اللہ  نے علمائے کرام کو بڑا بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے ، اپنا خوف اور خشیت ان کے دلوں میں رکھی یہاں تک کہ اپنی وحدانیت کی گواہی میں اپنی اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کی گواہی کو بھی شامل فرمایا جیسا کہ ارشاد باری ہے:شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ(۱۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا ۔(پ3،اٰل عمران: 18)

اسی طرح ہمارے آقا غیب داں نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نے بکثرت احادیث مبارکہ میں ان کے فضائل ومناقب کو بیان فرمایا ہے: پس اس ضمن میں پانچ فرامین مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھئے اور جھومئے :

(1)حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :عالِم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر (ہے۔)(سنن ابی داؤد،ص:684،حدیث:3641،دار الفکر بیروت)

شرح حدیث:حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ: عالم کی فضیلت عابد پر اس لئے بہت زیادہ ہے کہ علم کا فائدہ دوسروں کو بھی پہنچتا ہے اور عبادت کا فائدہ صرف عبادت گزار کو۔ نیز علم یا تو فرض عین ہے یا فرض کفایہ اور زائد عبادت نفل ہے ۔ فرض کا ثواب بہرحال زیادہ ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،1/ 429،مطبع: دار الکتب العلمیہ بیروت)

(2)ابن ماجہ میں ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :بے شک علما انبیاء کے وارث ہیں اور بے شک انبیاء علیہم السلام درہم و دینار (یعنی دنیاوی مال و دولت )کا وارث نہیں بناتے بلکہ ان کی وراثت علم ہے، تو جس نے اس میں سے لیا،اس نے بہت بڑا حصہ پا لیا ۔(سنن ابن ماجہ،ص 73،حدیث:223،مطبع: دار الفکر،بیروت(

(3)علما کا احترام، اللہ اور رسول کا احترام ہے:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عالموں کی عزت کرو! اس لئے کہ وہ انبیاء کے وارث ہیں۔ جس نے ان کی عزت کی ،تحقیق اس نے اللہ اور رسول کی عزت کی۔(کنز العمال (

اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ علما کرام کی عزت کرنا اللہ اور رسول کی عزت کرنا تو ہے لیکن اگر کوئی شخص ان کی شان میں گستاخی کرے تو گویا اس نے اللہ اور رسول کے بے ادبی کی ۔

(4)دوزخ کی آتش کو ٹھنڈا کر دیتا ہے:رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:عالم کا سونا عبادت ہے، اس کا علمی مذاکرہ تسبیح، اس کی سانس صدقہ اور آنسو کا ہر وہ قطرہ جو اس کی آنکھ سے ہے وہ جہنم کے ایک سمندر کو بجھا دیتا ہے۔(تفسیر کبیر(

(5)علما کی زیارت کرنا عبادت ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :پانچ چیزیں عبادت میں شامل ہیں: کم کھانا، مسجد میں بیٹھنا ،کعبہ شریف کو دیکھنا ،مصحف (یعنی قرآن مجید )کو دیکھنا اور عالم کی زیارت کرنا ۔(یعنی عالم کا چہرہ دیکھنا)۔(کنز العمال)

اللہ ہمیں علما کی بے ادبی کرنے سے بچائے اور ان کی تعظیم کرنے ،ان کی صحبت اختیار کرنے اور خوب خوب علم دین سیکھنے سکھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم