مکہ مکرمہ روئے زمین پر مسلمانوں کے لئےسب سے مقدس شہر ہے۔ اسے ام القریٰ یعنی شہروں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔بلدِ حرام مکہ اللہ پاک اور رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔مسلمانوں کا قبلہ اور ان کی دلی محبت کا مرکز ہے۔حج کا مرکز اور با ہمی ملاقات وتعلقات کی آماجگاہ ہے۔روزِ اول ہی سے اللہ پاک نے اس کی تعظیم کے پیشِ نظر اسے حرم قرار دے دیا تھا۔اس میں کعبہ ہے جو روئے زمین پر اللہ پاک کی عبادت کے لئے بنايا جانے والا سب سےپہلا گھر ہے۔اس قدیم گھر کی وجہ سے اس کی ہر چیز کو امن وامان حاصل ہے ۔حتی کہ یہاں کے درختوں اور دوسری خودرونباتات کو بھی کاٹا نہیں جاسکتا۔یہاں کے پرندوں کو جانوروں کو ڈرا کر بھگایا نہی جاسکتا۔اس جگہ کا ثواب دوسرے مقامات سے کئی گنا افضل ہے۔یہاں کی نماز ایک لاکھ نماز کا درجہ رکھتی ہے۔مکہ مکرمہ کو عظمت وحرمت اورامان سب کچھ کعبہ کی برکت سے ملا ہے۔ فرمانِ باری ہے: ترجمہ: جو شخص اس حرم میں داخل ہوجائےامن والا ہے۔( تاریخ مکہ مکرمہ)۔

مسجد ِحرام کے اندر قائم خانہ کعبہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوۃ و السلام نے تعمير کیا۔مؤرخین کے مطابق پیارے حبیب،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے قبل ہی مکہ مکرمہ عبادت اور کاروبار کا مرکز تھا ۔مورخین کا کہنا ہے: مکہ جنوبی عرب سے شمال میں رومی وبازنطینی سلطنتوں کےلئے زمينی راستے پر تھا اور ہند کے مصالحہ جات بحیرہ عرب اور بحر ہند کے راستے سے یہیں سے گزرتے تھے۔خلافتِ اسلامیہ کے عروج پر پہنچنے کے بعد مکہ مکرمہ مسلم دنیا کے معروف علمائے کرام اور دانشوروں کا مسکن بن گیا ۔جو کعبۃ الله سے زیادہ سے زیادہ قریب رہنا چاہتے تھے۔

لفظ مکہ مکرمہ کا ایک تعارف:

لفظ مکہ یا مک یا ملکک سے مشتق ہے اور مک دھکیلنے اور جزب کرنے کو کہا جاتا ہے اس لیے کہ لوگ اس مقدس شہر میں چلنے اور طواف کرنے میں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں اور یہ ارضِ مقدس گناہ گار انسانوں کے گناہ کو جذب کر لیتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شہر کرۂ ارض کے وسط میں واقع ہے اور دنیا بھر کے دریاؤں اور چشموں کے پانی کا منبع بھی ہے۔اس طرح تمام روئے زمین مکہ مکرمہ کے پانی سے سیراب اور فیض یاب ہورہی ہے۔( ولادتِ مکہ مکر مہ )

پانی کی سطح پر ابھرنے والا وہ مقدس مقام جسے زمین کی پیدائش سے تقریبا دو ہزار سال قبل اللہ پاک نے وجود بخشا وہ مکہ مکرمہ ہی کی زمین تھی ،پھر اس کے نیچے اللہ پاک نے اپنی قدرت سے زمین بچھا دی۔

فضائلِ مکہ مکرمہ احادیثِ کی روشی میں:

1۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبیِّ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جب مکہ فتح فرمایا تو اس روز فرمایا :اس شہر کو اللہ پاک نے اس دن سے حرمت عطا فرمائی جس روز زمين اور آسمان کو پیدا کیا تھا یہ اللہ پاک کی حرمت کے باعث تا قیامت حرام ہے اور اس میں جنگ کرناکسی کے لئے نہ مجھ سے پہلے حلال ہوا اور نہ میرے لیے مگر دن کی ایک ساعت کے لئے،پس وہ اللہ پاک کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرام ہے نہ اس کا کانٹا توڑا جائے اور نہ اس کا شکار بھٹکایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز صرف وہ اٹھائے جس نے اعلان کرنا ہو اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔( بخارى)

2۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتےہیں:رسولِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مکہ معظمہ سے فرمایا:تو کیسا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے کیسا پیارا ہے!اگر میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تیرے علاوہ کہیں نہ ٹھہرتا۔ (ترمذى)

3۔حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:میں نے رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مقام ِحزورہ پر کھڑے ہو کر فرماتے ہوئے سنا :الله پاک کی قسم !اے مکہ! تو اللہ پاک کی زمین سے زیادہ محبوبِ ہے۔ اگر مجھے تجھ سے نکل جانے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں ہرگز نہ جاتا۔( ترمذی ،ابن ماجہ)

4۔حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:میں نے نبیِّ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:تم میں سے کسی کو یہ جائز نہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیار اٹھائے پھرے۔( مسلم)

5۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :کوئی شہر ایسا نہیں جسے دجال نہ روندے سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ان کے راستوں میں سے ہر راستہ پر صف بستہ فرشتے حفاظت کررے ہیں ۔(بخارى)

6۔حضرت محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو دن کے وقت مکہ مکرمہ کی گرمی پر صبر کرے جہنم کی آگ اس سے دور ہوجاتی ہے۔

7۔حضرت سعد بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو ایک دن مکہ میں بیمار ہوجائے تو اللہ پاک اس سے اس نیک عمل کا ثواب عطا فرماتا ہے جو وہ سات سال سے کررہا ہوتا ہے لیکن بیماری کی وجہ سے نہ کر سکتا ہو۔

8۔پیارےآقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :جس کی حج وعمرہ کی نیت تھی اور اسی حالت میں اس سے حرمین میں موت آگئی تو اللہ پاک اسے بروزِ قیامت ایسے اٹھائے گا کہ اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا ۔دوسری روایت میں ہے: اللہ پاک اسے امن والوں کے ساتھ اٹھائے گا ۔

9۔پیارے نبی،محمد مصطفےصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعا فرمائی:اے اللہ پاک!جتنی تو نے مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دوگنی برکت عطا فرما۔( بخارى)

10۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس کی حرمین یعنی مکہ یا مدینہ میں کسی ایک میں موت واقع ہوئی تو( روز ِقیامت ) حالتِ امن میں اٹھایا جائےگا ۔ (طبرانی بیہقی)