ہونے دیتے تھے ،پتھرکی کٹائی بھی مدینۂ منورہ سے باہر
کرکے لاتےتھے وغیرہ ۔
سوال: امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے انگوٹھے چُومنے کی اپنی کیابرکت بتائی ؟
جواب: مَیں بچپن سے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک
سُن کرانگوٹھے چُو متاہوں میری عمر تقریباً 77 سال ہے ،میں بغیر عینک کے گزاراکرلیتاہوں
،مَیں اسے اس کی (یعنی نامِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سُن کر
انگوٹھے چُومنے کی)برکت سمجھتاہوں
۔مَیں تعظیم کے لئے عام طورپرسیدصاحب کے ہاتھ بھی چُوم لیتاہوں ۔
سوال:رمضان شریف کی سجاوٹ کس طرح کریں ؟
جواب: آپ رمضان شریف کی سجاوٹ مدنی چینل پر دیکھ رہے ہوں گے ،آپ بھی تعظیمِ رمضان کی نیت سے اپنے گھروں میں
سجاوٹ شروع کردیں ۔مکتبۃ المدینہ سے رمضان مبارک کی جھنڈیاں اورپینافلیکس خرید لیں،
گھروں کے باہراوراندرلگائیں ۔
سوال: کیا فرض اورنوافل کے بارے میں کسی کوسمجھانے کا
انداز مختلف ہونا چاہیئے ؟
جواب: گھروالوں پرفرض پرعمل کروانے میں سختی کرنے کی صورتیں بھی ہیں مگر نوافل میں سختی کرنے کی اجازت نہیں ،نوافل خود پر نافذ کریں لیکن
گھروالوں پر اس کے لئے سختی نہ کریں ،نرمی کے ساتھ دعوت دے سکتے ہیں ۔
سوال: فالتوباتیں نہ کرنے کا کیا فائدہ ہوتاہے ؟
جواب:فالتو
باتیں ہمارے معاشرے سے ختم ہوجائیں توہمارے ہاں ہونے والے تمام جھگڑے ختم ہوجائیں ۔
سوال: پاکستان میں رمضان شریف میں عموماًچیزوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے،اس
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: کاش ہمارے ملک پاکستان میں تعظیمِ رمضان کی نیت
سے ماہِ رمضان میں چیزیں سستی ہوجائیں۔تاجرحضرات
جو نفع لیتے ہیں اس میں لفظ ’’اللہ‘‘
کے حرفِ ابجد 66 کی نسبت سے 66% رعایت کردیں ۔
سوال: ماہِ رمضان میں افطاری کا سامان غریب علاقوں میں
بانٹنے کے بارے میں امیراہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نےکیا ترغیب دلائی؟
جواب:ماہِ
رمضان شریف میں رشتہ داروں کو پہلے دیکھیں
،پھر پڑوس کودیکھیں پھر غریب علاقوں میں
افطاری کاسامان غریبوں کے گھروں میں بھجوائیں ۔یہ زکوٰۃ کی رقم سے نہیں بلکہ صاف(Fresh) رقم سے کریں اورغریبوں کی دعائیں لیں ۔ ساداتِ کرام،امام مساجد اورعلمائے
کرام کو ترجیح دیں ۔
سوال:نیکیوں
میں دل نہ لگنے جبکہ گناہوں میں دل لگنے کی
کیا وجہ ہے؟
جواب:نیکیاں
کرنے میں شیطان رکاوٹ ڈالتاہے جبکہ گناہوں اورفضول کاموں میں وہ مددکرتاہے ۔ایک
بزرگ کا فرمان ہے کہ 20 سال تک تلاوتِ قراٰن میں میرا دل نہیں لگا، مگرمیں تلاوت
کرتارہا پھر 20 سال میں نے اس سے نفع اٹھایا یعنی 20 سال کے بعد تلاوت میں دل لگ گیا
۔اولڈ کراچی کی قاضیاں والی مسجدکے( مرحوم) امام صاحب نے مجھے بتایا تھاکہ میں”روزانہ ایک
قراٰن پاک ختم کرلیتاہوں “۔وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے ۔بندہ جس کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس میں دل لگ ہی جاتاہے۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ ’’راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“پڑھنے یا سُننے والوں
کوامیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
راہِ
خدا میں دینا صرف فاضل چیزوں سے جان چھڑانے کا نام نہیں، بلکہ اصل عطا وہ ہے جو دل
کو محبوب ہو۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی پسندیدہ چیز کو سنبھال کر رکھتا ہے، مگر
جب وہی پسندیدہ چیز اللہ کی رضا کے لئے پیش کر دے تو یہ ایمان کی بلندی کی علامت
بن جاتی ہے۔
راہِ
خدا میں پیاری چیز دینا دل کی آزمائش بھی ہے اور روح کی پاکیزگی کا ذریعہ بھی۔ کبھی
یہ مال کی صورت میں ہوتا ہے، کبھی وقت، کبھی صلاحیت اور کبھی اپنی خواہش کو قربان
کرنے کی شکل میں۔ جو بندہ اپنی پسند کو رب کی رضا پر قربان کر دیتا ہے، اللہ پاک
اس کے بدلے میں ایسی برکتیں عطا فرماتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
اپنی
پسندیدہ چیز راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت
علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقان رسول کو 13 صفحات کا رسالہ ”راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“ پڑھنے
/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربَّ
المصطفٰے ! جو کوئی 13 صفحات کا رسالہ ”راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“پڑھ
یا سن لے اُس کے رزق میں برکت اور اُسے اپنی راہ میں خوش دلی سے اپنی چیز دینے کی
توفیق عطا فرماکر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
31 جنوری 2026ء بمطابق 12 شعبانُ المعظم
1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی
مذاکرہ منعقد ہوا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد
نے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول کی جانب سے
مختلف سوالات ہوئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت
علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم
و حکمت بھرے جوابات دیئے۔
سوال و جواب کی
تفصیلات:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ”بہترین آنکھ وہ ہے جس سے
انسان اپنے اندر جھانک سکے“، آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: بات بالکل درست ہے ،واقعی اپنے اندر جھانکنا یعنی اپنا
محاسبہ کرنا اصلاح کا باعث ہوتا ہے ۔
سوال: ہمیں دینی
مسائل کس سے پوچھنے چاہئیں؟
جواب: دارُالافتاء میں فتاویٰ نویسی کرنے والے مفتیانِ کرام
سے شرعی مسائل پوچھنے میں ہی عافیت
ہے۔دعوتِ اسلامی کے دار الافتاء اہلسنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی مسئلہ پوچھا کریں ۔
سوال: ایک حافظِ قراٰن ،اپنا حفظ کیسے پکاّ رکھے؟
جواب: کہا جاتا ہے کہ قراٰن پاک حفظ کرنا آسان ہے مگر اسے حفظ
رکھنا مشکل ہے ، روزانہ ایک منزل دوہرائی
ہو جائے تو 7 دن میں قراٰنِ کریم مکمل ہو
جائے گا،ایک مہینے میں 2 قراٰنِ کریم ختم کر لیں ورنہ حافظ اور غیر حافظ سب کو پورے مہینے میں ایک قراٰن
پاک ختم کرنا چاہیئے ۔
سوال:امام محمد رحمۃ اللہ علیہ
کون ہیں ؟
جواب: ؟امام محمد رحمۃ اللہ علیہ
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردتھے ،امام اعظم نے انہیں قراٰنِ پاک حفظ کرنے کا فرمایا تو انہوں
نے ایک ہفتے میں پوراقراٰنِ پاک حفظ کرلیا ۔
سوال: کہاجاتاہےکہ ”پہنچی
وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ ،کیا جس مٹی سے بندے کا وجود
بناہوتاہے وہ اسی جگہ دفن کیا جاتاہے؟
جواب: جی ہاں !حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما
نے فرمایا: ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے۔( المصنف عبد الرزاق، 3 /515 ، رقم : 6531
: المکتب
الاسلامی، بيروت )
سوال: خوشبو کس نیت
سے لگانی چاہیئے ؟
جواب: خوشبو لگانے سے پہلےاپنے آپ کو ریاکاری سے بچانے اور
اخلاص پانے کے لئے حسبِ حال اچھی اچھی نیتیں
کر لینی چاہئیں، بالخصوص اللہ پاک کی رضا اور اِتّباعِ سنَّت کی نیت ضرور ہونی چاہیئے۔ اس کے علاوہ یہ
نیتیں بھی کی جا سکتی ہیں مثلاًبِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر لگاؤں گا،مُسلمانوں اور فرشتوں کو
خُوشبو سے فَرحَت (یعنی خوشی و سُرور) پہنچاؤں گا ، خود سے بدبُودُور کر کے مسلمانوں کو غیبت
سے بچاؤں گا ، نَماز کے لئے زینت حاصِل
کروں گا ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” رشتے داری کاٹنا حرام ہے“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب: یا ربِّ کریم ! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ’’ رشتے
داری کاٹنا حرام ہے‘‘ پڑھ یا سُن لے اس کو ہمیشہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا
سُلوک کرتے ہوئے اُنہی کے ساتھ جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami