پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں والدہ کے ساتھ ساتھ والد کا ادب و احترام اور فرمانبرداری کرتے رہنا چاہئے، ہم والدہ کے ساتھ تو حسن سلوک اور ادب و احترام والا معاملہ کرتے ہیں مگر والد کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کم ہوتا ہے جبکہ اللہ پاک پارہ15،سُورۂ بَنی اِسرائیل کی آیت نمبر23اور24 میں ماں باپ دونوں کے ساتھ حسن سلوک اور ادب احترام کا حکم اِرْشاد فرماتا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(23) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(24)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن(چھوٹی عمر) میں پالا۔(پ15، بنیٓ اسراءیل:23، 24)

آیئے! والد کی شان و عظمت اور اطاعت و فرمانبرداری پر مشتمل6 فرامین مُصْطَفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھتے ہیں:

(1)باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے،اب تیری مرضی ہے کہ تو اس کی حفاظت کر یا اسے چھوڑ دے۔(ترمذی، کتاب البر والصلة،باب:ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین،3/359، حدیث:1906)

(2)بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا یہاں تک کہ بیٹا اپنے باپ کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔(مسلم، کتاب العتق،باب فضل عتق الوالد،ص624، حديث:3799)

(3)ربّ کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے اور ربّ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، 3/360، حدیث:1907)

(4)اللہ پاک کی اطاعت والد کی اطاعت کرنے میں ہے اور اللہ پاک کی نافرمانی والد کی نافرمانی کرنے میں ہے۔(معجم اوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، 1/614، حدیث:2255)

(5)جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان سے حسنِ سلوک نہ کیا وہ اللہ کریم کی رحمت سے دور ہوا اور غضبِ خدا کا مستحق ہوا۔(معجم کبیر، 12/66، حدیث:12551)

(6)تم میں سے کوئی اپنے باپ کو ہرگز گالی نہ دے،صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!کوئی شخص اپنے باپ کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا:یہ کسی شخص کے باپ کو گالی دے گا تو وہ اِس کے باپ کو گالی دے گا۔(مسلم،کتاب الایمان،باب الکبائر واکبرہا،ص60، حدیث:263ملخصاً)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے باپ کو کیسی اونچی شان کا مالک بنایا ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رضا و فرمانبرداری کو باپ کی رضا و فرمانبرداری پر موقوف فرمایا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اللہ پاک و رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فراٰمِیْن پر لبیک کہتے ہوئے دل و جان کے ساتھ والدکی خدمت کرکے ان سے دعائیں لیں، ان کے حقوق کو پورا کریں، ان کے ہر جائز حکم کی بجا آوری کریں، ان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ان کی بارگاہ میں دوڑے دوڑے چلے آ ئیں، ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھیں، ان کی نافرمانی اور بُرائی کرنے سے اپنے آپ کو بچائیں، مشکل حالات، بیماری اور بڑھاپے میں اُن کا سہارا بنیں،الغرض ہر طرح سے انہیں راضی رکھنے کی کوشش کر یں مگر آہ! صد ہزار آہ!عِلْمِ دین سے دوری کے باعث آج باپ مظلوم ترین لوگوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ افسوس!اغیار کی دیکھا دیکھی آج باپ جیسی عظیم ہستی کے ساتھ نوکروں والا سُلوک کیاجارہا ہے،باپ کے ساتھ بدسُلوکی کے واقعات میں اضافہ در اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے،یاد رکھئے ایک حدیث پاک میں ہے:کَمَا تَدِیْنُ تُدَان یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

حضرت علّامہ عبدُالرؤف مُناوی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کَمَا تَدِینُ تُدَان کی وضاحت میں لکھتے ہیں: یعنی جیسا تم کام کرو گے ویسا تمہیں اس کا بدلہ ملے گا،جو تم کسی کے ساتھ کرو گے وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔(التیسیر بشرح الجامع الصغیر، 2/222)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں:بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت و توانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے۔(فتاویٰ رضویہ، 24/424)

والد کی خدمت کا صلہ:

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”اللہ والوں کی باتیں“ جلد4، صفحہ نمبر14 پر ہے:ایک شخص کے چار بیٹےتھے، وہ بیمار ہوا تو ان میں سے ایک نے کہا: یا تو تم تینوں والدکی تیمارداری کرو اور ان کی میراث سے اپنے لئے کچھ حصہ نہ لو یا میں ان کی تیمارداری کرتاہوں اور ان کی میراث سے کچھ حصہ نہیں لیتا۔ تینوں نے کہا: تم تیمارداری کرو اور میراث سے کچھ حصہ نہ لو۔ چنانچہ وہ والدکی تیمارداری کرتا رہا حتّٰی کہ والد کا انتقال ہوگیا،لہٰذا اس نے میراث میں سے کچھ حصہ نہ لیا۔ایک رات اس نے خواب میں کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا: فلاں جگہ جاؤ اوروہاں سے100 دینارلے لو۔ لڑکے نے پوچھا: کیا اس میں برکت ہے؟ جواب ملا: نہیں۔ صبح ہوئی تو اس نے خواب اپنی بیوی کوسنایا، بیوی نے کہا: تم ان دیناروں کو لے لو،ان کی برکت یہ ہے کہ ہم ان سے کپڑے بنوائیں اور زندگی گزاریں۔لڑکے نے انکار کردیا۔اگلی رات پھراس نے خواب میں کسی کو کہتے سنا: فلاں جگہ جاؤ اور وہاں سے10دینار لے لو۔

اس نے پوچھا: کیاان میں برکت ہے؟ جواب ملا: نہیں۔ صبح اس نے اپنی بیوی کو خواب سنایا توبیوی نے پہلے کی طرح کہامگر اس نے پھرلینے سے انکار کردیا،تیسری رات پھر اس نے خواب میں سنا: فلاں جگہ جاؤ اورایک دینار لے لو۔ اس نے پوچھا: کیا اس میں برکت ہے؟ جواب ملا: ہاں۔ چنانچہ لڑکا گیااوردینار لے کربازار روانہ ہو گیا،اسے ایک آدمی ملا جو دو مچھلیاں اٹھائے ہوئے تھا، لڑکے نے کہا: ان کی قیمت کیا ہے؟ اس نے کہا: ایک دینار۔ لڑکے نے دینار کے بدلے دونوں مچھلیاں لیں اور چل دیا۔گھر آکر ان کا پیٹ چاک کیا تودونوں میں سے ہر ایک کے پیٹ سے ایک ایسا موتی نکلا جس کی مثل لوگوں نے نہ دیکھاتھا۔ ادھر بادشاہ نے ایک شخص کو ایسا ہی موتی تلاش کرنے اور خریدنے بھیجا تو وہ اس لڑکے کے پاس ملا، لہٰذااس نے وہ موتی سونے سے لدے ہوئے 30خچروں کے عوض بیچ دیا۔جب بادشاہ نے موتی دیکھا توکہا: اس کا فائدہ اسی صورت میں ہے کہ اس کی مثل ایک اوربھی ہو۔ لہٰذابادشاہ نے خدام سے کہا:اس کی مثل ایک اورتلاش کرو اگرچہ قیمت دگنی دینی پڑے۔چنانچہ وہ اسی لڑکے کے پاس آئے اور کہا: جوموتی ہم نے تم سے خریداتھا اس کی مثل اوربھی ہوتو ہمیں دے دو ہم تمہیں دگنی رقم دیں گے۔لڑکے نے پوچھا: کیا تم واقعی اتنا دوگے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ لڑکے نے دوسراموتی دگنی قیمت میں (یعنی سونے سے لدے ہوئے 60خچروں کے عوض)فروخت کردیا۔(اللہ والوں کی باتیں،4/14)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں ،حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے، ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں۔