پیارے اسلامی بھائیو! قراٰنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں ہمیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جیساکہ حضوراکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ پاک کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔(سنن الترمذي، كتاب البر والصلة، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين، 3/360، حديث:1907)

ایک حدیث پاک میں والد کی عظمت و شان کو بیان کرتے ہوئے حضوراکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: والد جنت کے سب دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے، اب تو چاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھو دے خواہ نگاہ رکھ۔ (سنن الترمذی ، كتاب البر والصلة، باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدين، 3/359، حديث:1906)

ایک حدیث پاک میں ہے کہ سب گناہوں کی سزا اللہ تعالیٰ چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی دیتا ہے۔(مستدرک حاکم،5/216، حدیث: 7345)

والد دن رات ایک کرکے اولاد کو پالتا ہے اور اولاد پر مال و دولت خرچ کرکے اولاد کو کسی قابل بناتا ہے لیکن جب والد کو اولاد کے مال کی ضرورت ہوتی ہے تو اولاد والد پر مال خرچ کرنے میں کتراتی ہے جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ ایک شخص حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے۔ اس کا باپ عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ کمزور تھا اور میں قوی تھا، وہ محتاج تھا اور میں مال دار تھا، میں اپنی ملکیت میں سے کسی چیز سے اسے منع نہیں کرتا تھا اور آج جب میں کمزور ہو گیا ہوں اور یہ مال دار ہے تو یہ اپنا مال مجھے دینے میں بخل کرتا ہے۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رونے لگے اور فرمایا: کوئی پتھر یا ڈھیلا بھی اسے سنے گا تو وہ رونے لگے گا۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس شخص سے فرمایا تو اور تیرامال تیرے باپ کاہے۔ (نزہۃ المجالس)

ایک حدیث پاک میں ہے کہ ایک شخص حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میرے پاس مال ہے اور اولاد بھی ہے اور میرے والد میرے مال کے محتاج ہیں تو میرے لئے کیا حکم ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے، تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھا سکتے ہو۔(سنن ابی داؤد)

ایک حدیث پاک میں والد کی وفات کے بعد ان کے عزیز واقارب اور دوست احباب سے تعلق برقرار رکھنے کا بھی حکم ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ ہے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ سے دوستانہ تعلقات رکھنے والوں سے تعلق جوڑے رکھے۔(ریاض الصالحین)

یاد رکھئے! والدین کی شان بہت بڑی ہے، لہٰذا ہر ایک کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہئے اور ان کی اِطاعت کرتے ہوئے ان کا سونپا ہوا ہر جائز کام فوراً بجا لانا چاہئے۔ ہاں اگر وہ شریعت کے خلاف کوئی حکم دیں تو اس میں ان کی اِطاعت نہ کی جائے کہ حدیثِ پاک میں ہے:اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اِطاعت نہیں۔(مسلم، ص789،حدیث: 4765)

پیارے اسلامی بھائیو! والدین ایک بہت بڑی نعمت ہے، ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور ان کی خدمت کرنی چاہئے، ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنی چاہئے، ان سے محبت و شفقت سے پیش آنا چاہئے، انہیں ٹائم دینا چاہئے اور ان کا خیال رکھنا چاہئے ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں والدین کا ادب و احترام کرنے کی توفيق عطا فرمائے، اٰمین۔

یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔