صوفی
محمد مقصود حسین قادری نوشاہی اویسی صاحب 28 رمضان المبارک 29 ویں شب نمازِ تراویح ادا کرکے گھر واپس تشریف لا رہے
تھے کہ بارش کے باعث پاؤں پھسل جانے سے گر گئے جس کے نتیجے میں ان کے بازو کی ہڈی میں فریکچر ہو گیا تھا علاج کے بعد بھی
مکمل آرام نہیں آسکا۔
حادثے
کی خبر ملنے پر شیخ طریقت امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے ان سے
عیادت کی اور انہیں صبر کی تلقین کرتے
ہوئے مدنی پھول عطا کئے اور دعاؤں سے نوازا۔
امیر اہلسنت کا پیغام
نحمدہ
ونصلی ونسلم علیٰ خاتم النبیین
غم کی
وجہ سے گناہ مٹتے ہیں:
ام
المؤمنین حضرتِ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا:
”جب
بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے پاس گناہ مٹانے والا عمل نہیں ہوتا، تو
اللہ پاک اسے غم میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ اس کے گناہ مٹا دے۔“ (حوالہ: مشکاۃ المصابیح، جلد پہلی، صفحہ 302،
حدیث نمبر 1580)
حضرت
علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک
کے تحت فرماتے ہیں: طبرانی اور حاکم کی روایت میں
ہے کہ اللہ غمگین دل کو پسند کرتا ہے۔ اسی لئے صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ رنج و
غم میں درود شریف زیادہ پڑھو، کیونکہ اکثر رنج و غم گناہوں کی وجہ سے آتے ہیں اور
درود شریف کی برکت سے گناہ مٹتے ہیں۔ جب گناہ گئے تو ان کا سامان (یعنی
رنج و غم) بھی
گیا۔ (حوالہ:
مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 429)
دعائے امیر اہل سنت
الحمد
للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین
یا رب
المصطفیٰ جل
جلالہ وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! صوفی محمد مقصود حسین قادری نوشاہی
اویسی کو ہاتھ کے فریکچر سے شفائے کاملہ، عاجلہ، نافعہ عطا فرما۔ ان کو عافیت و
دینی خدمت و سنتوں اور خوشیوں بھری اور گناہوں
سے پاک لمبی زندگی عطا کر۔
یا
ربِ باری! تکلیفیں، پریشانیاں ان کے لئے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائیں۔ یا
ربِ غفار! اے مغفرت کرنے والے پروردگار! ان کی، ان کے ماں باپ کی اور سارے خاندان
کی بے حساب مغفرت فرما اور ساری امت کو بخش دے۔
اللہم
اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
گفتگو
صرف لفظوں کا تبادلہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، ظرف اور تربیت کا آئینہ ہوتی ہے۔
گفتگو میں مصلحت، شائستگی اور دوسروں کے احترام کا پہلو نمایاں ہو۔
دانشمندوں
کا قول ہے کہ ”پہلے تولو، پھر بولو“ ۔ جب ہم الفاظ کے انتخاب میں احتیاط
برتتے ہیں، تو ہم نہ صرف غلط فہمیوں کے دروازے بند کرتے ہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس کی
بھی حفاظت کرتے ہیں۔ بے جا بولنا اور بغیر سوچے سمجھے تبصرہ کرنا اکثر پشیمانی کا
باعث بنتا ہے جبکہ نپے تلے الفاظ انسان کے
وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔
عاشقانِ
رسول کو محتاط گفتگو کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ
مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے
16 صفحات کا رسالہ ”محتاط گفتگو کیجئے“ پڑھنے / سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ” محتاط گفتگو کیجئے “ پڑھ
یا سن لے اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اور اعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب فرمااور جنت
الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ عاشقان ِ
رسول کے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔
اسی سلسلے میں 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال
المکرم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام
کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے کیا گیا۔
تلاوت و نعت کے بعد براہِ راست اور بذریعہ مدنی
چینل سوالات کا سلسلہ ہوا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ
اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”دوست ایسا ہونا چاہیئے جو آپ
کے سامنے اللہ پاک کا ذکر کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ کا ذکر کرے“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:بہت پیاری بات ہے ،ایسے کی صحبت اختیار کی جائے جو نیک ہو، جسے دیکھ کر خدا یاد آئے اور وہ آپ کے لئے اللہ
پاک سے دعا کرے ۔
سوال: جب بندہ گفتگو
کرتا ہے تو اس کا نیک ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ،کیا یہ درست ہے ؟
جواب:یہ درست بھی ہے اور نہیں بھی ۔بعض لوگ نیک ہوتے ہیں اور ان کی گفتگو سے ان کا نیک ہونا ظاہر ہوتا ہے اور بعض گفتار کے غازی ہوتے ہیں(یعنی باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن
عمل کچھ بھی نہیں ہوتا) ،کوئی تصوف
کی کتاب پڑھ لیتے ہیں اور نیکوں والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،مگر وہ نیک ہوتے نہیں ،ایسوں کی تو گلی میں بھی نہیں
جانا چاہیئے (یعنی ایسوں
کی صحبت سے بچنا چاہئے)۔
سوال:بچے کو بچپن میں کیا سکھایا جائے ؟
جواب:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :اِفْتَحُوْا عَلٰی صِبْیَانِکُمْ اَوَّلَ کَلِمَةٍ بِـلَآ
اِلٰہَ اِلَّااللہُ یعنی اپنے بچوں
کو پہلی بات لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ سکھاؤ ۔ (شعب الایمان:8649) آپ کا بچہ جب بولنے لگے تو سب سے پہلے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ بولے ۔اس کے لئے اس کے سامنے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھتے رہیں ،پہلے مائیں لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کی لوری دیتی تھیں
،اَب پنگھوڑے(جُھولے) میں میوزک لگا دیتے ہیں ،ایسا نہ کیا جائے بلکہ
بچے کے سامنے کلمہ شریف(لآ اِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ) پڑھتے رہیں۔ اس کے علاوہ
آپ سب بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتے رہیں۔میں بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مرتے وقت بھی میرا آخری کلام کلمہ شریف ہو۔
سوال:پہلے دعا میں دل لگتا تھا،خشوع و خضوع نصیب ہوتا تھا ،اب ایسا نہیں،کیا
کروں ؟
جواب:ایسے شخص کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کرے اوردُعا میں رونے کی کوشش کرے کہ
نیک لوگوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔یادرکھئے!جو گناہوں میں مصروف رہتا ہے اسے
عبادت میں لذت نصیب نہیں ہوتی ۔
سوال:شوال شریف کی کیا
خصوصیات ہیں ؟
جواب:اس مہینے کا
پہلا دن عیدالفطر ہے جو بہت بابرکت ہے ،اس
میں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی عام مغفرت ہوتی ہے۔حدیثِ پاک کی
مشہور کتاب صحیح بخاری کے مصنف امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا
یوم عرس بھی اسی دن(یعنی پہلی شوال کو ) ہے ۔
٭شوال میں 6 روزے(شش عید) رکھے
جاتے ہیں ،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے راوی ، کہ رسول اﷲ صلی
اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے
رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا،
جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“۔( المعجم الاوسط، ج6، ص234، باب المیم، الحدیث: 8622)
٭ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عیدالفطر کے بعد6روزے رکھ
لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے 10ملیں گی تو
ماہِ رمضان کا روزہ 10مہینے کے برابر ہے اور ان 6دنوں کے بدلے میں 2 مہینے تو پورے
سال کے روزے ہوگئے“۔ (السنن
الکبری للنسائی، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، ج2، ص162۔163، الحدیث:
2860 ۔ 2861)
٭شوال میں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی یعنی یہ رسولِ
کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر آئیں۔15 شوال کو سَیِّدُالشَّہَدَاء(شہیدوں کے سردار) حضرت امیر
حمزہ رضی اللہ عنہ
اوردیگرشہدائے اُحد کا یوم عرس ہے ۔
سوال:علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
جواب:علم نافع کا مطلب ہے: نفع دینے والا علم ۔بعض دنیاوی علم بھی نفع دیتے ہیں مگر تمام
دینی علوم نفع دینے والے ہوتے ہیں، اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ علمِ نافع وہ ہوتا ہے جو دل میں اثر کرے اور دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت پیدا کرے، جب دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت ٹھہر جائے تو بندہ نیک اعمال کی طرف رغبت کر لیتا ہے ۔
سوال:عالمِ دین کی کیا شان ہے؟
جواب:عالمِ دین کی بڑی شان ہے،اس کے لئے سمندر میں مچھلیاں
اورزمین میں چیونٹیاں دُعا کرتی ہیں ،جب وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے چلتا
ہے تو فرشتے اس کے لئے پر بچھاتے ہیں ،عالمِ دِین کو دیکھنا عبادت ہے ۔ہر گھر میں
کم از کم ایک عالم اور ایک عالمہ ہونے چاہئیں ،یہ والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے
اور آخرت میں جنت میں داخلے کا سبب بنیں
گے ،ان شآء اللہ الکریم۔دیگر اسلامی بھائی بھی عالم بنیں ،نہیں بن سکتے تو جتنوں کو ہو سکے جامعۃ المدینہ
میں داخلہ دلوائیں ،اگر ہو سکے تو مجلس جامعۃ المدینہ سے مشورہ کر کے کسی طالب علم کا خرچہ اٹھا لیں ۔ہراسلامی بھائی کم از کم ایک
اسلامی بھائی کو جامعۃ المدینہ میں ضرور
داخل کروائیں اور فالواپ کریں ۔پوچھتے رہیں ،توجہ رکھیں تاکہ وہ چھٹیاں نہ کرے ۔آج
دورہ حدیث والے بھی جمع ہیں ،آپ سب بھی کوشش کریں ۔ اسلامی بہنیں اپنے محارم اور دیگر اسلامی بہنوں
کوتیار کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل
کروائیں ۔علمِ دین عام ہو گیا تو معاشرے کی اصلاح ہو گی اور نیکیوں کا دور دورہ ہو
جائے گا ۔
حدیثِ
پاک میں ہے:اِنَّ
الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ
یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا، نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔( ترمذی ،4 /308، حدیث:2679)مشہور مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب
ثواب کے حقدار ہیں۔(مرآۃالمناجیح،۱ /۱۹۴بتغیر قلیل)سب مل کر زور لگائیں
اور اس سال دُنیا بھرکے جامعۃ المدینہ(بوائز،گرلز) میں 21ہزارطلبہ و طالبات کو داخل
کروائیں ۔ مدرسۃ المدینہ میں اس مرتبہ جتنے حافظ بنے ہیں ان سب پرقاری صاحبان اور
اسلامی بھائی انفرادی کوشش کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔قاری صاحبان خود
بھی عالم بنیں اور حفاظ کو بھی اس کے لیے تیار کریں ۔ حافظِ قرآن اچھا عالمِ دِین بنتا ہے ۔
سوال:معاشرے میں دوسروں کا احساس کم ہے، لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے وہاں لوگ ایسے کام نہیں کرتے
جس سے دوسروں کوتکلیف ہو، البتہ قانون خاموش بھی ہو تو دینی تعلیمات موجود ہیں
کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ کسی کو تکلیف ہو ۔حدیث پاک میں ہے: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو
گے۔( بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)ایک اور حدیث پاک میں ہے :مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 654، حدیث: 6942 )کسی کو شر نہ پہچانا جنت میں لے جانے والا عمل
ہے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” نیک اعمال پراستقامت پانے کے طریقے“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب:یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال
پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لے، اُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں
باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
استقامت بہت بڑی نعمت ہے، بظاہر چھوٹا نظر آنے
والا مگر مستقل (یعنی ہمیشہ) کیا جانے والا نیک عمل اللہ عزوجل زیادہ پسند ہے جیساکہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی :اللہ پاک کے نزدیک زیادہ
پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ فرمایا:”وہ عمل جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو“۔(بخاری، 4/ 237، حدیث:6465)
لوگوں کو نیک اعمال کی ترغیب دلانے کے لئے اس
ہفتے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے عاشقانِ رسول کو 16 صفحات کا رسالہ ”نیک
اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے /
سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربِّ کریم!جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لےاُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں
باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں
حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمین
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
28 مارچ 2026ء بمطابق 9 شوال 1447ھ کی شب
معمول کے مطابق دعوتِ اسلامی کے عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں کراچی
کے مقامی عاشقانِ رسول نے براہِ راست جبکہ بیرونِ شہر اور
بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
تلاوتِ قرآن اور نعت شریف سے مدنی مذاکرے کا آغاز کرنے کے بعد عاشقانِ رسول کی جانب سے
سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی
حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال و جواب
سوال: بچوں کو گلی محلے میں کھیلنے کے لئے بھیجنے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:گلی محلے کا ماحول عموماً ٹھیک نہیں ہوتا، اس میں
تربیت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ گھر میں کھیلنے کا سامان ہونا چاہیئے تاکہ اسے حسرت نہ
ہو۔ بچوں کو کھیلنے سے منع نہ کیا جائے کہ طبی طور پر اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ اسی صور ت میں ہو سکے گا کہ شروع سے ہی اسے
گھر میں رکھا جائے اور گھر کا ماحول بھی اچھا ہو۔ بچپن سے ایسی عادت ڈالیں گے تو ویسا ہی ہو گا۔ گھر میں بھی حتی الامکان موبائل سے دُوررکھیں
۔مگر شاید ہی کوئی گھر اس سے بچا ہو۔ موبائل نے بچوں بلکہ بڑوں کو بھی تباہی کے
دھانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔”بہر
حال بُری صحبت بُرا پھل لاتی ہے، اس سے بچانا ضروری ہے“ ۔
سوال:بچوں کو سمجھانے کا انداز کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:بچوں کوان کے انداز میں سمجھائیں گے تو یہ سمجھیں
گے، مشکل الفاظ استعمال کریں گے تو انہیں سمجھ نہیں آئے گی۔
سوال:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا
یومِ ولادت کون سا ہے؟
جواب:میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا
یومِ ولادت 10شوال ہے۔اس سال پیر(Monday) کو 10 شوال (30-03-2026) ہے ،اس دن
روزہ رکھ کر یومِ ولادت منایا جائے اور اس روزے کا ثواب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو
ایصال کیا جائے ۔
سوال:مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سے عمرے کی اجازت مانگی تو آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے کیا فرمایا؟
جواب:نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے اجازت دیتے ہوئےفرمایا:أَشْرِكْنَايَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ لاَ تَنْسَنَااے میرے بھائی !اپنی دُعا میں ہمیں بھی شامل
رکھنا، بھُولنا نہیں ۔(سنن ترمذی
،5/559)حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس
بات کو یاد کر کے لطف اٹھاتے تھے۔
سوال:بچوں کو کھلانے پلانے میں کیا احتیاط کریں؟
جواب:بچوں کو بسکٹ ،ٹافیوں اور دیگر بازاری چیزوں سے
بچائیں،ورنہ یہ بیمار اور کمزور ہو جائیں گے۔گھر میں بھی کھانے پینے میں احتیاط
کرنی چاہیئے ،بلغمی مزاج ہو تو چاول بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور نزلہ زکام
ہوجائے گا۔جو کہتے ہیں کہ مجھے دائمی نزلہ ہے وہ بھی چاول کھانا چھوڑ دیں تو نتیجہ خود دیکھ لیں گے ۔
سوال:دعوتِ اسلامی ’’ماہِ اپریل2026ءماہِ اجتماع
‘‘کے طور پر منا رہی ہے، اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:دعوت اسلامی کا ہفتہ واراجتماع بڑی کوششوں سے
شروع ہوا، آپ ہر جمعرات کو ہونے والے ہفتہ واراجتماع میں ضرور شرکت کیا کریں ۔کوشش
کریں کہ کبھی ناغہ نہ ہو، ایک ایک پر انفرادی کوشش کر کے(یعنی
نیکی کی دعوت دےکر،پیارمحبت سے سمجھاکر، ترغیب دلاکر) ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کروائیں ۔اسلامی بہنیں بھی اس میں کوشش کریں کہ خود
بھی اسلامی بہنوں کے اجتماع میں شرکت کریں
اوراپنے محارم(شوہر،والد،بھائی،بیٹےوغیرہ) کو اسلامی بھائیوں کے ہفتہ واراجتماع میں بھیجیں۔
سوال:مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’مکتوباتِ
امیر اہل سُنّت‘‘ کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا؟
جواب:مکتوبات والی کتاب کئی اسلامی بھائیوں نے پڑھ لی
ہے، جس نے نہیں پڑھی وہ بھی پڑھ لیں۔(مکتوب کا معنیٰ ہے خط/Letter)
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” لمبی عمر پانے کا نسخہ “
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
عاشقانِ رسول کی دینی و اصلاحی تربیت کرنے اور اُن
کی دینی و دنیاوی اعتبار سے رہنمائی کرنے والی عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ
اسلامی کے تحت ہر ہفتے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو ہفتہ وار سالہ پڑھنے /
سننے کی ترغیب دلائی جاتی ہے۔
اس ہفتے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو ”لمبی عمر پانے کا نسخہ“ پڑھنے / سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”لمبی عمر پانے کا نسخہ“پڑھ یا
سُن لے اُسے ایمان و عافیت والی اور نیکیوں بھری لمبی زندگی عطا فرماکر ماں باپ
اور خاندان سمیت بےحساب بخش دے۔اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
شیخ
طریقت امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ ایک عظیم دینی
رہنما، مبلغِ اسلام اور عالمی تبلیغی و اصلاحی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ہیں۔ آپ
نے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ، سنتوں کے فروغ اور مسلمانوں کی اصلاح کے لیے وقف کر
رکھی ہے۔ آپ کی محنت اور اخلاص کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی آج دنیا کے کئی ممالک میں
دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہی ہے۔
مولانا
الیاس عطار قادری کی تعلیمات کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق زندگی
گزارنے کی ترغیب دینا، اخلاق و کردار کو سنوارنا اور معاشرے میں نیکی کو عام کرنا
ہے۔ آپ کی تحریری و تقریری خدمات، بالخصوص فیضانِ سنت جیسی کتب اور اصلاحی بیانات
نے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ آپ کی سادہ طرزِ زندگی،
عاجزی اور دین کے لئے مسلسل جدوجہد انہیں عصرِ حاضر کی ایک نمایاں روحانی و اصلاحی
شخصیت بناتی ہے۔
26
رمضان المبارک امیر اہل سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی یومِ ولادت ہے۔دنیا بھر میں موجود آپ کے مریدین
و محبین انتہائی مہذب عقیدت و احترام کے
ساتھ اس دن کوخوشی کے طور پر مناتے ہیں۔ آپ دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی یوم ولادت کی مناسبت سے خلیفۂ امیر
اہل سنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدَّ
ظِلُّہُ العالی نے عاشقان رسول کو اس ہفتے 36 صفحات کا رسالہ”امیر ِاہلِ سنّت کا بچپن“ پڑھنے
/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے خلیفۂ امیر اہلسنت
یااللہ
پاک! جوکوئی 36 صفحات کا رسالہ ”امیر ِاہلِ سنّت کا بچپن“ پڑھ
یا سن لے اُسے اپنے پیارے پیارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بچپن شریف
کے صدقے نیک نمازی اور سچا عاشق رسول بنااور اُس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راضی ہوجا۔ اٰمین بجاہِ خاتم
النبیین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ
رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر اردو سمیت مختلف زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے
دستیاب ہے۔
ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں معتکفین کو امیرِ اہلِ
سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی پھول
7
مارچ 2026ء بمطابق 18 رمضانُ المبارک 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف
شہروں سے آئے ہوئے معتکفین سمیت دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ
تراویح ہوا جس میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی
گئی اور نعت شریف پڑھی گئی جبکہ وقتِ
مناسب پر شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد بھی ہوئی۔
امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے
مدنی مذاکرے میں شریک تمام لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف
مدنی پھولوں سے نوازا اور اُن کی جانب سے
ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” ہمارے معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر
مجبور یا راضی کرنا ہوتا ہے“، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:یہ
صلح نہیں ہے ،یہ تو ظلم ہے ،صلح کروانے کی قرآنِ پاک میں پذیرائی ہے ،اس کو خیرکہاگیا
ہے ۔صلح کروانا سُنّتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل عمل نہ
بتاؤں؟ صحابہ ٔکرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یا
رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ضرور بتایئے۔
ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں رُوٹھنے
والوں میں صلح کرادینا ہے کیونکہ رُوٹھنے والوں میں ہونے والا فساد بھلائی کو ختم
کردیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد، 4 / 365،حدیث: 4919)
فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:سب سے افضل صدقہ رُوٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا
ہے۔(الترغیب و الترہیب، 3/321) صلح کروانے کی بہت
اہمیت ہے ،صلح کروانے کےہرجملے پر ایک غلام آزادکرنے کا ثواب اورمغفرت کی خوشخبری
ہے۔جوصلح کرواسکتاہو تو اُسے ضرور صلح کروانی چاہیئے ۔
سوال:صلح
کروانے والا کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:صلح
کروانے والے کو صلح کروانا آنا چاہیئے،خود ہی غصہ میں آجاتا ہو تو صلح کیسے کروائے
گا؟ کسی کی رُو رَعایت نہ کرے ،کسی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ہمیشہ حق کی حمایت کرے ۔
سوال:باون(52) کا عدد کس کی یاددلاتاہے ؟
جواب:
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی
اللہ عنہ کی یاددلاتاہے ۔بوقت ِشہادت آپ کی عمرمبارک 52سال تھی ۔
سوال:
ادب کی کیااہمیت ہے؟
جواب:
ادب کابول بالاہے، بے ادبی کا منہ کالاہے ۔قول ہے: وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا أَدَبَ
لَهُ یعنی جو باادب نہیں اس کا کوئی
دِین نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 28/ 158)ہم ادب کرنے والوں (اولیائے
کرام وعلمائے کرام) کے پیچھے پیچھے
ہیں اوریہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے پیچھے ہیں،اسی طرح جنت میں داخل ہوں گے۔ان شآء اللہ الکریم
سوال : کون سے نبی علیہ السلام
مچھلی کے پیٹ میں 40 دن رہے؟
جواب: حضرت یونس
علیہ السلام ۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ’’ سکون بخش آیتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
28 فروری کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ،
امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائے
عاشقانِ
رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے
کے لئے 28 فروری 2026ء بمطابق 10 رمضانُ المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس
کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت
و نعت کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے
علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” زیادہ جینا
ہے تو کم کھائیں“، اس بارے میں آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:یہ بات طبّی
طورپر دُرست ہے ،زیادہ کھانے سے جان بنتی نہیں بلکہ بگڑتی ہے ، زیادہ کھانے والے کوطرح طرح
کی بیماریاں لگ جاتی ہیں ،حدیث پاک کے مطابق پیٹ کے 3 حصے کرنے چاہئیں ، ایک حصہ
کھانے،ایک حصہ پانی اورایک حصہ سانس کے لیے مختص کیاجائے ۔فرمانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ
والہ وسلم):آدمی اپنے پیٹ
سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرتا،انسان کے لیے چندلقمے کافی ہیں ،جو اس کی پیٹھ
کوسیدھا رکھیں ،اگرایسانہ کرسکے تو تِہائی (3/1)کھانے کے
لیے ،تہائی پانی کے لیے اورایک تِہائی سانس کے لیے ہو۔(ابن ماجہ ،4/48،رقم، 3349 ) جوباوجودِخواہش اللہ پاک کی رضاکے لیے ایک نوالہ کم کردے تو اس
کا ایک درجہ بلند ہوجاتاہے ۔
سوال:تکبُّراورخود
پسندی میں کیا فرق ہے؟
جواب:اپنے سے دُوسرے کوگھٹیا جانناتکبرہے، خود پسندی یہ ہے کہ کسی کو کوئی نعمت
حاصل ہو تو اسے اپناکمال جانے اوراس کے زوال سے توجہ ہٹ جائے ۔دونوں بڑی آفتیں ہیں ،جس کے دل
میں ذرّہ برابرتکبُّرہوگا اسے جہنم میں
داخل کردیا جائے گا ۔یہ بہت بڑی بلاہے ، بندہ اس سے اللہ پاک کی پناہ مانگے۔ تکبرکے
بارے میں معلومات ہونا فرض علم سے ہے ،اس کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’تکبُّر‘‘کا مطالعہ کریں ۔
سوال:دوسرے کے بارےمیں رائے
قائم کرلینا کہ فلاں متکبِرہے،اس کے بارے آپ کیافرماتےہیں ؟
جواب: بغیر قرینے اوردلیل کےکسی کے متکبِرہونے کی رائے قائم کرلینا بدگمانی
ہے، اس سے بچناضروری ہے ،تکبردل کی کیفیت ہے،یہ باطنی
بیماری ہے،اسے معلوم کرنےکے لیے کوئی مشین نہیں ہے ۔اس طرح رائے قائم کرنے والا
تہمت وغیبت میں مبتلا ہوجاتاہے۔گھروں میں
بھی تہمتوں کا سلسلہ ہے ۔اسکی معافی تلافی مشکل کام ہے۔ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے زبان سےلٹکے لوگ
دیکھے ،بتایاگیا یہ گناہ کاالزام لگانے والوں کی سزاہے۔بظاہر نیک نظرآنے
والابھی اس میں مبتلاہوجاتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ لوگ فرض علوم سے ناواقف ہیں ۔
سوال:جھوٹ اورغیبت کی تعریف کیا ہے؟
جواب: سچ کا اُلٹ جھوٹ ہے اوربطورِبُرائی
کسی کا عیب اُس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے۔
سوال
: دُعاکے
وقت کیسااندازہوناچاہئے؟
جواب: دُعاکے
وقت رونا آئے تو سعادت کی بات
ہے،ورنہ رونے کی سی صورت بنائی جائے کہ اچھوں کی نقل بھی ا چھی ہوتی ہے ،دعا کے
وقت آنکھوں میں آنسوآجانااسے قبولیت کے قریب کردیتاہے ۔یہ کہاگیا ہے کہ غموں سے بھرے دل کی دعا قبول
ہوتی ہے
سوال: بزرگ یعنی بڑی عمروالے دُوسروں کو
نمازکی دعوت کیسے دیں ؟
جواب:بزرگ بھی لوگوں کو
پہلےسلام کریں ،پھر
مختصرانداز میں نمازکی دعوت دیں ، بزرگوں
اورامام صاحبان کا اپنا اثرہوتاہے۔ہم سب
نمازکی دعوت دینے والے بن جائیں تو مساجدآبادہوجائیں ۔مساجدکی ویرانی کی ایک
وجہ نمازیوں کانمازکی دعوت نہ دینا بھی ہے۔ ہرمسلمان مبلغ ہے جس کو جتنا آتاہے ،دُوسروں
کو نیکی کی دعوت دے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یااللہ پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھ یا سُن لے، اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی
توفیق عطا فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا پڑوس نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
قرآنِ
مجید اللہ پاک کی وہ عظیم کتاب ہے جس کی ہر آیت انسان کے دل کو سکون اور اطمینان
عطا کرتی ہے۔ جب انسان پریشانیوں، دکھوں اور مشکلات میں گھِر جاتا ہے تو قرآنِ پاک
کی آیات اس کے دل کو قرار اور امید فراہم کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں
ایسی بے شمار آیات نازل فرمائی ہیں جو بندے کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ اللہ اس کے
ساتھ ہے اور وہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔
قرآنِ
کریم کی تلاوت نہ صرف روح کو تازگی دیتی ہے بلکہ دل کی بے چینی کو بھی ختم کرتی
ہے۔ جب انسان اخلاص کے ساتھ اللہ کی آیات پڑھتا یا سنتا ہے تو اس کے دل پر ایک عجیب
سا سکون طاری ہو جاتا ہے۔ اسی لئے قرآنِ مجید کو ہدایت، رحمت اور دلوں کے لیے شفا
قرار دیا گیا ہے۔
شیخ
طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 20 صفحات
کا رسالہ ”سکون
بخش آیتیں“ پڑھنے
/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربّ
کریم! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”سکون بخش آیتیں“ پڑھ یا سن لے اُس کی زندگی سکون اور خوشیوں سے
بھر دے اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب
فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
رمضان
المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس مقدس ماہ کو پُرکیف اور بابرکت
بنانے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقان
رسول کو اس ہفتے 24 صفحات کا رسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے /
سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف
انداز“ پڑھ
یا سن لے اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا
فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پڑوس نصیب
فرما۔
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
عاشقانِ رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب
کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے 21 فروری 2026ء بمطابق 4 رمضانُ
المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی
مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس کے بعد نعت
خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت و نعت کے بعد شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و
ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد
فرمائے۔
بعض سوال و جواب:
سوال: بچی کا نام فاطمۃُ الزَہرا رکھا جائے یا مجرد فاطمہ ؟
جواب: یہ نام
اچھا ہے۔ زَہراکا معنی ہے” کلی“(Bud) ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی کلی ہیں مگرحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کانام اکیلا فاطمہ ہے اورزہرااُن کالقب ہے ۔
سوال: نام کیسارکھا
جائے ؟
جواب: بچے کا نام محمد رکھا جائے،پکارنے کے لئے اہلِ بیت
،صحابۂ کرام اوربزرگوں کے نام سے کوئی بھی نام رکھا جائے ۔نام اچھا رکھنا چاہیئے جیسےمحمد ابراہیم، محمد بلال وغیرہ۔یونیک نام رکھتے ہوئے ایسا نام
نہ رکھا جائے جس کا معنیٰ ہی درست نہ ہو۔
سوال: مسجدکے
امام اورمؤذن صاحب کو سحری/افطاری دینے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: مسجدکے امام اورمؤذن کو بھی سحری/افطاری بھیجنی چاہیئے
۔عام طورپر ان کی تنخواہ اورآمدن کم ہوتی ہے ،رقم بھی پیش کریں۔جمعہ کو ہرنمازی
کچھ نہ کچھ خدمت کرے تو ان کا راشن آجائے۔اسی طرح عیدین،دیگراسلامی ایونٹس(Islamic Events/جیسےشبِ
معراج، شبِ براءت،شبِ قدر وغیرہ)کے
موقع پر ان کی خدمت کریں۔یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میرا راستہ بن جائے، ایساہرگزنہیں
، مَیں نے کئی سال امامت کی ہے مگرمسجدکا کبھی کھانا نہیں کھایا،اپنے گھر کا
کھاناکھاتاتھا۔
سوال: امام صاحب کا کسی نمازی سے کوئی سوال یا قرض مانگنے کے
بارےمیں کیا مشورہ دیں گے ؟
جواب: امام صاحب کو چاہیئے کہ لوگوں سے سوال نہ کریں ،قرض بھی
نہ لیں ،اس سے وقاراورعزت کم ہوتی ہے۔ان کا پیشہ عزت وعظمت والاہے ۔دینےوالا آہ کرکے دیتاہے اورلینے والاواہ کرکے
لیتاہے ۔
سوال: مکتبۃ المدینہ
کی شائع کردہ کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب: عمامہ شریف
کےفضائل پرمشتمل المدینۃ
العلمیہ کی کتاب ’’عمامہ کے
فضائل‘‘مکتبۃ المدینہ نے شائع کی ہے۔شاید اردو میں اس موضوع پر اتنی بڑی اورکتاب نہیں ہے ،اسے لیں،پڑھیں اورلائبریری کا حصہ بنائیں ۔اس سے عمامہ شریف
سے محبت میں اضافہ ہوگا۔عمامہ باندھاکریں ،اس سے جھجک ختم ہو جائے گی ، کسی نے کوئی
بات کردی تو اسے برداشت کرلیں کسی سے کوئی جھگڑانہ کریں۔
سوال: آپس کے تعلقات
کے کیا فائدے ہیں ؟
جواب: کھوٹاسِکّہ بھی
وقت پر کام آجاتاہے ،نافرمان بیٹابھی مددکردیتاہے ۔جان پہچان اورتعلقات کاکبھی نہ
کبھی فائدہ ہوتاہے۔جو ملنساراورتعلقات رکھنے والے ہوتے ہیں ،بعض اوقات جاننے والے
اس طرح کام آجاتے ہیں کہ گھر کاکوئی فرد اس طرح کام نہیں آتا۔خاندان والوں اوردیگرلوگوں
کے ساتھ تعلقات رکھنےچاہئیں ۔دس دوست ہوں تو ضروری نہیں سارے کے سارے بے وفاہوں
،ضرورت کے وقت کوئی تو مددکرے گا۔ شادی بھی کرنی چاہیئے، بال بچے ہوں گے تو گھرکی
رونق ہوگی، بیمار ہوں گے تو خدمت کریں گے۔ ہم خودملنسارہوں گےاور لوگوں کے دُکھ
دردمیں شریک ہوں گے تو لوگ بھی ہمارے دُکھ درد میں شریک ہوں گے ۔البتہ تعلقات اللہ پاک کی رضا کے لئے ہونے چاہئیں ۔اچھے لوگوں سے
تعلق بنایاجائے ،جیسے دعوت اسلامی کادِینی ماحول ہے ۔ دعوت اسلامی کا مفادہے کہ ایمان کی
حفاظت ہو،سب نمازی بن جائیں ،جنت کا حصول ہو،اس سے وابستہ ہوجائیں ۔
سوال: گھرآباد ہوں
،جھگڑے نہ ہوں ،گھر نہ ٹوٹیں کیا کریں ؟
جواب: ہمارے معاشرے میں جھگڑے اورگھرٹُوٹنے کا سلسلہ بڑھ گیاہے
۔زیادہ خرابی اس لئے ہوتی ہے کہ دونوں طرف
ضدپیداہوجاتی ہے ۔دونوں کوضدچھوڑنی چاہیئے، جس سے زیادتی ہوئی ہو اسے چاہیئے کہ دوسرے سےمعافی مانگ لے، معافی مانگنے سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیداہوتی
ہے ۔ایک کو غصہ آجائے تو دوسرے کو صبرکرنا چاہیئے اورکوئی ایسی ترکیب کرنی چاہیئے
کہ جس سے اس کا غصہ کم ہو ۔بچوں کے سامنے جھگڑا کرنے سے ان کی تربیت میں بُرا
اثرپڑے گا۔جو گھرٹُوٹتاہے اس میں بچوں کا نقصان زیادہ ہوتاہے۔
سوال: گنے کے رس
کے کیافوائدہیں ،کون سارس پیاجائے ؟
جواب: گنے کے رس کے
کئی فوائدہیں ،گنے کا رس ہڈیا ں مضبوط کرتاہے ،خون کی کمی والوں کو مفیدہے
،جگراورگُردوں کی کارکردگی بڑھاتاہے ،دانتوں کے پیلے پن ،چہرے کے کِیل مہاسے
اورجُھریا ں دورکرتاہے ،بغیر برف کے گنے کا رس خریدیں ،گنے کارس وہاں سے لیں جس میں مشین اوربرتنوں کی صفائی کا خیال رکھا جاتاہو ،سکرین والے رس
نہ لیں ،اس کے کافی نقصانات ہیں۔گنا چباکر اس کا رس حاصل کرنا زیادہ فائدے مندہے
۔
سوال: کھا نا کیسے
کھانا چاہیئے ؟
جواب: کھانا
چباکرکھانا چاہیئے ورنہ معدہ خراب ہوجائے گا،دونوں طرف کے دانتوں سے چباکرکھائیں
،اس سے کانوں کی سنوائی میں بھی فائدہ ہوگا۔زیادہ بیماریاں منہ سےجاتی ہیں ،وہ چیزنہ
کھائیں،پئیں جو موافق نہ ہو۔ہم نقصان دہ چیزوں سے بچ نہیں پاتے پھر بیمارہوجاتے ہیں ۔کھانے کی حرص کم کریں صحت مندرہیں گے ،دینی
کام کرسکیں گے۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم کی سجاوٹ“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
Dawateislami