لوگوں کو بزگانِ دین کی سیرت سے آگاہ کرنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں  اُن کی رہنمائی کرنےکے لیے دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر ہفتے کی رات ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جاتا ہے جوکہ مدنی چینل کے ذریعے براہِ راست دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں 13 جون 2026ء بمطابق 28 ذوالحجہ 1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ عشا تلاوتِ قرآن و نعت ِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے شروع ہوا۔

اس موقع پر براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل مختلف سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال وجواب

سوال: سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”پردہ معاشرتی فساد کوروکتا ہے اور ایک با وقار ماحول پیدا کرتا ہے“اس سے کیا مرادہے ؟

جواب: اس سے مُراد کسی کے عیب کا پردہ رکھنا یا عورتوں کا اسلامی پردہ ہو سکتا ہے، دونوں صورتوں میں پردہ مفید ہے ۔عورت کے لیے اسلامی پردہ اور مرد کے لیے آنکھوں کا پردہ ہونا چاہئے، جس چیز کو دیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی اُسے نہ دیکھے۔کسی کا عیب ہے تو اس کو بھی نہ دیکھے اور معلوم ہو جائے تو اس کا پردہ رکھے یعنی اسے چھپائے ۔جو کسی کا عیب چھپاتا ہے وہ جنت پاتا ہے۔ جو دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا اللہ پاک اس کے دنیا و آخرت کے عیب چھپائے گا۔ یوں بہت سارے معاملات میں پردہ مفید ہوتا ہے ۔جو اپنی پڑھائی میں کمزور ہے تو اس کا بھی پردہ رکھا جائے ۔بِلا وجہ کسی کے بارے میں کہنا کہ وہ پڑھتا نہیں، اسی طرح وہ فیل ہو گیا تو کہنا وہ تیاری نہیں کرتا ،فیل نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ اگر کسی نے کوئی غلطی کی جس سے کوئی شرعی خرابی پیدا نہیں ہو رہی تو اس کا بھی پردہ رکھنا چاہئے ۔اسی طرح کسی نے آپ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تو اب بھی اس کا پردہ رکھنا چاہئے ۔اس طرح غور کرتے جائیں گے تو پردے رکھنے اور پردہ فاش نہ کرنے کی بہت ساری صورتیں سامنے آتی جائیں گی۔مختلف ذرائع مثلاً سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے ہم لوگوں کا پردہ فاش نہ کریں اور لوگوں کے عیوب ڈَھکنا سیکھ جائیں تو ہمارا معاشرہ اتنا صاف ستھرا ہو جائے کہ کئی جھگڑے اور مسائل دم توڑ جائیں گے۔

سوال: کھانے کے وقت کیا احتیاط کی جائے کہ معیوب نہ لگے اور نظر بھی نہ لگے ؟

جواب: کوئی اچھے کھانے کھائے تو اکیلا کھائے تاکہ نظر نہ لگے ۔کھانا کھاتے ہوئے اور بھی چند باتوں کا خیال رکھے مثلاً سُورۂ قریش (لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ)پڑھ کر دم کر لے ،کھانے سے پہلے کی دُعا پڑھ لیں کہ کھانے میں کوئی مضر(نقصان دہ) چیز ہو تو وہ نقصان نہ کرے گی، عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت بھی کر لیں، محض لذت کے لیے نہ کھائیں کہ قرآنِ پاک میں صرف لذّت کی خاطر کھاتے رہنا کفار کی صفت بیان ہوئی ہے ۔

کھانا کھانے سے پہلے کی دُعا

بِسْمِ اللّٰہ وَبِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْیٔ ٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ

ترجمہ : اللہ پاک کے نام سے شروع کرتاہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والے۔کھانا شُروع کرنے سے قبل یہ دُعا پڑھ لی جائے، اگر کھانے پینے میں زَہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الکریم اَثَر نہیں کرے گا۔( کَنْزُ الْعُمَّال، ج 15، ص 109، حدیث:40792)

سوال: خرگوش(Rabbit) کیسا جانور ہے ؟

جواب: خرگوش بڑا پیارا اور حلال جانور ہے ۔ہند کے صوبے گجرات میں ایک شہر احمد آباد ہے ،اس میں کافی تعداد مسلمانوں کی ہے ،میں جب وہاں گیا تو وہاں مجھے بتایا گیا کہ اس شہر کو آباد کرنے والے بادشاہ کا نام احمد تھا ،جب وہ یہاں آیا تو یہاں جنگل تھا ،اس نے دیکھا کہ ایک خرگوش شیر کے اوپر بیٹھا ہوا ہے ،اس نے کہا کہ جہاں کا خرگوش اتنا بہادر اور نڈر(یعنی ہمت والا،بے خوف) ہے کہ شیر کے اُوپر بیٹھا ہواہے تویہاں ایک شہر بسانا چاہئے ،چنانچہ اس نے یہاں احمد آبادشہر قائم کیا۔

سوال: حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا ایک اُمّتی خرگوش کیسے بنا دیا گیا؟

جواب: عیون الحکایات میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام سے علمِ دین حاصل کیا کرتا تھا ،ایک مرتبہ اس نے اپنے وطن جانے کی اجازت طلب کی، آپ نے اُسے اجازت دے دی ۔ اس نے وہاں جا کر لوگوں سے عزت اور مال حاصل کرنے کے لیے کہنا شروع کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے یہ فرمایا وہ فرمایا یعنی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کامقرب(قریبی آدمی) ظاہر کرنا شروع کیا،لوگ اس کی عزت کرتے اور مال پیش کرتے ،اللہ پاک اس سے ناراض ہو گیا اور اسے خرگوش بنا دیا ۔

سوال: مردوں میں ہا رٹ اٹیک(Heart Attack) کا مرض عورتوں سے زیادہ ہے، اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟

جواب: کمانے کی زیادہ فکر کرنا کہ گھرکی بعض عورتیں زیادہ رقم کاتقاضا کرتی ہیں ،جبکہ عورتوں کو یہ فکر نہیں ہوتی ۔مردوں کا کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنا جبکہ عورتیں کھانا پکا پکا کر سیر ہو جاتی ہیں، کھانے کے وقت کم کھاتی ہیں ۔عورتوں کا رو دھو کر اپنا غم ہلکا کر لینا جبکہ مردوں کا ایسا نہ کر پانا ، اسی طرح عورتوں کی بنسبت مردوں کا نشے میں زیادہ مبتلا ہونا ،شراب نوشی کرنا ۔سگریٹ پینا وغیرہ وہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے ان میں ہا رٹ اٹیک زیادہ ہوتے ہیں ۔

سوال: کون سی تین ہستیوں کا زیادہ رونا مشہور ہے ؟

جواب:تین شخصیات کازیادہ رونامشہورہے ۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام خوفِ خدا کی وجہ سے بہت روتے تھے جبکہ حضرت امام زین العابدین علی اوسط رضی اللہ عنہ کے دل میں کربلا کے واقعات اس طرح گھرکر گئے تھے(یعنی میدانِ کربلا میں اپنے پیاروں کے شہیدہونے کامنظر دل میں بیٹھ چکا تھا) جب انہیں یاد آتے تو بے اختیارآنسو جاری ہو جاتے تھے ۔

سوال:کیا کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جن کا رونا ان کے شاگرد پر زیادہ اثر کر گیاہو ؟

جواب: جی ہاں! حضرت عبدالرحمن ابن ِجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مَیں اپنے ایک استاذ کے پاس حدیث پا ک سننےکے لیے جاتا تھا، وہ حدیث پاک بیان کرتے ہوئے روتے تھے توان کا رونا حدیث سے زیادہ مجھ پر اثر انداز اور مفید ہوا۔

سوال: کیا ہم اپنے ایصالِ ثواب کے لیے اپنی زندگی میں ہی کلمہ شریف وغیرہ پڑھ کر محفوظ کر لیں ؟

جواب: بندہ جو بھی نیکی کرتا ہے اس کا ثواب تو اُسے مل ہی جاتا ہے ،اپنے آپ کو ایصال ِثواب کرنے کے کوئی معنیٰ نہیں بلکہ اپنی نیکیوں کا ثواب جتنوں کو ایصال کریں گے تو اتنا اس کے نامہ اعمال میں بڑھا دیا جائے گا۔(ایصال کا معنی ہے پہنچانا۔عموماًیہ لفظ ”ایصالِ ثواب“ میں استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کسی کی روح کو ثواب پہنچانا)

سوال: نیکیاں محفوظ کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب: اپنی نیکیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے آپ کو گناہوں اور دوسروں پر ظلم کرنے، مال چھین لینے وغیرہ سے بچانا ہو گا۔ورنہ اپنی نیکیاں مظلوموں کو دینی پڑیں گی اور بندہ نیکیوں سے محروم ہو جائے گا۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ چار بُرائیاں‘‘پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہچار بُرائیاں‘‘پڑھ یا سُن لے، اُسے تمام بُرائیوں اور خطر ناک بیماریوں سے محفوظ فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

”معاشرے کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ ذات کی اصلاح سے ہوتا ہے“۔ برائیوں کا خاتمہ صرف قوانین بنانے سے نہیں، بلکہ اپنی سوچ بدلنے سے ممکن ہے۔ جب ہر شخص دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنا خود کا جائزہ لے اور اپنی خامیاں دور کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ برائی کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پھیلنے سے روکا جائے اور اچھائی کو اس حد تک عام کیا جائے کہ برائی کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔

عاشقان رسول کو اپنی اصلاح کرنے اور معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں سے آگاہ کرنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 18 صفحات کا رسالہ چار برائیاں پڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا اللہ پاک! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہچار برائیاںپڑھ یا سُن لے اُسے تمام برائیوں اور خطر ناک بیماریوں سے محفوظ فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیهِ واٰلہٖ وسلّم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


کراچی، 6 جون 2026ء:

دعوت ِاسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 6 جون 2026ء بمطابق 21 ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔

معمول کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت سے کیا گیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سولات کے جوابات دیئے اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔

کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: امیروں کی شاہانہ زندگی اور لائف اسٹائل(Life Style) دیکھ کر عام افراد میں مال حاصل کرنے کا جذبہ بڑھ جاتا ہے اور جب مال کی لالچ بڑھتی ہے تو انسان حلال و حرام بھول جاتا ہے۔اس خطر ناک سوچ سے بچنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟

جواب: پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری پیاری سیرت پڑھیں،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح زندگی گزاری اور دولت سے دُور رہے ،آپ کے ارشاد ات بھی موجود ہیں کہ مَیں چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلیں لیکن آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا بلکہ جب بھی کوئی مال آتا تو راتوں رات اسے راہِ خدا میں تقسیم فرما دیتے، روزانہ ایک مرتبہ کھانا کھاتے اور دوسرے دن کے لیے بچا کر نہ رکھتے تھے ۔ آپ نے ظاہری دولت کبھی بھی جمع نہیں فرمائی ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں مثال دی ہے کہ جب تک کشتی پانی میں ہےتو نہیں ڈُوبے گی، مگر جب پانی کشتی میں آگیا تو وہ ڈُوب جائے گی ۔ اسی طرح جس کے پاس مال و دولت ہے، وہ نقصان نہیں پہنچا رہا مگر جس دن یہ مال دل میں آگیا تو سب کچھ لے ڈُوبے گا۔ مال سے محبت کے بجائے اللہ پاک سے محبت کی جائے ،دُنیا سے محبت کے بجائے میٹھے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کی جائے تو ساری دولت ہمارے قدموں میں ہو گی ۔ورنہ دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے ۔

نوٹ:مکتبۃ المدینہ کی سیرت کے موضوع پر کتابیں اور رسائل مثلاً”سیرتِ مصطفیٰ،سیرتِ رسول ِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم،آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پیاری سیرت،مختصر سیرتِ رسول“حاصل کرکے مطالعہ کریں۔

سوال:آپ علمائے کرام سے محبت فرماتے ہیں،علماء سے محبت کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب: علمائے کرام اگر معاشرے سے مائنس ہو جائیں تو کچھ نہیں بچے گا ،قدم قد م پر علماء سے رہنمائی کی حاجت ہوتی ہے حتّٰی کہ علماء کی حاجت جنت میں بھی ہو گی ۔اللہ پاک جنتیوں سے فرمائے گا !مانگو کیا مانگتے ہو؟ یہ علمائے کرام کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ان سے پوچھیں کہ ہم اللہ پاک سے کیا مانگیں؟علمائے کرام قیامت کے دن بھی کام آئیں گے ،علمائے کرام کو روکا جائےگا کہ پہلے اپنے چاہنے والوں کی شفاعت کریں تاکہ وہ بھی جنت میں داخل ہو جائیں، علمائے کرام کو اگر کسی نے پانی بھی پلایا ہو گا تو وہ اس کی بھی شفاعت کریں گے ۔ حدیث پاک ہے کہ عالِم بنو یا طالِبِ عِلْم، عِلْمِ دین سننے والے بنو یا عِلْمِ دِین سے محبّت کرنے والے بنو،پانچوے مت بننا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔( جامع بیان العلم و فضلہ 1/ 158، حدیث:151 )

سوال: اس زمانے میں کسی کا عقیدہ جاننے کا معیارکیا ہے ؟

جواب: اس دور میں ہمارا معیار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،انہوں نے ہمیں قرآن و حدیث کادرست مفہوم سمجھایا ہے اور ہمیں عقائد واضح کر کے سمجھائے ہیں۔ان سے جو محبت کرتا ہے وہ ہمارے سرکا تاج ہے اور جو اِن پر تنقید کرتا ہے، ان کا ذکرِ خیرسُن کر اس کے منہ پر بادل چھا جاتے ہیں، کدورت منہ پر آتی ہے تو ہمیں نہ چلے(یعنی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں) ،مَیں اعلیٰ حضرت والا ہوں ۔جس کا چہرہ اعلیٰ حضرت کا نام سُن کر خوشی سے کِھل اُٹھے تووہ اپنا ہے ۔

سوال: رِیا نہ ہو جائے، اس لیے کسی نیک عمل کو چھوڑ دینا کیسا؟

جواب: رِیا کے خوف سے نیک عمل چھوڑ دینا یہ بھی رِیا ہے ،بندہ نیک عمل کرے اور اللہ پاک سے اخلاص کی دعا کرے ۔

سوال:اگر کوئی توبہ کرے لیکن پھر گناہ میں مبتلا ہو جائے تواب کیا کرے ؟

جواب: توبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت کو دیکھنا ضروری ہے ،توبہ کرتے وقت شرمندگی کے ساتھ اس نیت کے ساتھ توبہ کرے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا تَو یہ توبہ ہے۔ اگر تذبذب ہے کہ چھوڑوں گا یا نہیں چھوڑوں گا تو یہ توبہ نہیں ۔بہر حال درست توبہ کی پھر کسی وجہ سے وہی گناہ ہو گیا تو دوبارہ توبہ کرے ،یہ توبہ کرنا ایک دن گناہ کی عادت کو ختم کر دے گا ۔

سوال: شماتت کیا ہے ؟

جواب: دوسرے کی مصیبت کو دیکھ کر خوش ہونا شماتت ہے اوریہ باطنی بیماری ہے ،اس کا علاج ضروری ہے ،حدیث پاک میں ہے کہ اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی (شماتت) کا اظہار نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ پاک اس پر رحم فرمائے اور تمہیں اسی آزمائش میں مبتلا کر دے ۔(سنن ترمذی ،حدیث نمبر 2543)

سوال: کسی کے گھر جائیں تو انداز کیا ہونا چاہئے ؟

جواب: جب کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہیں تو اِس طرح کہیں: السلامُ علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟٭اگر داخلے کی اجازت نہ ملے تو بخوشی واپس لوٹ جائیں۔ ہو سکتا ہے کسی مجبوری کے تحت صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی ہو٭جب آپ کے گھر پر کوئی دستک دے تو سُنّت یہ ہے کہ پوچھیں: کون ہے؟ باہر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے: مثلاً کہے: محمد الیاس۔ نام بتانے کے بجائے اس موقع پر مدینہ! میں ہوں! دروازہ کھولو وغیرہ کہنا سنّت نہیں٭جواب میں نام بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں تاکہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔

سوال: کیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چھوٹے بچوں کی بھی نعت سنتے ہیں ؟

جواب: جی ہاں ! اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سننے کی یہ طاقت دی ہے کہ جب ہم دُرود شریف پڑھتے یا نعت پڑھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہماری آواز سنتے ہیں،نعت شریف پڑھنے والا بچہ ہو یا بڑ اہو ۔

سوال:حدیث پاک میں ہے کہ مومن لعنت کرنے والا، طعنہ دینے والا، فحش گو اور بےہودہ گفتگو کرنے والا نہیں ہوتا۔( ترمذی، حدیث : 1984) تو صرف اتنا کہنا کہ لاکھ دی(پنجابی میں لخ دی) ،کیا یہ بھی لعنت ہے ؟

جواب: جی ہاں! یہ بھی لعنت ہے اور اشارے سے بھی لعنت ہوتی ہے ۔لعنت کرنا گنا ہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ جب کسی چیز کو لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر وہ دائیں اور بائیں جانب کی راہ لیتی ہے۔اگر جگہ نہیں پاتی تو جسے لعنت کی گئی اگر وہ اس کا اہل ہوتا ہے تو اس کی طرف جاتی ہے ورنہ دینے والے پر لوٹ آتی ہے۔(سنن ابو داؤد، حدیث: 4905)یقینی کافر اور شیطان کو بھی لعنت کرنا صرف مباح ہے یعنی نہ ثواب ہے اور نہ ہی گنا ہ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ذکرُ اللہ کے واقعات پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہذکرُ اللہ کے واقعات پڑھ یا سن لے اُسے دونوں جہاں میں سکون اور چین عطا فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کراچی، 30 مئی 2026ء:

دعوت ِاسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 30 مئی 2026ء بمطابق 14 ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سولات کے جوابات دیئے۔

کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: کیا مدینہ پاک کی حاضری میں خواص اور عوام کے ذوق میں کوئی فرق ہوتا ہے ؟

جواب: جی ہاں ! خواص مدینۂ منورہ میں زیادہ مدت رہیں تو ان کے ذوق میں اضافہ ہوتاہے ،میرے مرشد حضرت مولانا ضیاء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ 75سال مدینۂ منورہ میں رہے اور اُن میں ذوقِ مدینہ بہت تھا، عوام زیادہ دن رہیں تو ان کاذوق کم ہوجاتاہے۔اس لیے مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ امیرُالمؤمنین حضرت عمرفاروق ِاعظم رضی اللہ عنہ حج کے اختتام پر لوگوں کو اپنے وطن واپس جانے کا حکم فرماتے تھے۔ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مقدس مقامات کا باادب بنائے۔

یادرکھئے!بےادب اللہ پاک کے فضل و رحمت سے محروم ہے ۔میرا مشورہ ہے کہ مکہ ومدینہ میں ملازمت یا کاروبارکے لیے سفرنہ کریں ۔ایسوں کے لیے ذوق وادب برقراررکھنا مشکل ہے ۔

سوال: ہمیں مدینۂ منورہ کس اندازسے حاضر ہونا چاہئے ؟

جواب:حاضری ِمدینہ کے وقت نعتیں پڑھتے ہوئے ،ہرشے سے بے گانہ ہوکر ،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تصورمیں ڈُوب کر جانا چاہئے، اس کے لیے پہلے ہی مدینۂ منورہ کے فضائل پڑھ لے تاکہ ذوق حاصل ہو۔ذوق و رِقَّت کے لیے صحبت بھی مفیدہے، اگر عاشقانِ رسول بالخصوص جو پہلی مرتبہ گئے ہوں ان کا ساتھ نصیب ہوجائے تو ذوق بڑھے گا ۔

سوال:حاجی صاحبان یاعلمائے کرام تشریف لائیں تو ان کو پھولوں کے ہارپہنانا کیسا؟

جواب: حاجیوں، علمائے کرام کو اُن کی تعظیم کے لیےاوردُولہاکی خوشی میں اضافے کے لیے ہارڈالے جاتے ہیں ،جب مَیں کہیں جاتاتھا تو مجھے بھی بہت ہار پہناتے تھے مگر مجھے ان سے کوفت ہوتی تھی ،ایک تو اس سے کپڑوں پر پھولوں کے داغ لگ جاتے ہیں، دوسرا اس میں کافی ساری رقم خرچ ہوتی ہے اور ہار پہنانا تو تھوڑی دیرکے لیے ہوتاہے ،پھر مَیں نے سمجھانا شروع کیا کہ آپ لوگ مجھے ہارپہنانے کے لیے جورقم خرچ کرتے ہیں اس کے مکتبۃ المدینہ کے مختلف رسائل تقسیم کردیا کریں کہ یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے ۔

سوال:آج کل ہمارے معاشرے میں بالخصوص دعوتوں میں کھانا ضائع ہوتاہے ،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: دانہ دانہ بچانا چاہئے، جب قِلّت ہوتی ہے تو اس کی قدرہوتی ہے، کھا نا ضائع کرنا اِسراف ہے اور یہ گنا ہ ہے، میں سمجھاتا رہتا ہوں ،آپ بھی سمجھاتے رہیں اور سمجھانے میں تھکیں نہیں۔دعوتوں میں جوکھانا بچ جائے اسے پیک کروا کر غریبوں کو دے دیں ،کسی مدرسے میں بھیج دیں ۔دعوتِ اسلامی کے ذریعے بھی اسے غریبوں میں تقسیم کروایا جاسکتاہے۔دعوتِ اسلامی کے شعبے FGRF کے ذریعے بھی کھانا تقسیم کروایاجاسکتاہے ۔

سوال:بھینس اورکٹےکی قربانی کی جاسکتی ہے ؟

جواب: جی ہاں شرائط پائی جانے کی صورت میں بھینس اورکٹے(نر بھینس/Bull Buffalo) کی قربانی کی جاسکتی ہے، بھینس گائے کی فیملی سے ہے، یہ دودھ کی ٹینکی ہے ،لوگ غلط فہمی ڈالتے ہیں کہ اس کی قربانی نہیں ہوتی، اس لیے اگلی مرتبہ ہو سکے تو گھرگھربھینس یاکٹے کی قربانی کریں ۔جواسے پال سکتاہے تو ابھی سے پالنا شروع کردے ۔یہ گائے سے سستی ہوتی ہے ،اس کا گوشت گائےکی بنسبت مقدار میں زیادہ ہوتاہے ۔

سوال: بھینس کے گوشت کے کیا فوائد ہیں ؟

جواب: بھینس کے گوشت میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہےجوپٹھوں کے لیے مفیدہے اور اس کی نشوونمامیں مددکرتی ہے۔اس میں آئرن زیادہ ہوتاہے جوانسانی بدن کےخون کے لیے مفیدہے،اس میں وٹامن بی(Vitamin B) زیادہ ہوتاہے جو مدافعتی نظام(Immune System) کو مضبوط کرتاہے ،اس کا گوشت کھانے سے پیٹ زیادہ دیرتک بھرا رہتاہے ۔اس میں گائے کے مقابلے میں چربی بھی کم ہوتی ہے ۔

سوال: حج وعمرہ کرنے والے، لوگوں کے لیے کیا تحفہ لائیں ؟

جواب: سب سے بہترین تحفہ آبِ زم زم ہےجو کہیں اورنہیں ہوتا،یہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں کی ٹھوکرکی برکت ہے، حاجی کوئی بھی چیزدے تو شکریہ کے ساتھ اسے قبول کرلیا کریں۔بعض لوگ آب زم زم میں اپنے ہاں کا پانی اور دیگر اپنے وطن کی چیزیں بھی ڈال دیتے ہیں ،اس لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس میں وضاحت بھی کردیا کریں کہ کون سی چیزمکہ مدینہ کی ہے اورکون سی چیزکہیں اور کی ہے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربَّ المصطفٰے!جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ پڑھ یا سُن لے اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖنْ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


ذکر اللہ دلوں کا سکون اور روح کی غذا ہے۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ پاک کے ذکر کو اپنا معمول بنا لیتا ہے، اس کے دل سے غفلت دور اور ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ بے شک ذکرِ الٰہی مصیبتوں میں راحت، پریشانیوں میں اطمینان اور اللہ پاک کی قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

عاشقانِ رسول کو زبان و دل سے ہر وقت ذکر اللہ کرتے رہنے کا ذہن دینے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ذکرُ اللہ کے واقعات پڑھنے/سننے کی ترغیب دی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ذکرُ اللہ کے واقعات پڑھ یا سن لے اُسے دونوں جہاں میں سکون اور چین عطا فرماکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


07ذو الحجۃ الحرام 1447ھ بمطابق 23 مئی 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مذاکرہ کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی کی۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: قربانی کی کھالیں جمع کرنے اورکروانے کے بارے میں امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا مدنی پھول عطافرمائے ۔

جواب:تمام عاشقان رسول ثواب کی نیت سے اپنے ہاں ہونے والی قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کو دیں ،دعوتِ اسلامی بہت سے دینی کام کرتی ہے ،اس میں آپ کا بھی حصہ شامل ہوجائے گا۔اللہ پاک کی رضا کے لیے کھالیں جمع بھی کرنی ہیں۔عموماً لوگ آکر کھالیں جمع نہیں کرواتے، جاجاکر جمع کرنی ہوں گی ،آپ عاشقانِ رسول سے ملاقات کریں اوران کی قربانی کی کھالیں بک کریں ۔خود بھی نیت کریں کہ جب تک زندگی ہے،دعوت اسلامی کے لیے کھالیں جمع کروں گا اوردینے والے بھی نیت کرلیں کہ زندگی بھر اپنے قربانی کےجانورکی کھال دعوتِ اسلامی کودُوں گا،اس نیت کا بھی ثواب ملے گا۔ان شاء اللہ الکریم

عام طورپرکھالیں جمع کرنے والوں کے کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں ،پاک کپڑوں کا جوڑاشاپر میں ساتھ رکھیں ،کھالیں جمع کرنے کےدوران بھی پاک کپڑے پہن کر باجماعت نمازاداکریں ،کوئی بھی نمازقضا نہیں ہونی چاہئے،چاہے کیسی ہی مصروفیت ہو ۔

سوال: قربانی کی کھالیں اورقربانی کاگوشت ضائع نہ ہو، اس کے لیے کیا احتیاط کریں؟

جواب: آج کل گرمی ہے ،اس لیے قربانی کی کھالوں کو پھیلاکرالگ الگ رکھیں،کھال کو فوراً نمک لگادیں۔قربانی کا گوشت برف میں رکھیں ،اس کے لیے بڑے برتن کا استعمال کریں،گوشت کے چاروں طرف برف رکھ دیں اورگوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں ۔چھوٹے پیکٹ بنا کرفریزرمیں رکھیں ۔گوشت کوہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ پاک کی رِضا کے لیے عاشقان ِرسول میں تقسیم کردیں ،یہ نیکی ہے اورنیکی ہمیشہ کے لیے باقی رہتی ہے ۔جو بَٹ گیا(یعنی غریبوں میں تقسیم ہوگیا) وہ بچ گیا جو کھالیا وہ فنا ہوگیا۔

سوال: بچےبکرے کو گھُماتے ہوئے کیا احتیاط کریں ؟

جواب:اس کی دُم اورکان نہ کھینچیں ،رسی بھی زورسے نہ کھینچیں کہ جس سے تکلیف ہواوریہ آپ کو بھی تکلیف نہ دے ۔

سوال: بڑی عمروالوں کو کون سے شوز (Shoes)پہننے چاہئیں؟

جواب: میڈیکیٹڈ شوز(Medicated Shoes) استعمال کریں،ان میں پھسلنے کے چانس کم ہوتے ہیں اورچلنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔

سوال: سوداخریدتے ہوئے بھاؤکم کروانا کیسا ؟

جواب: یہ سنت ہے ،کم کروانے والا بہت کم قیمت بتائے تو دوکاندارکو ناراض نہیں ہونا چاہئے ۔کم زیادہ کروانے میں دوکانداراورخریدارکو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ۔

سوال: قربانی کے جانورکے گوشت کے کتنے حصے کرنےچاہئیں؟

جواب: قربانی کرنے والا تمام گوشت کا مالک ہے ،اس کے لیے اس کے3 حصے کرنا مستحب ہے ،ایک اپنے لیے ،ایک فقراء(غریبوں) کے لیےاور ایک رشتے داروں کے لیے ۔اگرکوئی ساراگوشت اپنے پاس ہی رکھ لے توبھی جائزہے،اُسے بُرا نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے بُراکہنا بُراہے ۔

سوال: جانورسرکشی نہ کرے ،اس کے لیے کوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب: نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے غلاموں، جانوروں اور بچوں میں سے کسی کا اخلاق بِگڑ جائے (یعنی وہ سرکش و نافرمان ہو جائے)، تو اس کے کان میں (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ) پڑھو۔

(المعجم الاوسط، جلد 1، صفحہ 27، رقم الحدیث: 64، الدعوات الکبیر للبیہقی، جلد 2، صفحہ 264، رقم الحدیث: 615)

سوال: جانورکو ذَبح کرتے وقت کیا پڑھنا ہوتاہے؟

جواب: اللہ پاک کا نام لیا جائے ،بِسْمِ اللّٰهِ  اَللّٰهُ اَکْبَرپڑھنامُستحب ہے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت ‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربَّ المصطفٰے! جو کوئی 18 صفحات کارسالہفضول باتوں سے بچنے کی فضیلت پڑھ یا سُن لے، اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


زبان کی حفاظت، فضول گوئی سے بچنا اور اچھے اخلاق اپنانا ہر مسلمان کی اخلاقی و دینی ذمہ داری ہے۔ شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی اصلاح اور انہیں لایعنی کاموں سے بچانے کے لئے اپنے قلم سے مختلف مدنی پھول تحریر فرمائے ہیں، جنہیں ”شعبہ ہفتہ وار رسالہ“ نے 18 صفحات پر مشتمل ایک بہترین رسالے کی شکل میں تیار کیا ہے جس کا نام ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ ہے۔ امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقان رسول کو یہ رسالہ پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یا ربَّ المصطفٰے! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ پڑھ یا سُن لے اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے ؛

Download


29 ذیقعدہ 1447ھ بمطابق 16 مئی 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مذاکرہ کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی کی۔

سوال:بال اور ناخن کاٹیں تو بڑھ جاتےہیں لیکن اُنگلی کٹ جائے تو دوبارہ نہیں بڑھتی اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب:یہ نظامِ قدرت ہے بال اورناخن میں جان ہوتی ہےاسی لیے تو بڑھتے ہیں مگرکاٹنے سے دردنہیں ہوتا ۔اُنگلی کٹ جائے تو دوبارہ نہیں بڑھتی ،اس میں بال اورناخن والی صلاحیت نہیں ۔

سوال:قربانی کے جانوروں کو کیاکھلایا جائےاورکتنی مرتبہ کھلایاجائے ؟

جواب:جانورکو کھلایاپلایا جائے،یہ ہماری طرح تین مرتبہ نہیں کھاتے بلکہ کھاتے رہتے ہیں، اس لیے قربانی کے جانور کے سامنے پانی اور چارا زیادہ رکھا جائے، کنجوسی نہ کی جائے وہ چاراکھلایا جائے جو وہ کھاتاہے، جس سے جانور خریدنا ہو اُس سے پوچھ لیاجائے کہ یہ جانور کون ساچارا کھاتاہے۔

سوال:علمائےحق سے وابستہ ہونے کا کیافائدہ ہے ؟

جواب:ہم علمائے حق کے ساتھ وابستہ رہیں گے تو ہماراایمان کوئی چھین نہیں سکے گا انْ شآءاللہ الکریم۔ان کی تعظیم فرض ہے، اس دورمیں امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اورجو عالمِ دِین ان کا دامن تھامے ہوئے ہیں، اُن کادامن تھام لیں ۔

سوال:نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کون سے مینڈھے(Sheep) کی قربانی فرمائی ہے ؟

جواب:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینۂ منورہ میں سینگوں والے سیاہ وسفید رنگ والےدو مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔(صحیح البخاری، 2/ 612 )حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سینگ والے مینڈھے کو قربانی کے لیےلانے کاحکم دیا پھر مینڈھے کو پکڑ کرلٹادیا ،اِس کے بعد اسے ذبح فرمادیا۔(مسند احمد،جلد41/39)

سوال:کیا ہرطرح کے الفاظ کا احترام ہے ؟

جواب:جی ہاں !تمام زبانیں الہامی ہیں، ہرزبان کا احترام کیا جائے ۔ 1980ء میں مَیں نے سفرحج میں ماچس کی ایک ڈِبیا زمین سے اٹھائی تھی جس پر کلمہ طیبہ لکھاہوا تھا، مَیں اسے پاکستان لے آیا تھا۔ہمارے ہاں ادب ہے ،پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں کی جانب ہیں ۔یہ محبت کی بات ہے ،محبت کی تمام باتیں درست ہیں جو شریعت کی حد نہ توڑیں ۔کعبے کادروازہ بھی پاکستان کی جانب ہے ۔جتنا ادب کریں کم ہے ،باادب بانصیب ،بے ادب بے نصیب۔اللہ پاک ہمیں باادب رکھے۔

سوال:دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو کیانصیحت فرمائیں گے ؟

جواب:اجتماع میں آنے والوں کو چاہیے کہ جوسُنیں اسے یادرکھیں، اس پر عمل کر یں، انہیں اپنی زندگی میں عملی طورپر نافذکریں، دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں شرکت کریں، مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے لیکن علم خرچ کرنےسے کم نہیں بلکہ اور بڑھتاہے۔ہرمہینے3دن راہِ خدا کے قافلے میں سفرکریں، خوفِ خدا، عشقِ رسول، دِین کا درد ملے گا انْ شآء اللہ الکریم۔نیک اعمال کا رسالہ حاصل کریں ،اس میں دیے گئے سوالات کے مطابق روزانہ خانے پُر کریں اورہر ماہ اپنے ذمہ دارکو جمع کروادیں ۔اس سے نیکیو ں پر استقامت ملے گی اورآپ معاشرے میں اچھے مسلمان بن کر اُبھریں گے۔

سوال: قافلے کے جدول(Schedule) پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب:ہم سنتیں سیکھنے کے لیے سفرکرنے والے قافلوں میں سفرکریں گے اوراس کے جدول (Schedule) پر بھی عمل کریں گے تو پھر دیکھیں کہ کیسی سدھارآتی ہے، اصلاح ہوتی ہے، دونوں جہاں کا بیڑاپارہوجائے گا۔بعض قافلے میں تو جاتے ہیں مگران میں عمل کی کمی ہوتی ہے، شایدوہ قافلے کے جدول پر عمل نہیں کرتے ہوں گے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ”عقل مند باپ “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”عقل مند باپ “ پڑھ یا سن لے اُسے دنیا کے غموں سے نجات دے کر دو جہاں کی خوشیاں نصیب فرما اور ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ایک عقل مند باپ وہ نہیں جو صرف اپنے بچوں کی مادی ضروریات پوری کرے، بلکہ وہ ہے جو ان کی کردار سازی اور ذہنی نشوونما پر توجہ دیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی صبر اور دوراندیشی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کب سختی کرنی ہے اور کب دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہے۔ اچھا باپ  وہ ہوتا ہے جو نصیحتوں سے زیادہ اپنے عمل سے سکھاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بچے وہ نہیں کرتے جو وہ سنتے ہیں بلکہ وہ کرتے ہیں جو وہ اپنے باپ کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

والد کی رہنمائی کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 17 صفحات کا رسالہ عقل مند باپ پڑھنے/سننے کی ترغیب دی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ عقل مند باپ پڑھ یا سن لے اُسے دنیا کے غموں سے نجات دے کر دو جہاں کی خوشیاں نصیب فرمااور ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


9 مئی 2026ء مطابق 22 ذیعقدہ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی۔

مذاکرہ کا آغاز تلاوت قرآن اور نعتِ رسول سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کے سوالات کے جوابات دیئے اور مختلف امور پر اُن کی رہنمائی فرمائی۔ عاشقانِ رسول نے دینِ اسلام سے متعلق جو سوالات کئے اُن میں سے بعض درج ذیل ہیں :

سوال:اسلامی تاریخ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:میں اسلامی(ہجری) تاریخ کو پسند کرتا ہوں جب بھی تاریخ لکھنی ہو تو اسلامی تاریخ لکھتا ہوں ،پھر عیسوی تاریخ بھی لکھ دیتا ہوں کیونکہ اسی کا زیادہ استعمال ہے۔ سب گواہ ہو جائیں کہ مجھے اسلامی تاریخ سے محبت ہے اور آپ بھی اس سے محبت کریں ، آپ بھی اپنے آپ پر اس کو نافذ کریں ۔

سوال:سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب:مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ عالمِ دین، مدرسِ منظرِ اسلام بریلی شریف ہند (India)، استاذُالعلماء اورصاحبِ مجازِ سلسلۂ قادریہ رضویہ تھے۔ ان کی ولادت 1334ھ مطابق 1916ء کو بریلی شریف میں ہوئی اور 16ذیقعدہ 1375ھ مطابق 26 جون 1956ء میں باعتبارِ سنِ ہجری 41 سال کی عمر میں منگل کے دن وصال فرمایا۔ آپ کامزار مبارک خاموش کالونی قبرستان، لیاقت آباد ٹاؤن( کراچی) میں ہے۔ حضرت نعمانی میاں کی عمر جب 4 سال 4 ماہ اور 4 دن ہوئی تو خاندانی طریقہ و رواج کے مطابق سیدی اعلیٰ حضرت نے بسم اللہ پڑھائی اور سلسلۂ قادریہ رضویہ میں بیعت بھی فرما لیا۔ آپ نے والدۂ محترمہ سے قرآنِ کریم ناظرہ اور اردو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔آپ کو تقریباً 5 سال سیدی اعلیٰ حضرت کی زیارت و صحبت حاصل رہی۔ آپ نے علمِ دین اپنےوالدِ محترم حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان سے حاصل کیا اور ان سے سبقاً سبقاً کتبِ تفاسیر و فقہ پڑھیں۔ علامہ محمد ابراہیم خُوشتر صدیقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اپنے جدِّ امجد(یعنی اعلیٰ حضرت ) کے زیرِ سایہ 5 سال تک پروان چڑھتے رہے۔ حضرت نعمانی میاں نے اپنے والدِ ماجد حجۃ الاسلام کا پورا زمانہ پایا۔ سفر و حضر میں استفادہ کرتے ر ہے۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ:” اپنے ظرف کو اتنا وسیع رکھیں کہ وہ تنقید کو جذب کر سکے اور تعریف میں بہہ نہ جائے“۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: واہ کیا بات ہے مدینے کی !بڑا پیارا قول مرتب کیا گیا ہے، بندے میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیئے ،امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دشمن کی تنقید سے سیکھنا چاہیئے کیونکہ وہ بغیر کسی خوف کے تنقید کرے گا جبکہ دوست ڈر ڈر کر تنقید کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اپنی تعریف سن کر بہہ نہ جائے یعنی تعریف سُن کر پُھول نہ جائے ۔

سوال: کون سی عظیم ہستیاں سوڈان سے ہیں؟

جواب: حضرت حکیم لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ ،حضرت نجاشی رحمۃُ اللہِ علیہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔

سوال: جس کی بیماری طویل ہو جائے تو اس کے ساتھ ہمارا کیا انداز ہونا چاہیئے ؟

جواب: ہمارا عزیز، رشتہ دار، دوست یا ہمسایہ بیمار ہو جائے اور بیماری طویل ہو جائے تو گاہے بگاہے(کبھی کبھار) اس سے ملتے رہیں ،پوچھتے رہیں ،کبھی واٹس ایپ کر دیا کریں تاکہ اُسے بیماری کے ساتھ جدائی کا غم نہ ہو۔ ایسوں کو یا جنہیں کوئی غم ہو جائے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں ۔ میں کئی مِیل چل کر مریضوں کی عیادت کے لئے گھروں اور ہسپتال میں جایا کرتا تھا ،میں نے بہت جنازے پڑھائے ہیں ۔

سوال: مدنی مذاکرے میں دعوتِ اسلامی کے کن دو مرحومین کا ذکرِ خیر ہوا؟

جواب:مولانا گلریز عطاری مدنی (منگلا ،کشمیر)اور قاری مسرور عطاری(کراچی)ان دونوں اسلامی بھائیوں کااسی مہینے میں انتقال ہوا۔دونوں ماشآء اللہ بااخلاق،مِلنسار، دعوتِ اسلامی کا دِینی کام کرنے والے اور اپنے اپنے شعبے میں نمایاں طور پر خدمات سرانجام دینے والے تھے ۔اللہ پاک ان دونوں کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔

سوال: مدرسۃ المدینہ میں بچوں کو پانی پلانے کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا تاکید فرمائی؟

جواب: مدرسۃ المدینہ اور جامعۃ المدینہ میں طلبہ کوپانی پلانے کااہتمام کریں ،درجے (کلاس )میں جگ اور گلاس رکھیں تاکہ بچوں کو پانی پینے میں آسانی ہو۔بڑے بھی پانی پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت کریں گے تو ثواب بھی ملے گا۔ ان شآء اللہ الکریم

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھ یا سُن لے،اُسے مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں داخل کرنے والابنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دل جوئی سے مراد کسی شکستہ دل کو سہارا دینا، غمزدہ کی ڈھارس بندھانا اور کسی کی پریشانی میں اس کے کام آنا ہے۔ اسلام میں اسے بلند ترین اخلاقیات اور بہترین عبادتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ دل جوئی سے نفرتیں ختم ہوتی ہیں اور محبت پروان چڑھتی ہے۔ جب معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے دُکھ سکھ بانٹنے لگتے ہیں تو ایک مضبوط اور ہمدرد معاشرہ جنم لیتا ہے۔

شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقان رسول کو ایک دوسرے کے ساتھ دل جوئی کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے اس ہفتے 21 صفحات کا رسالہ دل جوئی کے فضائل پڑھنے/سننے کی ترغیب دی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربّ کریم! جوکوئی 21 صفحات کا رسالہ دل جوئی کے فضائل پڑھ یا سن لے اُسے مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں داخل کرنے والا بناکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


2 مئی 2026ء بمطابق 14 ذیقعدہ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے میں تلاوتِ قرآن اور نعت رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد عاشقانِ رسول نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے بارے میں سوالات کئے جس کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے دوران ہونے والے بعض سوالات کے جوابات:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھاہوا تھا:”كسی کی تکلیف کو اس کے گناہوں کی سزا نہ سمجھو“ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب: یہ نہیں سمجھنا چاہیئے، نہ ہی ہم کسی کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں، نہ کسی کی تکلیف پر خوش ہوا جائے بلکہ اس کے لئے دُعائے خیر کی جائے کیونکہ ہر آنے والی تکلیف گناہوں کی سزا نہیں ہوتی ،انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام تو گناہوں سے پاک و معصوم ہوتے ہیں، پھر بھی ان پر تکالیف آتی ہیں، وہ ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہیں، البتہ بعض تکالیف اللہ پاک کی جانب سے ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، یہ مومنین کے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہیں، البتہ کفار پر سزا کے طور پر آتی ہیں۔

سوال: بعض اوقات جب کسی پر کوئی تکلیف آتی ہے تو لوگ کہتے کہ میرے ساتھ ایسا ایسا کیاتھا تَو اس پر تکلیف آئی ہے، ایسا کہنا کیسا ہے؟

جواب:اس طرح کہنے والا اپنے آپ کو مقبول کہہ رہا ہے، اپنی تعریف کر رہا ہے، اس طرح نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ہمیں یقینی طورپر معلوم نہیں کہ اس پر تکلیف آنے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور!!! ۔

سوال: حرمین نام رکھنا کیسا ؟

جواب: جائز ہے ،حرمین کا معنی دو حرم اور ان سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینۂ منورہ مراد لیا جاتا ہے ۔

سوال: کیا بارش کا پانی برکت والا ہے اور بارش برستے وقت دُعا قبول ہوتی ہے ؟

جواب: قرآنِ پاک میں بارش کے پانی کوبرکت والا پانی فرمایا گیا ہے۔(سورۃ ق، آیت :9) جب بارش ہوتی ہے تو بعض اوقات میں کھڑکی سے باہر ہاتھ بڑھا کر اس کے پانی سے برکت حاصل کرتا ہوں۔ بارش شروع ہوتے ہی جو پانی ہوتا ہے اسے نہ پیا جائے کہ فضا گرد آلود ہوتی ہے اور اس کے اثرات اس میں شامل ہو جاتے ہیں ۔بارش کو بُرا نہ کہا جائے ،البتہ دنیا کی ہر نعمت میں زحمت بھی ہوتی ہے ،زیادہ بارشیں باعثِ زحمت بن جاتی ہیں ،تھوڑی بارش سے بھی بعض اوقات سائیکل اور موٹر سائیکل والے گِر جاتے ہیں، بارش ہو تو حتی الامکان سائیکل یاموٹر سائیکل نہ چلائی جائے ۔فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:”2 دُعائیں رد نہیں ہوتیں، اذان کے بعد اور بارش کے وقت کی دعا“۔(مستدرک للحاکم، حدیث :2534)

سوال: امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اسلامی بہنوں کو کون سی کتابیں ا ور رسائل پڑھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ؟

جواب: اسلامی پردہ ، پردے کے بارے میں سوال جواب اور اسلامی بہنوں کی نماز۔

سوال: پھلوں کے چھلکے وغیرہ راستے میں پھینکنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ؟

جواب:کیلے (Banana)، پپیتے(Papaya) وغیرہ کے چھلکے اور دیگر تکلیف دہ چیزیں راستوں میں پھینک دینا شرعی ،قانونی اور اخلاقی جُرم ہیں، اس سے چلنے والے گِر سکتے ہیں ،مجھے بتایا گیا کہ میرے بڑے بھائی کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ٹرین کے نیچے آ کر کٹ گئے تھے اور ان کا انتقال ہو گیاتھا ۔

سوال: کوّا(Crow) کس طرح لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے ؟

جواب:چیل(Kite) اور کوّے اپنے فائدے کے بغیر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، زخمی کر دیتے ہیں، اوپر کوئی چیز پھینک دیتے ہیں ،چیزیں اُٹھا کر بھی لے جاتے ہیں ،یہ اچھے پرندے نہیں ہیں ۔

سوال: مٹی کے برتن استعمال کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب: مٹی اور لکڑی کے برتن استعمال کرنا سنتِ مُسْتَحَبَّہ ہے، ثواب کی نیت سے رکھیں گے تو ثواب پائیں گےان شآء اللہ الکریم ۔حضرت سیّدُنا خَباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:”میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوپختہ مٹّی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے دیکھا“۔ (معرفۃ الصحابہ، ج 2،ص174)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی یا کاٹھ(یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔(فتاویٰ رضویہ، ج 22،ص129) مزید فرماتے ہیں: (مٹی کے برتن) میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے، کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث پاک میں ہے:”جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھے فرشتے اُس کی زیارت کریں“۔(فتاویٰ رضویہ، حصّہ الف، ج 1،ص336ملتقطاً)مٹی کے برتن استعمال کرنے کا میرا معمول بہت پُرانا ہے،شاید دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے۔مجھے ان سے پیار اور محبت ہے۔ میں جو مٹی کا پیالہ پانی پینے کے لئے استعمال کرتا ہوں اس طرح کا پیالہ عام طور پر نہیں ملتا،کیونکہ مَیں اس کی پیمائش سے پانی پیتا ہوں۔

سوال: آپ سونے کے لئے چٹائی کب سے استعمال کر رہے ہیں ؟

جواب: میراچٹائی پر سونے کا معمول تو دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے کا ہے اور میں خود بازار لینے جاتا تھا ،میں کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی پسند کرتاہوں اور مُردوں کو نہلانے کے وقت بھی یہ استعمال ہوتی ہے ۔اس میں موت کی یادبھی ہے ،اب کمزوری کی وجہ سے بیڈ استعمال کرتا ہوں ،اس پر عموماً چٹائی بچھائی جاتی ہے ۔

سوال: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کون تھے ؟

جواب: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ حنفیوں(یعنی اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکاروں) کے بہت بڑے عالم تھے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ عجیب آزمائش پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہعجیب آزمائش پڑھ یا سُن لے اُسے احسان فراموشی اور ناشکری سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم