علم نور ہے ، جہالت تاریکی ہے ۔ علم اجالا ہے ، جہالت اندھیرا ہے۔ علم سے اخلاق سنورتے ہیں ۔ علم سے کردار بنتے ہیں ۔ علم سے زنگ آلود قلوب طہارت پاتے ہیں۔ علم سے پراگندہ اذہان کو پاکیزگی ملتی ہے ۔ علم سے شعورِ زندگی ملتا ہے۔ علم سے طرزِ حیات سنورتا ہے۔

یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ اسلام میں علما کی فضیلت واہمیت، اور علم کی ترغیب و تاکید جس انداز میں پائی جاتی ہے ،اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم وتربیت، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزو لا ینفک ہے۔

دنیا کے تمام مِلَلُ و اَدیان میں صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس کو یہ فخر و شرف حاصل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کے لئے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔ سب سے پہلی وحی جو سید الکائنات محمد رسولصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پر غار حرا میں نازل ہوئی اس کا پہلا لفظ یہی ہے۔ اقراء (پڑھو) یعنی علم حاصل کرو۔ پہلی وحی یہ ہے۔

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵) ترجَمۂ کنزُالایمان:پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا ۔ (پ30،علق:1 تا 5)

آیتِ کریمہ کا ایک ایک لفظ ظاہر کررہا ہے کہ اسلام میں علم کی اہمیت کس درجے کی ہے کہ ایک ہی مقام پر دوبار علم حاصل کرنے کا حکم دیا پھر اس احسان کا اظہار فرمایا کہ یہ اس کا کرم ہے اس نے انسان کو علم بھی عطا فرمایا اور لکھنا بھی سکھایا۔ علم حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد قرآن نے دیگر جگہ علم حاصل کرنے والوں   اور اہلِ علم کی عظمت و فضیلت بیان فرمائی اور جہالت کی سخت مذمت بیان فرمائی صاف صاف الفاظ میں فرمادیا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے ۔چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے۔

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۹)ترجمۂ کنز العرفان: تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟ عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔(پ 23 ،زمر : 09) مطلب یہ کہ ہرگز ہرگز عالِم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔ جاہل تو کندۂ ناتراش ہے اور علما کو کتاب الٰہی اور انبیاء کرام  علیہم السلام  کا وارث بنایا گیا ہے۔

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(پ 22،فاطر:28)اس آیت میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ الله سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں اور اس کی صفات کو جانتے اور اس کی عظمت کو پہچانتے ہیں اور جو شخص جتنا زیادہ الله کی ذات و صفات کا علم رکھتا ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ الله سے ڈرتا ہو گا اور جس کا علم کم ہو گا تو اس کا خوف بھی کم ہوگا۔

احادیث میں بھی جابجا علما کی فضیلت اور تحصیلِ علم کے احکامات وارد ہوئے ہیں:

(1) فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلٰی أَدْنَاکُمْ ترجمہ: عالم کو عابد پر اتنی ہی فضیلت ہے جتنی مجھے تمہارے کمتر درجے کے آدمی پر۔(جامع الترمذی ، کتاب العلم ، با ب ماجاء فی فضل الفقہ علی العباد ، 4 / 313،حدیث :2494 (

(2) وَرَوَی الْبُخَارِيُ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ فِي کِتَابِ الْعِلْمِ: إِنَّ الْعلما َ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ. وَرَّثُوا الْعِلْمَ. مَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ، وَمَنْ سَلَکَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا، سَهَلَ اﷲُ لَهُ طَرِيقًا إِلَي الْجَنَّةِ ترجمہ:امام بخاری نے کتاب العلم میں ترجمۃ الباب کے تحت بیان کیا ہے: بے شک علما، انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام کے وارث ہیں۔ انہوں نے میراثِ علم چھوڑی ہے۔ پس جس نے اس (میراثِ علم) کو حاصل کیا، اس نے بہت بڑا حصہ پا لیا۔ جو آدمی علم کی تلاش میں کسی راہ پر چلتا ہے، اللہ تعاليٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔(البخاري في الصحيح، کتاب العلم، باب العلم، قبل القبول، 1/ 37)

(3) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: يُوْزَنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِدَادُ الْعلما وَدَمُ الشُّهَدَاءِ فَيَرْجَحُ مِدَادُ الْعلما عَلَی دَمِ الشُّهَدَاءِ. ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: روز قیامت علما کے قلم کی سیاہی اور شہداء کے خون کو تولا جائے گا تو علما کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ہو جائے گی۔( الديلمي في مسند الفردوس، 5/ 486، حدیث: 488)

(4) عن عثمان بن عفان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ: الأنبیاء ثم العلما ثم الشھداء ترجمہ:حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کریں رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : قیامت کے انبیاء کرام علیہم الصلوة والسلام شفاعت کریں گے پھر ان کے بعد علما اور پھر شہداء بھی شفاعت کریں گے۔(سنن ابن ماجہ أبواب الزھد، باب ذکر الشفاعۃ،4/524، حدیث: 4313)

(5) عن أنس بن مالك رضي الله عنه : إنَّ مثلَ العلما في الأرضِ كمثلِ النُّجومِ يُهتَدى بها في ظلماتِ البرِّ والبحرِ فإذا انطمستِ النُّجومُ أوشكَ أن تضلَّ الهُداةُ ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ علما کرام کی مثال زمین میں آسمان کے ستاروں کی مثل ہیں جن کے ذر یعے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پائی جاتی ہے تو اگر ستارے چھپ جائیں تو ہدایت یافتہ لوگ بھی گمراہ ہو جاتے ہیں ۔( الترغيب والترهيب 1/ 80)

معلوم ہوا کہ اسلام یا قرآن و حدیث ہمیں تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا ، بلکہ تعلیم کو ہمارے لئے فرض قرار دیتا ہے چنانچہ حدیث پاک میں آتا ہے :طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مردوعورت)پر فرض ہے۔(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فضل العلما۔۔الخ،1/146؛حدیث: 224)

پیارے اور محترم اسلامی بھائیو ! قرآن و حدیث میں جو تحصیلِ علم دین کی تاکید و ترغیب اور فضیلت وارد ہے وہ اس لئے ہے تا کہ ہم علم حاصل کر کے صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہوں ، اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکیں، کیوں کہ علم ہی انسان کو حقیقی صلاح وفلاح اور کامیابی کا ضامن بتاتا ہے، اور علم دین ہی حقیقی علم ہے ،اور دوسرے تمام علوم وفنون معلومات کے درجے میں ہیں، ان تمام معلومات کولوگ اپنی اپنی استعداد کے مطابق حاصل کرسکتے ہیں، کیوں کہ ان سب کے اصول حضرت آدم عليہ السلام ہی کے خمیر میں ودیعت کردیئے گئے ، جیسا کہ کلام پاک کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: ﴿ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا﴾ ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔(پ 1،بقرہ:31)

"علم کا مجھ کو شو ق عطا کر خدا علم نافع ہى دے از پئے علما"

اللہ رب العزت ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی مکمل سعی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے اسلاف کو بہترین صلہ عطا فرمائے، اور ہم سب کے لئے علم وعمل کو نجات کا باعث بنائے۔ٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم