9 مئی 2026ء مطابق 22 ذیعقدہ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی۔

مذاکرہ کا آغاز تلاوت قرآن اور نعتِ رسول سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کے سوالات کے جوابات دیئے اور مختلف امور پر اُن کی رہنمائی فرمائی۔ عاشقانِ رسول نے دینِ اسلام سے متعلق جو سوالات کئے اُن میں سے بعض درج ذیل ہیں :

سوال:اسلامی تاریخ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:میں اسلامی(ہجری) تاریخ کو پسند کرتا ہوں جب بھی تاریخ لکھنی ہو تو اسلامی تاریخ لکھتا ہوں ،پھر عیسوی تاریخ بھی لکھ دیتا ہوں کیونکہ اسی کا زیادہ استعمال ہے۔ سب گواہ ہو جائیں کہ مجھے اسلامی تاریخ سے محبت ہے اور آپ بھی اس سے محبت کریں ، آپ بھی اپنے آپ پر اس کو نافذ کریں ۔

سوال:سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب:مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ عالمِ دین، مدرسِ منظرِ اسلام بریلی شریف ہند (India)، استاذُالعلماء اورصاحبِ مجازِ سلسلۂ قادریہ رضویہ تھے۔ ان کی ولادت 1334ھ مطابق 1916ء کو بریلی شریف میں ہوئی اور 16ذیقعدہ 1375ھ مطابق 26 جون 1956ء میں باعتبارِ سنِ ہجری 41 سال کی عمر میں منگل کے دن وصال فرمایا۔ آپ کامزار مبارک خاموش کالونی قبرستان، لیاقت آباد ٹاؤن( کراچی) میں ہے۔ حضرت نعمانی میاں کی عمر جب 4 سال 4 ماہ اور 4 دن ہوئی تو خاندانی طریقہ و رواج کے مطابق سیدی اعلیٰ حضرت نے بسم اللہ پڑھائی اور سلسلۂ قادریہ رضویہ میں بیعت بھی فرما لیا۔ آپ نے والدۂ محترمہ سے قرآنِ کریم ناظرہ اور اردو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔آپ کو تقریباً 5 سال سیدی اعلیٰ حضرت کی زیارت و صحبت حاصل رہی۔ آپ نے علمِ دین اپنےوالدِ محترم حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان سے حاصل کیا اور ان سے سبقاً سبقاً کتبِ تفاسیر و فقہ پڑھیں۔ علامہ محمد ابراہیم خُوشتر صدیقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اپنے جدِّ امجد(یعنی اعلیٰ حضرت ) کے زیرِ سایہ 5 سال تک پروان چڑھتے رہے۔ حضرت نعمانی میاں نے اپنے والدِ ماجد حجۃ الاسلام کا پورا زمانہ پایا۔ سفر و حضر میں استفادہ کرتے ر ہے۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ:” اپنے ظرف کو اتنا وسیع رکھیں کہ وہ تنقید کو جذب کر سکے اور تعریف میں بہہ نہ جائے“۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: واہ کیا بات ہے مدینے کی !بڑا پیارا قول مرتب کیا گیا ہے، بندے میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیئے ،امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دشمن کی تنقید سے سیکھنا چاہیئے کیونکہ وہ بغیر کسی خوف کے تنقید کرے گا جبکہ دوست ڈر ڈر کر تنقید کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اپنی تعریف سن کر بہہ نہ جائے یعنی تعریف سُن کر پُھول نہ جائے ۔

سوال: کون سی عظیم ہستیاں سوڈان سے ہیں؟

جواب: حضرت حکیم لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ ،حضرت نجاشی رحمۃُ اللہِ علیہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔

سوال: جس کی بیماری طویل ہو جائے تو اس کے ساتھ ہمارا کیا انداز ہونا چاہیئے ؟

جواب: ہمارا عزیز، رشتہ دار، دوست یا ہمسایہ بیمار ہو جائے اور بیماری طویل ہو جائے تو گاہے بگاہے(کبھی کبھار) اس سے ملتے رہیں ،پوچھتے رہیں ،کبھی واٹس ایپ کر دیا کریں تاکہ اُسے بیماری کے ساتھ جدائی کا غم نہ ہو۔ ایسوں کو یا جنہیں کوئی غم ہو جائے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں ۔ میں کئی مِیل چل کر مریضوں کی عیادت کے لئے گھروں اور ہسپتال میں جایا کرتا تھا ،میں نے بہت جنازے پڑھائے ہیں ۔

سوال: مدنی مذاکرے میں دعوتِ اسلامی کے کن دو مرحومین کا ذکرِ خیر ہوا؟

جواب:مولانا گلریز عطاری مدنی (منگلا ،کشمیر)اور قاری مسرور عطاری(کراچی)ان دونوں اسلامی بھائیوں کااسی مہینے میں انتقال ہوا۔دونوں ماشآء اللہ بااخلاق،مِلنسار، دعوتِ اسلامی کا دِینی کام کرنے والے اور اپنے اپنے شعبے میں نمایاں طور پر خدمات سرانجام دینے والے تھے ۔اللہ پاک ان دونوں کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔

سوال: مدرسۃ المدینہ میں بچوں کو پانی پلانے کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا تاکید فرمائی؟

جواب: مدرسۃ المدینہ اور جامعۃ المدینہ میں طلبہ کوپانی پلانے کااہتمام کریں ،درجے (کلاس )میں جگ اور گلاس رکھیں تاکہ بچوں کو پانی پینے میں آسانی ہو۔بڑے بھی پانی پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت کریں گے تو ثواب بھی ملے گا۔ ان شآء اللہ الکریم

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھ یا سُن لے،اُسے مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں داخل کرنے والابنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دل جوئی سے مراد کسی شکستہ دل کو سہارا دینا، غمزدہ کی ڈھارس بندھانا اور کسی کی پریشانی میں اس کے کام آنا ہے۔ اسلام میں اسے بلند ترین اخلاقیات اور بہترین عبادتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ دل جوئی سے نفرتیں ختم ہوتی ہیں اور محبت پروان چڑھتی ہے۔ جب معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے دُکھ سکھ بانٹنے لگتے ہیں تو ایک مضبوط اور ہمدرد معاشرہ جنم لیتا ہے۔

شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقان رسول کو ایک دوسرے کے ساتھ دل جوئی کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے اس ہفتے 21 صفحات کا رسالہ دل جوئی کے فضائل پڑھنے/سننے کی ترغیب دی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربّ کریم! جوکوئی 21 صفحات کا رسالہ دل جوئی کے فضائل پڑھ یا سن لے اُسے مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں داخل کرنے والا بناکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


2 مئی 2026ء بمطابق 14 ذیقعدہ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے میں تلاوتِ قرآن اور نعت رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد عاشقانِ رسول نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے بارے میں سوالات کئے جس کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے دوران ہونے والے بعض سوالات کے جوابات:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھاہوا تھا:”كسی کی تکلیف کو اس کے گناہوں کی سزا نہ سمجھو“ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب: یہ نہیں سمجھنا چاہیئے، نہ ہی ہم کسی کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں، نہ کسی کی تکلیف پر خوش ہوا جائے بلکہ اس کے لئے دُعائے خیر کی جائے کیونکہ ہر آنے والی تکلیف گناہوں کی سزا نہیں ہوتی ،انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام تو گناہوں سے پاک و معصوم ہوتے ہیں، پھر بھی ان پر تکالیف آتی ہیں، وہ ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہیں، البتہ بعض تکالیف اللہ پاک کی جانب سے ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، یہ مومنین کے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہیں، البتہ کفار پر سزا کے طور پر آتی ہیں۔

سوال: بعض اوقات جب کسی پر کوئی تکلیف آتی ہے تو لوگ کہتے کہ میرے ساتھ ایسا ایسا کیاتھا تَو اس پر تکلیف آئی ہے، ایسا کہنا کیسا ہے؟

جواب:اس طرح کہنے والا اپنے آپ کو مقبول کہہ رہا ہے، اپنی تعریف کر رہا ہے، اس طرح نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ہمیں یقینی طورپر معلوم نہیں کہ اس پر تکلیف آنے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور!!! ۔

سوال: حرمین نام رکھنا کیسا ؟

جواب: جائز ہے ،حرمین کا معنی دو حرم اور ان سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینۂ منورہ مراد لیا جاتا ہے ۔

سوال: کیا بارش کا پانی برکت والا ہے اور بارش برستے وقت دُعا قبول ہوتی ہے ؟

جواب: قرآنِ پاک میں بارش کے پانی کوبرکت والا پانی فرمایا گیا ہے۔(سورۃ ق، آیت :9) جب بارش ہوتی ہے تو بعض اوقات میں کھڑکی سے باہر ہاتھ بڑھا کر اس کے پانی سے برکت حاصل کرتا ہوں۔ بارش شروع ہوتے ہی جو پانی ہوتا ہے اسے نہ پیا جائے کہ فضا گرد آلود ہوتی ہے اور اس کے اثرات اس میں شامل ہو جاتے ہیں ۔بارش کو بُرا نہ کہا جائے ،البتہ دنیا کی ہر نعمت میں زحمت بھی ہوتی ہے ،زیادہ بارشیں باعثِ زحمت بن جاتی ہیں ،تھوڑی بارش سے بھی بعض اوقات سائیکل اور موٹر سائیکل والے گِر جاتے ہیں، بارش ہو تو حتی الامکان سائیکل یاموٹر سائیکل نہ چلائی جائے ۔فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:”2 دُعائیں رد نہیں ہوتیں، اذان کے بعد اور بارش کے وقت کی دعا“۔(مستدرک للحاکم، حدیث :2534)

سوال: امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اسلامی بہنوں کو کون سی کتابیں ا ور رسائل پڑھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ؟

جواب: اسلامی پردہ ، پردے کے بارے میں سوال جواب اور اسلامی بہنوں کی نماز۔

سوال: پھلوں کے چھلکے وغیرہ راستے میں پھینکنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ؟

جواب:کیلے (Banana)، پپیتے(Papaya) وغیرہ کے چھلکے اور دیگر تکلیف دہ چیزیں راستوں میں پھینک دینا شرعی ،قانونی اور اخلاقی جُرم ہیں، اس سے چلنے والے گِر سکتے ہیں ،مجھے بتایا گیا کہ میرے بڑے بھائی کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ٹرین کے نیچے آ کر کٹ گئے تھے اور ان کا انتقال ہو گیاتھا ۔

سوال: کوّا(Crow) کس طرح لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے ؟

جواب:چیل(Kite) اور کوّے اپنے فائدے کے بغیر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، زخمی کر دیتے ہیں، اوپر کوئی چیز پھینک دیتے ہیں ،چیزیں اُٹھا کر بھی لے جاتے ہیں ،یہ اچھے پرندے نہیں ہیں ۔

سوال: مٹی کے برتن استعمال کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب: مٹی اور لکڑی کے برتن استعمال کرنا سنتِ مُسْتَحَبَّہ ہے، ثواب کی نیت سے رکھیں گے تو ثواب پائیں گےان شآء اللہ الکریم ۔حضرت سیّدُنا خَباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:”میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوپختہ مٹّی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے دیکھا“۔ (معرفۃ الصحابہ، ج 2،ص174)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی یا کاٹھ(یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔(فتاویٰ رضویہ، ج 22،ص129) مزید فرماتے ہیں: (مٹی کے برتن) میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے، کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث پاک میں ہے:”جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھے فرشتے اُس کی زیارت کریں“۔(فتاویٰ رضویہ، حصّہ الف، ج 1،ص336ملتقطاً)مٹی کے برتن استعمال کرنے کا میرا معمول بہت پُرانا ہے،شاید دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے۔مجھے ان سے پیار اور محبت ہے۔ میں جو مٹی کا پیالہ پانی پینے کے لئے استعمال کرتا ہوں اس طرح کا پیالہ عام طور پر نہیں ملتا،کیونکہ مَیں اس کی پیمائش سے پانی پیتا ہوں۔

سوال: آپ سونے کے لئے چٹائی کب سے استعمال کر رہے ہیں ؟

جواب: میراچٹائی پر سونے کا معمول تو دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے کا ہے اور میں خود بازار لینے جاتا تھا ،میں کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی پسند کرتاہوں اور مُردوں کو نہلانے کے وقت بھی یہ استعمال ہوتی ہے ۔اس میں موت کی یادبھی ہے ،اب کمزوری کی وجہ سے بیڈ استعمال کرتا ہوں ،اس پر عموماً چٹائی بچھائی جاتی ہے ۔

سوال: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کون تھے ؟

جواب: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ حنفیوں(یعنی اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکاروں) کے بہت بڑے عالم تھے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ عجیب آزمائش پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہعجیب آزمائش پڑھ یا سُن لے اُسے احسان فراموشی اور ناشکری سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عجیب آزمائش

آزمائش انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ”آزمائش“ انسان کی عقل کو حیران اور اس کے صبر کو بے بس کر دیتا ہے۔ یہ اکثر وہاں سے آتی ہے جہاں سے انسان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

آزمائش کی نوعیت:

غیر متوقع ہونا: یہ وہ موڑ ہے جہاں خوشی کے عین درمیان اچانک کوئی دکھ یا چیلنج سامنے آ کھڑا ہو۔

خیر میں شر اور شر میں خیر: کبھی اللہ پاک انسان کو بہت زیادہ دے کر آزماتا ہے کہ وہ شکر کرتا ہے یا تکبر اور کبھی سب کچھ چھین کر آزماتا ہے کہ وہ شکوہ کرتا ہے یا صبر۔

اپنوں کا رویہ: سب سے عجیب آزمائش وہ ہوتی ہے جب اپنے ہی اجنبی بن جائیں یا مخلص ترین رشتوں سے دھوکہ ملے۔

آزمائش پرصبر کرنے اور اس سے حاصل ہونے والے اجرو ثواب سے عاشقان رسول کو آگاہ کرنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 18 صفحات کا رسالہ عجیب آزمائش پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربّ کریم! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ عجیب آزمائش پڑھ یا سن لے اُسے احسان فراموشی اور ناشکری سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:


تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک، دعوتِ اسلامی کے بانی، شیخِ طریقت امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی تحریریں امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کا اندازِ تحریر نہ صرف سادہ ہے بلکہ پڑھنے والے کے دل میں نیکی کا جذبہ بیدار کر دیتا ہے۔

عاشقانِ رسول کی علمی و روحانی پیاس بجھانے کے لیے امیرِ اہل سنت وقتاً فوقتاً مختلف موضوعات پر رسائل تحریر فرماتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں اس ہفتے آپ نے 17 صفحات پر مشتمل رسالہ ”وسیلے کی برکتیں“ پڑھنے یا سننے کی ترغیب دلائی ہے۔ اس رسالے کے مطالعے سے عقیدہ توسل اور اس کی برکات کے حوالے سے ایمان افروز معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

امیرِ اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس رسالے کا مطالعہ کرنے والوں کو اپنی خاص دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار:

”یا اللہ پاک! جو کوئی 17 صفحات کا رسالہ ”وسیلے کی برکتیں“ پڑھ یا سن لے اسے دنیا و آخرت میں نیکیوں کی بہترین جزا عطا فرما اور جنّتُ الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پڑوسی بنا دے۔ اٰمین“

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:

[Download]


تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک، دعوتِ اسلامی کے بانی شیخِ طریقت، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت علمی و روحانی حوالے سے کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ کی تحریریں اور خطوط مریدین، معتقدین اور عام مسلمانوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔

امیرِ اہل سنت کا اندازِ تحریر نہایت سادہ اور دل نشین ہے جو براہِ راست دل پر اثر کرتا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے آغاز اور امیرِ اہل سنت کی جدوجہد کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں نیکیوں پر استقامت پانے کے عملی طریقے سیکھنے کو ملتے ہیں۔

سال 2022ء میں سفرِ مدینہ کے دوران شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے”مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین “ کے نام مختلف مدنی پھول اپنے قلم سے تحریر فرمائے تھے جنہیں بعد میں یکجاں کرکے”شعبہ ہفتہ وار رسالہ“نے عاشقان رسول کی رہنمائی کے لئے 34 صفحات پر مشتمل ایک رسالہ بنام تحریراتِ عطار تیار کیا ہے۔ امیر اہلسنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے عاشقان رسول کو یہ رسالہ پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربّ کریم! جو کوئی 34 صفحات کا رسالہ تحریراتِ عطار پڑھ یا سن لے اُسے دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں استقامت عطا فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


کراچی (ویب ڈیسک): دعوتِ اسلامی کے ممتاز مبلغ، رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ اور ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے چیف ایڈیٹر مولانا ابورجب محمد آصف عطاری مدنی کو گزشتہ رات کراچی کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ 16 اپریل 2026ء جمعرات کو رات ہفتہ وار اجتماع کے بعد عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ پرانی سبزی منڈی، کراچی میں ادا کی گئی، جس کی امامت بانیِ دعوتِ اسلامی شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے فرمائی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور ہزاروں کی تعداد میں علمائے کرام، طلبہ کرام اور شہر بھر سے آئے ہوئے عاشقانِ رسول نے شرکت کی جن میں اراکینِ شوریٰ، جید علمائے کرام و مفتیانِ کرام اور جامعۃ المدینہ کے اساتذہ و طلبہ بھی شامل تھے ۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کی بلندیٔ درجات کے لئے خصوصی دعا کروائی اور اپنے مخلص مرید اور دیرینہ رفیق کے جنازے کو خود کندھا دے کر رخصت کیا۔

نمازِ جنازہ کے بعد میت کو قافلے کی صورت میں سی ون (C-1) ایریا لیاقت آباد قبرستان، کراچی لایا گیا جہاں تدفین کے موقع پر بھی عاشقانِ رسول کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ یہ مولانا آصف عطاری مدنی کی بڑی سعادت اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے ان کی گہری وابستگی کا ثبوت تھا کہ پیر و مرشد خود قبرستان تشریف لائے، جانشینِ امیرِ اہلِ سنت ابواُسید الحاج مولانا عبید عطاری مدنی نے خود قبر میں اتر کر اپنے ہاتھوں سے مرحوم کو قبر میں اتارا۔ تدفین کے دوران قبرستان کا ماحول تلاوتِ قرآن، نعت خوانی اور ذکر و اذکار سے معطر رہا، جہاں عاشقانِ رسول نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اپنے پیارے عالمِ دین کو آخری منزل کی طرف الوداع کیا۔

مولانا آصف عطاری مدنی کے انتقال پر علمی و عوامی حلقوں میں دکھ و رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اراکینِ شوریٰ سمیت ملک بھر سے جید علمائے کرام و مفتیانِ کرام نے اپنے تعزیتی پیغامات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ایک بڑا خلا قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی مرحوم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ انتقال سے محض دو روز قبل بھی آپ نے ہسپتال جا کر ان کی عیادت فرمائی تھی۔ مرحوم نے اپنی زندگی کے 25 سال درس و تدریس اور 26 سال تحریر و تحقیق کے میدان میں صرف کئے، جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ ہماری ٹیم اس غم کی گھڑی میں تمام سوگواروں اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔


معاشرے کے لوگوں کی اصلاح کرنے اور انہیں احکامِ شریعہ سے آگاہ کرنے کے لئے 11 اپریل 2026ء بمطابق 23 شوال المکرم 1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔

ابتداءً تلاوتِ قرآن کی گئی اور نعت خواں اسلامی بھائیوں نے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےحاضرین و مدنی چینل کے ناظرین کو مدنی پھولوں سے نوازا اور اُن کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال و جواب

سوال: بچوں کودِین سکھانے کا ماں باپ کوکیادنیاوی فائدہ ہوگا ؟

جواب:ماں باپ اپنے بچوں کو دِین سکھائیں گے تودِینی تعلیم انہیں ماں باپ کی قدر سکھائے گی،اِنہیں صِلۂ رحمی(یعنی رشتے داروں کےساتھ حُسنِ سلوک)سےآگاہ کرے گی ۔ والدین کو چاہیئے کہ بچوں کودِین سکھانے میں دنیاوی تعلیم پر فوقیت دیں ۔

سوال:کیا دِینی منصب کی پذیرائی ہے ؟

جواب: جی ہاں ،دِینی منصب کی پذیرائی ہے ،اگرکسی نے دِین کا کام کیا ہو،کوئی منصب پایا ہوجیسے امام مسجدکی قدرلوگوں کے دل میں ہوتی ہے ،لوگ ہاتھ چُومتے ہیں ۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا:” لوگ 4 دن سگریٹ پی کر کہتے ہیں عادت ہو گئی ہے، موبائل استعمال کر کے کہتے ہیں عادت ہو گئی ہے،کاش ! رمضان کا پورا مہینا نمازپڑھ کر بھی کوئی کہے کہ مجھے نماز کی عادت ہو گئی ہے“اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:سگریٹ وغیرہ بُری عادات میں نفس کی مددکرتاہے،بندہ اس میں مبتلارہتاہے، نمازپڑھنےمیں نفس وشیطان مددنہیں کرتے ۔البتہ کئی لوگ ماہِ رمضان کی برکت سے سارارمضان نمازپڑھتے ہیں، ماہِ رمضان بغیروعظ کے ایسانورپھیلاتا ہے کہ لوگ نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔رمضان شریف میں لوگوں پربھرپورانفرادی کوشش کی جائے(یعنی ایک ایک کونیکی کی دعوت دی جائے) تو کئی نمازی رمضان کے بعد بھی نماز پر استقامت پائیں گے۔اس لئے ماہِ رمضان میں نئے نمازیوں پرانفرادی کوشش کرنی چاہیئے ۔

سوال:کیا تحریم نام رکھ سکتے ہیں ؟

جواب:جی!تحریم کے کئی معنیٰ ہیں ،عزت کرنا ،حُرمت کرناوغیرہ۔

سوال : ظاہری اصلاح اورباطنی اصلاح میں سے کس کوفوقیت دینی چاہیئے ؟

جواب: ظاہری اورباطنی اصلاح دونوں ضروری ہیں ۔دونوں کی اصلاح ساتھ ساتھ کرنی چاہیئے ۔

سوال : نیکی کی دعوت کب دینی چاہیئے ؟

جواب: نیکی کی دعوت دینازندگی کے ساتھ متصل (یعنی ہماری زندگی میں شامل) ہے۔جب جیسے ہی موقع ملے فوراً نیکی کی دعوت دینی چاہیئے ۔

سوال : ملازمین کے ساتھ کیساسلوک کیاجائے ؟

جواب: ملازمین اورماتحتوں کو عزت دی جائے ،ان کے ساتھ اچھاسلوک کیا جائے ،ان کا احساس کیا جائے تو ان کا دل خوش ہوگا،آپس میں محبت بڑھے گی ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ محتاط گفتگو کیجئے ‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” محتاط گفتگو کیجئے “پڑھ یا سن لے،اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اوراعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب فرمااور جنت الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


صوفی محمد مقصود حسین قادری نوشاہی اویسی صاحب 28 رمضان المبارک 29 ویں  شب نمازِ تراویح ادا کرکے گھر واپس تشریف لا رہے تھے کہ بارش کے باعث پاؤں پھسل جانے سے گر گئے جس کے نتیجے میں ان کے بازو کی ہڈی میں فریکچر ہو گیا تھا علاج کے بعد بھی مکمل آرام نہیں آسکا۔

حادثے کی خبر ملنے پر شیخ طریقت امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے ان سے عیادت کی اور انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے مدنی پھول عطا کئے اور دعاؤں سے نوازا۔

امیر اہلسنت کا پیغام

نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ خاتم النبیین

غم کی وجہ سے گناہ مٹتے ہیں:

ام المؤمنین حضرتِ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:

”جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے پاس گناہ مٹانے والا عمل نہیں ہوتا، تو اللہ پاک اسے غم میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ اس کے گناہ مٹا دے۔“ (حوالہ: مشکاۃ المصابیح، جلد پہلی، صفحہ 302، حدیث نمبر 1580)

حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: طبرانی اور حاکم کی روایت میں ہے کہ اللہ غمگین دل کو پسند کرتا ہے۔ اسی لئے صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ رنج و غم میں درود شریف زیادہ پڑھو، کیونکہ اکثر رنج و غم گناہوں کی وجہ سے آتے ہیں اور درود شریف کی برکت سے گناہ مٹتے ہیں۔ جب گناہ گئے تو ان کا سامان (یعنی رنج و غم) بھی گیا۔ (حوالہ: مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 429)

دعائے امیر اہل سنت

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین

یا رب المصطفیٰ جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! صوفی محمد مقصود حسین قادری نوشاہی اویسی کو ہاتھ کے فریکچر سے شفائے کاملہ، عاجلہ، نافعہ عطا فرما۔ ان کو عافیت و دینی خدمت و سنتوں اور خوشیوں بھری اور گناہوں سے پاک لمبی زندگی عطا کر۔

یا ربِ باری! تکلیفیں، پریشانیاں ان کے لئے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائیں۔ یا ربِ غفار! اے مغفرت کرنے والے پروردگار! ان کی، ان کے ماں باپ کی اور سارے خاندان کی بے حساب مغفرت فرما اور ساری امت کو بخش دے۔

اللہم اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


گفتگو صرف لفظوں کا تبادلہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، ظرف اور تربیت کا آئینہ ہوتی ہے۔ گفتگو میں مصلحت، شائستگی اور دوسروں کے احترام کا پہلو نمایاں ہو۔

دانشمندوں کا قول ہے کہ ”پہلے تولو، پھر بولو“ ۔ جب ہم الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتتے ہیں، تو ہم نہ صرف غلط فہمیوں کے دروازے بند کرتے ہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔ بے جا بولنا اور بغیر سوچے سمجھے تبصرہ کرنا اکثر پشیمانی کا باعث بنتا ہے جبکہ نپے تلے الفاظ انسان کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔

عاشقانِ رسول کو محتاط گفتگو کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ محتاط گفتگو کیجئے پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ محتاط گفتگو کیجئے پڑھ یا سن لے اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اور اعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب فرمااور جنت الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے  کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ عاشقان ِ رسول کے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔

اسی سلسلے میں 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال المکرم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے کیا گیا۔

تلاوت و نعت کے بعد براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل سوالات کا سلسلہ ہوا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات دیئے۔

بعض سوال و جواب:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”دوست ایسا ہونا چاہیئے جو آپ کے سامنے اللہ پاک کا ذکر کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ کا ذکر کرے“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:بہت پیاری بات ہے ،ایسے کی صحبت اختیار کی جائے جو نیک ہو، جسے دیکھ کر خدا یاد آئے اور وہ آپ کے لئے اللہ پاک سے دعا کرے ۔

سوال: جب بندہ گفتگو کرتا ہے تو اس کا نیک ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ،کیا یہ درست ہے ؟

جواب:یہ درست بھی ہے اور نہیں بھی ۔بعض لوگ نیک ہوتے ہیں اور ان کی گفتگو سے ان کا نیک ہونا ظاہر ہوتا ہے اور بعض گفتار کے غازی ہوتے ہیں(یعنی باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن عمل کچھ بھی نہیں ہوتا) ،کوئی تصوف کی کتاب پڑھ لیتے ہیں اور نیکوں والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،مگر وہ نیک ہوتے نہیں ،ایسوں کی تو گلی میں بھی نہیں جانا چاہیئے (یعنی ایسوں کی صحبت سے بچنا چاہئے)۔

سوال:بچے کو بچپن میں کیا سکھایا جائے ؟

جواب:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :اِفْتَحُوْا عَلٰی صِبْیَانِکُمْ اَوَّلَ کَلِمَةٍ بِـلَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ یعنی اپنے بچوں کو پہلی بات لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ سکھاؤ ۔ (شعب الایمان:8649) آپ کا بچہ جب بولنے لگے تو سب سے پہلے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ بولے ۔اس کے لئے اس کے سامنے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھتے رہیں ،پہلے مائیں لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کی لوری دیتی تھیں ،اَب پنگھوڑے(جُھولے) میں میوزک لگا دیتے ہیں ،ایسا نہ کیا جائے بلکہ بچے کے سامنے کلمہ شریف(لآ اِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ) پڑھتے رہیں۔ اس کے علاوہ آپ سب بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتے رہیں۔میں بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مرتے وقت بھی میرا آخری کلام کلمہ شریف ہو۔

سوال:پہلے دعا میں دل لگتا تھا،خشوع و خضوع نصیب ہوتا تھا ،اب ایسا نہیں،کیا کروں ؟

جواب:ایسے شخص کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کرے اوردُعا میں رونے کی کوشش کرے کہ نیک لوگوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔یادرکھئے!جو گناہوں میں مصروف رہتا ہے اسے عبادت میں لذت نصیب نہیں ہوتی ۔

سوال:شوال شریف کی کیا خصوصیات ہیں ؟

جواب:اس مہینے کا پہلا دن عیدالفطر ہے جو بہت بابرکت ہے ،اس میں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی عام مغفرت ہوتی ہے۔حدیثِ پاک کی مشہور کتاب صحیح بخاری کے مصنف امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا یوم عرس بھی اسی دن(یعنی پہلی شوال کو ) ہے ۔

٭شوال میں 6 روزے(شش عید) رکھے جاتے ہیں ،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے راوی ، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا، جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“۔( المعجم الاوسط، ج6، ص234، باب المیم، الحدیث: 8622)

٭ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عیدالفطر کے بعد6روزے رکھ لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے 10ملیں گی تو ماہِ رمضان کا روزہ 10مہینے کے برابر ہے اور ان 6دنوں کے بدلے میں 2 مہینے تو پورے سال کے روزے ہوگئے“۔ (السنن الکبری للنسائی، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، ج2، ص162۔163، الحدیث: 2860 ۔ 2861)

٭شوال میں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی یعنی یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر آئیں۔15 شوال کو سَیِّدُالشَّہَدَاء(شہیدوں کے سردار) حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اوردیگرشہدائے اُحد کا یوم عرس ہے ۔

سوال:علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟

جواب:علم نافع کا مطلب ہے: نفع دینے والا علم ۔بعض دنیاوی علم بھی نفع دیتے ہیں مگر تمام دینی علوم نفع دینے والے ہوتے ہیں، اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ علمِ نافع وہ ہوتا ہے جو دل میں اثر کرے اور دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت پیدا کرے، جب دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت ٹھہر جائے تو بندہ نیک اعمال کی طرف رغبت کر لیتا ہے ۔

سوال:عالمِ دین کی کیا شان ہے؟

جواب:عالمِ دین کی بڑی شان ہے،اس کے لئے سمندر میں مچھلیاں اورزمین میں چیونٹیاں دُعا کرتی ہیں ،جب وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے چلتا ہے تو فرشتے اس کے لئے پر بچھاتے ہیں ،عالمِ دِین کو دیکھنا عبادت ہے ۔ہر گھر میں کم از کم ایک عالم اور ایک عالمہ ہونے چاہئیں ،یہ والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے اور آخرت میں جنت میں داخلے کا سبب بنیں گے ،ان شآء اللہ الکریم۔دیگر اسلامی بھائی بھی عالم بنیں ،نہیں بن سکتے تو جتنوں کو ہو سکے جامعۃ المدینہ میں داخلہ دلوائیں ،اگر ہو سکے تو مجلس جامعۃ المدینہ سے مشورہ کر کے کسی طالب علم کا خرچہ اٹھا لیں ۔ہراسلامی بھائی کم از کم ایک اسلامی بھائی کو جامعۃ المدینہ میں ضرور داخل کروائیں اور فالواپ کریں ۔پوچھتے رہیں ،توجہ رکھیں تاکہ وہ چھٹیاں نہ کرے ۔آج دورہ حدیث والے بھی جمع ہیں ،آپ سب بھی کوشش کریں ۔ اسلامی بہنیں اپنے محارم اور دیگر اسلامی بہنوں کوتیار کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔علمِ دین عام ہو گیا تو معاشرے کی اصلاح ہو گی اور نیکیوں کا دور دورہ ہو جائے گا ۔

حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّ الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا، نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔( ترمذی ،4 /308، حدیث:2679)مشہور مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب ثواب کے حقدار ہیں۔(مرآۃالمناجیح،۱ /۱۹۴بتغیر قلیل)سب مل کر زور لگائیں اور اس سال دُنیا بھرکے جامعۃ المدینہ(بوائز،گرلز) میں 21ہزارطلبہ و طالبات کو داخل کروائیں ۔ مدرسۃ المدینہ میں اس مرتبہ جتنے حافظ بنے ہیں ان سب پرقاری صاحبان اور اسلامی بھائی انفرادی کوشش کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔قاری صاحبان خود بھی عالم بنیں اور حفاظ کو بھی اس کے لیے تیار کریں ۔ حافظِ قرآن اچھا عالمِ دِین بنتا ہے ۔

سوال:معاشرے میں دوسروں کا احساس کم ہے، لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے وہاں لوگ ایسے کام نہیں کرتے جس سے دوسروں کوتکلیف ہو، البتہ قانون خاموش بھی ہو تو دینی تعلیمات موجود ہیں کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ کسی کو تکلیف ہو ۔حدیث پاک میں ہے: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔( بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)ایک اور حدیث پاک میں ہے :مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 654، حدیث: 6942 )کسی کو شر نہ پہچانا جنت میں لے جانے والا عمل ہے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” نیک اعمال پراستقامت پانے کے طریقے“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لے، اُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


استقامت بہت بڑی نعمت ہے، بظاہر چھوٹا نظر آنے والا مگر مستقل (یعنی ہمیشہ) کیا جانے والا نیک عمل اللہ عزوجل زیادہ پسند ہے جیساکہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی :اللہ پاک کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ فرمایا:”وہ عمل جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو“۔(بخاری، 4/ 237، حدیث:6465)

لوگوں کو نیک اعمال کی ترغیب دلانے کے لئے اس ہفتے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کو 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربِّ کریم!جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لےاُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download