دینِ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے (1) لا اله الا الله کی گواہی دینا ہ (2) نماز (3) روزہ (4)زکوٰة (5)حج۔ لیکن قراٰنِ پاک میں سب سے زیادہ نماز کے حوالے سے آیات ہیں۔ نماز الله پاک کی عظیم نعمتوں میں ایک بڑی نعمت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نمازِ با جماعت کی دولت کوئی معمولی انعام نہیں۔ رسول پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع و عشرين درجة. نماز جماعت پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے 27 درجے افضل ہے۔(صحیح بخاری، 1/232، حديث :645) قراٰنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے: وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳) ترجمۂ کنز الایمان: اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (پ1،البقرۃ: 43) امام جلال الدین اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: صلوا مع المصلین یعنی تم نمازیوں کے ساتھ نماز پڑھو۔ اس آیت کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سلطانی بارگاہ وفد کی عرض و معروض اکیلے کے مقابلے میں زیادہ سنی جاتی ہے ۔جماعت کی نماز میں مسلمان وفد کی صورت میں حاضر ہوتے ہیں ۔امید ہے بہت جلد کامیاب ہو جائے گے۔

مسئلہ: جماعت کے حوالے سے مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: عاقِل، بالغ، حر(آزاد)، قادر پر جماعت واجب ہے، بلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحقِ سزا ہے اور کئی بار ترک کرے، تو فاسق مردود الشہادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گی، اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے۔ (بہارِ شریعت، 1/582)

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ اکیلے کی نماز کا علم نہیں قبول ہو یا نہ ہو لیکن اگر جماعت کے ساتھ پڑھی تو پوری جماعت میں ایک کی بھی قبول ہو گئی تو اس کے طفیل بقیہ کی بھی قبول ہو جائے گی نیز جو دعا مل کر مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ قبولیت دعا کےحوالے سے حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب بنده باجماعت نماز پڑھے۔ پھر اللہ پاک سے اپنی حاجت کا سوال کرے تو الله پاک اس بات سے حیا فرماتا ہے کہ بندہ حاجت پوری ہونے سے پہلے لوٹ جائے۔ (حلیۃ الاولیاء ،7/299،حدیث: 10591)

اے عاشقانِ نماز! بے شک حاجت پوری ہونے کیلئے صلوٰۃُ الحاجت پڑھنا اور دیگر اوراد و وظائف کرنا بہت اچھی بات ہے مگر جماعت سے نمازِ فرض ادا کر کے اپنی حاجت کیلئے دعا مانگنا یہ بہترین عمل ہے۔

جماعت سے گر تو نمازیں پڑھے گا

خدا تیرا دامن کرم سے بھرے گا

باجماعت نماز ادا کرنے کے لئے چند احادیث ملاحظہ کرتے ہیں:۔

(1) رسول پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: فعليكم بالجماعة، فإنما يأكل الذئب من الغنم القاصية یعنی جماعت کو لازم جانو کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور ہو۔ (سنن نسائی،حدیث:847)

(2) آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: فرشتے ان لوگوں پر درود بھیجتے ہیں جو صفیں ملاتے ہیں۔ (مستدرک للحاکم، 1/470،حدیث:470 )

(3) امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا کہ الله پاک باجماعت نماز پڑھنے والوں سے خوش ہوتا ہے۔ (مسند احمد ،2/309)

(4) حضرت سیدنا ثابت بن اشیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر سرور دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ دو شخصوں کا اس طرح نماز پڑھنا ان میں سے ایک امام بنے اللہ پاک کے نزدیک چار افراد کے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے سے افضل ہے اور چار کا باجماعت نماز پڑھنا آٹھ افراد کے الگ الگ پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور آٹھ افراد کا باجماعت نماز پڑھنا سو افراد کے تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ (طبرانی کبیر، 19/57،حدیث:73)

(5) فرمان مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع و عشرين درجة یعنی نمازِ جماعت اکیلے نماز سے 25 درجے افضل ہے۔(بخاری ،1/ 233 ،حدیث: 647)

افسوس صد افسوس ہم اپنی دنیاوی مشغولیات کی وجہ سے نمازوں کی جماعت فوت کر دیتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک باغ کو اس وجہ سے صدقہ کر دیا کہ اس کی وجہ سے ان کی عصر کی جماعت فوت ہوگئی حالانکہ یقینا کوئی عذر ہوگا جس کی وجہ سے جماعت چھوٹی ہو گی پھر بھی باغ صدقہ کر دیا افسوس وہ دور بھی آگیا ہے کہ بے شمار نمازی بھی جماعت کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ ہمارے اسلاف کی جماعت اگر فوت ہو جاتی تو انتہائی زیادہ غمگین ہو جاتے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت حاتم اصم رحمۃُ الله علیہ فرماتے ہیں میر ی با جماعت نماز فوت ہو گئی تو حضرت اسحاق بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ میری کسی نے بھی عیادت نہ کی، اگر میرا بیٹا فوت ہو جاتا تو دس ہزار سے زیادہ افراد تعزیت کرتے۔ کیونکہ لوگوں کے نزدیک دینی نقصان دنیا وی نقصان سے کم تر ہے۔

کاش ہمارے اندر بھی با جماعت نماز پڑھنے کی کڑھن پیدا ہو جائے۔ باجماعت نماز اور دیگر نیک اعمال پر جذبہ حاصل کو کے لیے دعوت اسلامی کا دینی ماحول ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح عیاں ہے اس دینی ماحول کو اپنانے سے باجماعت نماز پڑھنے اور دیگر نیک اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے کا جذبہ ملے گا۔