14 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

6 رمضان المبارک کو بعدِ عصر اور 7 رمضان المبارک کی شب مدنی مذاکروں کا انعقاد کیا گیا جن میں امیر اہل سنت حضرت علامہ محمدالیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

بعدِ عصر ہونے والا مدنی مذاکرہ

سوال: جمعہ کے دن کیا کیا اعمال کرنے چاہئیں؟

جواب:اِسْتِغْفَار(اَسْتَغْفِرُاللہ)پڑھے ،غسلِ جمعہ کرے ،مسجد میں خطبہ شروع ہونے سے پہلے پہنچ جائے ۔ہوسکے تو والدین کی قبرپرحاضری دےاوروہاں سورۂ یٰسین شریف کی کی تلاوت کرکے انہیں ایصالِ ثواب کرے ،دن بھرنیکیاں کرنے کی کوشش کرے۔

سوال: دوستوں کا آپس میں گفتگوکا اندازکیساہونا چاہئے؟

جواب: جب ملاقات ہوتواَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ کہیں ،30نیکیاں ملیں گی۔کوئی مسئلہ نہ ہوتوبِلاحائل(یعنی ہاتھ میں کوئی چیز نہ ہو) ہاتھ ملائیں ،ضرورت ہو تو بات چیت کریں ،گناہوں بھری اورفضول باتوں سےبچیں ۔

سوال:کون سی دعازیادہ مانگنی چاہئے؟

جواب:قرآن ِ کریم اوراحادیثِ مبارکہ میں جودُعائیں ہیں وہ مانگی جائیں(اِنہیں دُعائے ماثورہ کہتےہیں)،حدیث شریف میں اس دُعاکوجامع دعا کہاگیا ہے : رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(ترجمہ ٔکنزالایمان:اے ربّ ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا) ان کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعامانگ سکتے ہیں۔

سوال:شریعت کیا ہوتی ہے؟

جواب:اللہ پاک اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلّم کے احکامات کوشریعت کہتے ہیں ،دین ،مذہب اوراسلام کو بھی شریعت کہاجاتاہے ۔

بعدِ تراویح ہونے والا مدنی مذاکرہ

سوال:جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلّم کا اسم گرامی’’محمد‘‘ آتاہے تو بعض اوقات آپ سینے پر ہاتھ رکھ کرسرجھکادیتےہیں ،اس کی کیا وجہ ہے ؟

جواب:یہ تُرکوں(Turkish) میں رائج ہے کہ جب نبیِ کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلّم کااسمِ مبارک آئے تو سینے پر ہاتھ رکھ کرسرجھکادیتےہیں ،مجھے یہ پسندآیااورمیں بھی تعظیم کی نیت سے ایسا کرتا ہوں ۔

سوال:عالمِ ارواح کیا ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب:جہاں روحیں رہتی ہیں اُسے عالمِ ارواح کہتے ہیں اورروحیں مختلف مقامات پررہتی ہیں ۔

سوال:طبیعت میں نرمی پیدا کرنا کیوں ضروری ہے ؟اورطبیعت میں نرمی نہ ہوتو کیسے پیدا کی جائے ؟

جواب:نرمی بہت ضروری ہے ،جس میں یہ نہ ہواسےاپنے اندر پید ا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے،اس کے لیے نرمی کے فضائل کا مطالعہ کرے ،احیا ء العلوم کا مطالعہ کرے ،یادرکھئے !نرمی پیدا نہ ہوئی تو نہ جانے کتنوں کی دل آزاری کرڈالیں گے۔جس کےساتھ سختی کی تو جواباً وہ بھی آپ کے ساتھ سختی کرے گاتو آپ مشکل میں آجائیں گے ۔

سوال:کھانے پینے میں پرہیز کب سےشروع کرناچاہئے ؟

جواب:میں کہاکرتاہوں بسترپر جا کرپرہیزکرنے سےبہترہے چلتےپھرتےپرہیزکرلو ،ڈاکٹرکےکہنے پر پرہیز کرنے سے پہلے میرے کہنے پر ہی پرہیز کرلو۔

سوال:"اللہ پاک پرتَوَکُّل کرناچاہئے" اس پر آپ کیا فرماتےہیں ؟

جواب:رکھ مولیٰ تے آس ،دونوں جہاں میں بیڑاپار۔

سوال: کیاہمیں نمازِتہجداداکرنی چاہئے ؟

جواب:جی ہاں !سب کو نمازِتہجد اداکرنی چاہئے ،عورتوں کو نمازِفجراوّل وقت میں ادا کرنامستحب ہے، انہیں چاہئے کہ فجرکاوقت شروع ہونے سے پندرہ (15)منٹ پہلے اُٹھ جائیں ،بعدِ وضونمازِتہجداداکریں پھرنمازِفجرپڑھ لیں ۔مسئلہ یہ ہے کہ کئی لوگوں کوموقع بھی ملتاہےمگران کا نمازِتہجداداکرنےکاذہن نہیں ہوتا ،ہمیں اپنا ذہن بنانا چاہئے اورنمازِتہجد پڑھنی چاہئے ۔

سوال:بیماری کی وجہ سے یکدم پریشان ہوجاناکیساہے؟

جواب:ایک دم پریشان ہونے کے بجائے ہمت رکھنی چاہئے، پریشانی سےبیماری کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جانےکا اندیشہ ہے،اس لیے اللہپاک پربھروساکرناچاہئے۔

سوال:نیاکام کب شروع کرنا چاہئے بدھ کویاجمعہ کو؟

جواب:نیاکام بالخصوص علمی کام بدھ کوظہرکے بعدشروع کرنامناسب ہے۔جمعرات اورصبح کےلیے بھی برکت کی دعا آئی ہے،جمعہ کوشروع کریں تواس میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

سوال:سنا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کی چھت پر جنّات رہتے ہیں تو کیا چھت پر نہیں سوناچاہئے؟

جواب:چھت پر سونے میں حرج نہیں ۔مسلمانوں کے دسترخوان پر بھی جنّات موجودہونے کی روایت موجودہے،یادرہےہرجنّ نقصان نہیں پہنچاتا۔

سوال:روزے کب فرض ہوئے ؟

جواب: دس(10) شعبان دو(2)ہجری کو۔

سوال:کیاہرچھوٹے بڑے کی عزّت کرنی چاہئے؟

جواب:جی ہاں!ہرچھوٹے بڑے کی اس کی حیثیت کےمطابق عزّت کرنی چاہئے ،حدیث پاک میں ہے :اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ۔یعنی لوگوں کے ساتھ ان کی حیثیت کےمطابق سلوک کرو۔

سوال:آج کل مشینی دورہے،کیا مشین انسان کا متبادل بن سکتی ہے؟

جواب:مشین سے انسانوں کوبہت سارے فوائدحاصل ہوتے ہیں مگر نقصانات بھی کم نہیں۔پہلے انسان سارے کام خود کرتاتھامگرمشینیں آنے سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے اورمشینوں نے یوں انسانوں کو سُست کردیا ہے ۔جس کی وجہ انسان کئی بیماریوں میں مبتلا ہوگیاہے،مشین بھی ضروری ہےمگرانسان مشین سےزیادہ ضروری ہے۔مشین انسان کامتبادل کبھی بھی نہیں بن سکتی ۔