بندہ فرائض کے ذریعے اللہ پاک کا قرب حاصل کرتا ہے اور فرائض کے بعد جس عبادت کے ذریعے بندہ اللہ پاک کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔ اس میں نفل روزے بھی شامل ہیں:

ارشادِ باری:وَالصّٰٓئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵ (پ22 احزاب آیت 35 )ترجمۂ کنزالایمان:اور روزے رکھنے والے اور روزے رکھنے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کیلئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :ترجمۂ کنزالایمان:کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا۔ ( پ29 ، الحاقہ: 24 )

حضرت وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس آیتِ کریمہ میں گزرے دنوں میں آگے سے مراد روزوں کے دن ہیں کہ لوگ ان میں کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔

نفل روزوں کی کیا فضیلت ہے؟ آئیے! جان لیتی ہیں:

ایک روزہ رکھنے کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ، فیض ِگنجینہ،صاحبِ معطر پسینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو اللہ پاک کی رضا کے لیے ایک روزہ رکھتا ہے اللہ پاک اسے جہنم سے اتنا دور کر دیتا ہے جتنا فا صلہ ایک کوّا بچپن سے لےكر بوڑھا ہو کر مرنے تک مسلسل ا ڑ تےہوئے طے کر سکتا ہے۔( مسند امام احمد بن حنبل ج۳ ص619 حدیث 10810 (

بہترین عمل

حضر ت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے کوئی عمل بتائیے۔فرمایا:روزہ رکھا کرو کیوں کہ اس جيسا عمل کوئی نہیں ہے۔ميں نے پھر عرض کی:مجھے کوئی عمل بتائیے۔فرمایا : روزہ رکھا کرو کیوں کہ اس جیسا عمل کوئی نہیں۔ ميں نے پھر عرض کی :مجھے کوئی عمل بتائیے۔ فرمایا : روزہ رکھا کرو کیوں کہ اس کا مثل کوئی نہیں۔(نسائی ج4 ص 166)

محشر میں روزہ داروں کے مزے

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:قیامت کے دن روزے دار قبروں سے نکلیں گے تو وہ روزے کی بو سے پہچا نے جائیں گے اور پانی کے کوزے جن پر مشک سے مہر ہوگی انہیں کہا جائے گا: کھا ؤ!کل تم بھوکے تھے۔پیو! کل تم پیاسے تھے ۔آرام کرو! کل تم تھکے ہوئے تھے۔ پس وہ کھائیں گے اور آرام کریں گے حالانکہ لوگ حساب کتاب کی مشقت اور پیاس میں مبتلا ہوں گے۔

(کنزالعمال ج۸ص۳۱۳حدیث 23639 والتدوین فی اخبار قزوین ج۲ص326)

مختلف ماہ کے مختلف روزوں کی فضیلتیں

جب بندہ نفل روزوں کے فضائل سے آگاہ ہو جائے تو پھر وہ روزہ رکھتا چلا جائے کہ اللہ پاک نے ان روزوں میں بے شمار برکتیں رکھی ہیں۔ روزہ تو دنیاوی و اخروی فوائد کا ایک خزانہ ہے۔

محرم الحرام کے روزے

طبیبوں کے طبیب،اللہ پاک کے حبیب، حبیبِ لبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:محرم کا ہر دن کا روزہ ایک مہینے کے روزوں کے برابر ہے۔(طبرانی فی الصغیر ج۲ص۸۷حدیث1580)

عاشورا کا روزہ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:مجھے اللہ پاک پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(صیح مسلم ص۵۹۰ حدیث 1162)

رجب المرجب کا روزہ

حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رجب کے روزہ داروں کے لیے جنت میں ایک محل ہے۔(شعب الایمان ج۳ ص 368 حدیث۳۸۰۲)

شعبان المعظم کے روزے

سرکارِ مدینہ،سلطانِ باقرینہ،قرارِ قلب و سینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:رمضان کے بعد سب سے افضل شعبان کے روزے ہیں تعظیم رمضان کیلئے۔

ہر ماہ تین دن کے روزے

حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سرکارِ دوعالم، نور ِمجسم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا: جس طرح تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے اسی طرح روزہ جہنم سے تمہاری ڈھال ہے اور ہر ماہ تین دن روزے رکھنا بہترین روزے ہیں۔(ابن خزیمہ ج3 ص 301 حدیث 2125)

شیطان کی پریشانی

ایک بزرگ رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد کے دروازے پر شیطان کو حیران و پریشاں کھڑے ہوئے دیکھ کر پوچھا:کیا بات ہے؟ شیطان نے کہا:اندر دیکھئے! انہوں نے اندر دیکھا تو ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور ایک آدمی مسجد کے دروازے کے پاس سو رہا تھا۔ شیطان نے بتایا: وہ جو اندر نماز پڑھ رہا ہے اس کے دل میں وسوسہ ڈالنے کے لیے میں اندر جانا چاہتا ہوں لیکن جو دروازے کے قریب سو رہا ہے یہ روزہ دار ہے! یہ سویا ہوا روزہ دار جب سانس باہر نکالتا ہے تو اس کی وہ سانس میرے لئے شعلہ بن کر مجھے اندر جانے سے روک دیتی ہے۔(الروض الفائق مصری ص39)