مشورہ اُس سے لیا جائے جو ہمت بڑھانے والا ہو،
مولانا الیاس عطار قادری
عاشقانِ رسول کی عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ
اسلامی“ کے زیرِ اہتمام 12 ستمبر
2026ء بمطابق 30 ربیع الأول 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کی نشست کا انعقاد کیا
گیا۔
تفصیلات کے مطابق بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں اس مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیاجس میں
عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کو مدنی چینل کے پلیٹ فارم سے عالمگیر سطح پر بھی براہِ راست (Live) نشر کیا گیا جس
کے ذریعے دنیا بھر سے لاکھوں عاشقانِ رسول ان لمحاتِ تربیت سے مستفید ہوئے۔
علمِ دین سے بھرپوراس مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ
کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ والہ سلم سے ہوا جس کے بعد امیرِ
اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی مدنی مذاکرے میں تشریف آوری ہوئی۔
مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی امیرِ
اہلِ سنّت دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی طرف سے ہونے والے سوالات کے
تفصیلی جوابات عنایت فرمائے۔ آپ نے اپنے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین و ناظرین کی
دینی، اخلاقی اور تنظیمی بنیادوں پر جامع تربیت فرمائی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ :’’كبهى
مشكل ميں كسى بُزدل سے مشورہ مت لينا كيونكہ وه تمہارى بچى ہوئى ہمت كو بهى ختم كر دے گا‘‘اس
بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: باہر وہی آتا ہے جو اندر ہوتا ہے ،جو پہلے ہی ڈرا ہوا
ہو گا، وہ ہمت بڑھانے والی بات نہیں کرے گا۔مشورہ اُس سے لیا جائے جو ہمت بڑھانے والا ہو ۔وہ اس چیز کا مشورہ دے گا کہ ہمت میں رہنا ہے اور جو
مشکل ہے اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔مشورہ اچھا دینا چاہئے اور ہمت بڑھانی چاہئے کہ رکھ مولیٰ تے آس(یعنی بندہ اللہ پاک
پر بھروسہ کرے،اُس کی رحمت پر اُمید رکھے)۔
سوال:
اگر کسی کی طرف سے دل آزاری کرنے پر دل
میں گھٹن ہوتی ہو تو کیا کریں ؟
جواب: بعضوں کی یہ
کیفیت ہوتی ہے کہ جب کوئی دل آزاری کر دے
تو جب تک کسی کے سامنے اپنی بھڑاس نکال نہ دیں،اِنہیں سکون نہیں آتا، ایسوں کو صبر کرنا چاہئے کہ اگر کسی کو بتائیں گے اور یہ بتانا شرعی طور پر درست نہ
ہوا تو اس شخص کی بُرائی اور غیبت میں مبتلا ہوں گے جبکہ اس نے دل آزاری تنہائی میں کی ہو۔ انبیائے کرام علیہم السلام پر
لوگوں نے ظلم و ستم کیے ،مگر اُنہوں نے صبر کیا ،گِلہ شکوہ ان کے ہاں نہیں تھا، اسی
طرح کی مثال کربلا
والوں کی ہے،اِنہیں کیا کیا نہیں کہا گیا
مگر انہوں نے صبر کیا ،یہ استقامت کا پہاڑ تھے۔
سوال:خَاتَمَ النَّبِیّٖنْ کا مکمل مفہوم اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی تفصیلی تشریح
ارشاد فرما دیں۔
جواب: خَاتَمَ
النَّبِیّٖنْ کا معنیٰ ہے نبیوں میں سب
سے آخری نبی۔انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام
تو بہت سے تشریف لائے مگر سب سے آخر میں ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے۔ اب ان کے بعد کوئی نیا نبی
نہیں آئے گا ،حدیث پاک ہے کہ لَانَبِیَّ بَعْدِی یعنی میرے
بعد کوئی نبی نہیں ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب تشریف
لائیں گے مگر وہ نئے نبی نہیں ،مزید وہ انجیلِ مقدس کی تعلیم نہیں دیں گے
بلکہ قرآنِ کریم کی تعلیم دیں گے ۔مکتبۃ
المدینہ کا رسالہ’’ سب سے آخری نبی صلی
اللہ
علیہ والہ وسلم ‘‘ پڑھیں
،اس سے درس بھی دیں ،گھر والوں کو بھی مکمل پڑھ کر سنائیں ۔
سوال: عقیدہ کیا
ہوتا ہے؟
جواب:
عقیدہ بیج کی طرح ہے اور عمل اس کی شاخیں
اور پتیاں ہیں ۔اللہ و رسول کوماننا عقیدہ ہے،تمام
ضروریاتِ دِین عقیدہ ہیں ۔ عقیدہ اُن دِینی اُمور کا نام ہے جن پر دل بغیر
کسی شک وشبہ کے پختہ ہو جائے۔ ( حدیقہ ندیہ، 1/ 96)
سوال: اِیثار سے کیا مراد ہے ؟
جواب: کسی کو کسی چیز کی خود ضرورت ہے مگر اپنے نفس پر دُوسرے کو ترجیح
دے یعنی وہ خود اِستعمال نہ کرے بلکہ
دُوسرے کودیدے تو یہ اِیثار ہے ،صحابۂ
کرام اور بزرگانِ دِین بہت ایثار کرتے تھے ۔ غزوۂ یرموک کے موقع پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے زخمی چچازاد بھائی
کے لیے پانی لے کر پہنچے۔ چچازاد بھائی نے خود پانی پینے کے بجائے قریبی زخمی
صحابی حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کو
پانی دینے کا اشارہ کیا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی دوسرے زخمی کی طرف پانی بھیج دیا، مگر وہ شہید
ہو چکے تھے۔ جب واپس حضرت ہشام رضی اللہ
عنہ
کے پاس آئے تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے اور آخر میں اپنے چچازاد بھائی کے پاس پہنچے
تو وہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ اس واقعے سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایثار، ہمدردی اور دُوسروں
کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کی عظیم مثال نظر آتی ہے۔
سوال: کیا آپ جہلم شہر میں بھی تشریف لے گئے ہیں ؟
جواب: میں جہلم(پنجاب،پاکستان) میں دو تین مرتبہ حاضر ہوا ہوں اور مسجد میں بیان کئے ہیں ۔
سوال: صدیقِ اکبر کا کیا معنی ہے اور یہ کس کا لقب ہے ؟
جواب: صدیق کا معنی سچا، اکبر
کا معنی بہت بڑا۔ مسلمانوں کے
پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ
بہت سچ بولتے تھے ،یہ آپ کا لقب ہے۔
سوال: رشتے میں رکاوٹ ہو تو کیاپڑھیں ؟
جواب: رشتے کی رُکاوٹ ہو توجہاں رشتہ کرنا ہو وہاں جاتے ہوئےیَاعَزِیْزُ 40 مرتبہ پڑھ لیجئے۔ان شاءاللہ الکریم کامیابی ملے گی۔لڑکی کو دیکھنے آرہے ہوں اُس
وقت لڑکی یہی عمل کرے۔
مشورہ:
کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔
مُدّت:
ایک بار میں کام نہ بنے تو ضرورت کے مطابق ہر بار کرتے رہئے۔
لازمی:
نماز کی پابندی اور بندوں کی حق تلفی سے پرہیز۔
(انٹرویو دینے جائیں،
گھر دکان وغیرہ کا سودا کرنے جائیں، قرض کی وصولی، الغرض جس کام کیلئے جائیں یہ
عمل مفید ہے)
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھ یا سُن لے ،اُس کو کم بولنے
اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت اس کی
بے حساب بخشش فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
5 ستمبر 2026ء بمطابق 23 ربیع الأول 1448ھ کو
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز
بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہوا جس میں کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں
مقیم اور موجود شرکاکے علاوہ مدنی چینل کے ذریعے اس مدنی مذاکرے کو دنیا بھر میں
براہِ راست (Live)نشر بھی کیا گیا۔
تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد
مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال
محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت
برکاتہم العالیہ کی آمد ہوئی۔
تعلیم و تربیت کی اس نشست کے دوران امیرِ اہل ِسنّت
دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف
سوالات کے جوابات دیے۔ اس موقع پر آپ نے شرکا کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی اعتبار
سے تربیت فرماتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے نوازا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال: وعدہ خلافی سے کیا مرا دہے ؟
جواب: وعدہ کرتے
ہوئے یہ ذہن ہونا کہ میں نے پورا نہیں
کرنا یہ
وعدہ خلافی ہے۔یہ گناہ ہے ،وہ کام کر بھی لیا تو وعدہ خلافی سے توبہ کرنا ضروری ہے
۔3 فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم: (1)جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ پاک اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس
کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ نفل۔ (بخاری، 2/370، حدیث: 3179)غیر مسلم کو
بھی وعدہ خلافی اور دھوکا دینے کی اجازت
نہیں ۔(2) منافق
کی 3 نشانیاں ہیں:
جب بات کرے جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے خلاف کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خلاف
کرے۔ (بخاری،
1/24، حدیث: 33)(3)
جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر
سکے، وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر گناہ نہیں۔ (ابو داؤد، 4/388، حدیث: 4995)
سوال: اگرکوئی
جنگل وغیرہ میں اکیلا ہواورنماز سے پہلے اذان دے تو کیا اس کی بھی
کوئی فضیلت ہے؟
جواب: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ربّ اُس بکری چرانے
والے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی اونچی چوٹی میں ہو، نماز کی اذانیں دے اور نماز
پڑھے ۔اللہ پاک فرماتا ہے :میرے اس بندے
کو دیکھو ،اذان دیتا ہے نماز قائم کرتا ہے
مجھ سے ڈرتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔(سنن ابو داؤد، حدیث :667)
سوال: امیر اہل سنت(مولانا الیاس
قادِری دامت برکاتہم العالیہ) نے کون سے
عالمِ دِین کا ذکرِ خیر فرمایا؟
جواب: پیر طریقت حضرت مولانا
عبدالرشید رضوی سمندری والے رحمۃ اللہ علیہ بہت باعمل عالمِ دین تھے۔حضور محدثِ اعظم پاکستان
علامہ سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد و خلیفہ تھے۔ ہمیشہ سرپر عمامہ
شریف باندھا کرتے تھے ۔آج وفات کے بعد بھی میں اِن کا ذکرِ خیر کر رہا ہوں ۔
ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے
سوال: کیا
غزوہ ٔاُحد میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دانت مبارک شہید ہوا تھا ؟
جواب: پورا دانت
مبارک شہید نہیں ہوا تھا ،دانت
مبارک کا کچھ حصہ یا کوئی کونہ متاثر ہوا
تھا ۔
سوال: صحابی اور تابعی کی تعریف کیا ہے ؟
جواب: جنہوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کی ایمان کی
حالت میں زیارت کی ایمان پر خاتمہ ہوااُنہیں صحابی کہتے ہیں اورجس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی کی زیارت کی اور ایمان پر خاتمہ ہوا،اُنہیں تابعی کہتے ہیں۔
سوال: حضرت اویس
قرنی کون تھے ؟
جواب: حضرت خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ
علیہ تابعی بلکہ
خیُر التابعین(تابعین میں بہترین) ہیں ۔ان کا دانت مبارک توڑنے کا واقعہ صحیح سند کے
ساتھ ثابت نہیں ،من گھڑت اوران کی طرف
غلط منسوب ہے ۔یہ بات کہ کیلا ان کے لیے جنت سے آیا تھا یہ بھی غلط
ہے ۔
سوال:
ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ”
الفاظ استعمال کرتے وقت ایسے ہی احتیاط کریں جیسے مچھلی کھاتے وقت کانٹوں سے کرتے
ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے کہ کانٹے تو صرف جسم کو تکلیف دیتے ہیں لیکن الفاظ دِلوں کو چِیر
دیتے ہیں“۔
جواب: اچھی مثال دی ہے ،الفاظ دِلوں کوچِیر دیتے ہیں، چھید
دیتے یعنی دِل میں سوراخ کر دیتے ہیں ۔تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر زبان کا
زخم نہیں بھرتا، اس لیے اپنے الفاظ کا بہت خیال
رکھنا ہوتا ہے ،ایک ہی بات کے لیے دو الفاظ ہوتے ہیں ،وہ الفاظ بولے جائیں جو
سامنے والے کو خوش کر دیں ۔ضرور آئیے گا ،ضرور آنا، دونوں میں پہلے والے الفاظ
بہتر ہیں ۔
سوال: کیا مچھلی(Fish)
کھانی چاہئے ؟
جواب:جی ہاں!یہ اللہ پاک کی نعمت ہے۔جنّتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کا کنارا ہو گا، مچھلی کا سر (Head)بھی کھانا چاہئے، اس کے کھانےسے دِماغ تیز ہوتاہے۔
بنگلہ دیش اور کیرالہ(ہند) کے لوگ مچھلی کا سر کھاتے ہیں ،یہ
دنیا بھرمیں ہوتے ہیں اور بہت ہوشیار(ذہین) ہوتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”
علم و عمل کی باتیں (قسط :3) “ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”علم و عمل کی
باتیں (قسط :3) ‘‘پڑھ یا سُن لے اُس کو علمِ دین و نیک اعمال سے مالا
مال کر دے۔ اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب
فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میرپورخاص میں 23 ستمبر کو ”اجتماعِ غوثیہ“ کا
انعقاد، خلیفۂ امیرِ اہلسنت کا خصوصی بیان ہوگا
عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی نے سندھ
کے شہر میرپورخاص کے عاشقانِ رسول کے لیے عظیم الشان ”اجتماعِ غوثیہ“ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔انشاء اللہ الکریم یہ
عظیم الشان اجتماع 23 ستمبر 2026ء بروز بدھ مہاجر کالونی گراؤنڈ میرپورخاص میں منعقد ہوگا۔
پروگرام کے شیڈول کے مطابق اجتماع کا باقاعدہ
آغاز رات 9:30 بجے تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے ہوگا جس کے بعد رات تقریباً 11:00 بجے خلیفۂ امیرِ
اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی کا خصوصی بیان ہوگا۔
ادب
انسان کی عظمت کا باعث ہے جبکہ بے ادبی محرومی اور نقصان کا سبب بنتی ہے۔ عاشقانِ
رسول کی ذہن سازی کرنے اور انہیں بے ادبی سے بچانے کے لیے امیرِ اہلِ سنت بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نے
اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”بے ادبی کی سزا“ پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے
اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ”بے ادبی کی سزا“ پڑھ یا سُن لے اُس کو اور اس کی آنے والی نسلوں
کو اولیائے کرام کی بےادبی اور بےادبوں کے
شَر سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بےحسا ب بخش دے۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
کم
بولنے اور خاموشی اختیار کرنے کی عادت انسان کی شخصیت، عقل اور سماجی زندگی کے لیے
انتہائی فائدے مند ہے۔ کم بولنے والے
انسان کا وقار اور رعب قائم رہتا ہے۔ ایسا شخص جب بھی بولتا ہے، لوگ اس کی بات کو
سنجیدگی اور توجہ سے سنتے ہیں۔ زیادہ بولنے سے انسان اکثر غیبت، جھوٹ، لاحاصل بحث
اور دوسروں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ کم بولنے سے زبان کی ان تمام آفات سے
حفاظت رہتی ہے۔ فضول گفتگو انسان کی ذہنی اور جسمانی توانائی ضائع کرتی ہے۔ کم بول
کر انسان اپنے وقت اور طاقت کو مثبت اور مفید کاموں میں لگا سکتا ہے۔ خاموشی انسان
کو اندرونی سکون فراہم کرتی ہے اور اسے سوچنے، غور و فکر کرنے اور فیصلہ سازی میں
حکمت پیدا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
کم
بولنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار
قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ
رسول کو اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”کم بولنے کے فائدے“
پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے
عطار
یااللہ
پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ” کم بولنے کے فائدے “پڑھ
یا سن لے اُس کو کم بولنے اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دےاور ماں باپ اور
خاندان سمیت اس کی بے حساب بخشش فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
عاشقانِ رسول کے علم میں اضافہ کرنے اور انہیں دینی
معلومات سے آراستہ کرنے کے لیے ہر ہفتے بانیِ
دعوتِ اسلامی، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری
رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ عاشقانِ رسول کو ایک رسالہ پڑھنے / سننے کی
ترغیب دلاتے ہیں۔
اس ہفتے
3 ستمبر 2026ء کو امیرِ اہلِ سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے 16
صفحات پر مشتمل رسالہ ”علم و عمل کی باتیں (قسط 3)“پڑھنے / سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یارب
کریم!جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ”علم و عمل کی باتیں (قسط 3)“پڑھ
یا سُن لے اُس کو علمِ دین و نیک اعمال سے مالا مال کردے۔اُس کو ماں باپ اور خاندان
سمیت جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک
سے کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
29 اگست 2026ء بمطابق 16 ربیع الأول 1448ھ کو
منعقدہ اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے فیضانِ مدینہ کراچی میں
بالمشافہ شرکت کی جبکہ کثیر عاشقانِ رسول نے مدنی چینل کے ذریعے براہِ راست (Live) شمولیت اختیار کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران مدنی چینل اور فیضانِ
مدینہ کراچی میں موجود عاشقانِ رسول کی جانب سے مختلف دینی، اخلاقی، معاشی اور شرعی
موضوعات پر سوالات پیش کیے گئے۔ بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ
مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے
تمام سوالات کے حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے ۔
بعض
سوال وجواب
سوال:
اِمامِ اہلسنت ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں
مشکل ہیں، ہم ان سے کس طرح فائدہ حاصل کر
سکتے ہیں ؟
جواب:
جس کو اچھی اُردو آتی ہو تو اُسے پڑھنا قدرے آسان ہے ،بہارِ شریعت میں لکھا ہے کہ اسے آسان
کر کے لکھا گیا ہے پھر بھی جو مشکل لگے
اسے علما سے پوچھ لیا جائے، اسی طرح فتاویٰ رضویہ میں بھی جو مشکل ہو ، اُسے علمائے کرام سے
پوچھ لیا جائے۔
سوال: ایک مبلغ کا معاشرتی انداز کیسا ہونا چاہیے ؟
جواب:عوا م کے دُکھ سُکھ میں حصہ ضرور لینا ہو گا ،لوگوں کے دلوں میں اُترنا ہے تو ان کے دُکھ میں ساتھ دیں۔ میں نے بہت
جنازے پڑھائے ہیں ،جا جا کر تعزیتیں کی ہیں ۔جن کو نہیں جانتا تھا ان کا بھی کوئی فوت ہوتا تو تعزیت کرتا، ایصالِ
ثواب کرتا، مریضوں کو دم کرنے کے لیے ان کے گھروں میں جاتا۔ نیکی کی دعوت دینی ہے
تو یہ سب کچھ کرنا ہو گا، عوام سے ملنا
جلنا ، ان کے ساتھ مل جُل کر کام کرنا
ہوگا۔دعوتِ اسلامی کے پاس ایسا کرنے والے کئی ہیرے ہیں ۔مگر بھاری تعداد ہے جو
عیادت و تعزیت میں کمزور واقع ہوئی ہے ۔نفسیات کے مطابق مریض کو پوچھنا چاہیے،زیادہ سوالات کر کے تنگ بھی نہ
کیا جائے ۔
سوال:
اگر کوئی نیکی کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کر سکے توکیا ثواب ملے گا ؟
جواب: نیت کا ثواب ملے گا ،عمل
کا نہیں ۔
سوال:
کیا نیکیوں میں چھپا ہوا کوئی گناہ بھی
ہوتا ہے ؟
جواب: نیکیوں میں چھپا ہوا گناہ رِیا ہے۔
یعنی عبادت یا نیکی اس نیت سے کرنا کہ دیکھنے والوں کے دل میں میری عزت پیدا ہو گی
یا وہ مجھے کچھ دیں گے۔ لہٰذا ہر عبادت اور نیکی صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے کرنی چاہیے۔ حُبِ جاہ یعنی شہرت
اور عزت کی خواہش و محبت، رِیا کے لیے ایک
گیٹ(Gate) کی مانند ہے۔ جب دل میں حُبِ جاہ پیدا ہوتی ہے تو
انسان رفتہ رفتہ رِیا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے جب بھی اپنے نیک اعمال کا
اظہار کرنے لگیں تو فوراً الرٹ ہو جائیں کہ کہیں اس میں رِیا(دِکھاوا)
شامل نہ ہو جائے اور اپنے دل کی نیت کو ضرور جانچ لیں کہ یہ عمل صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے ہے یا لوگوں سے عزت اور تعریف حاصل
کرنے کے لیے۔
سوال: اس سال(1448ھ/2026ء) ربیع الاول کی بارہویں رات کودعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے عظیمُ الشّان اجتماعاتِ میلاد میں بچوں کی ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں کہ نعتِ رسول
صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کے دوران وہ مسلسل آنسو بہار ہے ہیں اور ان پر ایک عجیب
سی کیفیت طاری ہے۔ یہ منظر دیکھ کر دل خوش بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچوں کے دل میں عشقِ رسول کی یہ کیفیت کیسے پیدا ہوئی؟
انہیں اس کی کیا سمجھ ؟
جواب: یہ بچوں کے بہت رِقّت انگیز مناظر ہیں۔ عشقِ رسول کسی کی میراث نہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کا ذکرِ مبارک سن کر بچوں کے دلوں میں بھی محبت
پیدا ہو جاتی ہے۔ بچوں کا اس طرح رونا بھی ان کی سعادت ہے۔ رِقّت
انگیز ماحول، نعت خواں کا اثر اور کلام کا اثر، یہ سب مل کر اپنا کام دکھا رہے
ہوتے ہیں۔ بچے بھی بہت کچھ سمجھتے ہیں اور ان کے بھی جذبات اور احساسات ہوتے ہیں۔
سوال:
دعوتِ اسلامی میں شامل ہونے کے لیے کیا کرنا ہو گا ؟
جواب: دعوتِ اسلامی میں آنے کے لیے کوئی فیس اور فارم نہیں ،ہفتہ
وار اجتماع میں شرکت کریں ،قافلے میں سفر کریں ،ہمارے ہاں یہ نہیں ہے کہ یہ کریں گے تو آپ دعوتِ اسلامی
میں آ سکیں گے۔ یہ تو نیکی کی دعوت ہے ،اس میں مالی تعاون کر کے بھی آپ حصہ لے
سکتے ہیں ۔
سوال:مسواک
کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب:
مسواک کرنے کا معمول بنا لیں ،مسواک پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کی سنت
ہے، آپ صلی
اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم مختلف اوقات
میں مسواک استعمال فرماتے ،علمائے کرام نے
فرمایا ہے کہ جو مسواک کا عادی ہو گا اس کا ایمان پر
خاتمہ ہو گا اور جو افیون کھاتا ہے اس کا خاتمہ بُرا ہونے کا اندیشہ ہے ۔
سوال: درُود و سلام کس طرح پڑھنا چاہیے ؟
جواب:
درُود و سلام کی برکتیں اتنی ہیں کہ کسی اور وظیفے میں کیا ہوں گی، خشوع(مکمل
توجہ،سکون کے ساتھ) اور تصور باندھ کر درُود و سلام پڑھیں تو اس کی اپنی برکتیں ہیں،
اگرچہ ایک ہی بار پڑھیں ۔
سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ”
فرامینِ امیرِ اہلِ سنت“ پڑھنے یا سُننے والوں کو خلیفۂ امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” فرامینِ امیرِ اہلِ سنت“پڑھ یا سُن لے اُسے ان فرامین کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما،
اس کے ظاہر و باطن کو اچھا کر اور اس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبِیّٖن صلَّی
اللہ علیہ و اٰلہٖ و صحبہ وسلَّم
ربیع الاول سے بڑھ کر عشقِ رسول بڑھانے کا کوئی اور موقع نہیں ، مولانا الیاس عطار قادری
دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ
کراچی میں 22 اگست 2026ء بمطابق 8 ربیع الاول 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا
انعقاد کیا گیا۔
اس
مدنی مذاکرے میں ملک بھر سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے بالمشافہ
شرکت کی جبکہ مدنی چینل کے ذریعے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے کثیر عاشقانِ رسول
براہِ راست اس میں شریک ہوئے۔
مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ
اہلَ سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کو حکمت و دانائی سے بھرپور مدنی
پھولوں سے نوازا۔ امیرِ اہلِ سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی
اعتبار سے تربیت فرمائی اور اُن کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد
فرمائے۔
بعض
سوال جواب
سوال:
مسرور کا کیا معنی ہے ؟
جواب: جو خوش ہوتا ہے، اسے مسرور کہا جاتا ہے ۔
سوال: بچوں میں عشق ِرسول
بڑھانے کے لیے گھرکا ماحول کیسا ہونا چاہیئے
؟
جواب:
شاید ربیع الاول سے بڑھ کر عشقِ رسول بڑھانے کا کوئی اور موقع نہ ملے ،اس مبارک مہینے
میں خوشیوں کا سماں ہوتا ہے ،حضور نبیِ کریم صلی
اللہ علیہ واٰلہ وسلم
کے عشق و محبت کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں ،گھر گھر نعتیں پڑھی جاتی ہیں ،نعتوں کے اشعار سُن کر عشقِ رسول کا جذبہ خودبخود پیدا ہوتا ہے،دعوتِ اسلامی کو
بنے قریباً 2 سال ہوئے تھے ،میں مدینۂ منورہ سے ایک چھوٹی چھوٹی بتیوں(Lights) کی لڑی(جھالر)
لایا تھا اور ربیع الاول کے ابتدائی دنوں میں اپنے
گھرکی بالکونی میں اس کو لگایا تھا۔میری
آل(Family) کا ایک چھوٹا
فرد نظر نہیں آ رہا تھا ،تلاش شروع کی ،بالکونی کی جانب پردہ اُٹھا کر دیکھا تو وہ اس لڑی کے ایک بلب کو
چُوم رہا تھا۔ میں نے محبت سے اُسے
اُٹھا لیا اور پوچھا کہ یہ کیا؟ تو وہ
اپنی زبان میں کہنے لگا کہ مدینے کا ہے نا! اس
طرح گھر میں ربیع الاول میں چراغاں کیا جائے تو بچوں کے دلوں میں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی
محبت پیدا ہوتی ہے ۔ربیع الاول کے ان دنوں میں بڑی تر اوٹ ملتی ہےاور خشکی
دُور ہوتی ہے ۔عشقِ رسول کے چشمے دلوں سے
پُھوٹ رہے ہوتے ہیں ۔جو اس کی لذت سے ناآشنا ہے ان کے گھروں میں اندھیرے
ہیں ۔
سوال: قرآنِ
کریم میں اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی
حیاتِ مبارکہ کو اُسوۂ حسنہ یعنی بہترین رول ماڈل قرار
دیا گیا ہے۔ اس کا اثر ہمیں آپ صلی اللہ
علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی آل
یعنی اہلِ بیتِ اطہار(آپ
صلی
اللہ علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم کے گھر والوں) میں بھی نظر آتا ہے۔ ہمیں
اپنی اولاد کو بچپن میں سیرتِ مصطفیٰ کے کن خاص پہلوؤں سے متعارف کروانا چاہیئے تاکہ
اُن کی شخصیت بھی سیرتِ نبوی کے رنگ میں ڈھلنا شروع ہو جائے۔
جواب: پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی سیرت کا ہر پہلو(یعنی ہر حصہ/ہر باب) روشن ہے، بالخصوص بچے جس میں غلطیاں کرتے ہیں ،اس میں ایک یہ
ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ، جھوٹ بولنے سے انہیں اپنے مطلب کی چیز مل جاتی ہے ،
عارضی طور پر فائدے ملتے ہیں ۔یہ سمجھتے کہ جھوٹ بولنا اچھا ہے ،ان کی نفسیات کے مطابق ان کی تربیت کرنی ہو گی ،قبر
و آخرت کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں ،ان کی تربیت اس طرح کی جائے کہ جب یہ سچ بولیں تو انہیں انعام (Prize)
دیا جائے ۔انہیں یہ بتایا جائے کہ اللہ پاک جھوٹ بولنے سے ناراض ہوتا ہے ، آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم بھی
ناراض ہوتے ہیں۔یہ باتیں انہیں کچھ نہ کچھ سمجھ آئیں گی ۔اسی طرح نصیحت آموز واقعات سنائیں جائیں ۔ان کی عقل کے مطابق
کہانی سنائی جائی ۔(توجہ
فرمائیں !!! بچوں کی بہترین تربیت سے متعلق مکتبۃ المدینہ کے یہ
رسائل حاصل کریں مثلاً❁ بچوں کے لئے
50 درسِ حدیث شریف❁ جھوٹا
چور❁ بیٹا
ہوتو ایسا❁ بچوں
کی سچی کہانیاں❁ اچھے بچوں کی خصوصیات❁ بچوں کی اخلاقی تربیت❁ بچوں کو اسلامی عقیدے
سکھائیے، وغیرہ)۔
سوال: انسان
کو مٹی سے ،فرشتوں کو نور سے اورجنات کو آگ سے بنایا گیا ہے۔ روح کو کس سے بنایا
گیا ہے ؟
جواب: روح، اللہ پاک کے حکم کُنْ(
یعنی ہوجا) سے بغیر کسی مادہ کے پیدا کی گئی ہے ۔روح
اللہ پاک کے حکم سے ہے ،روح ایک لطیف وجود ہے ۔
سوال: قبر کے سوالات میّت کی روح سے ہوتے ہیں یا جسم سے بھی ؟
جواب: روح
کا تعلق جسم کے ساتھ رہتا ہے ،قبر کےسوالات روح سے ہی ہوتے ہیں ۔
سوال: جب کوئی فوت ہوتا ہے تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ فُلاں
بندہ قضائے
اِلٰہی سے
وفات پا گیا ہے اور کچھ کہتے ہیں فلاں بندہ رضائے اِلٰہی سے وفات پا گیا ہے درست کیا ہے ؟
جواب: دونوں درست ہیں ۔
سوال:
ربیع الاول کے کیا معنی ہیں ؟
جواب:ربیع معنی بہار، اوّل معنی پہلی یعنی پہلی بہار، جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو موسم وغیرہ کو دیکھ کر
نام رکھ لیے گئے ،ان دنوں بہار کا موسم تھا اس مہینے کو ربیع الاول
کہہ دیا گیا ۔
سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ”اربعینِ
عطار(قسط4 ) “ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یااللہ پاک !جو کوئی 44 صفحات کا رسالہ ”اربعینِ عطار(قسط4 ) “ پڑھ یا سُن لے اُسے خواب
میں اپنے سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کا جلوہ دکھا، اُس کو ایمان پر مدینے میں موت عطا فرما کر ماں باپ اور
خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وصحبہ وسلَّم
شائقینِ علمِ دین کی معلومات میں اضافہ کرنے اور
انہیں امیرِ اہلِ سنت کے فرامین سے مستفید ہونے
کے لیے خلیفۂ امیر اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ
العالی نے اس ہفتے 16 صفحات پر
مشتمل رسالہ ” فرامینِ امیرِ اہلِ سنت “پڑھنے اور سننے کی ترغیب دلائی ہے۔
اس موقع پر خلیفۂ امیر اہلسنت مدظلہ العالی نے اس ہفتہ وار رسالے کو پڑھنے / سننے والوں کے لیے اپنی
خصوصی دعاؤں کا بھی اظہار کیا اور ان کی دینی و دنیوی ترقی، ایمان کی سلامتی اور
برکات کے لیے پرخلوص دعا فرمائی ہے۔
دعائے خلیفۂ امیر اہلسنت
یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہ ” فرامینِ امیرِ اہلِ
سنت “پڑھ یا سُن لے اُسے ان
فرامین کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اس کے ظاہر و باطن کو
اچھا کر اور اس کو ماں باپ سمیت بےحساب بخش دے۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
ہر ہفتے کی طرح اس ہفتے بھی عاشقانِ رسول کے دینی
علم میں اضافے کرنے اور اُن کی اخلاقی تربیت
کے لیے بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا اابو بلال محمد الیاس
عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے 44 صفحات پر مشتمل رسالہ ” اربعینِ عطار (قسط 4) “پڑھنے اور سننے کی ترغیب دلائی ہے۔
امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اس ہفتہ وار رسالے کا مطالعہ کرنے اور اسے سننے والے
تمام افراد کو اپنی خصوصی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
واضح رہے کہ امیرِ اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے ہر
ہفتے ایک دینی و اصلاحی رسالے کے مطالعے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس کا بنیادی مقصد
عوام الناس میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینا اور اسلامی تعلیمات کی آگاہی عام
کرنا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ پاک !جوکوئی 44 صفحات رسالہ پڑھ یا سُن لے اُسے
خواب میں اپنے سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کا جلوہ دکھا اُس کو ایمان پر مدینے میں موت عطا فرماکر
ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بےحساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
15اگست کو فیضان مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے
کا سلسلہ، امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائیں
اسلام
کے امن و سلامتی پر مبنی پیغام کو عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی بیداری
کے لیے کوشاں عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کا تربیتی سفر پوری وُسعت کے ساتھ
جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 15اگست 2026ء (02ربیع
الاوّل 1448ھ)
کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا
گیا۔
اس
بابرکت نشست کی باقاعدہ شروعات قرآنی آیات کی تلاوتِ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و احترام سے نذرانۂ نعت پیش کرکے کی
گئی۔ تقریب کا اصل حُسن و بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا
ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی
موجودگی تھی۔
مذاکرے
کا سب سے اہم اور حلم و حکمت سے لبریز حصہ سوال و جواب کا سیشن تھاجس میں امیرِ
اہلِ سنّت نے اجتماع میں موجود افراد اور آن لائن موصول ہونے والے دینی، فقہی اور
تربیتی سوالات کے معقول و دلنشین جوابات عطا فرمائے۔ اس دلکش گفتگو کے دوران انہوں
نے اصلاحِ معاشرہ، والدین سے حسنِ سلوک اور دینی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لینے کے حوالے سے اہم حکمتیں اور نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:
سوال:جلوسِ میلادمیں لنگرِ میلاد(کھانے پینے کی چیزیں) کس طرح
لوگوں تک پہنچائیں؟
جواب:
جلوس ِمیلاد میں لنگرِ میلاد( یعنی کھانے پینے کی چیزیں)لُٹانے یا پھینکنے کے بجائے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق ضائع نہ ہو۔
سوال: بالخصوص نوجوان نسل میں عدمِ برداشت اور
غُصّہ عام ہے، اس کا کیا حل ہے ؟
جواب: غُصّہ تو ایک دن کے بچے کو بھی آتا ہے ،وہ رو کر اپنے
غُصّے کا اظہار کرتا ہے۔ ،بڑھاپے میں غُصّہ بڑھ جاتا ہے، بہر حال ہر عمر میں غُصّہ
آتا ہے ،غُصّہ آنا مسئلہ نہیں ،بلکہ اسے ٹھنڈا کس طرح کرنا ہے(یعنی غُصّہ
کنٹرول کیسے کرناہے؟)، یہ اہم بات ہے ،جہنم میں ایک دروازہ ہے جو اُن لوگوں کے لیے خاص ہے(یعنی اس کے ذریعے وہ
جہنم میں داخل ہوں گے ) جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔غُصّہ آنا بعض اوقات نجات کا باعث ہوتا ہے جیسے غُصّہ آیا اور اللہ پاک کی رضا کے
لیے اسے قابو کر لیا تو بندہ ثواب کا حقدار ہو جاتا ہے ،یہ نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے ۔بہترین
گھونٹ غُصّے کا گھونٹ پینا ہے ۔یہ محاورہ
ہے ،یہ کوئی مائع چیز نہیں کہ اسے بندہ پانی کی طرح پی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے
کہ بندہ غُصّے کو کنٹرول کر لے ۔ غُصّہ پینے والے اللہ پاک کے پیارے ہیں ۔غُصّہ
آئے تو بندہ وضو کر لے کہ غُصّہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور
پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفی( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ہے:اللہ پاک کے نزدیک غُصّے کا گھونٹ
پینے سے زیادہ کسی گھونٹ کا ثواب نہیں جسے بندہ اللہ پاک کی رضا
کے لئے پی لے۔( ابن ماجہ، 4/463، حدیث 4189)
مکتبۃ المدینہ کے رسالے غُصّے
کا علاج کا مطالعہ کریں اور اس سے
درس دیں،بالخصوص جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے
ہوں وہاں یہ رسالہ تقسیم کریں اور مکمل
پڑھنے کی ترغیب دِلائیں ۔
سوال: ظلم سے بچنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب: ظلم گناہِ کبیرہ حرام اور
جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،ظلم قیامت
کا اندھیرا ہے، ظلم سے بچیں ۔
سوال: اعلیٰ حضرت اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا
خان رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں گھر میں کس لقب سے پکارا جاتا تھا
؟
جواب: اَمّن میاں ۔ گھر میں ایک بچہ اَمّن میاں
بھی ہونا چاہئے تاکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔
سوال: مدنی
پرچم کی اب کیا تنظیمی اصطلاح ہے ؟
جواب: میلادی
جھنڈا۔
سوال: بچوں
کے ساتھ مذاق کرنا کیسا؟
جواب:تابعی بزرگ حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کا
فرمان ہے:’’ بچوں کے
ساتھ زیادہ مذاق نہ کرو ،ورنہ ان کے دل سے تمہاری عزت جاتی رہے گی ۔‘‘بچوں سے زیادہ فری نہ ہوں۔(ان سے قدرے سنجید ہ رہیں) ، ورنہ
مسائل ہو سکتے ہیں ۔
سوال: اچھی ملازمت
پانے کے لیے کوئی روحانی علاج بتا دیں ؟
جواب:سورۂ مزمل شریف تین بار (اول آخر 11 بار درود شریف) پڑھئے پھر
حلال روزی اور اچھی نوکری ملنے کے لئے دعا کیجئے۔(تا حصول مراد روزانہ بعد نماز عشاء)
سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” اچھا بولنے سُننے کے فائدے “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”اچھا بولنے سننے کے فائدے “ پڑھ یا سُن لے، اس کو اچھا بولنے اور سننے کی توفیق عطا
فرما، اُس کا ظاہر و باطن اچھا کر اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم
15اگست کو فیضان مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے
کا سلسلہ، امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائیں
اسلام
کے امن و سلامتی پر مبنی پیغام کو عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی بیداری
کے لیے کوشاں عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کا تربیتی سفر پوری وُسعت کے ساتھ
جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 15اگست 2026ء (02ربیع
الاوّل 1448ھ)
کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا
گیا۔
اس
بابرکت نشست کی باقاعدہ شروعات قرآنی آیات کی تلاوتِ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و احترام سے نذرانۂ نعت پیش کرکے کی
گئی۔ تقریب کا اصل حُسن و بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا
ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی
موجودگی تھی۔
مذاکرے
کا سب سے اہم اور حلم و حکمت سے لبریز حصہ سوال و جواب کا سیشن تھاجس میں امیرِ
اہلِ سنّت نے اجتماع میں موجود افراد اور آن لائن موصول ہونے والے دینی، فقہی اور
تربیتی سوالات کے معقول و دلنشین جوابات عطا فرمائے۔ اس دلکش گفتگو کے دوران انہوں
نے اصلاحِ معاشرہ، والدین سے حسنِ سلوک اور دینی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لینے کے حوالے سے اہم حکمتیں اور نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:
سوال:جلوسِ میلادمیں لنگرِ میلاد(کھانے پینے کی چیزیں) کس طرح
لوگوں تک پہنچائیں؟
جواب:
جلوس ِمیلاد میں لنگرِ میلاد( یعنی کھانے پینے کی چیزیں)لُٹانے یا پھینکنے کے بجائے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق ضائع نہ ہو۔
سوال: بالخصوص نوجوان نسل میں عدمِ برداشت اور
غُصّہ عام ہے، اس کا کیا حل ہے ؟
جواب: غُصّہ تو ایک دن کے بچے کو بھی آتا ہے ،وہ رو کر اپنے
غُصّے کا اظہار کرتا ہے۔ ،بڑھاپے میں غُصّہ بڑھ جاتا ہے، بہر حال ہر عمر میں غُصّہ
آتا ہے ،غُصّہ آنا مسئلہ نہیں ،بلکہ اسے ٹھنڈا کس طرح کرنا ہے(یعنی غُصّہ
کنٹرول کیسے کرناہے؟)، یہ اہم بات ہے ،جہنم میں ایک دروازہ ہے جو اُن لوگوں کے لیے خاص ہے(یعنی اس کے ذریعے وہ
جہنم میں داخل ہوں گے ) جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔غُصّہ آنا بعض اوقات نجات کا باعث ہوتا ہے جیسے غُصّہ آیا اور اللہ پاک کی رضا کے
لیے اسے قابو کر لیا تو بندہ ثواب کا حقدار ہو جاتا ہے ،یہ نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے ۔بہترین
گھونٹ غُصّے کا گھونٹ پینا ہے ۔یہ محاورہ
ہے ،یہ کوئی مائع چیز نہیں کہ اسے بندہ پانی کی طرح پی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے
کہ بندہ غُصّے کو کنٹرول کر لے ۔ غُصّہ پینے والے اللہ پاک کے پیارے ہیں ۔غُصّہ
آئے تو بندہ وضو کر لے کہ غُصّہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور
پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفی( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ہے:اللہ پاک کے نزدیک غُصّے کا گھونٹ
پینے سے زیادہ کسی گھونٹ کا ثواب نہیں جسے بندہ اللہ پاک کی رضا
کے لئے پی لے۔( ابن ماجہ، 4/463، حدیث 4189)
مکتبۃ المدینہ کے رسالے غُصّے
کا علاج کا مطالعہ کریں اور اس سے
درس دیں،بالخصوص جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے
ہوں وہاں یہ رسالہ تقسیم کریں اور مکمل
پڑھنے کی ترغیب دِلائیں ۔
سوال: ظلم سے بچنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب: ظلم گناہِ کبیرہ حرام اور
جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،ظلم قیامت
کا اندھیرا ہے، ظلم سے بچیں ۔
سوال: اعلیٰ حضرت اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا
خان رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں گھر میں کس لقب سے پکارا جاتا تھا
؟
جواب: اَمّن میاں ۔ گھر میں ایک بچہ اَمّن میاں
بھی ہونا چاہئے تاکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ
علیہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔
سوال: مدنی
پرچم کی اب کیا تنظیمی اصطلاح ہے ؟
جواب: میلادی
جھنڈا۔
سوال: بچوں
کے ساتھ مذاق کرنا کیسا؟
جواب:تابعی بزرگ حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کا
فرمان ہے:’’ بچوں کے
ساتھ زیادہ مذاق نہ کرو ،ورنہ ان کے دل سے تمہاری عزت جاتی رہے گی ۔‘‘بچوں سے زیادہ فری نہ ہوں۔(ان سے قدرے سنجید ہ رہیں) ، ورنہ
مسائل ہو سکتے ہیں ۔
سوال: اچھی ملازمت
پانے کے لیے کوئی روحانی علاج بتا دیں ؟
جواب:سورۂ مزمل شریف تین بار (اول آخر 11 بار درود شریف) پڑھئے پھر
حلال روزی اور اچھی نوکری ملنے کے لئے دعا کیجئے۔(تا حصول مراد روزانہ بعد نماز عشاء)
سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” اچھا بولنے سُننے کے فائدے “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”اچھا بولنے سننے کے فائدے “ پڑھ یا سُن لے، اس کو اچھا بولنے اور سننے کی توفیق عطا
فرما، اُس کا ظاہر و باطن اچھا کر اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami